📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 38

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

اسکے حصار میں نا چاہتے ہوۓ بھی وہ خود کو پرسکون محسوس کر رہی تھی( آئی ایم آیسپیکٹنگ!) مریم کے الفاظ ذہن میں آتے سارا سکون زائل ہوا تھا

جب کچھ لمحوں تک وہ نہیں ہلا تو وہ کافی احتیاط سے اسکی گرفت سے نکلتی سائد پر سرکی کے وہ اسے پھر سے اپنے قبضے میں لے گیا

اگر یہاں سے اٹھ کر گئی تو وہ حشر کروں گا کے یاد رکھو گی! اسے تمبی کیے وہ اسے ایک ہی ہاتھ سے جکڑے اپنے حصار میں لیے ہوۓ تھا

چھوڑیں مجھے! نہیں رہنا مجھے آپ کے ساتھ! اپنی پوری قوت لگاۓ وہ.اسکی گرفت سے نکلی… بیڈ سے اٹھتی کے تسمیر اسکا ہاتھ تھامے پھر سے اپنی طرف کھینچے خود اب کہنی کے بل اٹھ کر اسکے دونوں اطراف میں کہنی ٹکا گیا

کیوں زبردستی کرتے ہیں آپ میرے ساتھ؟ چھوڑیں مجھے! نہیں رہنا مجھے آپ کے ساتھ اب اور……. جائیں اور جاکر اپنی میئری کے پاس رہیں….

چلا جاؤں گا پہلے تم سے تو زرا معاوضہ وصول کر لوں! وہ اسے تیوری چڑھاۓ دیکھنے لگا اچھے بھلے سکون زدہ محول کو وہ پھر سے خراب کر چکی تھی

(اسکی بات سے وہ مزید سیخ پاؤ ہوئی مطلب کے وہ جانے کا ارادہ رکھتا تھا)

مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ…. مجھے ڈیوارس…..

باقی الفاظ تو منہ میں ہی رہے گئی تھے جب وہ اس کے لبوں پر جھکا تھا لیکن اس بار اسکی لمس سکون بخش نہیں بلکہ شدت سے بھرا تھا اسکی لاکھوں کوششوں کے

باواجود بھی کافی لمحے خود کو سیراب کرنے کے بعد اس سے الگ ہوا کُبرا کو اپنے لبوں پر ننا سا خون کا قطرہ محسوس ہوا تھا ابھی وہ اسکے پہلے وار سے نہیں سنبھلی

تھی کے تسمیر اسے کمر سے جکڑے مزید قریب کر گیا

کیوں مجھے وہ بنانے کی کوشش کر رہی ہو جو میں اصل میں ہوں! آئندہ اگر ایسی بکواس کی تم نے تو خدا کی قسم خود زمین میں کھودوں گا تمہیں! تیش سے ہنکار بھرے وہ اسکے کان کے قریب سرگوشی کر گیا اسکی گرفت اتنی مضبوط تھی کے کُبرا کو اسکی انگلیاں اپنی کمر پر دھنستی محسوس ہوئی

آپ کو کوئی حق نہیں ہے میرے سے ایسے کرنے کا!گہرے گہرے سانس لیتی وہ بامشکل سانس بحال کرتی بولی

حق کی تو تم بات ہی نا کرو اس سے کہیں زیادہ کا حق رکھتا ہوں میں تم پر سوئٹ ہارٹ! لیکن میں بزدستی کرنے کا قائل نہیں ہوں آئندہ اگر تم نے میرے سامنے اس لفظ(ڈیوراس) جیسی بکواس کی تو یہ سزہ تو صرف ٹریلر تھی ورنہ میں زبردستی کرنے سے بھی باز نہیں آؤں گا اور اسکی زمےدار صرف تم ہونگی!

اسے گہری نظروں سے گھورتا وہ ذومعانی لہجہ اختیار کیے بات ادھوری ہی چھوڑے اسے اپنے اور اس کے رشتے کی نوعیت سے آشانہ کر گیا تھا کے وہ چہرہ دوسری جانب پھیر گئی

اسکی آنکھوں کی بے اعتباری تسمیر خان کو بہت تکلیف دیتی تھی ایک یہی تو تھی جو اس کے لیے باعث سکون تھی اور اب وہی اسے تکلیف دیتی تھی یہ سچ تھا

کہ اسکا ماضی بہت گناہوں سے بھرا تھا لیکن اس حد تک تو وہ کسی کے ساتھ بھی نہیں گیا تھا پھر میئری تو دور کی بات تھی جسے وہ صرف ایک اچھی دوست ہی سمجھتا تھا کبھی مزاق میں اس نے اسے چھیڑا ضرور تھا لیکن وہ تھی ہمیشہ سے اسکی محض ایک دوست ہی

لیکن ان سب میں ایک یہی لڑکی(کُبرا) تھی جس پر وہ حق رکھنے کے باواجود بھی وہ اس سے زبردستی کا قائل نہیں تھا……

سو جاؤ ویسے بھی کل سے تم نے سکون سے ہی سونا ہے!

اسے پوری طرح حصار میں لیے وہ اسے محسوس کرتا آنکھیں پھر سے موند گیا جبکہ اس کی باتیں کُبرا کو عجیب سی پریشانی میں مبتلا کر رہی تھیں وہ اسے صرف چھیڑ نہیں رہا تھا بلکہ اس سے گہری باتیں کر رہا تھا جس کی گہرائیوں میں وہ شاید ابھی جانے کو تیار نہیں تھی

چاہتے ہوۓ بھی وہ اپنے آنسؤ پر بند نا باندھ پائی تھی اسکے آنسو تسمیر کو اپنے کندھے پر گرتے محسوس ہوۓ لیکن وہ انجان بنے ہنوز اسی پوزیشن میں رہا……

**********

نیند میں بھی اسے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا بامشکل وہ آنکھیں کھول پائی تھی جہاں وہ مسکراہٹ سجاۓ اسکے اوپر جھکنے کے سے انداز میں کھڑا تھا

گڈ مورنگ! روحان شرارت سے کہتا اسکی پیشانی پر بوسہ دے گیا کے وہ یکدم ہی سٹپٹائی

کیا ہے یہاں کیا کر رہے ہو؟ گھڑی پر نظر ڈرائی تو ابھی محض پانچ بجے تھے

نس نیند نہیں آرہی تھی سوچا بیوی کے پاس چکر لگا لوں زرا… بیڈ پر بیٹھے وہ اپنے مخصوص شرارت بھرے انداز میں بولا

تتم جاؤ یہاں سسے ککوئی آگیا تو کیا سوچے گا؟ برکت گھبرا کر کہنے لگی

یہی سوچے گا کے بچہ اپنی بیوی کے پاس ہے…… تمہیں شرم آرہی ہے مجھ سے؟ کچھ لمحوں کے وقفے سے وہ اسکے گلابی پڑتے گالوں کو دیکھنے لگا

ننہیں تو پاگل ہو؟ مجھے کیوں شرم آئے گی وہ بھی تم سے؟

نہیں آرہی؟ چلو پھر اب آجاۓ گی وہ ایک بار شرارتی انداز میں کہتا نرمی سے اسکے رخسار پر لب رکھ گیا

ککیا ہے روحان جاؤ یہاں سے صبح صبح میرا دماغ خراب کرنے آگئے ہو! برکت دل کی حالت کو سمجھے بغیر لال ٹماٹر ہوئی کہنے لگی

آہاں؟ رونی شکل شرما رہی ہے مجھ سے! اسکا قہقہ گونجا تھا جس پر وہ زور سے اس پر پھینک گئی

اچھا چلو مجھے یہ نومیریکل سمجھاؤ…

اب آۓ ہو نا مدعے پر! بیٹھو سمجھا ہی رہی ہوں…..

منہ بنا کر کہتی وہ رجسٹر پین اٹھانے لگی اس وقت تو اسے انکار کرکے وہ مزید کوئی پنگہ نہیں لینا چاہتی تھی…

…………………………

باتھ لیے وہ فریش سی گیلے بالوں میں ہی شیشے کے سامنے آئی تھی لاشعواری توڑ پر نظروں نے اسے تلاش کیا تھا اتنی صبح وہ کہاں جا سکتا تھا؟

سب سوچوں کو جھٹک کر وہ کالج کی تیاریاں کرنے لگی

میری بچی کی جان ہی نچوڑ لی ہے ان امتحانیات نے…. بیٹا کس کے ساتھ جاؤ گی؟ سلمہ نے محبت سے مخاطب کیا

بس آیا جان آج تو لاسٹ پیپر ہے روحان اور برکت کے ساتھ جا رہی ہوں! وہ مسکرا کر کہتی جلدی سے ناشتے کے نام پر جوس پیئے باہر کی طرف قدم بڑھاتی جب وہ ایک پھر اسے مخاطب کر گئی

یہ دیکھو زرا اتنے سے جوس سے کیا ہوتا ہے پورا ناشتہ کرو بیٹا! اور تسمیر نہیں اٹھا کیا ابھی تک؟ رخسانہ کے کہنے پر وہ حیرت سے انہیں دیکھنے لگی

نہیں وہ بہت پہلے ہی نکل چکے تھے آپ لوگوں سے ملاقات نہیں ہوئی کیا؟

نہیں ہم نے تو نہیں دیکھا اسے بلکہ آج تو میں جلدی ہی اٹھ گئی تھی

ہو سکتا ہے ہم سے پہلے ہی نکل گیا ہو ویسے بھی آج کل اسکا پتا ہی کب لگتا ہے! سلمہ اسے فکرمندہ ہوتا دیکھ سمجھانے لگی جس پر وہ محض سر ہلا گئی

پیپر دیتے وقت بھی وہ بار بار اسکے ذہن میں آرہا تھا جب سے اسکا سارہ واقعہ ہوا تھا تسمیر ہی اسے ہر جگہ

خود ہی ڈراپ کرتا تھا وہ اسے کہے یا نا کہے وہ زبردستی اسکے ساتھ جاتا لیکن آج پتا نہیں اسے کیا کام تھا جو وہ ان سب سے اٹھنے سے پہلے ہی یہاں سے چلا گیا تھا

کیسا ہوا پیپر؟ صباحت اسکے ساتھ آتی پوچھنے لگی

اچھا ہوا….

کیا ہوا تمہیں بوجھی بوجھی سی ہو؟ وہ اسکے منہ لٹکانے پر تشویشی انداز میں بولی

کچھ نہیں تم سناؤ کیا حال ہیں؟ اس کے پوچھنے پر دل چاہا تھا اپنی ساری مشکلات اس کے آگے کھول دے

زیادہ بننے کی ضرورت نہیں ہے بتاؤ شرافت سے ورنہ میں نے بھی آئندہ کوئی بات نہیں کرنی تم سے! اس کے کہنے

پر وہ اسے میئری کا سارا واقعہ بتا گئی اسکی ایک یہی دوست تو تھی جس سے وہ کچھ بھی کہ دیتی تھی

واٹ؟ لگتا تو نہیں ہے میئری ایسی بات مزاق میں کرے گی میرے سامنے تو وہ سوئٹ بننی رہتی تھی…. صباحت اپنے خیالات ظاہر کرنے لگی

ہمم! وہ سرد آہ بھرے رہے گئی

لیکن مجھے یقین ہے تسمیر بھائی نے ایسا کچھ نہیں کیا ہوگا….. ضرور کوئی مس انڈراسٹینڈنگ ہوگئی ہوگی….

اور تم کیوں شک کر رہی ہو ان پر؟….. یہ تم ہی تھیں نا جس نے ایسے ہی قبول کیا تھا انہیں……… اور اب تم لوگوں کی باتوں میں آرہی ہو؟ وہ حیرانگی سے اپنی اس دوست کو دیکھ رہی تھی

کہنا سب کو آتا ہے صبو مجھے بھی آتا تھا لیکن جب واسطہ پڑتا ہے نا رقیب سے ….. تو اچھے سے اچھے انسان کو اذیت ہوتی ہے….. مجھے بھی ہوتی ہے… وہ تلخی سے گویا ہوئی

آجائیں بھابھی جی ہمیں لیٹ ہو رہا ہے روحان دانت پیس کر کہنے لگا جس پر وہ سر اثبات میں ہلا گئی

تم بھی چلو نا! وہ اب صباحت سے مخاطب ہوئی

نہیں نہیں مجھے گھر جانا ہے بابا کی طبیت ٹھیک نہیں ہے آج کل اسے وہ اسے ساتھ لگاۓ اسکا کندھا تھپتھپا گئی

صباحت بیٹا پہلے تم زرا یہ دیکھ لو….. میرے خیال سے یہ جہانگیر نے بھیجا ہے ….. وہ جو منہ ہاتھ دھو کر ان کے لیے کھانا لانے جا رہی تھی ان کی آواز سے سرعت سے پلٹی

یہ بوکس؟ وہ حیرتذدہ سی اس بڑے سے بوکس کو دیکھنے لگی جس پر ولید صاحب سر کو خم دے گئے

یہ ابھی دس منٹ پہلے ہی آیا ہے انکے کہنے پر وہ اسائٹڈ سی بوکس کھول گئی

بوکس کھولتے ہی اسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا جہاں پرشئین بلی کا ایک چھوٹا سا سفید رنگ کا بچہ تھا اور اسکے ساتھ اس کا سارا سامان تھا

آہ بابا یہ…. افف کتنا پیارا ہے……

آہ تھینک یو سو مچ جون! آخری جمعلہ وہ دل میں ہی بولی تھی جبکہ ولید صاحب محض مسکرا دئیے کافی

منع کرنے کے باواجود جون انہیں زبردستی یہ بوکس پکڑا گیا تھا

اب تم اس بلی کے پیچھے باقی بلیوں کو مت بھول جانا مانا کے یہ خوبصورت ہے لیکن جانواروں کے سب کے لیے ایک ہی ہیں!

ولید صاحب اسے سمجھاتے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے کے وہ وہی اپنے نئے کھلونے سے کھیلنے میں مصروف ہو گئی ……….

رات کے تقریبا گیارہ بجے وہ روم میں آئی اسکے دل میں عجیب عجیب سے وسوسے آرہے تھے

کیا پتا کل ہو نا ہو……… کل سے ویسے بھی تم نے سکون سے ہی سونا ہے……..!!! اسکے الفاظ کانوں میں گونجتے ہی وہ مزید بے چین ہوگئی تھی

کہاں رہے گیا ہیں؟ بے چینی سے وہ اسکی سائد پر آئی

جہاں سائد ٹیبل پر ہی ایک چٹ رکھی ہوئی تھی ڈھرکتے دل سے وہ پڑھنے لگی

”ماۓ ڈئیر وائفی!

میں کچھ کام سے کچھ دنوں کے لیے کہیں جا رہا ہوں

مبارک ہو تمہیں کچھ دن سکون کیلئے دے رہا ہوں ان دنوں جتنا سکون لینا ہے لے لو اگر میں واپس آؤں تو تم مجھے میرے انتظار میں ملو…..“ کتنی ہی بار وہ یہ چٹ پڑھ چکی تھی

لیکن اسکا یہ ”اگر“ اسکے دل کو مزید وسوسوں میں گھیر چکا تھا

*****************

ڈیرھ ماہ بعد:

انکے پیپر ختم ہو چکے تھے آج کل گھر میں روحان برکت صباحت اور جہانگیر کی شادی کی تیاریاں جاری تھیں

شادی کے ہی سلسلے میں سلمہ بیگم کے کچھ رشتے دار جن میں انکی ایک پھوپھو خالہ زاد بہن اور بھانجا لاہور

سے آیا تھا انکا کہنا تھا اتنے وہ ناران کی خوبصورت جگہوں کی سیر کر لیں گے

جبکہ رخسانہ بیگم کی طرف سے ابھی تک کوئی نہیں آیا تھا جس کی وجہ سے کُبرا بڑی بہو ہونے کے باعث سارے انتظام خود ہی ہینڈل کر رہی تھی

اب بھی وہ کام میں مصروف سی جلدی جلدی چیزیں سمیٹ رہی تھی جب اچانک اسکا پاؤں پھسلا اور وہ زمین بوس ہوئی تھی ایک سسکی سی اسکے دل سے نکلی آج اسے تھامنے والا یہاں موجود جو نہیں تھا

ارے….کُبرا کیا ہوا بیٹا دھیان سے… سلمہ اسے تھامے فکرمندی سے کہنے لگیں

ککچھ نہیں آیا جان بس یہ یہاں پانی گرا ہوا تھا… وہ آنسو پیتی فورن سے کھڑی ہوئی

بیٹا دھیان سے نا یہاں بیٹھو وہ اسے محبت سے اٹھانے لگیں

پکا پاؤں ہی پھسلا ہے نا؟ تمہاری بہو نے ابھی تک کوئی خوش خبری نہیں سنائی کیا؟ سلمہ بیگم کی پھوپھو

انہیں دیکھ کر پوچھنے لگی جب کے ان کی بات سے اسے اپنا سارہ خون چہرے پر آتا محسوس ہوا

کُبرا بیٹے تم روم میں جاؤ میں وہی بام لے کر بھیجتی ہوں برکت کو….سلمہ کے کہنے پر وہ تیزی سے اٹھ کر اپنے روم کی جانب بڑھ گئی

…………………………

اپنے روم میں آتی ہی وہ ہجکیوں سے رونا شروع ہوئی تھی اس وقت اس شخص کی بے حد کمی محسوس

ہوئی جسے پیچھلے ڈیرھ ماہ سے اسنے دیکھا تو کیا سنا تک نہیں تھا وہ کہاں اسے کچھ خبر نہیں تھی اسکے جانے کے بعد تو وہ اپنے اور اسکے محلقہ کمرے میں بھی نہیں گئی تھی

ہر چیز سے اسکی خوشبو آتی تھی نجانے کتنی ہی بار وہ اسکے لیے روئی تھی

اس کے جانے کے بعد ہی اسے احساس ہوا تھا وہ اسے کیسے اپنی پروں میں سمیٹے رکھتا تھا ان دنوں میں اماں

جان کی تلخی بھی کچھ بڑھ گئی تھی شاید وہ تسمیر کی موجودگی میں ہی اس سے کچھ ٹھیک سے بات کرتی تھیں

وہ ایسی کیوں تھی کُبرا خود بھی اس وجہ سے ناواقف تھی

……………………….

سر کیسے ہیں آپ؟ خرم اسکے سامنے بیٹھے بولا کے وہ سر کو خم دہے سگریٹ کا آخری کش لیتا ڈسٹبین میں پھینک گیا

کیا پوزیشن ہے؟ وہ ابرو اچکا گیا

سر انشاء اللہ ہمارے ہی ہاتھ میں ہی ہے سب کیس ہارے ہوۓ ہیں وہ… خرم کے کہنے ہر اسکے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ رینگی

پیچھلے ڈیرھ مہینے سے وہ اس عجیب سے کمرے میں تھا اسے خرم نے پہلے ہی سے ہر حالات سے واقف کر دیا

تھا میر نیازی نے اسکے خلاف کیس کیا تھا جبکہ اسکے ساتھ ساتھ گل خان نے بھی بہت سے غلط کاموں میں اسکے خلاف ثبوت پیش کیے تھے

لیکن صرف خرم کی وجہ سے اسے ٹائم دیا تھا جس میں وہ اس پر سے ہر ثبوت جھوٹا ثابت کر چکا تھا محض

ایک میر نیازی پر گولی چلانے کا کیس وہ ہنڈل نہیں کر پایا تھا کیوں کہ اس بات کا اعتراف تسمیر خود سب کء سامنے کر چکا تھا.

”میری بیوی کی طرف کوئی نظر اٹھا کر بھی دیکھے گا تو میں صرف ٹانگ نہیں بلکہ اسے ہی توڑ دوں گا“

یہ بیان اسنے سب کے سامنے دیا تھا جس پر گل خان کا غصہ مزید بڑھ چکا تھا لیکن پھر بھی خرم کی وہاں موجودگی اور میر نیازی کے خلاف سارے ثبوت ہونے کے باعث انہیں اس بات کی اتنی ٹینشن نہیں تھی

اور ایک اور کام کہا تھا تمہیں؟ وہ اس پر گہری نظریں مرکوز کیے ہوۓ تھا

جی سر وہ کام بھی ہو گیا ہے آپ یہ کال ریکوڈنگ سن لیں مجھے لگتا ہے جو بھی انوالو ہے وہ ابھی پکا نہیں ہے اسئلے زیادہ مشکل نہیں ہوئی

وہ اسکے سامنے فون کر گی شاید آپ آواز پہچان جائیں!

کے یہ آواز سنتے ہی تسمیر خان کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا

اور بھی کچھ ڈٹیلز ہیں میری معلومات کے مطابق اس شخص کا آپ کے ہر کیس میں کوئی نا کوئی لنک ضرور ہے!

وہ بولتا جا رہا تھا جبکہ تسمیر کی گرفت چارپائی پر مزید مضبوط ہوتی جا رہی تھی

تم مجھے جلدی کرو…مجھے یہاں سے جلدی نکلنا ہے اب! وہ اسے وارن کر گیا

بٹ سر ابھی آپ کا نکلنا خطرے سے کم نہیں ہے وہ لوگ آپ کے یہاں ہونے سے پھر بھی قابو میں ہیں اگر آپ یہاں سے نکلنے گے تو وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں! خرم اسے سمجھانے لگا

تم بس جلدی یہ کیس نپٹاؤ انہیں میں خود دیکھ لوں گا زیادہ سے زیادہ مجھے مار دیں گے نا؟ مجھے ڈر نہیں ہے بس تم یہ سب جلدی سمیٹوں…. وہ عام سے انداز میں بولا کے خرم اسے دیکھ کر رہے گیا

جی سر ٹھیک ہے! سر کو خم دیے وہ باہر نکل گیا

اس کے کیس کا صرف آغا جان کو پتا تھا کُبرا کو وہ جان کر بتا کر نہیں آیا تھا ورنہ شاید وہ پریشان ہو جاتی

پتا نہیں تم نے مجھے مس بھی کیا ہوگا یا نہیں اور اگر نا بھی کیا ہوا تو پھر بھی میں تم سے بہت وارم ویلکم لینے

والا ہوں کیوں کہ میں نے تمہیں بہت مس کیا ہے سوئٹ ہارٹ! سب کچھ دن اور پھر میں تمہاری جو بھی مجھ

سے شکایتیں ہیں وہ تمہارے سامنے ثبوت سمیت غلط ثابت کروں گا سرد آہ بھرے وہ اسکی ایک چوڑی جو پتا نہیں کیسے اسکے سامان میں آگی تھی محبت سے اس پر لب رکھ گیا

وہ اسے واقعی بہت مس کر چکا تھا ان دنوں کتنا ہی ٹاوچر کیا گیا تھا اسے….. اسکا فون تک اس سے چھین لیا گیا تھا…….لیکن وہ تسمیر خان تھا جو اسنے کیا تھا اسکا اعتراف وہ بنا خوف کے کرتا تھا

تھک تو وہ گیا تھا اور اسے وقت صرف اسکی ضرورت تھی جو اسکے لیے واجب المحبت تھی جو اسکا سکون تھی