📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 30

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

ڈرتے ڈرتے وہ واشروم سے نکلی سد شکر کے وہ وہاں موجود نہیں تھا

مجھ سے بچ رہی ہو؟ تب اسکی آواز سے بال بنا ہاتھ رکا

نننہیں تو! نارمل ہوتی وہ واپس سے بال بنانے میں مصروف ہو گئی جب اسکا عکس اپنے پیچھے نظر آیا

ڈریس چینج کیوں کیا ہے؟ اسے پیچھے سے حصار میں لیے وہ سرگوشی نما انداز میں بولا

ممجھے نماز پڑھنی ہے وہ سیدھا ہوتی

اس حالت میں بھی؟ وہ اسکے بال سنوارتا ہاتھ کی طرف اشارہ کرتا پوچھنے لگا

جی ہاں بندے کو ہر حال میں شکر کرنا چاہیے اللہ تعالی نے مجھے چھوٹی سی تکلیف دے کر بڑے نقصان سے بچایا ہے وہ اس سے الگ ہوتی سمجھانے لگی

اور اللہ تعالی دو لوگوں کو بے حد پسند کرتے ہیں ایک وہ جو ہر حال میں اسکا شکر کرتا ہے اور دوسرا وہ جو توبہ کرتا ہے مسکرا کر کہتی وہ جاۓ نماز بیچھانے لگی

کے وہ اسکی بات پر گہری سانس لیے واشروم کی طرف بڑھ گیا

اگلے ہی وہ گیلے چہرے سے آستین بازو تک فلوڈ کیے آتا اسکے تھوڑا آگے جاۓ نماز بیچھا گیا کے کُبرا ششدر سی اسے دیکھنے لگی

بے اختیار پر وہ دل پر ہاتھ رکھے مسکرا کر اس پر ایک نظر ڈال کر نماز شروع کر گئی

جو فلحال نماز بھی تھوڑا تھوڑا اسے دیکھ ہی ادا کر رہا تھا اسکے ساتھ ہی سجدے جاتے کسی کے کہ گئے الفاظ اسکے ذہن میں گونجے تھے

”اور جب یہ دونوں(میاں بیوی) ساتھ نماز پڑھتے ہیں تو رب مسکرا رہا ہوتا ہے“

سلام پھیڑے وہ اسے دیکھنے لگا جو اب بھی سجدہ میں سر دئیے ہوۓ تھی اتنے عرصے بعد اسے اپنے دل میں سکون سا اتڑتا محوس ہوا تھا

کدھر؟ وہ جو جاۓ نماز سمیٹتی کہیں جانے کو اٹھی کے وہ اسکا ہاتھ تھام گیا تھا

میں آج صباحت وغیرہ کے ساتھ ہوئیں گی! کُبرا اس کے چہرے سے نظریں ہٹا کر بولی جو آج سیدھا اسکے دل میں اتر رہا تھا

کس خوشی میں؟ تسمیر تپا تھا

کیا مطلب ہے؟ کل چلی جاۓ گی صباحت اور ویسے بھی میں اسے ٹھیک سے ٹائم نہیں دے پائی حقمی لہجے میں کہتی وہ اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے نکالنے لگی

تو پورا دن دیا تھا نا سب کو ٹائم دینے کے لیے اب تم کہیں نہیں جا رہی یہ میرا ٹائم ہے اسے جھٹکے سے اپنی طرف کھنیچے وہ محبت پاش لہجے میں بولا

آآآپ مجھے بہت تنگ کر رہے ہیں ممیر! اسکی دن بدن بڑھتی جسارتوں پر وہ گھبرا کر کہنے لگی

ڈارلنگ آپ ہی تو کہتی ہیں کہ میں بہت بے شرم ہوں تو اب اسکا مطلب بھی تو آپ کو سمجھانا ہے نا ویسے بھی

میں تنگ نہیں کر رہا بس آپ سے اپنا حق مانگ رہا ہوں خمار آلود لہجے میں کہتا وہ ایک انچ کا فاصلہ بھی ختم کر چکا تھا

ممجھے نیند وہ بولتی کے اسکے آدھے لفظ منہ رہے گئے جب وہ اسے کمر سے جکڑے اسکے لبوں پر جھکا تھا

اسکے مزاحمت کرتے ہاتھوں کو نرمی سے اپنے ایک ہی تھامے کافی دیر خود کو سیراب کیے اس سے الگ ہوا کے

کُبرا بے حال سی خود کو نارمل کرنے کو گہرے گہرے سانس بھرے اسی کے سہارے کھڑی تھی یہ تو محض

فرسٹ اسٹیج ہے بے شرمی کی باقی کے مطلب سمجھانے کے لیے تمہیں ابھی ٹرینڈ کرنا پڑے گا شرارت سے لب

کچل کر کہتا اسے دیکھنے لگا جو سرخ سی اسے گھورنے میں مصروف تھی

ایسے مت دیکھو کنٹرول نہیں ہوتا مسکراہٹ دباۓ وہ

ایک بار پھر اس کے قریب ہوا جب فوری سے بیڈ پر لیٹے

کمبل منہ تک اوڑھ گئی دل تھا جو سب دیواریں توڑ کر آنے کو مچل رہا تھا

*******************

صبح اسکی آنکھ کھولی تو جود کو اسکے حصار میں پایا

ایک شرمیلی مسکراہٹ نے اسکے ہونٹوں کا اتحاطہ کیا تھا

لیکم رات والا منظر سوچتے ہی وہ سرخ سی چہرہ پھیڑ گئی وہ اٹھتی کے تسمیر اسے خود پر کھینچ گیا

مورنگ! گھمبیر لہجے میں اسکے کان میں سرگوشی کرتا وہ اسکی جان ہوا کر گیا

چھوڑیں ناششتہ بنانا ہے مجھے!

تو جاؤ کس نے روکا ہے؟ وہ ابرو اچکا گیا

اس نے! کُبرا خود پر سے اسکے ہاتھ ہٹانے کی ناکام کوشش کرنے لگی جو وہ مضبوطی سے جماۓ ہوۓ تھا

بے کرو پہلے! تسمیر ڈھٹائی دے بولا

اوکے میں کردوں گی پے پہلے چھوڑوں اسکی بات کا مطلب سمجھے بغیر ہی وہ اکتا کر کہنے لگی جب اسکی

شرارتی نظروں سے خطرے کی گھنٹی کا احساس ہوا

کرو پے! شرارت سے کہتا وہ اسکے آگے اپنا گال کر گیا جس پر وہ منہ کھولے اسے دیکھ کر رہے گئی

کبھی نہیں! وہ اس شخص کی عجیب سی فرمائشوں سے حیران ہوکر رہے جاتی تھی

.

ٹھیک ہے پھر رہو ایسے ہی ازلی لاپروائی سے کہتا وہ اسے آگ لگا گیا

کیا ہے تسمیر کیوں تنگ کرتے ہیں آپ مجھے اتنا! روہانسی سی ہوتی وہ ایک بار پھر اس کی گرفت سے نکلنے لگی

لیکن وہ نازک جان کہاں اس چوڑی جسامت والے مرد کو ہارا سکتی تھی

چلو ایک آوفر ہے تمہارے لیے! اب کی بار وہ آنکھوں میں چمک لیے کہتا اسے مزید کنفیوز کر گیا

کوئی فیور نہیں چاہیے مجھے خطرہ بھانپتی وہ تیزی سے اٹھ کر اسجی خشادہ پیشانی پر لب رکھ گئی

تسمیر محفوظ ہوتا پیچھے ہوا کے اسکی گرفت ڈھیلی پڑتے ہی وہ اٹھ کر بھاگی تھی

******************

ناشتے کی ٹیبل پر صباحت سمیت سب ہی موجود تھے

عباس؟ آغا جان نے انہیں مخاطب

جی بابا؟

تم نے کیا سوچا ہے پھر برکت بیٹی کے بارے میں؟ وہ ابرو اچکاۓ پوچھنے لگے

بابا ابھی تو کچھ بھی نہیں سوچا آپ کی نظر میں ہے کوئی؟ عباس کے پوچھنے پر وہ سر اثبات میں ہلا گئے

ہم چاہتے ہیں روحان کی شادی برکت سے ہو بے شک رخصتی آپ لوگ بعد میں کریں لیکن فلحال نکاح کر دیں

آغا جان مطمئن سے بولے جس پر رخسانہ نے حیرت سے سلمہ کو دیکھا جو مسکرا کر سر اثبات میں ہلا گئیں

جیسے آپ کو بہتر لگے آغا جان بس ایک بار.میں برکت کہ راۓ ضرور جاننا چاہوں گا عباس مسکرا کر بیٹی کی

طرف دیکھنے لگے وہ سر جھکاۓ مشکل سے کھا رہی تھی

اگر تم سے کہ کے بچوں کی بھی یہی مرضی ہے تو؟ سلمہ شرارتی انداز میں بولیں

تو میری طرف ہاں سمجھیں آپ بھابھی عباس صاحب خوشی سے کہنے لگے

کے انکی بات سے روحان جو ابھی ٹیبل پر آیا تھا آیکسائٹڈ سا آغا جان کے ساتھ والی ہی سیٹ سنبھال گیا

آغا جان اسی ہفتے ہی کسی دیٹ پر انکا نکاح کر دیتے ہیں کُبرا ایکسائٹڈ سی کہنے لگی جس پر آغا جان نے پرسوچ نظروں سے اسے دیکھا

خیال اچھا ہے بلکہ بہت اچھا ہے آپ لوگ سوچ سمجھ کر فیصلہ کر لیں پھر کوئی تاریخ دیکھ لیں گے اسی ہفتے کی آغا جان مسکرا کر بولے آخر اسکی بات کو وہ ٹال بھی کیسے سکتے تھے

********************

دن جیسے منٹوں میں گزر رہے تھے پورے خان میشن میں ہلچل سی مچی تھی

شام میں تیار رہنا ڈنر آج ہم باہر کریں گے! اسکے میسج کو وہ کہیں بار پڑھ چکی تھی ان دو تین دنوں میں ان

دونوں کا ایک دوسرے سے کم کم ہی سامنا ہوا تھا

روحان اور برکت کا نکاح جمعہ کو تھا جس کی وجہ سے وہ کافی مصروف رہی تھی اور تسمیر بھی ان دنوں اپنے

آوفس کے بڈن میں رات کو دیر سے گھر آتا اور اسکے اٹھنے سے پہلے ہی آوفس نکل جاتا تھا

مسکرا کر فون رکھتی وہ باہر نکلی تھی اپنے روم سے نکلتے ہی نظر ان پر گئی

آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں؟ کُبرا برکت صباحت اور رخسانہ کے ساتھ سلمہ کو بھی کہیں جاتا دیکھ دیکھ ابرو اچکا گئی

شوپنگ پر جا رہے ہیں میئری نے بتایا تمہاری طبیت ٹھیک نہیں ہے اسئلے ہم نے سوچا تم رسٹ کر رہی ہونگی رخسانہ مسکرا کر بولیں

جی بس طبیت عجیب تھی لیکن میں چلوں گی آپ کے ساتھ! وہ ضدی انداز میں کہنے لگی

ٹھیک ہے جلدی سے اپنی شال لے آؤ سلمہ محبت سے کہتی باہر کی طرف بڑھ گئیں میسج کرنے کا ارادہ ترک کرتی وہ گاڑی کی طرف بڑھ گئی

جب وہ تیز تیز قدم بڑھاۓ روم کی طرف گئی شال لیتے ہی اسے میسج کرنے کا ارادہ ترک کیا تھا

تسمیر کو انفورم تو کر دیا ہے نا تم نے؟ سلمہ اسے گاڑی میں بیٹھتے دیکھ محبت سے پوچھنے لگیں

نہیں آئیا جان میں بعد میں بتا دوں گی ابھی وہ جلدی سے بولی(جانتی تھی اگر وہ اسے پہلے بتا دیتی تو وہ

کبھی اسے خود کے بغیر جانے نا دیتا اس واقعے کے بعد سے وہ مزید احتیاط برتنے لگا تھا)

صباحت تم بھی تیاریاں کر لو اگلا نمبر تمہارہ ہی ہے بلکہ برکت کی رخصتی کے ساتھ ہی تمہاری بھی ہوگی!

کُبرا اسکے ساتھ چلتی شرارت سے بولی آج کتنے دنوں بعد وہ کھلی فزا میں سانس لے رہی تھی اس بات سے

انجان کے دور کوئی مہارت سے اسے کمیرے میں اتاڑ رہا تھا

ہاں صباحت تم بھی سوچ سمجھ کے ہی شوپنگ کرنا کہیں ایسا نا ہو جون بھائی میرے نکاح پر اپنے نکاح کی ضد لگا لیں برکت نے اسکا ساتھ دیا تھا

چھپ کر جاؤ تم دونوں فضول ہی بولتی ہو صباحت دونوں کو چٹ لگاۓ سرخ سی بولی

اہمم اہمم سرخیاں تو دیکھیں آپ کُبرا ایک بار پھر اسے چھیڑ گئی اب اسکا ٹائم جو آ چکا تھا

فلحان نکاح میرا نہیں ان میڈم کا ہے اس پر فوکس کرو صباحت برکت کی طرف اشاہ کر گئی جس پر وہ اب اسے چھیڑنا شروع ہو چکی تھیں

**********************

آپ بے فکر رہیں انشاء اللہ فیصلہ ہمارے حق میں ہے وہ مسکرا کر سامنے موجود شخص سے مخاطب ہوا آخر اسکے اتنے دنوں کی محنت جو تھی

اس وقت وہ اپنے کیبن میں مقابل پارٹی سے کسی کیس پر بات کرتا سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاۓ چہرے پر گہری مسکراہٹ سجاۓ ساتھ ساتھ

نظر گھڑی پر بھی ڈال رہا تھا ایک گھنٹے میں اسے گھر پہنچ کر اسے اپنے ساتھ فرسٹ ڈنر پر لے جانا تھا

مسلسل آتے نوٹیفیکشن سے اب فون کی جانب متواجہ ہوا جبکہ سکرین پر موجود ان نون نمبر سے آۓ میسج جگمگا رہے تھے جنہیں وہ غیر ارادی توڑ پر کھول گیا

جبکہ میسج دیکھتی ہی وہ کرسی سے ٹیک ہٹاۓ سیدھا ہوا تھا کچھ دیر پہلے والی مسکراہٹ کی جگہ اب تنے ہوۓ تاثرات نے لے لی تھی

کے اسکے سامنے موجود شخص بھی اسکے بدلتے تاثرات سے پریشان سا ہوا سب خیریت تو ہے نا سر؟

شیخ صاحب میں بعد میں ملتا ہوں آپ سے ان سے کہتی ہی وہ تیزی سے موبائیل کی سکرین کو دیکھ کر اٹھا تھا

جہاں وہ کسی سڑک کے نکارے کھڑی کچھ کھا رہی تھی اور کسی میں اسکے ہنستی ہوئی تو کہیں شوپنگ بیگ سے ساتھ نظر آتی تصویریں اسے بھیجی گئی تھیں

کال اٹھاؤ کُبرا! تیزی سے گاڑی میں بیٹھتا وہ پریشان سا بولا لیکن دوسری طرف سے فون بند ہونے سے ہی اسکی جان مزید ہوا ہوئی تھی

ہاں خرم یہ نمبر بھیج رہا ہوں مجھے جلدی اسکی ڈیٹیلز دو !

دوسری شوپنگ سے آتے ہی اپنا نیا سوٹ اٹھاۓ اپنے روم میں آئی کچھ لمحوں میں فریش سی مہرون کلڑ کی

لونگ شفیون کی فراک پہنے وہ گیلے بالوں سے شیشے کے سامنے آئی جلدی سے لائٹ سا میک کیے ایک نتقیدی نظر خود پر ڈالی وہ آج دل سے اسکے لیے تیار ہو رہی تھی

رش ڈرائیونگ کرتا وہ یہاں پہنچا تھا

کُبرا کہاں ہے؟ اندر آتے ہی سب سے پہلے سامنا میئری سے ہوا تھا

وہ اوپر ہے ابھی شوپنگ سے آئی ہے اسکا پورا جواب سنے بغیر ہی وہ تنے ہوۓ تاثرات لیے اپنے روم کی جانب بڑھ گیا

آگئے آپ؟ اسے دیکھتے ہی وہ ایکسائٹڈ سی چیزیں سمیٹ کر بولنے لگی

کس سے پوچھ کر گھر سے باہر نکلی تھیں تم؟ تسمیر اسے دونوں بازؤں سے تھامے ڈھارا

آپ اتنا غصہ …….

میں نے پوچھا کس سے پوچھ کر گھر سے نکلی تھیں؟ اسکی بات وہ بیچ میں سے ہی درشتی سے کاٹتا وہ پوری

قوت سے چلایا کے اسکی ڈھار سے وہ سہم کر رہے گئی

ششوپنگ کے لیے آئیا جان کے ساتھ وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظوں میں بامشکل کہ سکھی

میں مر گیا تھا؟جو تم نے ان کے ساتھ جانا مناسب سمجھا؟ میری بات کی کوئی ویلؤ ہے کہ نہیں تمہاری نظر

میں؟ وہ ایک بار چلایا کے اب کی کُبرا کو اسکہ انگلیاں اپنے بازو میں دھنستی محسوس ہوئیں

سسوری وہ روتے ہوۓ اسے کہنے لگی جب وہ اسے جھٹکے سے چھوڑتا دروازہ ڈھار سے بند کیے باہر نکل گیا تھا

تسمیر بیٹا سب ٹھیک تو ہے؟ سلمہ اسے سر مسلے باہر لاونج میں صوفے کی پشت پر سر رکھے دیکھ بولیں

جی سب ٹھیک ہے! سرد لہجے میں کہتا وہ انہیں حیران کر گیا ایسے تو وہ کبھی بھی اپنے روم سے باہر نہیں بیٹھتا تھا

واقعی سب خیریت ہے نا؟ وہ پریشان سے کہنے لگیں آخر تھیں تو ماں ہی جو اولاد کی زرا سی تکلیف پر تڑپ جایا کرتی ہیں

بس کچھ نہیں موم سر میں درد ہے آپ کوفی یا چاۓ بنا دیں پلزز وہ کان کی لو مسل کر کہنے لگا جس پر سلمہ

سر کا خم دیتی کچن کی جانب بڑھ گئیں

مین بنا دیتی ہوں آئیا جان! وہ انکے پیچھے کچن میں آئی تھی

تم دونوں کے بیچ سب ٹھیک ہے نا؟ وہ تفتیش سے پوچھنے لگی

جی جی سب ٹھیک ہے کُبرا کے کہنے پر وہ مطمئن سی کچن سے باہر نکل گئیں

کچھ دیر میں وہ اسکے سامنے کوفی رکھ گئی جس پر وہ لب بھینج گیا

میں نے موم سے کہا تھا! نہیں پینی مجھے اب! غصے سے کہتا وہ. کوفی کا مگ وہی چھوڑے اپنے روم کی جانب بڑھ گیا کے کُبرا بامشکل آنسؤ روکے ہوۓ تھی

وہ کب اسکے اتنے دنوں سے محبت بھرے روایے کے بعد اب اس کی بے رخی برداشت کر سکتی تھی

کھانے کی ٹیبل پر بھی وہ خاموشی سے کھانا کھاتا اسے چھیڑنا تو دور اسے دیکھنا تک گوارا نہیں کر رہا تھا

اور اب کافی دیر سے ہی صوفے پر بیٹھا ٹانگیں ٹیبل پر پھیلاۓ وہ کب سے لیپ ٹوپ میں مصروف تھا اس دوران

ایک نظر بھی اسے اٹھا کر نہیں دیکھی تھی اس سے زیادہ وہ اب برداشت نہیں کر سکتی تھی

اپنا کام سمیٹ کر وہ اٹھ کر الماری سے کپڑے نکالے واشروم کی طرف بڑھا جب وہ ہمت کرکے اسکے راستے میں حائل ہوتی اسکا ہاتھ تھام گئی تھی

جسے وہ جھٹک کر واشروم میں جاتے ہی دروازہ زور سے بند کر گیا

اب نہیں مناؤں گی بلکل نہیں مناؤں گی روہانسی سی ہوکر وہ بیڈ پر اپنی بوکس پھیلا گئی پیپر بھی اب سر پر تھے

کچھ لمحوں میں وہ گرے ٹراؤزر پر گرے ہی شرٹ پہنے نم چہرے اور بالوں سے باہر آیا نظریں اب اس ہر گئیں جو

اب کپڑے چینج کیے بیڈ پر بوکس پھیلاۓ بیٹھی تھی

ہٹاؤ اسے مجھے سونا ہے! سرد لہجے میں کہتا وہ اپنی جگہ بناۓ آنکھیں موند گیا

جبکہ کُبرا لب بھینج کر اسکی پشت کو افسوس سے دیکھتی اپنا سامان پٹکنے کے انداز سے صوفے پر پھینکا تھا

جسے وہ واضع توڑ کر محسوس کر چکا تھا اسکی ساری کاروائی ملاحظہ کرتا وہ لب بھینج کر رہے گیا فلحاں اس

پر بے حد غصہ تھا وہ اتنی غیر زمےدار کیسے ہو سکتی تھی؟ یا شاید وہ صرف اسکے معملے میں غیر زمےداری سے کام لیتی تھی غصے سے سوچتا وہ آنکھیں موند گیا تھا