📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 29

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

اسکا زہریلا لمس یاد کرتی وہ نیند میں بے چین سی سر نفی میں ہلا رہی تھی

پپپللز دور رہو مجھ سے ہٹو اسکے مسلسل بڑبڑانے سے تسمیر با مشکل آنکھیں کھول پایا

ششش کُبرا کوئی نہیں ہے میں ہوں نیند میں اسکی غیر ہوتی حالت دیکھ کر وہ تکیے سائد ہر کرتا اسے اپنے حصار

میں لے اسکے بالوں پر اپنے لب رکھ گیا کے وہ اسکا حصار پاتے ہی پرسکون سی ہوئی

صبح الرام کی آواز سے اسکی آنکھ کھولی کے خود پر اسکی مضبوط گرفت محسوس کرتی وہ سرخ سی ہوئی

بے شرم! چہرے پر آۓ رنگوں سے نفی کرتی وہ احتیاط سے اسکی گرفت سے نکلی

کچھ لمحوں میں نماز ادا کرتی جاۓ نماز فلوڈ کیے وہ باہر کی طرف بڑھی

کہاں جا رہی ہو؟ جب اس کی نیند سے بوجھل آواز نے قدم منجمد کیے تھے

ناشتہ بنانے! دل پر ہاتھ رکھے جواب دیا

اس ٹوٹے ہاتھ سے ناشتہ بناؤں گی تم؟ تسمیر مسکراہٹ دباۓ بولا

تو کیا آپ بنائیں گے؟ اسکے طنز پر وہ ابرو اچکا گئی

ہاں تو تمہیں کیا لگتا ہے میں نہیں بنا سکتا؟ چیلنجنگ انداز میں کہتا وہ اٹھ کھڑا ہوا

مجھے یقین ہے کہ آپ نہیں بنا سکتے! وہ کمر ہر ہاتھ باندھے اسے صاف لفظوں میں چلینج کر گئی

میں بنا سکتا ہوں! اور آج میں ہی بناؤں گا! اس بیلو فل آستین والے سلیپنگ سوٹ میں موجود اس خوبصورت سی لڑکی کو آنکھیں سکیڑ کر دیکھتا وہ پراعتماد لہجے میں کہنے لگا کے اسکے انداز پر کُبرا با مشکل مسکراہٹ ضبط کیے ہوۓ تھی

اوکے ٹراۓ کر لیں! کندھے اچکا کر کہتی وہ کچن کی جانب قدم بڑھا گئی

بنائیں! مسکراہٹ ضبط کیے وہ اسے دیکھ رہی تھی جو عجیب سے تاثرات لیے انڈا ہاتھ میں لیے کھڑا تھا

اوکے! دانت پیس کر کہتا وہ انڈا توۓ پر رکھ گیا

آہ یہ کیا کر رہے ہیں؟ کُبرا کو اس سے اس طرح کی حرکت کی بلکل امید نہیں تھی

ہٹیں اسے توڑیں اور باؤل میں ڈال کر بیٹ کریں

اسے ساتھ ساتھ انسٹرکشن دیتی وہ اب ساتھ ساتھ

اسکی ہیلپ بھی کر رہی تھی( ورنہ اس سے کوئی امید نہیں تھی کہ آج کچن کو تہس نہس کرکے ہی باہر نکلتا)

مجھے ہیلپ نہیں چاہیے تم پیچھے ہٹ جاؤ تسمیر مصروف سا بولا

اچھا ایک منٹ یہ دیکھ لیں پھر خود کر لیجیے گا سر جھٹک کر کہتی وہ آٹے کا پیڑا بناۓ ایک ہاتھ سے ہی بیلنے

لگی جب وہ مسکرا کر اسکے کندھے پر اپنی تھوڈی ٹکا گیا کے اس اچانک اتفاد پر کُبرا دل تھام گئی

ککیا کر رہے ہیں ہٹیں اسکی قربت میں وہ کنفیوز سی بولی

تم نے ہی تو کہا ہے دیکھو تو میں دیکھ ہی رہا ہوں یہاں سے صیح نظر آرہا ہے مجھے ! شرارت سے بولتا وہ اسے مزید کنفیوز کر گیا

یہ لیں خود بنائیں اسکی حرکتوں پر ہار مانتی پیچھے ہٹی جب وہ اترا کر سلیب کی طرف آیا

بلیک ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پر آپرن باندھے وہ ماتھے پر بکھرے بالوں میں سیدھا اسکا دل میں اتڑ رہا تھا

”کچھ زیادہ ہی ہنڈسم ہے میرا بندہ بس میری نظر نا لگے“ دل میں اسکی نظر اتارتی وہ مسکرا کر چیئر پر بیٹھ گئی

واٹ ڈا ہیل! کچھ دیر میں اسکی اکتاہٹ بھری آواز سے وہ اس کی طرف متواجہ ہوئی جو آٹے خود پر گراۓ کھڑا تھا اسے دیکھتے ہی وہ ایک شفاف قہقہ لگا گئی

میں نے تو کہا تھا آپ سے نا ہو پاۓ گا ادا سے کہتی وہ اسے چڑانے لگی

میں نے بنا لیا ہے کچھ ہی لمحوں میں وہ دو پڑاٹھے اور آملیٹ اسکے سامنے رکھ گیا

کھاؤ! اسے عجیب سے منہ بناۓ دیکھ وہ اسکے آگے نوالہ کر گیا جسے وہ دل پر پھتر رکھے کھانے لگی

ہمم نوٹ بیڈ نوالہ لیتے ہی وہ ستائشی انداز میں بولی

ہو بھی نہیں سکتا تھا تسمیر اترا کر کہتا کھانے میں مصروف ہو گیا

*********************

یہ حالت کس نے کی کچن کی؟ سلمہ حیران سی اس پھیلے ہوۓ کچن دیکھ کر بولیں جو وہ تہس نہس کرکے گیا تھا

آپ کے جوڑوں کے غلام بیٹے نے میئری جو سوتی ہی اس ٹائم تھی کچن کی طرف سے آتی آوازوں سے انہیں دیکھ چکی تھی اسئلے اب چڑھ کر بولی

جوڑوں کا غلام نہیں مئیری دئیر اسے کیرنگ ہسبنڈ کہتے ہیں وہ اپنے وکیل والے سوٹ میں تیار سا نیچھے اتڑتا کہنے لگا

سوری آئیا جان میں نے منع بھی کیا پر یہ نہیں مانے! کُبرا مصومیت سے کہتی سارہ معلبہ اس پر گرا گئی

کوبرا کی بچی تم بچو گی اب مجھ سے؟(یہ بات سچ تھی کے اسے کسی کی ڈانٹ سے فرق نہیں پڑتا تھا لیکن اس ٹائم اسے کوبرا کہ کر وہ کُبرا کو آگ ضرور لگا گیا تھا)

کوئی بات نہیں یہ تو صاف ہو جاۓ گا میں بس پریشان ہو گئی تھی صیح معانوں میں تو اب بھی پریشان ہی تھی

اس سلجے ہوۓ انسان سے جو سب کی طرح انکے لیے بھی انکا کھڑوس بیٹا تھا آج کل اپنی نیچڑ سے ہٹ کر کام کرتا انہیں بھی حیرتذدہ کر رہا تھا

میں جا رہا ہوں شاید لیٹ آؤں شرافت سے کھانا کھا لینا اور میڈیسن بھی لے لینا باقی بینڈج میں خود آکر کر دوں گا!

.

سیڑھیوں میں اسکے بال سنوار کر محبت سے کہنے لگا کے کُبرا گڑبڑا کر آس پاس دیکھنے لگی جہاں کوئی انکی

طرف متواجہ نہیں تھا سواۓ مریم اور اماں جان کے جو آنکھوں میں حسد لیے انہیں دیکھ رہی تھیں

لیڈیز فارغ بیٹھنے سے اچھا ہے میری بیوی کا خیال رکھ لینا تم دونوں صباحت اور برکت کو چھیڑتا وہ مسکرا کر باہر کی جانب قدم بڑھا گیا

کے وہ پیچھے سر پر ہاتھ رکھ کر رہے گئی جو اسے سب کے سامنے شرمندہ کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑتا تھا

اہمم اہمم بے بی کو کچھ چاہیے ہو تو ہمیں بتا دینا ہم ایک کال کریں گے اور وہ ہمارے تسمیر بھائی لمحے میں

ہمارے سامنے پیش کر دیں گے صباحت اسے کندھا مارے شرارت سے بولی

زیادہ بنو مت تم دونوں کا,وقت بھی آۓ گا کُبرا انہیں وارن کرنے لگی جس پر وہ دونوں کندھے اچکا گئیں

ہم تو چاہتے ہیں ہمارا بھی ٹائم آۓ برکت کے کہنے پر وہ دونوں ہنس دی

*****************

سوری! اسکے پاس بیٹھے وہ منہ لٹکاۓ بولا

اب کیوں آۓ ہو اتر گئے ہیں تمہارے سارے بھوت؟ برکت ہنوز منہ بناۓ ہوئے تھی

ہاں تو تم نخرے ہی اتنا دیکھاتی ہو برا لگ گیا تھا روحان صاف گوئی سے کہنے لگا

تو اب کیوں آۓ ہو منانے؟ کل تو فر فر بہت زبان چل رہی تھی تمہارے کے مجھے سے پہلے شادی کرکے دیکھاؤ گے

جاو نا زرا میں بھی دیکھتی کون سر مارتا ہے تم جیسے بیل پر اسے گھور کر کہتی وہ اسے مسکرانے پر مجبور کر گئی

تمہیں جلن ہو رہی تھی نا؟ اچھا نا سوری نا ہر وقت ہی ناراض بلبل بنی رہتی ہو مان جاؤ پورے بیس روپے والی آئسکریم کھلاؤں گا

روحان آیک دباۓ بولا کے برکت منہ کھول کر رہے گئی

نادیدے انسان تم خود ہی رکھ لو اپنی بیس والی آئسکریم غصے سے کہتی وہ اٹھتی کے روحان اسکا ہاتھ تھام گیا

اچھا پچاس والی! وہ سنجیدہ سا بولا

سو روپے والی میں ڈن کرو لیکن جب تک میں ناراض ہوں منہ بناۓ کہتی وہ آگے بڑھ گئی

…………………………..

میں آسکتی ہوں؟ صباحت دستک دیتی بولی جس پر وہ مسکرا کر سر ہلا گئی

آج کافی دنوں بعد وہ اپنے روم میں بیٹھی تھی ورنہ تسمیر تو اسے اپنے روم میں کسی کو بلانے تک نہیں دیتا تھا

کہ دو جو کہنا ہے! گہری خاموشی کے بعد وہ اسکے چہرے کر بغور دیکھتی بولی

یار وہ جہانگیر! صباحت کنفیوز سی تھی

تو تمہاری کیا راۓ ہے؟ کُبرا ڈائرٹک مدعے پر آئی

تم جانتی تھیں؟ صباحت حیرتذدہ سی پوچھنے لگی

میں تو یہ بھی جانتی ہوں کہ تم بھی پسند کرتی ہو تو یہ بتاؤں کونسی بات تمہیں کنفیوز کر رہی ہے؟

تم جانتی تو ہو فیملی پروبلمس! وہ اب روہانسی ہوئی

صبو تم صرف اپنے دن کی سنو اور باقی یہ فیملی پروبلمس تم مجھ پر چھوڑ دو میں خود ماں سے بات

کروں گی اور مامو سے تو ماں خود ہی کر لے گیں

آغاجان اور اماں سے کون بات کرے گا؟ بولتے بولتے اسے یکدم اسٹوپ لگی

انکی فکر نا کرو ان سے تو تسمیر بھائی کر لیں گے صباحت پراعتماد سی بولی (آغا جان کے آگے ایک وہی تھا جو بول سکتا تھا)

ہمم وہ ہے ہی صدا کے بدتمیز انسان کُبرا منہ بناۓ کہتی صباحت کا قہقہ.لگوا چکی تھی

کتنا مزہ آۓ گا تمہاری شادی وہ ہنوز اسے ایسے ہی گلے لگاۓ ایکسائٹڈ سی بولی جس پر صباحت سرخ سا چہرہ دوسری جانب پھیڑ گئی

*************************

آپ نے بلایا مجھے؟ مریم انکے روم میں بیٹھی بول رہی تھی

ہاں تم مجھے یہ بتاؤ لڑکی کے تم نے کچھ سوچا بھی ہے یا نہیں؟ اماں جان تلخی سے کہنے لگی

کس بارے میں؟ وہ انجان بنی

تم جانتی ہو کس بارے میں دن بدن وہ دونوں قریب ہوتے جا رہے ہیں

میں کیا کروں جب بھی کچھ سوچتی ہوں وہ اور قریب ہو جاتے ہیں میئری افسوس سے کہنے لگی

تو ضروری نہیں ہے تم کُبرا کے سامنے اپنا اصلی روپ ہی رکھو بلکہ اسے ایسے محسوس کرواؤ کے تم اسکی سب

سے اچھی دوست ہو تبھی تم کچھ کر سکتی ہو نہیں تو ہاتھ ہاتھ دھڑے دیکھتی رہو تسمیر کو دور جاتا اماں جان کے کہنے پر میئری پرسوچ سی سر ہلا گئی

سر ایک بری خبر ہے! خرم اسکے کیبن میں بیٹھا سر جھکاۓ بولا

کیا؟ تسمیر فورن سے سیدھا ہوا تھا

میر شاہ کی ضمانت کر دی گئی ہے میں نے آپ والا واقعہ بھی لڑکی کا نام بدل کر اس پر رپورٹ کی لیکن اسکے تعلقات کی وجہ سے …..

واٹ؟ تم نے مجھے اسے شوٹ کیوں نہیں کرنے دیا؟ تسمیر سر دونوں ہاتھوں میں دے بولا

”سوری سر لیکن اگر آپ اسے شوٹ کرتے تو سب سے پہلا شک آپ پر ہی جاتا کیوں کہ اس دن میرے ساتھ موجود سارے ہلکار آپ کو جانتے تھے“ وہ ہنوز نظریں جھکاۓ ہوۓ تھا

آپ پریشان نا ہو وہ اب بلکل بھی آپ سے پنگہ نہیں لے گا بچ گیا ہے یہہ کافی ہے باقی آپ خود بھی احتیاط کیجیے

گا بھابھی اور اپنے آنے جانے پر…

اسے خاموش دیکھ کر وہ خود بات پھر سے شروع کر گیا

ہاں لگتا ہے مجھے بھی کہ وہ اب یہ حرکت نہیں کرے گا

خیر تم اس لڑکے ریحان اور شاہزیب کی ضمانت کسی

صورت نہیں ہونے دو! سمجھ گئے نا؟ وہ سخت تاثر لیے بولا جس پر خرم سر اثبات میں ہلا گیا تھا

********************

گاڑی گیراج میں کھڑی کرتے ہی فرنٹ سیٹ سے اپنا کورٹ اٹھا کر مضبوط بازو پر ڈال گیا اندر آتے گھر میں قدم رکھتے ہی سناٹا سا لگا گھڑی پر نظر دورائی تو وہ محض ساتھ بجا رہی تھی

ابھی تک تو کسی نے دنڑ بھی نہیں کیا ہوگا تو پھر اتنا سناٹا کیوں ہے؟ ایک طائرانہ نظر لاونج میں ڈالتا وہ اپنے

روم کی جانب بڑھا جب نظر کچن میں کام کرتی اس لڑکی پر گئی صبح منا بھی کیا تھا کہ رسٹ کرنا کام نہیں

لیکن وہ کوبرا ہی کیا جو بات مان لے تیوری چڑھاۓ وہ کچن کی جانب گیا جہاں وہ محض جوس بنانے میں مصروف تھی

سرخ بے گلے کی شفون کی لونگ شرٹ اور کھلا سا ٹراؤزر پہنے بالوں کو جوڑے میں قید کیے وہ کسی بھی

آراش سے پاک چہرے میں بھی بے حد خوبصورت لگ رہی تھی اسے دیکھتے تسمیر کے دل نے بے اختیار بیٹ مس کر تھی

وہ جو جوس گلاس میں نکال رہی تھی اپنی قمر پر سنسناتا ہوا ہاتھ محسوس ہوا اسکی خوشبو پہچانتے ہی وہ آنکھیں میچ گئی تھی جانتی تھی یہ صرف وہی ہو سکتا ہے

میرے لیے کیا بنایا ہے؟ اسے پیچھے سے حصار میں لیے وہ خمار آلود لہجے میں کہتا اسکے کندھے پر تھوڈی ٹکا گیا کُبرا کو اسکے لب اپنے کان سے لگتے محسوس ہوۓ تھے

ننہیں آپپپپ نے تتتو لیٹ آنا تھا نا؟ اسکی قربت سے سرخ سی سیدھے ہوکر وہ تیز ڈھرکنوں کے درمیان اٹک کر بولی

کیوں مجھے جلدی نہیں آنا چاہیے تھا؟ اسکی مزاحمت کو نظرانداز کرتا وہ اسے کمر سے جکڑے اپنے شخجبے میں لے

چکا تھا جس پر وہ سرخ ہوتی نظریں جھکا گئی تسمیر محفوظ ہوا

آج یہ لڑکی اسے بے حد پیاری لگ رہی تھی جس پر وہ پورا حق رکھتا تھا اسکی صراحی دار گردن پر لب رکھے جس پر ابھی بھی زخم کے نشان واضح تھے

مممیر کککچن ہے ککوئی آجاۓ اسکی بڑھتی جسارتوں سے وہ اسکی گرفت میں مچلی سی تھی

نہیں آتا! بے خود سا ہوتا وہ جھکا کے مئیری کی آواز سنتے ہی بدمزہ سا ہوکر تھوڑا فاصلہ قائم کیا تھا

کُبرا کہاں ہے؟ اوپس آپ لوگ اپنا رومینس بعد میں کنٹینیؤ کر لیجیے گا ابھی زرا آنٹی کُبرا کو بلا رہی ہیں دل پر پتھڑ رکھے وہ مسکرا کر کہتی باہر سے ہی موڑ گئی

ہاں اب کہ دو بے شرم آدمی! اسے سرخ کرتا وہ پیچھے ہٹا جب اس کے کہنے سے پہلے ڈھٹائی سے بولا تھا

”اب تم ریڈی ہو جاؤ کیوں کہ تمہیں اب میں بے شرم آدمی کے سارے مطلب تفصیل سے سمجھاؤں گا“

ذومعانی انداز میں کہتا اپنے روم کی طرف قدم بڑھا گیا کے وہ پیچھے سرخ سی دل پر ہاتھ رکھے خود کو نارمل کرنے لگی اسکی موجود اب اسے نارمل ہونے ہی کب دیتی تھی…..

*****************

موم مجھے آپ سے بات کرنی ہے! کھانے سے بعد انہیں روم میں جاتا دیکھ تسمیر ٹوک گیا

ہاں کرو میری جان سلمہ اسکے اتنے عرصے بعد پکاڑنے پر محبت پاش لہجے میں بولیں

ڈیڈ روم میں ہیں؟ وہ ابرو اچکاۓ پوچھنے لگا

ہاں! سلمہ سر کو خم دے گئی جب وہ مسکرا کر سر ہلاتا انکے ساتھ ہی انکے روم میں داخل ہوا

آج تمہیں کیسے یاد آگئی ماں باپ کی؟ علی اسے دیکھ کر خفگی سے بولے

ظاہر ہے کوئی کام ہی ہوگا جبھی آیا ہوں مسکراہٹ ضبط کیے کہتا وہ انہیں بھی سلگا گیا

ہاں ماں باپ صرف کام کے وقت ہی یاد آتے ہیں! علی مسنوئی غصے سے بولے

نہیں جب روحان کو دیکھتا ہوں جب بھی یاد آتی ہے آپ دونوں کی کے ضرور کوئی گناہ کیا ہوگا جس کی اتنی

بڑی سزہ ملی ہے ( اسکی دوپہر میں آوفس آنا یاد تھا جہاں وہ تقریبا ایک گھٹنہ اسکا سر کھا گیا تھا)

مسکراہٹ دباۓ کہتا وہ انہیں دیکھنے لگا

شرم کرو بھائی ہے تمہارہ! سلمہ اسے گھور گئیں

جی تو شرم ہی کر رہا ہوں! اچھا چلیں اب سیرئز بات ہر آتے ہیں شرارت سے کہتا وہ آخر میں سنجیدہ ہوا.جس پر علی نے بغور اسے دیکھا تھا

خان صاحب مجھ سے بعد میں ناراض ہو جاۓ گا فلحال میری بات سن لیں! انہیں مسلسل گھورتا دیکھ وہ مصومیت سے سجاۓ بولا کے علی مسکرا کر رہے گئے

ایک تو وہ اسکی جوب سے نا خوش تھے پھر اوپر سے آغا جان سے اسکی تلخ کلامی انہیں مزید غصہ دلا گئی

تھی لیکن وہ اسکی سننے والا تھا

بات یہ ہے ڈید کے آپ لوگ بتائیں کب جا رہے ہیں برکت اور روحان کی بات کرنے؟ وہ اب سیدھا مدعے پر آتا علی صاحب کو حیران کر گیا

کیوں تمہیں کس نے کہا ہے؟ علی حیرتذدہ سے بولے

میں کہ رہا ہوں! آپ لوگ روحان کے لیے برکت کی بات کریں!

(آج جو روحان اسے پٹیاں پڑھا کر گیا تھا یہ اسکا نتیجہ تھا)

بے شک برکت بہت پیاری بچی ہے اور مجھے وہ کُبرا جیسی ہی پیاری ہے لیکن خان صاحب کُبرا کا تو مجھے

شروع سے پتا تھا اسئلے میں نے اسے ہمیشہ سے اپنے ساتھ رکھا لیکن برکت کو میں نے کبھی اس نگاہ سے نہیں دیکھا

ایسا نا ہو میں ان دونوں میں سے کسی کے ساتھ انجانے میں زیادتی کر دوں ؟ وہ اچھے دل کی مالک عورت روہانسی ہوئی

اگر آپ نے پہلے نہیں سوچا تو اب سوچ لیں اور اب دیکھیں اسے اس نظر سے اور اگر آپ دونوں نہیں جائیں

گے تو میں چھوٹی ماں سے خود بات کر لوں گا حقمی لہجے میں کہتا وہ اٹھا کے علی صاحب کی بات پر ایک

فاتحانہ مسکراہٹ اسکے چہرے پر رینگی تھی میں بابا جان سے بات کرکے عباس سے کرتا ہوں بات تم بھی زرا تحمل سے کام لو! علی پرسوچ سے کہنے لگے

کیا بنا؟ انکے روم سے نکلتے ہی روحان اس کے سر پر تھا

سوری یار بس تم اب گھوڑی چڑھنے کی تیاری کرو منہ لٹکاۓ کہتا وہ روحان کے تاثرات دیکھنے لگا

لیکن بھائی آپ ان سے کہتے تو صیح کے میں سیرئز ویٹ ویٹ کیا بولا آپ نے؟ یکدم وہ اسکے جمعلے میں الجھ سا گیا تھا

آہ تھینک یو بھائی آئی لوو یو اسکے گلے لگے وہ پرجوش سا بولا کے لاونج میں بیٹھے جون صباحت اور کُبرا نے

محبت پاش نظروں سے انہیں دیکھا تھا جبکہ برکت سر پٹ کر شرمندہ سی کچن کی طرف بھاگی تھی