📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 10

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

آدھی رات کو بھوک کے باعث اسکی انکھ کھلی تھی بہت برداشت کرنے کے بعد آخر وہ کچن کی طرف قدم بڑھا گئی

”اسی چیز کی کمی رہ گئی تھی اب آدھی آدھی رات کو بھی بھوک لگنے لگی ہے ایسے ہی چلتا رہا تو کتنی موٹی ہو جاؤں گی“ خود باتیں کرتی وہ اپنی دھند میں چلتی اچانک کسی سے بری طرح ٹکرائی تھی جبکہ اگلے ہی لمحے چٹاخ کی آواز سے کبرا اسکی طرف متوجہ ہوئی جو سرخ آنکھیں کیے زمین کو دیکھ رہا تھا جہاں کانچ ادھر ادھر بکھرا ہوا تھا

”آنکھیں نہیں ہیں تمہارے پاس؟“اسکے قریب ہوتا وہ ڈھارا ”وہ میییں غلططی سے“بولتے بولتے اسکی نظر تسمیر پر گئی جسکی آنکھوں کی یہ سرخی کُبرا کو غصے کے باعث نہیں لگی تھی بلکہ اس وقت وہ اسے ہوش سے بیگانہ معلوم ہو رہا تھا انہیں سرخ آنکھوں سے خوفزدہ ہوتی وہ گھبرا کر کچھ کہنا چاہ رہی تھی لیکن لفظ تھے جو اسکا ساتھ دینے کو تیار ہی نہیں تھے

“ کیا میں وہ میں وہ؟ تمہیں اندازہ بھی ہے کتنی مہنگی وائن تھی یہ میں لنڈن سے لے کر آیا تھا “ تسمیر ہنوز چلایا

واوائن؟ آآآپپپ شراب بھی پیتے ہیں؟ کُبرا گھبرا کر بولی جبکہ اسکے لہجے کی حیرانگی تسمیر سے چھپ نہ سکی تھی

”ہاں پیتا ہوں اور میں اسکے علاوہ بھی بہت کچھ پیتا ہوں اور کچھ؟“

”یہاں پاکستان میں آپ کو شراب کہاں سے ملی؟“ کُبرا حیرتذدہ سی بولی جس پر تسمیر قہقہ گونجا تھا

”کونسی صدی میں رہ رہی ہو تم؟ پاکستان میں یہ سب اب عام ہیں ہاں بس فرق یہ ہے کہ کوئی چھپ کر پیتا ہے کوئی ڈٹ کر مجھے تو سمجھ نہیں آرہی تم اتنا حیران کیوں ہو رہی ہو“ تسمیر سر جھٹک کر بولا

آغا جان کو پتا ہے اس بارے میں؟ اب کی بار وہ لڑاکا لڑکیوں کی طرح کمر پر ہاتھ باندھے کہنے لگی جبکہ تسمیر کی وجیہہ شخصیت کے آگے وہ اس وقت بلکل چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی نجانے کیوں اسکا یہ لڑاکا انداز تسمیر کو پسند تھا

بلکل نہیں آغا جان کو کچھ نہیں پتہ نا ہی تم بتاؤ گی اس پر سے نظر ہٹاۓ وہ روعب سے بولا

اچھا اور میں کیوں نہیں بتاؤ آغا جان کو؟ کُبرا آئبرو اچکاۓ کہنے لگی

کیوں کہ میں کہ رہا ہوں چہرے پر بلا کی سختی سجاۓ کہتا وہ اسکے قریب ہوا جس پر کُبرا دو قدم پیچھے کو ہوئی جب اگلے ہی لمحے وہ اسے جھٹکے سے اپنے قریب کر گیا ” ڈر رہی ہو مجھ سے“ گھبیر لہجے میں پوچھا گیا (اسکا دور جانا تسمیر کو سخت ناگوار گزرا تھا)

وووہ میں نے ککھھاننہ اسکے اس حالت میں قریب آنے سے کُبرا کو اپنی جان ہوا ہوتی محسوس ہوئی تھی

ایک بات یاد کر لو تم کُبرا عباس خان میں نشے میں بھی ان لڑکیوں کے قریب نہیں جاتا جو مجھ سے دور بھاگتی ہوں اتنا بغیرت نہیں ہوں تسمیر خان ہوں تمہاری عزت کرنا جانتا ہوں اسکے کان کے قریب گھمبیر لہجے میں کہتا وہ آگے بڑھ گیا البتہ کُبرا کافی دیر تک اسکی باتوں کے حصار میں کھوئی رہی تھی کیا کھاؤں اب بھوک تو مر ہی گئی ہے اوپر سے اب اس چیز کو کیسے صاف کروں؟ اسکی باتوں کے حصار سے نکلتی وہ زمین پر بکھرے کانچ کو دیکھ کر کہنے لگی………..

***********

ہمیشہ کی طرح ناشتے کی ٹیبل پر سب موجود تھے سواۓ آغا جان کے جن کی غیر موجودگی وہاں بیٹھے ہر شخص کو پریشانی میں مبتلا کر گئی تھی کُبرا اور تسمیر کو آغا جان اپنے کمرے میں بلا رہے ہیں رخسانہ بیگم پریشانی سے کہنے لگی جس پر وہ دونوں ایک دوسرے کا منہ دیکھ کر رہ گئے تھے

کچھ دیر میں وہ آغا جان کے کمرے میں کھڑے انہیں دیکھ رہے تھے جو پیچھلے پندرہ منٹ سے خاموشی اختیار کیے ہوۓ تھے

”حکم کیجیے آغا جان ہمیں کیوں بلایا ہے یہاں؟“ تسمیر اکتا کر بولا

جس پر کُبرا نے اسے گھورا تھا آغا جان آپ کیوں نہیں آۓ ناشتے کی ٹیبل بلکل سونی سونی لگ رہی تھی کُبرا منہ بسورے کہنے لگی

”کُبرا؟ میری بچی تمہیں پتا ہے کہ تم میں میری جان ہو تمہارے آغا جان نے آج تک تمہاری ہر خواہش پوری کی ہے تو کیا تم اپنے آغا جان کی ایک بات نہیں مان سکتی؟ “وہ اسے دیکھتے حسرت سے بولے

”آپ حکم کریں آغا جان مجھ سے جو ہو سکا میں آپ کے لیے کروں گی“ کُبرا انکے پیروں کے قریب بیٹھتی محبت سے بولی جس پر وہ مسکرا کر نظریں تسمیر کی جانب کر گئے ”ہم چاہتے ہیں کہ تم دونوں اس شادی کے لیے مان جاؤ“ آغا جان کی روعبدار آواز گونجی تھی

”اور آپ ایسا کیوں چاہتے ہیں وجہ پوچھ سکتا ہوں میں؟“ تسمیر اپنے غصے کو قابو میں رکھے ضبط سے بولا

”کیوں کہ مجھے یقین ہے کہ تم میری کبرا کو بہت خوش رکھو گے “آغا جان پراعتماد انداز میں کہنے لگے جس پر تسمیر کی رگیں تنی تھی

”آپ کو غلط فہمی ہے یہ کہ میں آپ کی لاڈلی کو خوش رکھوں گا اگر آپ کو اسکی خوشی ہی دیکھنی ہے تو بہتر ہے کسی اور کو دھونڈ لیں جو اسکی خوشی کے لیے اپنی زندگی برباد کرنے کو تیار ہو کیوں کہ میرا اور کُبرا کا کوئی میچ نہیں ہے“ تسمیر تپ کر بولا تھا جس پر کُبرا اسے دیکھ کر رہ گئی

”تسمیر خان بہتر ہے آپ اپنی زبان ہمارے آگے قابو میں رکھیں آپ جانتے ہی کیا ہیں اپنے بارے میں جو آپ کو لگتا ہے کہ کُبرا آپ کے ساتھ رہ نہیں پاۓ گی؟ دنیا دیکھ رکھی ہے ہم نے اور ہم جانتے ہیں کہ آپ دونوں کے لیے کیا اچھا ہے اور کیا برا اس لیے ہم نے آپ کو باہر پڑھائی کرنے کو بھیجا تھا کہ ایک دن آپ ہمارے آگے آکر اس طرح کھڑے ہو جائیں؟ مت بھولیں کہ ہم آپ سے بڑے ہیں اس گھر کے مالک ہیں ہم! میں حکم دیتا ہوں آپ کو کہ ہماری بات مانیں نہیں تو اپنے والد اور والدہ کو لے کر کسی اور جگہ ہجرت کر جائیں“آغا جان کی گرجدار آواز گونجی جس پر کُبرا سہم کر دروازے کے قریب ہوئی تھی اس نے آج سے پہلے کبھی آغا جان کو اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا جتنا آج دیکھ رہی تھی جبکہ انکی بات سنتے ہی تسمیر لمبے لمبے دھگ بڑھتا قدم باہر کی جانب بڑھا گیا (لیکن جاتے جاتے اسے گھورنا نہیں بھولا تھا)

”کُبرا؟“ اسکے جاتے ہی آغا جان اب اس سے مخاطب ہوۓ

”جججی آغا جان؟“

”ہم جانتے ہیں آپ کو اس وقت ہمارہ فیصلہ غلط لگ رہا ہوگا لیکن میری بچی تمہارا آغا جان آج تم سے وعدہ کرتا ہے کہ کل کو آپ میرے اس فیصلے کو اپنی زندگی کا سب سے خوبصورت حصہ ماننیں گی ہم نے آپ سے کچھ مانگا ہے اور ہمیں یقین ہے آپ اپنے آغا جان پر یقین کرکے ہماری بات مان جائیں گی“ آغا جان محبت سے کہتے اپنی کرسی سنبھال گئے جس پر وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی

”اللہ کے بعد ایک آپ پر ہی تو سب سے زیادہ بھروسہ ہے مجھے آغا جان! میں آپ کو کبھی مایوس نہیں کروں گی میرے حق میں جو بھی بہتر ہوگا وہ مجھے مل جاۓ گا میں نے اپنا مامعلہ خدا کے حوالے کر دیا ہے! “کُبرا مسکرا کر کہتی باہر کی طرف بڑھ گئی جبکہ اسکی باتوں سے آغا جان کو اپنے اندر سکون اترتا محسوس ہوا تھا….

************

”کیا کر رہی ہو یہاں؟ “اسے کچن میں دیکھ کر وہ اچھلتا ہوا اس تک آیا تھا

”تم سے مطلب؟ “برکت آئبرو اچکاۓ کہتی اسکی اچھی خاصی ہٹا گئی تھی “نہیں یہ بتاؤ کہ تمیز سے بات کرنے کے کتنے پیسے لگتے ہیں جو تم سے کبھی ہوتی ہی نہیں ہے؟“ روحان تپ کر بولا

”بندہ تو دیکھنا ہوتا ہے نہ اتنی مہنگی چیز یوز کرنے کے لیے اب تمیز ہر آنے جانے والے لوفروں کے لیے تھوڑی رکھی جاتی ہے “وہ شرارتی انداز میں کہتی چولے کی طرف متواجہ ہوگئی

”اچھا بتاؤ تو سہی کیا بنا رہی ہو؟“وہ ایک بار پھر اسے اگنور کرتا آئبرو اچکا گیا

“ناشتہ بنا رہی ہوں آج میرا کچھ الگ کھانے کو دل ہے ویسے بھی میں نے سوچا ہے ہر سنڈے کو خود کچھ کوک کیا کروں گی“ برکت مسکرا کر کہنے لگی

”ہاں بہت اچھی بات ہے سیکھو سیکھو ویسے بھی شادی کے بعد میرے سارے کام تم نے ہی تو کرنے ہیں“ روحان مزے سے بولا

“کیوں؟ تم نے گل خان کے گھر پر ڈیرے ڈالنے کا سوچ لیا ہے؟ “وہ عام سے انداز میں کہتی ایک بار پھر اسے آگ لگا گئی تھی

“تمہیں ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کیا؟ کتنی بار کہا ہے اسکا نام مت لیا کرو اپنی زبان سے اور جہاں تک شادی کی بات رہی تو وہ تو تمہاری میرے سے ہی ہوگی“ مضبوطی سے اسکا ہاتھ تھامے وہ سختی سے بولا

”روحان؟“ تبھی سلمہ بیگم کی آواز گونجی تھی جس پر وہ جھٹکے سے اسے چھوڑتا غصے سے باہر کی طرف قدم بڑھا گیا

”بس؟ ابھی سے ڈر گئے؟“برکت طنزیا انداز میں چلائی جس پر وہ جھٹکے سے پلٹا تھا

”تمہاری عزت کا خیال نہ ہوتا نا تو اب تک تمہارہ کمرہ فرسٹ فلور پر تبدیل ہو چکا ہوتا“اپنے کمرے کا حوالہ دیتا وہ سر جھٹک کر باہر کی طرف بڑھ گیا

*****************

آغا جان کے کمرے سے نکل کر وہ پریشان سی رخ لان کی جانب کر گئی جب کسی نے جھٹکے سے اسے سائیڈ کی طرف کھینچا تھا

ا”تنا ہی شوق تھا تمہیں مجھ سے شادی کرنے کا تو پہلے بتا دیتی“ تسمیر اسے دیوار سے لگاۓ دونوں ہاتھ دیوار سے لگاۓ گہری سبز آنکھیں اس نازک سی لڑکی پر گڑاۓ بولا جو قد میں اسکے سینے کے برابر آتی تھی

”کیوں؟ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کوئی یونانی دیوتا ہیں؟“ کُبرا تپ کر کہنے لگی

”کوئی شک ہے؟“ تسمیر کندھے اچکاۓ پراعتماد سا بولا ”خوش فہمی ہے آپ کی اور آپ کو کیوں لگتا ہے کہ میں آپ کے پیچھے مرے جا رہی ہوں؟“ کُبرا ابرو اچکا گئی

”ہاں تو پھر کیوں آغا جان کے سامنے تم سے انکار نہیں ہوا؟ چپ تو ایسے ہوئی تھیں جیسے آغا جان نے تمہارے منہ کی بات چھین لی لو“ میر جل کر بولا جب کے اسکی بات سے کُبرا کا منہ پھٹا کا پھٹا رہ گیا تھا ”ایک بات میری سن لیں تسمیر علی خان آپ سے شادی کرنے کی خواہش کرنے سے بہتر ہے میں موت کی خواہش کر لوں آغا جان کے سامنے میں کچھ اسئلے نہیں بولی کیوں کہ آغا جان کی حکم عدولی کرنا خود سے انکار کرنا مجھے زیب نہیں دیتا یہ تو آپ جیسے بدتمیزوں کا کام ہے“ کُبرا منہ بسور کر کہتی اسکی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی لیکن اسکا نازک وجود تسمیر جیسے چوڑی جسامت رکھنے والے شخص کو ٹس سے مس نا کر سکھا

”اچھا تو تمہیں لگتا ہے میں بد تمیز ہوں؟ “اسکی کوششوں کو نظرانداز کیے وہ آئبرو اچکاۓ بولا

”جی بلکل کیوں کہ آپ کو بڑوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے “ کُبرا منہ بناۓ کہنے لگی

”اور خود کے بارے میں خیال ہے تمہارہ؟“اسکا مکمل جائزہ لیتا وہ شرارت سے بولا جس پر وہ لب بھینچ کر رہ گئی

”پہلے آپ اپنے بڑوں سے بات کرنے تمیز سیکھ لیں پھر آپ کے چھوٹے بھی آپ سے تمیز سے بات کیا کریں گے آپ نے سنا نہیں ہے جو جیسے کرتا ہے اسکے ساتھ ویسے ہی ہوتا ہے“ اپنی جھینپ مٹاتی وہ پر اعتماد سی بولی جبکہ اسکے انداز پر وہ اپنی مسکراہٹ کنٹرول نا کر سکا تھا

»ویسے تمہاری ہمت کی داد دینی پڑے گی اس نازک سے وجود کے ساتھ تم اتنی زبان چلا لیتی ہو میرے سے یہ جانتے ہوۓ کہ میں تمہیں ایک ہاتھ سے اٹھا کر تمارے روم میں پھینک سکتا ہوں “ذومعانی انداز میں کہتا وہ اسے آگ لگا کر آگے بڑھ گیا

”آہ میرے خدایا آہ“ ضبط سے کہتی وہ تیز تیز چلتی سامنے سے آتی روحان سے ٹکرائی تھی

”اوہو دیکھ کر نہیں چل سکتی؟ “ روحان چلایا تھا ”اور اگر یہی بات میں تم سے کہوں تو؟ “کُبرا دونوں ہاتھ کمر پر رکھے لڑاکا انداز میں بولی ”اچھا سوری! “روحان فورا سیدھا ہوا تھا

”لیکن اپنی بہن کو سمجھا لو تم کسی دن میرے ہاتھوں ضائع ہو جاۓ گی یہ“ روحان کچن کی طرف اشارہ کیے بولا( جہاں وہ ابھی تک کچھ بنانے میں مصروف تھی) ”اور تم اپنے بھائی کو سمجھا لو کہیں ایسا نا ہو کہ تم بھی اپنے بھائی سے ہاتھ دھو بیٹھو“ کُبرا تپ کر کہنے لگی

” تم کیوں سرخ ہو رہی ہو؟“ روحان اسکا سرخ چہرہ دیکھے بولا ”بس تم سمجھا لو اپنے بھائی کو “

کُبرا منہ بناۓ بولی

”میں سمجھاؤ انہیں؟ یہ دیکھو میرے ہاتھ بلکہ میں تو تمہیں بھی یہی مشہورہ دیتا ہوں کہ تم بھی بچ کر رہا کرو ان سے “روحان ہاتھ جوڑے اکتا کر کہنے لگا

”کیوں؟“

”یہ دیکھو خود دیکھ لو“ اسکا سوال سنتے ہی وہ ایک موبائیل میں ایک ویڈیو اون کر گیا جس میں تسمیر جنونی سا دو لڑکوں کو حشر نشر بگاڑ رہا تھا

”یہ کیا؟“ کُبرا حیرذدہ سی بولی

”لنڈن میں غنڈے بنے پھڑتے رہیں ہیں یہ“ روحان ستائشی انداز میں کہنے لگا جبکہ کُبرا کے چہرے پر آیا خوف اس سے چھپ نا سکھا تھا

” اونہو میں ڈرتی تھوڑی ہوں“ چہرے پر نکلی مسکراہٹ سجاۓ کہتی وہ آگے بڑھ گئی جب روحان پیچھے کھڑے تسمیر کو کام پورا ہونے کا اشارہ کر گیا جس پر وہ محض مسکرا کر سر اثبات میں ہلا گیا تھا