📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 9

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

یہ کیا کر دیا تم نے؟ اسکے جاتے ہی صباحت پریشان سی بولی”مجھے بلکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ شخص اس حد تک گر سکتا ہے آئی ایم رئیلی سوری” کُبرا اسے گلے لگاۓ کہنے لگی نہیں یار بہت بڑی غلطی کر دی تم نے تسمیر سر نے میرے ساتھ کچھ نہیں کیا بلکہ انھوں نے تو مجھے بچایا ہے صباحت آنسو صاف کیے اسے بتانے لگی کیا مطلب ہے اس بات کا؟ کُبرا ناسمجھی سے بولی جب صباحت اسے سارہ قصہ بیان کر گئی یا خدایا صباحت تم نے مجھے پہلے بتایا کیوں نہیں اسکی بات سنتے ہی کُبرا سر پر ہاتھ رکھےڈھے سی گئی تم نے سنی ہی کب میری کچھ بولنے سے پہلے ہی تم سر کو تھپڑ مار گئی اب جاؤ جاکر سوری کرو انہیں صباحت پریشان سی بولی اور کبرا کو پہلی بار اپنی غلطی کا بری طرح احساس ہوا تھا

تسمیر کہاں ہیں؟ اسے ہر جگہ تلاش کرنے کے بعد وہ آخر جون سے پوچھنے لگی وہ تو کافی دیر پہلے ہی گھر چلا گیا کیوں کوئی کام ہے تو مجھے بتا دو جون مسکرا کر پوچھنے لگا

“نہیں بس کچھ نہیں”وہ پریشان سی کہتی پلٹ گئی

جبکہ دوسری طرف وہ سرخ چہرہ لیے خان مینشن میں داخل ہوا تھا جب سامنے سے آتا گاڈر بری طرح اس سے ٹکرایا دیکھ کے نہیں چل سکتے؟ آندھے ہو تو جاکر اعلاج کرواؤ اپنا اسکا گریبان پکڑے وہ دھاڑا معاف کر دیں تسمیر بابا غطی سے ہوا ہے اسکے سامنے کھڑا نوجوان لڑکا ڈرا سمہا سا کہنے لگا دفعہ کو جاؤ آئندہ یہاں نظر مت آنا مجھے اسے جھٹکے سے چھوڑتا وہ تیز تیز قدم بڑھاۓ اندر داخل ہوا “ارے تسمیر بیٹا آگئے تم” اسے آتا دیکھ سلمہ بیگم محبت سے بولیں

“نہیں راستے میں ہوں ظاہر ہے آگیا ہوں تو یہاں نظر آرہا ہوں” تپ کر کہتا وہ آگے بڑھا گیا اسے کیا ہو گیا؟ ہر وقت غصے میں ہی رہتا ہے سلمہ بیگم منہ بناۓ کہتیں اسکے پیچھے آئی تھیں مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے! اسکے غصے کو نظر انداز کرتی وہ نرم لہجے میں کہنے لگیں لیکن مجھے ابھی کوئی بات نہیں کرنی بہتر ہوگا جائیں آپ یہاں سے تسمیر اپنا غصہ کنٹرول کیے مدھم آواز میں بولا تمہیں کُبرا سے شادی کر لینی چاہیے اچھی بھلی اتنی نیک بچی ہے تمہیں اس سے اچھی نہیں ملے گی بیٹا اسلئے ضد مت کرو سلمہ بیگم محبت سے بولیں اسکا نام مت لیجیے گا میرے سامنے ابھی آپ جانتی نہیں ہیں اسے کتنی سلجھی ہوئی ہے وہ ماں میں آخری بار کہ رہا ہوں مجھے اس سے شادی نہیں کرنی اب آپ بے شک اسکی شادی کہیں بھی کروائیں مجھے فرق نہیں پڑھتا بلکہ ایسا کریں جون سے ہی کروا دیں نا ویسے بھی بہت خوش رہتی ہے وہ اسکے ساتھ تسمیر سرخ آنکھیں لیے ایک ایک لفظ چبا کر بولا جبکہ اسکی بات پر سلمہ بیگم چاہ کر بھی اپنی ہنسی دبا نہیں سکیں کیا کہا؟ جون سے؟ ارے بدھو یہ بات میرے سامنے تو کر دی کسی اور کے سامنے مت کر دینا سلمہ بیگم ہنستے ہوۓ کہنے لگیں کیوں آپ کو میری بات پر یقین نہیں آرہا؟ میں نے خود اپنی آنکھوں سے جون اور اسے دیکھا ہے اتنے آرام سے وہ اسکے ساتھ کھڑی ہوتی ہے میر جل کر بولا ہاں تو اسکا بھائی ہے وہ جیسے چاہے کھڑی ہو تمہیں کیا مسئلہ ہے؟ سلمہ بیگم ابرو اچکا گئی

بھائی؟

ہاں دودھ شریک بھائی جہانگیر کُبرا اور برکت کا دودھ شریک بھائی ہے حالہ کے جانے کے بعد رخسانہ بھابھی نے ہی اسے پالہ ہے میرے پاس تو اس وقت تم تھے جو مجھے ایک منٹ بھی بیٹھنے نہیں دیتے تھے اسئلے جون کا خیال رخسانہ رکھتی تھی سلمہ بیگم کے کہنے سے تسمیر کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا مطلب کے اتنے دن سے وہ فضول میں اپنا خون جلا رہا تھا اس وجہ سے جون سے بھی وہ ٹھیک سے بات نہیں کر رہا تھا اور اب یہ سب؟ ماں اب آپ جائیں پلزز مجھے تھوڑی دیر سکون چاہیے آپ پلزز جائیں یہاں سے ہوش میں آتا وہ منت بھرے لہجے میں بولا جس پر سلمہ بیگم سمجھتے ہوۓ باہر نکل گئی جبکہ انکے جاتے ہی وہ ایک بار پھر سگریٹ منہ سے لگا گیا تھا

****************

فنکشن ختم ہوتے ہی وہ سیدھا گھر آۓ تھے اسکا تو پورا فنشن ہی تسمیر کی ٹینشن میں گزر گیا تھا جانتی تھی وہ اس سے چھوڑے گا نہیں لیکن معافی مانگنا اسکا فرض تھا ہمت کرکے وہ اسکا دروازہ نوک کر کے بھاری قدموں سے اندر داخل ہوئی تھی تسمیر کا روم ٹھرڈ فلور پر تھا شاید یہ پوری حوالی کا سب سے علیشان کمرہ تھا اسکے لیے یہ کمرہ بلکل انجان تھا کیوں کہ تسمیر کی غیر موجودگی میں بھی یہ روم صرف اسکی اجازت سے ہی کھولا جاتا تھا کمرے کا جائزہ لیتی وہ بیڈ کی طرف آئی لیکن وہ کہیں نظر نہیں آیا معافی کا ارادہ صبح پر چھوڑتی وہ پلٹی تھی جب کلک کی آواز سے وہ واشروم کا دروازہ کھولے بلیک بنیان اور ٹراؤزر میں باہر نکلا اسے دیکھتی ہی وہ نظریں دوسری طرف کر گئی جبکہ وہ اسے نظر انداز کیے شیشے کے سامنے آتا اپنے بال سیٹ کرنے لگا سبز آنکھیں’کانوں سےتھوڑا نیچھےآتے کالے بال’ ہلکی بڑھی ہوئی شیو’ وہ دیکھنے میں واقعی مرادنہ وجاہت کی چلتی پھڑتی مثال تھا وہ میں اس سے نظریں چراۓ وہ بات کا آغاز کر گئی میں معافی مانگنے آئی تھی سر جھکاۓ وہ معصومیت سے بولی جبکہ وہ اسکی آواز پر محض ایک نظر اس پر ڈال کر وہ لائٹ اوف کیے بیڈ پر لیٹتا کمبل منہ تک اوڑھ گیا جیسے اس کمرے میں صرف وہی ہو جب کہ خود کو اس طرح نظرانداز ہوتا دیکھ کُبرا کو اپنی موجودگی پر شک سا ہوا اس ٹائم سچویشن ہی ایسی تھی کہ میری جگہ کوئی بھی ہوتا وہ یہی سمجھتا میں مانتی ہوں مجھ سے بہت بری غلطی ہوئی ہے آئی ایم سوری! کُبرا ہنوز اپنی بات جاری رکھے بولی لیکن اس بار بھی جواب میں محض خاموشی تھی میں معافی مانگنے آئی ہوں اب کی بار وہ زور سے چلائی جب وہ جھٹکے سے کھڑا ہوتا اسکے سر پر پہنچا تھا

“مانگ لی؟” سپاٹ لہجے میں پوچھا گیا

“جی” خود پر اسکی تپتی ہوئی نظریں محسوس کرتی وہ نظریں جھکا کر بولی

“ٹھیک ہے نہیں کر رہا ہوں معاف اب جاؤ یہاں سے” تسمیر سپاٹ انداز میں کہتا اسے باہر جانے کا اشارہ کر گیا

تو آپ کس طرح مجھے معاف کریں گے؟ نجانے کیوں اسکا اجنبی پن کُبرا چھب رہا تھا

میں تمہیں تمہاری اس حرکت کے لیے کبھی معاف نہیں کروں گا کُبرا عباس خان! اسکے بازو جھنجھورتا وہ ایک ایک لفظ پر زور دیے بولا تھا پہلے مجھے صرف تم سے چڑھ تھی تم بری لگتی تھیں لیکن اب مجھے تم سے نفرت ہو رہی ہے جس گال پر میرے باپ نے کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا اس پر تم نے بنا کچھ سوچے سمجھے کیسے ہاتھ اٹھا لیا؟ خدا کی قسم کُبرا اگر اس وقت تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ میرے سامنے اپنے پاؤں پر کھڑا نا ہوتا اب جاؤ تم یہاں سے اور آئندہ کوشش کرنا کہ میرے راستے میں کبھی مت آؤ! تیش سے کہتا وہ الماری سے شراب کی بوتل نکال گیا جبکہ اسکی پشت کو دیکھتی وہ آنکھوں میں آنسو لیے باہر کی طرف بھاگی تھی………

**************

تو پھر کیا سوچا آپ نے کیا کرنا ہے؟ سلمہ بیگم انکے ٹی وی لونج میں بیٹھی اماں جان اور رخسانہ بیگم سے مخاطب ہوئیں ابھی تو کچھ سمجھ نہیں آرہی بھابھی لیکن عباس صاحب کہ رہے تھے کہ گل خان کا لڑکا بہت شریف ہے اور پھر جب اسنے ہمت کرکے آغا جان سے رشتہ مانگا ہی ہے تو پھر امید تو یہی ہے کہ وہ آگے بھی ہماری بچی کا خیال رکھے گا رخسانہ بیگم کچھ سوچتے ہوۓ کہنے لگیں

تو پھر تم نے برکت سے پوچھا؟ اسکی کیا راۓ ہے اس بارے میں؟ سلمہ بیگم عام سےا نداز میں بولیں

بھابھی برکت اور کُبرا نے تو ہمیشہ سے یہ فیصلہ مجھ پر اپنے بابا پر چھوڑا ہے رخسانہ بیگم فخر سے کہنے لگی

ماشااللہ ہماری بچیاں ہیں دونوں ماشااللہ سے بہت نیک اور پیاری ہیں میری تو جان ہیں ان میں سلمہ بیگم محبت سے بولی

تم بسم اللہ کرو اور عباس خان کو کہو کہ گل خان کے لیے ہاں کر دے اماں جان سپاٹ لہجے میں کہنے لگیں جی اماں میں بات کروں گی آج رخسانہ بیگم مسکرا کر کہتیں رخ پھر سے ٹی وی کی طرف کر گئی جبکہ یہ ساری گفتگو کچن میں کھڑا روحان بہت صبر سے سن رہا تھا

***************

صبح ہوتے ہی وہ سلمہ بیگم کے پیچھے آیا تھا کیا مسئلہ ہے روحان کیوں تنگ کر رہے ہو؟ سلمہ بیگم اکتا کر بولیں ماں مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے آپ سن کیوں نہیں رہی میری؟ روحان اکتایا سن تو رہی ہوں تم کچھ بول تو دو تم تو کچھ کہ ہی نہیں رہے ہو وہ میں وہ میں کیے جا رہے ہو

ماں میں آپ سے پوری بات کر چکا ہوں آپ میری بات سیریس لیں تو بات ہے نا روحان انکے ساتھ ساتھ چلتا بولا رہا تھا تم کوئی دھنگ کی بات کرو تو میں سریس لوں نا سلمہ بیگم منہ بناۓ کہتی قدم تسمیر کے روم کہ جانب بڑھا گئیں

ماں میں کہ چکا ہوں مجھے اس سے شادی تو کیا مجھے اسے دیکھنا تک نہیں ہے تسمیر ٹائی باندھتا مصروف سا بولا اور ماں میں بھی اب کہ رہا ہوں برکت کی شادی صرف مجھ سے ہونی چاہیے روحان ضدی انداز میں کہنے لگا افف میرے خدایا میں کہاں جاؤ ایک کہ رہا ہے اسنے نہیں کرنی اور دوسرا کہ رہا ہے مجھے کرنی ہے تم دونوں مجھے پاگل مت بناؤ سلمہ بیگم سر پر ہاتھ رکھے چلائیں جس پر وہ دونوں حیران سے انہیں دیکھنے لگے کچھ لمحے کے لیے کمرے میں خاموشی چھائی تھی ماں روحان ٹھیک کہ رہا ہے آپ اسکی شادی کر دیں برکت سے یہ دونوں خوش رہیں گے تسمیر نے ایک بار پھر خاموشی کو توڑا بلکل ٹھیک کہ رہے ہیں بھائی ویسے بھی ہماری نیلی بلی کا انکے ساتھ کوئی میچ نہیں ہے وہ کہہہہاں اور یہ کہاں؟ روحان مزے سے کہنے لگا جس پر تسمیر نے ایک زور دار چٹ اسے لگا گیا جبکہ سلمہ بیگم انکی باتوں پر محض سر پیٹ کر رہے گئیں…..

*************

کالج آتے وہ سب سے پہلے صباحت سے ملی تھی کیا بنا؟ سوری کی تم نے تسمیر سر سے؟ اسے دیکھتی وہ پریشان سی بولی

کی تھی پر انھوں نے ایکسیپٹ نہیں کی کبرا منہ بسورے کہنے لگی ہاں تو تمہاری حرکت بھی تو ایسی تھی بنا سوچے سمجھے رکھ دیا ایک صباحت اسے گھورتے ہوۓ بولی ہمم تو معافی مانگ تو لی ہے انھوں نے میرے کردار پر تپھڑ مارا تھا اور میں نے چہرے پر رکھ دیا میں تو معافی بھی مانگ لی لیکن انہیں تو دیکھو میرے بھائی کے ساتھ الزام لگا کر خود آرام سے بیٹھے ہیں کبرا منہ لٹکاۓ بولی ہمم خیر مجھے تو رہ رہ کر اس شخص کا خیال آرہا ہے پتا نہیں کون تھا اگر تسمیر سر نا ہوتے تو وہ میرے ساتھ پتا نہیں کیا کر جاتا میں نے تو سر کو تھینکس تک نہیں کیا صباحت روہانسی ہوکر بولی جب اچانک ایک لڑکا انکے بھاگتا ہوا انکے پاس پہنچا تھا صباحت وہ وہ تسمیر سر تمہیں بلا رہے ہیں پھولی ہوئی سانسوں سے بولتا وہ واپس موڑ گیا اسے کیا ہو گیا ہے؟ کبرا ابرو اچکاۓ کہتی سامنے کی طرف بڑھی جہاں وہ مہنگا ترین بلیک سوٹ پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے پولیس کے ساتھ کھڑا مغرانہ چال چلتا ان تک آیا تھا صباحت؟ اسے نظرانداز کرتا وہ صباحت سے مخاطب ہوا “جی سر” صباحت کنفیوز سی بولی پہچان سکتی ہو کون تھا؟ وہ وہ رعبدار آواز میں کہتا سامنے کی طرف اشارہ کر گیا جہاں ایک لائن میں کچھ لڑکے ہاتھ باندھے کھڑے تھے صباحت کنفیوز اسے دیکھنے لگی جب تسمیر اسے اشارہ کر گیا جسے وہ فورا سمجھتی ادھر ادھر دیکھنے لگی جی سر میں پہچانتی ہوں انفیکٹ میں جانتی ہوں اسے صباء پراعتماد انداز میں کہنے لگی جبکہ اسکی بات سنتے ہی وہاں موجود ایک لڑکا تھر تھر کانپنے لگا جسے تسمیر بخوبی نوٹ کر گیا تھا آج میں آپ سب کے سامنے اس شخص کو ایسی سزہ دوں گا جسے دیکھنے کے بعد اس کالج میں آج کے بعد لڑکوں کو خود یہ احساس ہوگا کہ اگر کوئی لڑکی اکیلی ہو تو اسے ہراس کرنے کے بجاۓ اسے تحافظ دیا جاۓ لڑکیوں کو انکے فرض بتانے کے بجاۓ انکی عزت کرنا سکھیں اور میں تسمیر علی خان یہ قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج کے بعد اگر میں نے اپنے کالج تو کیا اس علاقے میں ایسا کوئی قصہ سنا تو واللہ علم میں اسے زندہ گاڑھ دوں گا تسمیر دھشت سے ڈھارتا آگے بڑھتا جھٹکے سے اسکا گریبان تھام گیا سسسسسورری سسر مجھھھے مععاف کر دیں آئندہ نہیں ہوگا لڑکا کپکپاتے ہونٹوں سے کہنے لگا جب تسمیر جنونی ہوتا اپنا سر اسکے سر پر مار گیا تسمیر سر آپ

قانون کو اپنے ہاتھوں میں مت لیں ہمارا کام ہمیں کرنے دیں پولیس اہلکاروں میں سے ایک آگے بڑھتا اسے روکنے لگا لے جائیں اسے اور ایسی سزہ دیں کہ آئندہ یہ سب کرنے سے پہلے اسکی روح تک کانپ جاۓ تسمیر ایک بار پھر ڈھارا تھا نننہیں پلزز سر مجھے معاف کر دیں میں قسم کھاتا ہوں آئندہ کبھی یہ حرکت نہیں کروں گا میں اس کے پیر پڑتا ہوں آپ کے مجھے معاف کر دیں لڑکا بےچینی سے اسکے پاؤں میں بیٹھا منت بھرے لہجے میں بولا لیکن وہ کچھ بھی سوچے سمجھے پولیس کو اسے لے جانا کا اشارہ کر گیا جبکہ تسمیر کا یہ انداز کبرا کے لیے بلکل الگ تھا جبکہ الگے ہی لمحے اپنی رات والی حرکت آنکھوں کے سامنے آتی ہی اسے دھیروں شرمندگی نے آہ گھیرا…..

تھینک یو تسمیر سر تھینک یو. سو مچ رش ختم ہوتے ہی صباحت اسے پاس آئی تھی یور ویلکم ویسے بھی تھینکس والی بات نہیں ہے یہ میرا فرض ہے میرے کالج میں تو کم از کم میں یہ سب ختم کروانے کا حق رکھتا ہوں تسمیر مسکرا کر کہنے لگا جس پر صباحت سر کو خم دیتی آگے بڑھ گئی…

”مجھے بات کرنی ہے آپ سے!“ وہ جو خود بھی باہر کی طرف بڑھا گیا تھا اسکی آواز سے پلٹا ہمم بولیں لہجے میں اجنبیت رکھے مخاطب ہوا وہ کل کے لیے آئی ایم سوری! چاہ کر بھی وہ خود کو روک نا سکی تھی

مسز کُبرا آپ پوچھ سکتا ہوں آپ کب تک مجھ سے ایسے ہی معافی مانگتی رہی گی؟ میر اسکی طرف قدم بڑھاۓ اسکی آنکھوں میں دیکھتا بولا

”پتا نہیں لیکن شاید تب تک جب تک آپ مجھے معاف نہیں کردیتے“ چہرے پر مصومیت سجاۓ وہ گھبرا کر بولی کیوں مجھ سے لڑے بغیر سکون نہیں مل رہا؟ اسکے کان کے پاس جھکے وہ گھمبیر لہجے میں کہنے لگا ایسی بات نہیں ہے میں نے آپ پر ہاتھ اٹھایا میں اس بات پر بہت شرمندہ ہوں آج سے پہلے یہ ایسی حرکت کبھی نہیں کی میں نے پہلے کبھی ایسا ہوا بھی نہیں اور اب جب آپ کی کوئی غلطی ہے بھی نہیں تو مجھے اور زیادہ شرمندگی ہورہی ہے کُبرا سر جھکاۓ کہتی اسے اس وقت کوئی مصوم سا بچہ لگی تھی

”تمہیں پتا ہے کُبرا عباس خان کہ میں نے تمہیں سزہ کیوں نہیں دی؟ میں چاہتا تو پلٹ کر تم پر ہاتھ بھی اٹھا سکتا تھا اور یقین کرو مجھے اس میں زرا شرم محسوس نا ہوتی لیکن میری غیرت یہ گوارہ نہیں کرتی کہ میں تم پر ہاتھ اٹھاؤں میں جانتا ہوں مجھ پر ہاتھ اٹھانا تمہارے ذہن میں نہیں تھا یہ سب تم سے تمہاری دوست کی خاطر ہوا بے شک تم نے صحیح کام غلط وقت پر کیا غلط شخص کے ساتھ کیا اور میں یہ بھی جانتا ہوں تم دل سے شرمندہ ہوں لیکن میں چاہ کر بھی تمہیں معاف نہیں کر سکتا کیوں کہ میں چاہتا ہوں کہ تم ساری زندگی شرمندہ رہو“ گھمبیر لہجے میں کہتا وہ آگے بڑھ گیا جبکہ اسے جاتا دیکھ وہ محض اسے جاتا دیکھنے لگی