Shagaf-e-Dil Episode 12
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shagaf-e-Dil by Syeda Shah
رات کے اس پہر بھی پورے خان مینشن میں رونق لگی ہوئی تھی
“ارے بھابھی یہ سوٹ تو بہت ہی خوبصورت ہے “رخسانہ بیگم انکے ہاتھ میں موجود سفید رنگ کے اس خوبصورت کام والے سوٹ کو دیکھتی کہنے لگیں
“ میری بہو سے زیادہ نہیں ہے اصل خوبصورت تو یہ جب کہلاۓ گا جب وہ اسے پہنے گی“ سلمہ بیگم محبت سے بولیں
جس پر رخسانہ بیگم نم آنکھوں سے مسکرا دیں
”میں نے ضرور کوئی نیکی کی ہوگی بھابھی جان جو میری بیٹی کو آپ جیسی محبت کرنے والی ساس ملی ہے“ رخسانہ بیگم محبت سے بولیں
”بیٹا جون تم نے ابھی تک یہ مٹھائی کے ٹوکرے علاقے میں نہیں بھجوائے؟“ علی صاحب خوشی سے کہنے لگے آج انکی خوشی کی انتہاہ نہیں رہی تھی انکے بیٹے نے انکا مان جو رکھ لیا تھا
”روحان یہ لو جاکر تسمیر کو کہو یہ پہن کر نیچھے آجاۓ جلدی“ عباس صاجب ایک سوٹ اسے پکڑاتے بولے
“لیکن یہ کیوں؟ “روحان نا سمجھی سے کہنے لگا
”آغا جان کا حکم ہے کہ بات پکی کی رسم آج ہی ہوگی اور تاریخ بھی آج ہی دیں گے جلدی جاؤ تم یہ سوٹ اسے دے آؤ “
”اوکے“روحان مسکرا کر کہتا رخ تسمیر کے روم کی جانب کر گیا
بھائی اب جب آپ نے بابا کی بات مانی ہی ہے تو پوری طریقے سے ماننیں نا یہ لیں جلدی سے پہن لیں کچھ دیر بعد وہ اسکے سامنے رکھا اسکی منتیں کر رہا تھا
عجیب تماشہ ہے یہ بھی رات کے اس پہر کونسی رسمیں یاد آگئی ہیں انہیں؟ اور ایسی کیا جلدی مچ گئی ہے شادی کی؟ تسمیر تپ کر بولا
”اوہو بھائی کتنے عرصے بعد تو کوئی شادی آئی ہے خاندان میں اور یہ رسمیں ہی تو ہوتی ہیں جو دو خاندانوں کو جوڑ کر رکھتی ہیں شادی میں اگر رسمیں نا ہوں تو مزہ کیا ہے پھر؟ اب اسے آپ خود بھی اچھے سے انجواۓ کریں اور ہمیں بھی کرنے دیں یہ پہن لیں اور جلدی سے نیچھے آجائے گا ہم انتظار کر رہے ہیں“ روحان مزے سے کہتا باہر نکل گیا جس پر وہ سختی محض سر جھٹک کر واشروم کی طرف بڑھ گیا
**********************
کچھ دیر بعد وہ وائٹ رنگ کا سوٹ پہنے جس پر سفید اورگلابی رنگ کے موتیوں کا خوبصورت کام تھا گیلے بالوں کو ہالف کیچڑ میں کیے سر پر گلابی ڈوپٹا سجاۓ باہر نکلی تھی
”ماشااللہ ماشااللہ کتنا پیارہ لگ رہا ہے یہ سوٹ تم پر“
برکت اسے دیکھتے ستائشی انداز میں کہنے لگی جس پر وہ مسکرا کر رہے گئی
”چلو چلیں“ کُبرا اپنے اندر ہوتی ہل چل کو کنٹرول کیے بولی
ایسے کیسے؟ تھوڑا سا میک اپ تو کر لو یار ایسا نا ہو وہ سب میری تیاریاں دیکھ کر مجھے ہی بیٹھا لیں برکت خود پر ایک نظر ڈالتی ہنستے ہوۓ بولی وہ خود لال رنگ کا جوڑا پہنے بالوں کو چٹیاں میں قید کیے ہلکا سا میک اپ کیے بہت پیاری لگ رہی تھی
میرا دل نہیں ہے میک اپ کو بس چلو چلتے ہیں ویسے بھی گھر والے ہی ہیں
بلکل نہیں تم شرافت سے تیار ہو جاؤ ورنہ میں آیا جان کو کہ دوں گی کہ تمہیں سوٹ پسند نہیں آیا اسکے کہنے پر برکت ضدی لہجے میں بولی جس پر وہ منہ بسورے شیشے تک گئی تھی…..
آگیا میرا شہزادہ بچہ اماں جان اسے دیکھتی محبت سے بولیں جو سفید کرتے پجامے پر سفید ہی ویسٹ کورٹ پہنے اپنی مسال آپ لگ رہا تھا
آجاؤ بیٹا یہاں بیٹھو رخسانہ بیگم کے کہنے پر وہ اپنی جگہ سنبھال گیا جب نظر سامنے سے برکت کے ہمراہ سڑھیاں اترتی کُبرا پر گئی بلاشے وہ بے حد حسین تھی اسے دیکھتے ہی نظر ایک لمحے کے لیے ٹھہر سی گئی تھی جسے وہ اگلے ہی لمحے بہت مہارت سے دوسری طرف کر گیا تھا
کُبرا کو اسکے برابر میں بیٹھایا گیا انکے آتے ہی رسم شروع کرنے کو اماں جان آگے بڑھیں تھیں جب تسمیر انہیں ہاتھ کے اشارے سے روک گیا
کیا ہوا بیٹا؟ سلمہ بیگم پریشان سی بولیں
میری ایک شرط ہے اسکی رعبدار آواز گونجی تھی
کیسی شرط؟ آغا جان ابرو اچکاۓ کہنے لگے
آپ آج ہی آختر خان کو برکت کے رشتے سے انکار کر دیں گے تسمیر پراعتماد لہجے میں کہتا نظریں روحان کی طرف کر گیا وہ بے یقیقنی سے اسے دیکھ رہا تھا
لیکن ایسا کیوں؟ آغا جان نا سمجھی سے کہنے
آپ کو اچھا لگے گا؟ عباس چاچا کے دو ہی دماد ہوں دونوں ہی ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن جائیں؟ آپ جانتے ہیں آغا جان مجھے گل خان سے شدید نفرت ہے اسئلے آپ دیکھ لیں آپ کو آختر خان کو اس گھر کا دماد بنانا ہے یا تسمیر خان کو؟ تسمیر عام سے انداز میں بولا
تسمیر ٹھیک کہ رہا ہے آغا جان آپ مناسب سمجھیں تو آختر خان کو برکت کے رشتے سے انکار کر دیں میرا بھی دل یہاں نہیں مانتا عباس صاحب پریشان سے بولے جس پر آغا جان محض سر ہلا اثبات میں ہلا گئے
ٹھیک ہے ہم آختر خان کو منع کر دیں گے اب رسم شروع کریں آغا جان کے کہنے پر روحان بھاگتا ہوا تسمیر کے گلے لگا تھا جانتا تھا یہ سب اسنے صرف اسکے لیے کیا ہے( جبکہ برکت خود بھی اس انکار کی وجہ صرف آختر خان سے تسمیر کی نفرت سمجھی تھی اسے آختر خان سے کوئی فرق نہیں پڑھتا تھا پڑھتا تو صرف اپنے والدین کی خوشی سے اور وہ خوش تھی)
تھینک یو سو مچ بھائی تھینک یو! تسمیر کے گلے لگے وہ کان کے قریب سرگوشی نما انداز میں بولا جب تسمیر اسکی کمر تھپتھپا گیا (جیسے کہنا چاہا رہا ہو تیرے لیے کچھ بھی)
روحان تسمیر رخصت نہیں ہو رہا جو تم چھوڑ نہیں رہے ہو سلمہ بیگم ہنستے ہوۓ بولیں جس پر وہ جھینپ کر اس سے الگ ہوا تھا
رسم کا آغاز ہو چکا تھا سلمہ بیگم نے ایک خوبصورت سا کنگنا کُبرا کے ہاتھوں کی زینت کیا تھا ایک امام ظامن تسمیر کے بازو ہر باندھا تھا جیسے وہ اب صرف شادی کے دن ہی اتار سکتے تھے یہ انکی خاندانی رسم تھی جو وہ بہت دل سے کیا کرتی تھیں……..
*********************
صبح مسلسل ہوتے شور سے اسکی آنکھ کھولی تھی گھڑی پر نظر دورائی تو وہ ابھی نو بجے کا پتا دے رہی تھی
اوہ شٹ میں اتنا لیٹ کیسے ہو گئی؟ کسی نے اٹھایا بھی نہیں تیز تیز قدم چلاتی وہ واشروم کی طرگ بھاگی کچھ دیر میں تیار سی وہ شیشے کے سامنے آتی اپنا ڈوپٹا سیٹ کرنے لگی جب نظر اپنے ہاتھ میں پہنے اس چھوٹے سے لال رنگ کے کنگنانے پر گئی اتنی آفراتفری میں وہ اسے اب نوٹ کر رہی تھی اسے تسمیر کے نام کا کنگنا پہنایا گیا جو اسکے ہاتھوں میں اور بھی خوبصورت لگ رہا تھا سب چیزوں کو ذہن سے جھٹکتی وہ نیچھے کی طرف آئی جہاں کل رات سے زیادہ گہما گہمی تھی
کُبرا بیٹا کہاں کی تیاری ہے؟ رخسانہ بیگم اسے تیار دیکھ کر پوچھنے لگی
ماں کالج جا رہی ہوں ویسے ہی بہت لیٹ ہو گئی کُبرا عام سے انداز میں بولی
لیکن بیٹا تمہارہ ابھی جانا مناسب نہیں ہے اگلے ہفتے تمہاری شادی ہے سلمہ بھابھی کیا کہیں گی؟ رخسانہ بیگم اسے سمجھانے لگیں
لیکن ماں میں پڑھنے نہیں جا رہی مجھے بس یہ کچھ بہت ضروری فائلز میم کو دینی ہے میرا جانا بہت ضروری ہے
تو کوئی بات نہیں اگر ایک گھٹنے تک کی بات ہے تو تم چلی جاؤ کچھ نہیں ہوتا تبھی سلمہ بیگم کی آواز گونجی جس پر وہ مسکرا دی
لیکن درائیور تو ہے نہیں اور روحان کو میں نے ابھی کچھ سامان لینے کے لیے بھیجا ہے جاؤ گی کس کے ساتھ؟ رخسانہ بیگم ابرو اچکاۓ بولیں
جب سلمہ بیگم جی نظر سامنے سے آتے میر پر گئی جو چہرے پر پریشانی سجاۓ تیز تیز قدم بڑھاۓ ان تک آرہا تھا
موم میں زمینوں پر جا رہا ہوں کچھ دیر میں آجاؤ گا تسمیر موبائیل میں مصروف سا بولا
کون سی زمینون پر؟ سلمہ بیگم کا سوال آیا تھا
کالج کے پیچھے والی گل خان کی زمین تسمیر ہنوز نظریں سکرین پر جماۓ کہنے لگا
چلو مسئلہ حل ہو گیا جاؤ کُبرا بیٹے تسمیر بھی وہی جا رہا ہے تو تمہیں بھی ساتھ لے جاۓ گا سلمہ بیگم مسکرا کر بولی جس پر تسمیر کا سکرین پر چلتا ہاتھ رکا
درائیور کے ساتھ چلی جاۓ گی یہ تسمیر سپاٹ لہجے میں بولا جس پر سلمہ بیگم نے اسے آنکھیں دیکھائی تھیں
درائیور نہیں ہے اسی لیے تمہارے ساتھ بھیج رہی ہوں ویسے بھی کچھ دنوں میں کُبرا کی ساری زمےداریاں تم نے ہی سنبھالنی ہے تو ابھی سے عادت ڈال لو …جاؤ بیٹا یہ لے جاۓ گا تمہیں لیکن یاد رہے جلدی واپس آجانا
سلمہ بیگم مسکرا کر کہتی پلٹ گئی جبکہ کُبرا منہ بناۓ اس کے پیچھے چل دی جو اس پر ایک نظر بھی ڈالے بغیر لمبے لمبے ڈھگ بڑھتا آگے بڑھ گیا
ہاں رفیق بولو گاڑی میں بیٹھتا وہ فون کان سے لگا گیا
آگے آکر بیٹھو! اسکی رعبدار آواز گونجی وہ جو مزے سے پیچھے کا دروازہ کھول گئی تھی اسکی رعبدار آواز سے فورن اگے آئی تھی
نہیں تمہیں نہیں کہ رہا تم بولو تم نے سارے انتظام کر لیا ہے؟ اسے آگے آنے پر وہ گاڑی زن سے اسٹارٹ کرتا پھر سے کال میں مصروف ہوگیا
ہاں تو کیا ہوا؟ زیادہ سے زیادہ مجھے مارنے کے منصوبے بناۓ گا؟ تو ہونے دو میں مر جاؤں گا لیکن وہ زمین اب اسے نہیں دوں گا تم جتنا جلدی ہو ٹاؤر والو سے کہ دو کہ وہ ہماری زمین پر ٹاؤر کھڑا کردیں ایک یا دو سال جنتا عرصہ چاہیے وہ رہیں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے بس جلد از جلد وہاں پر ٹاؤر کھڑا کرواؤ
وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا جبکہ ساتھ بیٹھی کُبرا پہلی بار اسکی موجودگی سے گھبرا رہی تھی ایک عجیب سا احساس اسے آج اپنی لپیٹ مین لیے ہوۓ تھا اس دوران تسمیر کن اکھیوں سے اسے کافی بار دیکھ چکا تھا ہر بار اسکی نظر کُبرا کے ہاتھ میں پہنے اپنے نام کے کنگنانے پر جاکر ٹہر سی جاتی تھی لیکن اسکے محسوس کرنے سے پہلے ہی وہ نظرین دوسری جانب کر لیا کرتا تھا
اتنا شرما کیوں رہی ہو؟ ابھی شادی نہیں ہوئی ہماری گاڑی مین موجود خاموشی کو تسمیر نے توڑا
ممیں کیوں شرماؤں گی آپ سے؟
بس مجھے لگا تم خاموش ہو تو کوئی تو وجہ ہو سکتی ہے ویسے ایک بات تو پر مجھے اب یقین آہی گیا ہے تسمیر کچھ سوچتے ہوۓ بولا
اور وہ کیا؟ کُبرا کا سوال اٹھا تھا
یہی کہ تم میرے سے شادی کرنے کو دل سے راضی ہو جبھی تو تم جان بوجھ کر یہ کنگنا پہن کر کالج جا رہی ہو تاکہ سب کو پتا لگ جاۓ کہ تمہاری شادی (ڈی تسمیر خان) سے ہو رہی ہے
اور یہی بات اگر میں آپ سے کہوں تو؟ کُبرا اسکے بازو پر بندھے امام ظامن پر اشارہ کرتی بولی
میں نے تو جسٹ موم کی وجہ سے نہیں اترا انہوں نے کہا ہے شادی کے بعد ہی اترے گا اب یہ تسمیر کندھے اچکاۓ کہنے لگا
تو مجھے بھی انہوں نے ہی کہا ہے مجھے بھی شوق نہیں ہے سب کو بتانے کا کُبرا منہ بناۓ بولی
ویسے میں سوچ رہا تھا تمہیں بتا ہی دوں پھر تم بعد میں رونا دھونا کرنے نا بیٹھ جاؤ کہ میں نے شادی سے پہلے تمہیں بتایا نہیں تسمیر پرسوچ سا کہتا اسے دیکھنے لگا
اب وہ کیا؟ وہ ایک بار پھر اسکی بات پر ابرو اچکا گئی
یہی کہ جتنا تم اپنے آغا جان سے محبت کرتی ہو اس سے کہیں زیادہ میں گرل فرینڈز رہے چکی ہیں تسمیر عام سے انداز میں کہتا اسے آگ لگا گیا تھا لیکن جواب میں وہ.محض خاموشی اختیار کر گئی تھی چلو میں نے تو بتا دیا اب تم بھی بتا دو تمارے کتنے بواۓ فرینڈز رہے چکے ہیں؟ تسمیر ابرو اچکاۓ بولا
میری زندگی میں ان کاموں کے وعلاوہ اور بھی بہت ہیں مجھے ایسے کاموں میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے کُبرا اسکے سوال پر آۓ غصے پر ضبط کیے تحمل سے کہنے لگی
اسکا مطلب میں تمہاری زندگی میں آنے والا پہلا مرد ہوں؟؟ تسمیر نے یقینی سے بولا
ہمم میری زندگی میں لاۓ جانے والے پہلے مرد! وہ ایک ایک.لفظ پر زور دیے بولی تھی تبھی تسمیر کا فون ایک بار پھر چیخا تھا سکرین پر نام پڑھتے ہی اسکے چہرے پر مسکراہٹ رینگی تھی
ہیلو میئری ڈارلنگ!
نہیں میں کچھ دیر مین فری ہوکر بات کرتا ہوں پرمصرور سا کہتا وہ کال رکھ گیا ان میں سے ایک یہ ہے اب کی بار وہ کُبرا سے مخاطب ہوا
اچھا کیسی ہے وہ؟ مطلب حلیہ کیسا ہے اسکا مطلب بال وال کُبرا اسے ٹیسٹ کرنے کو بولی
ہمم اچھی ہے شاید خوب صورت بھی ہے بال شاید اسکے میرے سے تھوڑے بڑے ہونگے یا شاید چھوٹے رکو میں تمہیں تصویر دیکھا دوں گا تسمیر کنفیوز سا کہنے لگا
محبت ہے آپ کو اس سے؟ کُبرا اپنی پنسی کنٹرول کیے مزے سے بولی
ہاں ہے محبت تو مجھے آتی صرف چار پانچ سے ہی ہے باقو سب سے تو اب بریک اپ کر لیا ہے میں نے تسمیر سنجیدہ سا کہتا کُبرا کو ہنسنے پر مجبور کر گیا تھا
اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے؟ تسمیر ابرو اچکاۓ بولا
کچھ نہیں کالج آگیا ہے کُبرا بات ٹال کر گاڑی سے اتار گئی جبکہ وہ محض سر جھٹک کے اسے جاتا دیکھنے لگا