Shagaf-e-Dil by Syeda Shah | Romantic Urdu Novel | Family Drama & Slow-Burn Chemistry NovelM80046 Shagaf-e-Dil Episode 44 (Part 2)
Shagaf-e-Dil Episode 44 (Part 2)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shagaf-e-Dil by Syeda Shah
گولی چلنے کی آواز سے دوسری طرف خرم کے ہاتھ سے موبائیل چھٹا تھا
اسکے بعد چار فائر مزید ہوۓ اختر کی آہ سنتے ہی خرم نے سکھ کا سانس لیا
تسمیر کی سفید شرٹ تیزی سے خون سے لال ہوئی تھی اختر کی ٹانگ میں گولی لگنے کے باعث وہ تڑپتا ہوا زمین پر گرا
جبکہ یہ فائر تسمیر نے نہیں کیا تھا اسکی نظر اب اختر کے عین پیچھے کھڑے اپنے گارڈز پر گئی جو تیزی سے بھاگتے ہوۓ اسکی طرف آۓ آنکھیں بند ہونے سے پہلے یہ آخری منظر تھا جو وہ دیکھ پایا تھا
ہیلو سر…. تسمیر صاحب کو گولیاں لگی ہیں آپ ہسپتال پہنچے…. دوسری طرف خرم جو اختر کی آہ سن کر پرسکون ہوا تھا اب گارڈز کی آواز سے اسکی صیح معینوں میں ہوائیاں اڑی تھی
ککیا مطلب گولیاں؟؟؟
جی سر انہیں تین سے زائد گولیاں لگی ہیں ہم بس ہسپتال پہنچ رہے ہیں…. گاڈرز شرمندہ سے کہنے لگے تسمیر کے منع کرنے کے باواجود وہ خرم کے حکم پر اسکے پیچھے ہی جایا کرتے تھے لیکن آج انہیں یہاں پہنچنے میں دیر ہو گئی تھی
**************
کُبرا بیٹا دھیان سے یہ لو پانی لو… سلمہ اسکی غیر ہوتی حالت دیکھ کر فوری کچن سے پانی کا گلاس باہر نکلیں
دھیان رکھو کرو نا بیٹے… وہ اسکی کمر سہلاتی بولیں
پپتا نہیں آیا جان اچانک ہی پھنڈا لگا ہے… کُبرا چاۓ کا پہلا گھونٹ ہی لبوں سے لگاۓ تھی اچانک اسے بری طرح پھنڈا لگا جس کے باعث نیلی آنکھوں کے ڈورے سرخ ہوۓ
کوئی بات نہیں بس دھیان رکھو کرو… ویسے اللہ خیر کرے صبح سے میرا دل گھبرا رہا ہے… سلمہ دل پر ہاتھ رکھے اسکے ساتھ ہی بیٹھ گئیں
برکت اور صباحت بھی ان کے پاس ہی آئی تھیں کتنا اچھا لگ رہا ہے میرا گھر…میں تو بہت خوش نصیب ہوں کے میری تینوں بیٹیاں میرے پاس ہی ہیں رخسانہ انہیں دیکھتی محبت پاش لہجے میں کہنے لگیں
جبکہ ان سب میں وہ خاموشی سے بیٹھی انکی باتیں سن رہی تھی
تمہیں کیا ہوا منہ کیوں لٹکا ہوا ہے؟ صباحت اسے کندھا مارے بولی
کچھ نہیں بس دل عجیب سا ہو رہا ہے…
ابھی وہ انہی باتوں میں مصروف تھیں جب روحان تیزی سے اپنے روم سے نکلا
کیا ہوا ہے روحان آرام سے بیٹا! سلمہ اسے تیزی سے باہر جاتا دیکھ نوک گئی
مممم مموم بھائییی.. وہ زرد رنگت سے ٹوٹے پھوٹے انداز میث بولا
ککیا ہوا ہے… تسمیر کو؟ کُبرا فوری دل تھام گئی
بھائی کو گولیاں لگی ہیں..ہوسپٹل ہیں وہ… روحان کے الفاظ تھے یا ہتھوڑے جو اس وقت کُبرا کے کانوں میں لگے تھے
کیا بکواس کر رہو روحان؟ ہوش میں ہو؟ سلمہ بھڑکی
موم میں ٹھیک کہ رہا ہوں… مجھے خرم بھائی کی کال آئی ہے.بھائی کو گول.گولیاں لگی ہیں… آسکی آواز کی لڑکھراہٹ اور آنکھوں میں آئی نمی سے کوئی بھی اس کی بات کو مزاق میں نہیں لے جاسکتا تھا
یا اللہ میرا بچہ… سلمہ کے منہ سے ایک چیخ نکلی تھی
جبکہ کُبرا وہی ساکت سی کھڑی روحان کو بے تاثر نظروں سے دیکھنے لگی
”آج آپ مت جائیں نا تسمیر!“ اپنے الفاظ یاد آنے پر ایک آنسو ٹوٹ کر اسکے گال پر گرا تھا اسکے بعد کتنے ہی بے آواز آنسوؤں سے وہ روتی چلی گئی تھی صباحت سے اسے سہارا دیا
وہ کس طرح ہوسپٹل پہنچی تھیں اسے کچھ بھی خبر نہیں تھی
وہ شیشے کے پار مشینوں میں جکڑا ہوا نظر آیا کُبرا بے اختیار آنکھیں میچ گئی اگر اس وقت کوئی اس سے پوچھتا کے درد کی آخری شدت کیا تھی تو وہ اسے میشنوں میں بے سد سا جکڑا ہوا دیکھنا بتاتی…….
مجھے سچ سچ بتاؤ جون… علی صاحب اسے ڈاکٹر سے کمرے سے نکلتے دیکھ پوچھنے لگے کے وہ تکلیف سے سرخ ہوئی آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگا وہ ہی تو اسکا جگری دوست تھا اسکا بھائی تھا
دو گولیاں لگی ہیں… ایک بازوں پر… دوسری پیٹ پر… جبکہ تیسری بازو کے پاس سے ہی چھو کر نکلی ہے
ڈاکٹرز کا کہنا ہے گولیاں انہوں نے نکال دی ہیں…. لیکن اسے اگلے چوبیس گھٹنے میں ہوش میں نا آنے پر کچھھ ببھی ہو سککتا ہے…
آخر کے الفاظوں میں اسکی زبان کپکپاہی تھی ڈاکٹرز نے اسے ہر طرح کی صورتحال کے لیے تیار ہونے کو کہا تھا تسمیر کو جو گولیاں لگی تھیں وہ نکال کر اسے روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا لیکن ابھی ہوش میں نا آنے کے اور اسکا خون زیادہ بہے جانے کے باعث ڈاکٹرز انہیں کچھ بھی نہیں کہ پا رہے تھے
بڑے بابا وہ تکلیف میں ہے! انہیں گلے سے لگاتا وہ اپنا ضبط کھو گیا…کتنا سمجھاتا تھا وہ اسے لیکن وہ تسمیر خان ہی کیا جو اپنی کسی کی بات مان لیتا
لنڈن میں بھی اگر اسے ہلکی سی چوٹ بھی لگتی تھی تو جون کو اسکا درد خود میں محسوس ہوتا تھا
علی اسے گلے لگاکر کیا تصیلی دیتے وہ تو خود اپنا ضبط کھو گئے تھے
*****************
روحان؟
ہمم! وہ سر جھکاۓ ہوۓ تھا جب برکت اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھر گئی
تسمیر بھائی ٹھیک ہو جائیں گے….!!
وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتی بولی کب سے وہ اسی پوزیشن میں بیٹھا تھا
تم دعا کرو برکت… بھائی کو کچھ نا ہو میں مر جاؤں گا یار… ابھی تو ملے ہیں وہ مجھے روحان اسکے حصار میں با مشکل بول پا رہا تھا
ہمت کرو روحان اس وقت ہم سب سے زیادہ ضرورت آیا جان اور کُبرا کو ہے ہماری اگر ہم لوگ ہی ایسے کریں گے تو انکا کیا ہوگا؟ برکت اسے سمجھانے لگی جس پر وہ سر اثبات میں ہلا گیا
*****************
” اس سے بدتمیز لڑکی نہیں ملی تھی آپ کو بیٹی بنانے کے لیے؟“
”میرا نام کُبرا عباس خان ہے بہتر ہوگا آپ بھی مجھے میرے نام سے ہی پکاریں”
“کُبرا؟ یہ کیسا نام ہے کوبرا ہاں ویسے کوبرا
نام زیادہ سوٹ کرتا تم پر”
” میں یہ نہیں پوچھ رہا کیا کر رہی تھیں یہاں میں یہ پوچھ رہا ہوں اگر میں نا آتا تو کیا کرتی؟ ایسے ہی اسے بدتمیزی کرنے دیتی؟ ویسے تو بہت بن رہی تھیں میرے سامنے اپنے دھنگ ان چیزوں کے لیے بچا کر رکھ لو ایسے ہی کوبرا نام نہیں رکھا ہم نے تمہارہ“
”یہ غصہ اوروں کے لیے بچا کر رکھو جہاں اسکا کام ہو آئندہ میں تمہیں کسی لڑکے سے ڈرتے ہوۓ نا دیکھوں!“
”تم نے ہی تو کہا تھا میری مدد سے اچھا ہے کہ تم گر جاؤ میں نے تو بس تمہاری بات مانی ہے اور تمہیں کیا لگا تھا میں فلمی ہیرو کی طرح تمہارے منع کرنے کے باواجود تمہیں گرنے سے پہلے اپنی باہوں میں سمیٹ لوں گا؟ ویسے میں یہ کر بھی لیتا,اگر یہاں تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا لیکن اب یہاں تو تم ہو اور میں تمہاری بات کیسے ٹال سکھتا ہوں؟“
“اس کالج میں آج کے بعد لڑکوں کو خود یہ احساس ہوگا کہ اگر کوئی لڑکی اکیلی ہو تو اسے ہراس کرنے کے بجاۓ اسے تحافظ دیا جاۓ لڑکیوں کو انکے فرض بتانے کے بجاۓ انکی عزت کرنا سکھیں اور میں تسمیر علی خان یہ قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج کے بعد اگر میں نے اپنے کالج تو کیا اس علاقے میں ایسا کوئی قصہ سنا تو واللہ علم میں اسے زندہ گاڑ دوں گا“
”ایک بات زہن نشین کر لو تم کُبرا عباس خان میں نشے میں بھی ان لڑکیوں کے قریب نہیں جاتا جو مجھ سے دور بھاگتی ہوں اتنا بغیرت نہیں ہوں تسمیر خان ہوں تمہاری عزت کرنا جانتا ہوں“
(جب بھی بات اسکے باپ کی عزت پر آتی تھی اسکو اپنا سانس روکتا محسوس ہوتا تھا وہ بیٹا ہوکر اپنے باپ کی عزت پر بات آنے سے ڈرتا تھا)
“ایک بات تو پر مجھے اب یقین آہی گیا ہے….
اور وہ کیا؟
یہی کہ تم میرے سے شادی کرنے کو دل سے راضی ہو جبھی تو تم جان بوجھ کر یہ کنگنا پہن کر کالج جا رہی ہو تاکہ سب کو پتا لگ جاۓ کہ تمہاری شادی (ڈی تسمیر خان) سے ہو رہی ہے “
”بتاؤ نیلی بلی کونسی اچھی ہے؟ روحان ابرو اچکاۓ بولا
یہ بلیک والی زیادہ اچھی ہے!
تو بس ٹھیک ہو گیا فائنل یہ مہرون والی پیک کر دیں بھائی آپ اسکا جواب پاتے ہی تسمیر پرسکون سا دوکاندار کو شیروانی پکڑاتا ایک شرارتی نظر سامنے کھڑی کُبرا پر ڈال گیا جو بڑی بڑی آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہی تھی اسکا بس نا چلے تھا وہ تسمیر کا سر پھاڑ دے “
”بلکل ٹھیک فرما رہی ہیں اماں جان ہم دونوں ایک دوسرے سے بلکل مختلف ہیں
اگر کُبرا اچھی ہے تو میں برا ہوں اگر وہ آگے ہے تو میں اس سے پیچھے وہ نیک ہے اور میں بدکار ہوں بے شک میں کُبرا کے قابل نہیں ہوں لیکن وہ مجھے اپنے قابل خود بنا لے گی کیوں کُبرا؟“
” اچھا رو کیوں رہی ہو؟ میں ہوں نا ابھی سب ٹھیک ہو جاۓ گا اسے کُبرا کے آنسو اپنے دل پر گرتے محسوس ہوتے تھے“
”مجھے بعد میں نہار لینا فلحال اگر آجازت ہو تو گاڑی چلا لوں؟“
”ایسے ہی دیکھ دیکھ کر نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا؟“
”آج مجھے اگر تھوڑا ڈر لگا بھی تو وہ صرف اسئلے کیوں کہ تم میرے ساتھ تھیں اور تم پر میری وجہ سے کوئی آنچ آۓ یہ میں آفوڈ نہیں کر سکتا میں نہیں جانتا تم میرے ساتھ کب تک ہو لیکن یقین کرو جب تک تم میرے ساتھ ہو کوئی دوسرا تمہیں کبھی میری وجہ سے نقصان نہیں پہنچا سکتا اسئلے ڈرنا مت!“
”چھوڑو نا مجھے شرم آرہی ہے ویسے بھی کوئی بات نہیں مجھے اچھا لگا تم پورا حق رکھتی ہو مجھ پر آفٹر آل ہم میاں بیوی ہیں تو ڈونٹ وری“
”آرہی ہو یا خود اٹھا کر چلو؟“
”شرم تو نہیں آئی تمہیں شوہر کے بغیر کھانا کھاتے ہوۓ کبھی دیکھا ہے اسٹار پلس کی ہیروئن کو کیسے پوری پوری رات دروازے دے لگی بیٹھی رہتی ہیں “
”میٹ ماۓ وائف ( کوبرا) کُبرا تسمیر خان!“
”جسے تم بہن جی ٹائپ کہ رہی ہو ہماری زبان میں اسے پریسیش( precious) کہتے ہیں“
”یقین کر اگر میری کُبرا کو ایک خراج بھی آئی تو وہ میں اسے جان سے مار دوں گا! “
”آئی سؤئر میں اسے چھوڑوں گا نہیں تمہارے ہر زخم کا حساب ان سے سود سمیت لوں گا!“
(“He cried for you”)
”اب تم ریڈی ہو جاؤ کیوں کہ تمہیں اب میں بے شرم آدمی کے سارے مطلب تفصیل سے سمجھاؤں گا“
”آپ کیوں مجھے اتنا چھیڑتے ہیں؟؟
تو تم مت چھیڑا کرو سمپل..!!“
”نفرت ہے مجھے آپ سے!
”مگر مجھے تو محبت ہے تم سے! اسکا انداز اتنا عام تھا کے کُبرا بامشکل اسکے لفظوں سے سنبھلی تھی“
”کسی نے میری بیوی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو جان سے ماروں گا!“
اسکی بند ہوئی آنکھیں دیکھ کر وہ مسکراہٹ دباۓ اسکے عین پیچھے سے اپنا تکیہ ہٹا کر ایک نوٹ اٹھا گیا
”استغفراللہ کیا کیا سوچنے لگی ہو تم!“
”ضرور دادی جان اگر آپ کی پوتی میری بیوی کی طرح حسین ہونے کے ساتھ ساتھ محبت اور زمےداریاں نبھانے
والی ہوتی تو ضرور موم اس پر بھی دھیان دیتی…!!! ہر لفظ چبا چبا کر ادا کرتا وہ پھوپھو سمیت وہاں موجود ہر شخص کا منہ کھلوا گیا کے کُبرا کو اب اس کی موجودگی کا صیح معینوں میں یقین ہوا ایک وہی تو تھا وہ جس پر سایہ کیے رکھتا تھا وہ اسکا سائبان تھا“
انسو لڑئیوں کی صورت اسکے گال پر گر رہے تھے اس کی پہلی ملاقات سے لے کر ان چھ مہنیوں کو وہ کسی فلم کی طرح خود کے سامنے چلتی دیکھ رہی تھی
اب ہوش میں آنے میں تو وہ اسکے پاس تھا ہی نہیں… اسے بے سد بیڈ پر پڑا دیکھ کُبرا کی ازیت میں اضافہ ہوا تھا
میں جلدی اجاؤں گا
گھر آکر محبت کے سارے مطلب بتاؤں گا تمہیں! اسکے الفاظ ذہن میں گونجے
جھوٹے! جھوٹے ہیں آپ! میں کبھی معاف نہیں کروں گی آپ.کو روتے ہوۓ وہ پوری سختی سے ہاتھ کی پشت سے آنسو رگڑھتی ایک بار پھر ماضی میں گئی اسے دو دن پہلے کا واقعہ یاد آیا تھا
وہ بیڈ پر بیٹھی ایک نظر گھڑی ہر ڈال گئی رات کے دس بج رہے تھے
یہ کیا کر رہی ہو؟ تسمیر جو سگریٹ پینے بلکنی میں گیا تھا اندر آتا اسے ڈائری پر جھکے دیکھ پوچھنے لگا
کچھ نہیں بس ایک عام سی کہانی لکھ کر رہی ہوں…. مختصر کا جواب دیتی وہ پھر سے لکھنے لگی
عام کی کہانی کس پر؟
کچھ نہیں بس ایک عام سی لڑکی کی کہانی لکھ رہی ہوں!
تو پھر تو عام نہیں ہوئی… تسمیر کے کہنے پر وہ ابرو اچکا کر اسے دیکھنے لگی جو اب اسکی طرف ہی آرہا تھا
تم نے خود ہی تو کہا کہ عام سی کہانی لکھ رہی ہو وہ بھی لڑکی پر؟ تو اگر کہانی لڑکی پر لکھ رہی ہو تو عام تھوڑی ہوئی… لڑکیاں عام تھوڑی ہوتی ہیں اور تمہارے جیسی تو بلکل بھی عام نہیں ہوتیں
وہ اس کے ہاتھ سے ڈائری لیے پرسوچ سا بولا
مثلا؟ میری جیسی لڑکیاں کیسی ہوتی ہیں؟
مثلا یہ کہ لڑکیاں بہت خاص ہوتی ہیں مضبوط ہوتی ہیں جو ہر مشکل کا سامنا اکیلے ہی کر جاتی ہیں
کمزور تو ہم مرد ہوتے ہیں…. کُبرا پر اصرار سی اسکی باتیں سن رہی تھی
جب بات ہماری گھر کی عورتوں پر آتی ہیں تو ہم مرد کمزور پڑ جاتے ہیں جب بات ہماری بیوئیوں عزت پر آتی ہے تو ہم کمزور پر جاتے ہیں برداشت ہی نہیں ہوتا کسی کے منہ سے اپنی عزت کا نام سننا…
مضبوط تو تم لڑکیاں ہوتی ہو اور مجھے یقین ہے تم بھی بہت مضبوط ہو… میرے بغیر بھی ہر مشکل کا سامنا کر سکتی ہو
اور اپنی کہانی میں بھی ہو سکے تو لکھ دینا ضروری نہیں ہے ہر محبت کو ہی محبوب کا ساتھ نصیب ہو کچھ کہانیاں ادھوری رہے کر بھی بہت مشہور ہو جاتی ہیں
اسکی پیشانی پر لب رکھے وہ سنجیدگی سے کہنے لگا جب کے کُبرا کو اسکی باتیں بلکل سمجھ نہیں آئی تھی
آپ ایسے کیوں کہ رہے ہیں؟ وہ اسکے چہرے کو پریشانی سے دیکھتے ہوۓ بولی
ویسے ہی! تسمیر اسے اپنے حصار میں لے گیا
آپ سے ایک بات پوچھوں؟ کُبرا اسکے سینے پر سر رکھے اس پر نظریں مرکوز کیے بولی
جی پوچھیں! اسکے بالوں میں ہاتھ پھیڑتا وہ محبت سے چور لہجے میں کہنے لگا
آپ کو مجھ سے کب محبت ہوئی تھی؟ دل میں آۓ سوالوں کو اسکے آگے رکھ گئی
کبھی نہیں! تسمیر مسکراہٹ دبا گیا جس پر کُبرا خونخوار نظروں سے اسے گھورنے لگی
اچھی تو مجھے جب ہی لگنے لگی تھی جب تم بدتمیز لڑکیوں کی طرح گاڑد کی سگی بن کر میرے سے لڑی تھیں (وہ اسے پہلی ملاقات کا وسیلہ دے گیا)
پھر جب تم نے مجھ تھپڑ مارا تو بے حد چڑ ہوئی تھی پھر پتا نہیں کب تم سے محبت بھی ہو گئی… وہ کنفیوز سے بولا
زور سے لگا تھا؟ کُبرا اسکے گال پر ہاتھ پھیڑتی پوچھ بیٹھی کے تسمیر کی آنکھوں میں یکدم ہی شرارت رینگی
ہاں بہت زور سے! وہ چہرے پر مصومیت سجا گیا
سوری!
ایسے ہی تھوڑی؟ صیح سے مناؤ! تیزی سے اس پر جھکتا وہ خمار آلود لہجے میں بولا
کے کُبرا اس اچانک اتفاد پر سٹپٹائی
سو جائیں صبح آوفس جانا ہے آپ نے!!
کل مجھے دیر سے جانا ہے تم مجھے آرام سے منا سکتی ہو… گھمبیر لہجے میں کہتا وہ اس پر جھکتا چلا گیا
روحان کی آواز سے وہ حال میں لوٹی تھی کُبرا بھائی کی حالت بگڑ رہی ہے روحان اسے کہتی ہی ڈاکٹرز کو آواز دینے لگا
تسمیر کی حالت بگڑتی جا رہی تھی اس کے منیٹر پر بیپ پونے لگی اسکی سانسں تھم رہی تھیں جب اسکے ساتھ ہی شیشے کے پاڑ کھڑی کُبرا کو اپنی ڈھرکنیں روکتی محسوس ہوئیں وہ ہربڑا کر ڈاکٹر کی طرف بھاگی
ہم دیکھ رہے ہیں میم!! ڈاکٹرز کہتے ساتھ ہی اندر کی طرف بڑھے
اسکی. ڈھرکنیں آستہ آستہ ہو رہی تھی بپ مسلسل جاری تھی اور روکنے کا نام نہیں لے رہی اگلے ہی لمحے آئی سی جی مینٹر پر لکھیر بلکل سیدھی ہوئی تھی
”ضروری نہیں ہے ہر محبت کو ہی محبوب کا ساتھ نصیب ہو کچھ کہانیاں ادھوری رہے کر بھی بہت مشہور ہو جاتی ہیں“
شاید کچھ ایسی ہی کہانی اسکی اور تسمیر کی تھی….
اسکے الفاظ کُبرا کے کانوں میں گونجے اور وہ وہی بیٹھتی چلی گئی تھی