📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 21

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

ناران کی ان خوب صورت سڑکیوں پر وہ سب اس وقت چلتے سب کی نظروں کا مرکز بنے ہوۓ تھے یہ چھے کم عمر لڑکے لڑکیاں ہنستے مسکراتے سب کو اپنی طرف تواجہ کر رہے تھے جب ایک جگہ پر کچھ لوگوں کو اسپیکڑ پکڑے جھومر ڈالے دیکھا

بھائی آجائیں روحان انکے جھومر کو دیکھتا خود بخود قدم ان کی جانب بڑھا گیا

ڈانس تو مجھے بھی اب بہت زور کا آرہا ہے جون اپنے کندھے ہلتے محسوس ہوۓ

تو جائیں نا آپ دونوں بھی ان نمونے کو دیکھیں کیسے انجواۓ کر رہا ہے برکت سامنے اسے غیر لوگوں کے ساتھ مزے سے جھومر ڈالتے دیکھ بولی

ہاں تاکہ ہمارے جانے کے بعد تم ہمیں بھی نمونے کہ سکوں؟ تسمیر تیوی چڑھا گیا

آہ میرا مطلب وہ نہیں تھا برکت شرمندہ سی ہوئی

کوئی بات نہیں تم کہ سکتی ہو تمہاری بہن اس بات سے خوش ہی ہوگی اور میں اسے کسی بھی حال میں خوش ہی دیکھنا چاہتا ہوں وہ اس پر نظر ڈالے جو کب سے برکت کہ بات پر با مشکل اپنی مسکراہٹ دباۓ ہوۓ تھی خاصی ڈھٹائی سے بولا وہ کونسا چپ رہنے والوں میں سے تھا

اؤے ہوۓ برکت اسے کندھا مار گئی جو اسکی بات سے سب کے سامنے شرمندہ سی دانت پس کر رہے گئی

جبکہ وہ جون کو لیے اب جھومر میں شامل ہو گیا تھا

سفید رنگ کی قمیز شلوار ہو سکن شال کندھے پر ڈالے وہ آتی جاتی لڑکیوں کی ستائش نظریں دیکھ کر منہ پھیڑ گئی تھی

کیا ضرورت تھی اتنا اچھے لگنے کی وہ اسے دیکھتی خود سے بولی

جب کہ صباحت اب ان کے جھومر کی ویڈیو بناتی ساتھ ساتھ ہوٹنگ بھی کر رہی تھی

مجھے چیز لینی ہے! وہ جو اب کب سے چلتے کوفی اور چاۓ کے اسٹول کے واپس رکے تھے اسکی عجیب فرمائش پر وہ اسے دیکھ کر رہے گیا

کیا چیز لینی ہے؟ تسمیر اسے دیکھتا بولا

لیز اور چوکلیٹز ! وہ سامنے بنی دوکان کو دیکھ کر کہنے لگی

سیریسلی؟ وہ ابرو چکا گیا

آپ نہیں آرہے تو میں خود جا رہی ہوں وہ اسکی حیرت کو نظر انداز کرتی خود آگے بڑھ چکی تھی کے اچانک اسکے آگے کچھ لڑکے آتے اسکے قدم روک گئے تھے

جب اسے اپنے ہاتھ پر کسی کی سخت گرفت محسوس ہوئی نظریں پھیڑنے پر اسے دیکھا جو سخت تیور لیے اسے گھور رہا تھا

صبر نہیں ہوتا تم سے؟ وہ اسکا تھامے ان لڑکوں کے ہجوم سے نکال کر دوکان تک لایا

آہ وہ اسکی سخت گرفت پر کراہ کر رہے گئی کے وہ اسکے تاثرات دیکھتا اب اپنی گرفت کم کر گیا لیکن چھوڑا اب بھی نہیں دیکھتا

میں دے سکتا ہوں پیسے ابھی اتنا غریب نہیں ہوا تمہارہ شوہر! وہ اس لڑکی کی خوداری پر منہ کھول کر رہے گیا جو سو روپے کی چیز لے کر پیسے اپنے بیگ سے نکال رہی تھی اسکی سخت آواز سے اسکا پرس میں جاتا ہاتھ رکا

وہ شوہر لفظ پر خاصا زور دے گیا تھا جبکہ اسکی پہلی بار منہ سے کی گئی فرمائش پر اسے اندازہ ہوا تھا اس لڑکی نے ایک مہینے میں کوئی بھی چیز اسکے پیسے میں نہیں لی تھی

چلو یار بہت ٹائم ہو گیا اب ہوٹل چلتے ہیں جون تھکا تھکا سا بولا

ہاں چلو ویسے بھی یہاں سے ہوٹل ابھی کچھ ہی فاصلے پر ہے صباحت اسکی بات ہر ہامی بڑھ گئی جون کے برابر چلتی وہ کچھ الگ ہی فیل کر رہی تھی جون نے مسکرا کر اسے دیکھا جو یک دم اسکے اس طرح دیکھنے پر وہ نظریں جھکا گئی

جبکہ ان سب سے بے نیاز روحان برکت ہاتھ تھامے ان سے آگے لے آیا تھا

کیا کر رہے ہو بھائی نے دیکھا تو کیا کہیں گے؟ برکت اسکے گرفت سے پریشان ہوتی کہنے لگی

کہنے دو تمہارے بھائی کو میرا بھائی آرام سے ہینڈل کر سکتا ہے ویسے بھی میں نے ایسا کیا کہ دیا ہے جو تم اس طرح لال ہوۓ جا رہی ہو؟ روحان اسکے بدلتے رنگ بخوبی دیکھتے بولا

نمونے ہو تم! وہ اسکے کندھے ہر ہاتھ مار گئی

اور تم روتی شکل! وہ ہنوز اسکا ہاتھ تھامے محبت سے کہتا ان لمحوں کو محسوس کرنے لگا فلحال وہ سب کو بھولاۓ اس لڑکی کا ہاتھ تھامے جو اس کی محبت تھی اس حسین سے منظر کو دل میں اتار رہا تھا .

وہ کافی دیر سے اسکے اپنے پیچھے محافظ کی طرح چلتے دیکھ رہی تھی وہ اسکا محافظ تھا یا نہیں یہ وہ نہیں جانتی تھی لیکن ہاں اس وقت وہ اسے پیچھے چلتے دیکھ خود کو محفوظ محسوس رہی تھی دیک دم اسکے لگا وہ اس کے پیچھے نہیں ہے غیر اداری توڑ پر نظروں نے اسے ڈھونڈنا چاہا جو اب سامنے بنی ایک پان کی دوکان کے نیچھے سیڑھیاں اتر رہا تھا وہ محف افسوس سے سر جھٹک کر رہے گئی

*******************

روم میں ٹہلتی وہ اسکے انتظار میں تھی انجان جگہ پر اسے ویسے ہی نیند مشکل سے آنی تھی اور اب وہ غائب ہوکر اسکی نیند مزید اڑا چکا تھا

تھک کر اب وہ بیڈ پر لیٹتی آنکھوں پر ہاتھ رکھ گئی جب کلک کی آواز سے دروازہ کھولا اسکی خوشبو کمرے میں محسوس کرتی وہ نظر گھڑی کی طرف کر گئی جو رات کے دو بجا رہی تھی

سرخ ہوتی آنکھوں سے وہ اٹھتی اسکے سر ہوئی

کہاں تھے؟ وہ جو اسے سوتا سمجھ کر دبے پاؤں آرہا تھا اسکی آواز سے زبان دانتوں تکے دبا گیا

ٹائم دیکھا ہے؟ وہ اسکے خاموش رہنے پر مزید تپ گئی تھی

یہ تم آج کل کچھ زیادہ بیوی والے سوالات نہیں کر رہیں؟

مجھے بننے کی ضرورت نہیں ہے میں آل ریڈی بیوی ہوں اور میرا فرض ہے جاننا کہ آپ کہاں تھے وہ اسکے لڑکھڑاتے قدم دیکھ رہی تھی نیلی آنکھیں مزید سرخ ہوئیں

تو پھر تم خیال کرو کیوں کہ اگر میں شوہر بن گیا تو تمہارے لیے مشکل ہوگی وہ اسے سرہاپے پر گہری سبز نظریں ڈالے بولا اسکی باتوں سے کُبرا کو اپنا چہرہ سرخ ہوتا محسوس ہوا

ویسے بھی تم آج کل ایسے شرما کر مجھے شوہر بننے پر مجبور کر رہی ہو وہ اسے قریب ہوتا خمار آلود لہجے میں کہتا اسکی جان ہوا کر گیا تھا

شکر کرو مجھے تم سے محبت نہیں ہے ورنہ میری محبت کی سختیاں تم سے برداشت بھی نہیں ہونی تھیں تسمیر اسکی غیر ہوتی حالت دیکھ صوفے پر ڈھے سا گیا

کیوں ہیں آپ ایسے؟ کیوں اتنے حرام کام کرتے ہیں شرم نہیں آتی آپ کو؟ وہ اسکی حالت دیکھ کر سمجھ چکی تھی کے وہ شراب پی کر آیا ہے

نون اوف یور بزنس وہ لاپروائی سے جیب سے سگریٹ نکال کر سلگتا وہ اسے مزید تپا گیا

لمحے کی دیر کیے بغیر وہ اسکے ہاتھ سے سگریٹ لیے سائد پر پھینک چکی تھی

ہاؤ ڈئیر یو؟ اسکی حرکت سامنے والے کو سخت نا گوار گزری تھی جھٹکے سے اسکا ہاتھ مڑور کر اٹھتا وہ اسے گلاس وال کے ساتھ لگا گیا تھا

دور رہیں مجھ سے وہ اسکے موجود سے اٹھتی شراب کی مہک محسوس کیے خوفذدہ سی چلائی جب وہ اسکا ہاتھ مڑورتا اسے مزید قریب کر گیا اسکی گرفت میں لہرزتی پلکیں لیے وہ ہمیشہ کی طرح اسکے لیے مشکل کھڑی کر رہی تھی

آئندہ اگر ایسی حرکت کی تو تمہیں خود اپنے ہاتھوں سے تمہاری جان لے لوں گا وہ اسے دیوار سے لگاۓ غرایا

یو آڑ ہرٹینگ می اپنے ہاتھ اسکی مضبوط گرفت سے نکلنے کی کوشش میں وہ نمی پیتی بولی جب تسمیر اس پر سے نظریں ہٹاۓ پیچھے ہوا

جنگلی انسان ہیں آپ اسے خود سے پیچھے کیے وہ سرخ آنکھوں سے چلائی جب وہ ایک بار پھر اسے اپنی گرفت میں لے چکا تھا

شکر کرو کہ تم نے میرا جنگلی پن نہیں دیکھا وہ اسکے کان کے قریب سرگوشی کر گیا

ائی ہیٹ یو وہ اسے دھکا دیتی روم سے باہر کی جانب بڑھی

گڈ فار یو وہ اسکی پشت کو دیکھتا ڈھارا اسکی نظروں کی تپش کمرے سے نکلنے تک کُبرا کو محسوس ہوئی تھیں

*************************

تم سے کتنی بار کہا ہے مجھے فون مت کیا کرو وہ اپنے روم سے باہر نکلے ڈبے ڈبے غصے میں غرایا

غلطی ہو گئی تھی اب معاف کرو مجھے روحان اکتایا

نہیں ملنا مجھے اس سے بھی اب گل خان سے کہنا میں اپنی غلطی کا ہرجانا بھر چکا ہوں اب اسئلے مزید مجھے وہ تنگ مت کرے اور تم بھی یہ بات اپنے بھیجے میں بیٹا لو سمجھی؟

میں شہر میں نہیں ہوں فلحال تمہیں کس نے بتایا؟ وہ جو کب سے اکتا کر بات کر رہا تھا اب دوسری طرف کی بات سن کر اسکا چہرہ فق ہوا تھا

مممیں ملتا ہوں کل اب فون رکھو! پریشانی سے کہتا روحان اب اپنے روم میں چلا گیا

یہ ایک نئی مصیبت اسکے گلے پڑھ چکی تھی

********************

کچھ دیر بعد وہ ڈارک بیلو شرٹ اور سفید ٹراؤزر میں فریش سا واشروم سے نکلا

نظر کا سامنا اب خالی کمرے سے ہوا تھا وہ اب بھی واپس نہیں آئی تھی بے ساختہ اسے اپنی کچھ دیر پہلے والی حرکت پر افسوس ہوا

اتنی سردی میں کہاں چلی گئی یے اب یہ پاگل لڑکی وہ اب خود سے مخاطب ہوا ارادہ اب برکت اور صباحت کے روم میں اسکا پوچھنے کا تھا جب غیر ارادی توڑ پر وہ گلاس وال کے پاڑ دیکھنے لگا جہاں سے وہ نیچھے لگی کرسیوں کے پاس بیٹھی نظر آئی

یہ بچے اب مجھ سے! اس سے وہ ہرگز اس بیوقوفی کی امید نہیں لگا سکتا تھا جو اتنی ٹھند میں رات کے اس پہر انجان جگہ پر اکیلی بیٹھی تھی

روم میں آؤ! کچھ ہی دیر میں وہ اسکے سر پر سوار تھا جبکہ اسکے اچانک نازل ہونے پر وہ دل تھام کر رہے گئی

مجھے نہیں آنا! انداز خاصا روٹھنے والا تھا

آرہی ہو یا خود اٹھا کر چلو؟ وہ سختی سے گویا ہوا کے اسکی بات سے وہ لب بھینچ کر رہے گئی

اوکے فائن اب میرے اگلے قدم کی زمےدار تم خود ہونگی! پانچ منٹ تک اسکی طرف سے کوئی رد عمل نا پاکر وہ اس وارن کر چکا تھا جس پر وہ پیر پٹکتی قدم اندر کی جانب بڑھا گئی (جانتی تھی وہ اپنی باتوں کا پکا ہے اور شرم تو خیر سے اس کے آس پاس سے نہیں گزری تھی اسے اٹھانے میں اسنے لمحہ نہیں لگانا تھا)

باہر کیوں بیٹھی تھیں؟ دماغ درست ہے تمہارہ؟ اسے کمرے میں لاتے ہی وہ پھر سے اس پر شروع ہو چکا تھا

آپ سے مطلب؟ کُبرا اسکی سختی دیکھ کر دل پر جبر کیے ہوۓ تھے آنسو تھے جو کب سے نکلنے کو بے تاب تھے

مجھ سے ہی مطلب ہیں اب سارے!

اسکی ڈھٹائی پر وہ لب بھینج کر رہے گیا

اسکی آنکھوں کے کناروں پر چمکتے موتے تسمیر سے چھپ نا سکے تھے

ایک تو تم لڑکیوں کو رونا پتا نہیں کہاں سے آجاتا ہے اتنا وہ اکتایا تھا اسکے آنسو نجانے کیوں اسے اپنے دل پر گرتے محسوس ہوتے تھے

جب پالا ایسےلوگوں سے پڑے تو اب لڑکیاں رونے کی جگہ ہاتھ تو اٹھانے سے رہیں وہ آنکھوں کے کنارے صاف کیے تلخی سے گویا ہوا

خیر وہ بھی تم کر ہی چکی ہو تسمیر کا اشارہ اب اسکے ہاتھ اٹھانے والی بات پر تھا اسکی بات سے وہ نظریں جھکا گئی جبکہ اسکی اس ادا پر وہ عش عش کر اٹھا تھا

پوچھوں کیا پوچھنا ہے اب کی بار وہ نرم پڑتے بولا

کچھ نہیں پوچھنا مجھے وہ ہنوز روٹھنے سے انداز میں کہنے لگی

دیکھ لو اگر آج پوچھوں گی تو بتا دوں گا نہیں تو کبھی میرے سے کچھ پوچھنے کی ہمت مت کرنا اسکی بات پر کُبرا نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا جو سنجیدہ سا تھا

وہ بیڈ سے اٹھنے لگا جب اسکی آواز نے قدم جکڑے تھے

آپ لنڈن جانے کے لیے باضد کیوں تھے؟

تمہیں کس نے کہاں ہے میں با ضد تھا؟ وہ ابرو اچکاۓ بولا

تسمیر میں جانتی ہوں آپ اپنے دل میں کوئی نا کوئی زار چھپاۓ بیٹھے ہیں آپ چاہیں تو مجھے بتا سکتے ہیں نہیں تو کوئی زبردستی نہیں ہے وہ پر اعتماد سی کہنے لگی

جبکہ اسکا دل چاہا تھا آج اس لڑکی کے سامنے اپنے ایک عرصے سے دل میں سارے زخم کھول دے اور اپنے ارادے پر لبیک کہتا وہ اسکے قریب ہوا تھا

سنا چاہتی ہو؟ تو سنو! وہ تلخی سے کہتا ماضی میں کھو گیا تھا

مجھے قرآن پاک پڑھنے کا بہت شوق تھا اسے یاد کرنے کا بہت شوق تھا افیکٹ جب ڈیڈ نے مجھے مدرسے میں لگوایا تو میری خوشی کی انتہا نہیں تھی

جانتی ہو میں اپنے مدرسے کا سب سے قابل بچہ تھا جس نے دو سالوں میں تیئس سپارے حفظ کر لیے تھے لیکن ایک دن وہ بولتے بولتے رک گیا تھا

کُبرا نے اسکے چہرے پر یک دم خود محسوس کی

ایک دن کیا؟ کُبرا کے کہنے پر وہ ماضی میں کھو گیا تھا

پندرہ

سال پہلے:

ہمیشہ کی طرح وہ خوشی سے مدرسے کی جانب قدم بڑھا رہا تھا کچھ دن پہلے ہی انکے استاد جی کسی کام سے دوسرے شہر گئے تھے جس کی وجہ سے ایک نئے استاد جی آۓ تھے تسمیر کو انکا انداز شروع دن سے ہی عجیب لگا تھا وہ عجیب طریقے سے اسے دیکھتے تھے اپنی سفید رنگت اور گہری سبز آنکھوں کے باعث وہ اپنے مدرسے میں سب سے خوب صورت نظر آتا تھا

ابھی بھی وہ کالے سوٹ پر کالی ہی ٹوپی پہنے ہوۓ تھا

جب مدرسے پہنچتے ہی وہ حیران سا سامنے کا منظر دیکھنے لگا آج مدرسے کی چھوٹی تھی یہ اسے یہاں آنے پر پتا چلا جہاں بچوں کا نام نشان نہیں تھا استاد جی کے کمرے سے آتی کچھ آوازوں سے وہ اس جانب متواجہ ہوا اور سامنے کا منظر اسکے لیے نا قابل یقین تھا جہاں اسکے استاد کسی لڑکی کو ہراس کر رہے جبکہ وہ کم سن لڑکی روتے ہوۓ ان سے کچھ کہنا چاہتی تھی جب اسکی نظر تسمیر پر گئی یک دم استاد کی آنکھیں میں خوف پیدا ہوا جسے وہ آگلے ہی لمحے خباست سے چھپا گیا

تو نے بھی ابھی آنا تھا اس لڑکی کو چھوڑے وہ اب اسکی طرف آیا

یہ کیا کر رہے ہیں آپ استاد جی؟ وہ انہیں ایک بوتل خود کے منہ سے لگاۓ دیکھ پریشان سا بولا

یہ زائقہ اسنے پہلے کبھی نہیں پیا تھا یہ شراب ہے تم نے جو گناہ کیا ہے تم اس قابل نہیں ہو کہ تم یہاں پڑھ سکو یہ چیز پینے سے تم اپنے دل میں بسائی اس کتاب کو مٹا دو گے وہ بوتل اسکے منہ سے لگاۓ کہنے لگا

میں نے کونسا گناہ کیا ہے؟ گناہ تو آپ کر رہے ہیں میں ابھی جا کر سب کو بتاتا ہوں

وہ کم عمر تھا ابھی تیرہ سال کا تھا لیکن وہ اتنی سوچ رکھتا تھا کہ سوال کر سکے

تم نے آج یہاں آکر غلطی کر دی بچے میں تو تجھے بہت بھولا سمجھتا تھا جا جاکر بتا دے اگر ہمت ہے تو لیکن پھر یاد رکھنا تیرا میں وہ حشر کروں گا کہ سوچ بھی نہیں سکے گا وہ اسے ایک زوردار تھپڑ مار کر بولا تسمیر کو اپنا گال پھٹتا محسوس ہوا منہ سے اب خون بہنا شروع ہو گیا تھا

گناہ تو تو نے یہاں آکر کر دیا ہے وہ اسے مکمل ہراس کر رہا تھا اب آئندہ اس مدرسے میں نظر نا آنا بچے ورنہ وہ حشر کروں گا کہ یاد رکھے گا

اور جہاں تک بات ہے اسکی یہ اپنے ساتھ لے جا یہ پیئے گا تو یہ تیرے دل سے اس کتاب کو نکال دے گا جس کے تو قابل ہی نہیں ہے خود ہوش میں نا ہوتے ہوۓ وہ اس سے نجانے کونسی باتیں کر رہا تھا

لیکن یہ پینے سے اللہ گناہ دیتے ہیں تسمیر سہما سا بولا

اب تو تم پی چکے ہو اور اب اگر تم یہ نہیں پیؤ گے اور واپس اس کتاب کو پڑھو گے دل میں سماؤ گے تو اللہ اور گناہ دے گا اور پتا ہے وہ سزا میں کیا کرے گا؟

کیا؟ اسکی نظروں سے وہ مصوم بچہ سہم کر بولا

وہ تمہارے ماں باپ کو چھین لے گا اور اگر تم نے میرے بارے میں کسی سے بھی کچھ کہا تو میں کہ دوں گا یہ بچہ جھوٹ بول رہا ہے میری یہاں بہت عزت ہے سب میری ہی بات مانیں گے لیکن تو کیا ہے؟ کیا عزت ہے لوگوں کی نظروں میں تیری؟ جو وہ تیری بات مان کر مجھ جیسے عزت دار بندے پر شک کریں گے افسوس وہ اسے دیکھ کر تمسخر اڑاتے لہجے میں گردن نفی میں ہلاۓ بولا یہ جانے بغیر کہ اسکے الفاظ اس بچے کی زندگی تباہ کر سکتے تھے وہ لڑکی تو موقع پاتے ہی بھاگ نکلی تھی لیکن وہ ضرور اسکی ہوس کا شکار ہو گیا تھا

اس دن کے بعد اسنے کبھی مدرسے کی شکل نہیں دیکھی تھی امسلسل دو ہفتے تیز بخار اور اپنی ضد کے بعد وہ اپنے آنکل اور جون کے ہمراہ لنڈن پڑھائی کا بہانہ کیے چلا گیا تھا دل میں ٹہر جانے والے خوف کو وہ کبھی کسی کے سامنے نہیں لایا تھا نا ہی اس کے بعد اسنے کبھی نماز پڑھی البتہ شراب پینا اب شروع کر دی تھی دل سے وہ مقدس کتاب جو مٹانی تھی جس کے وہ اب قابل نہیں رہا تھا بچپنے میں کسی کے دباؤ میں پینی والی شراب اب اسکی عادت بن چکی تھی جسے وہ چھوڑ نہیں سکتا تھا آج بھی وہ اپنی عزت کے خوف سے یہ سوال کبھی کسی سے پوچھ نہیں پایا تھا لیکن وہ خود بھی نہیں جانتے تھا کہ آج اس لڑکی کے سامنے وہ کیوں اپنا غم کھول بیٹھا ہے

وہ اسکی باتیں دم سادے سن رہی تھی

آپ نے کبھی اس کے خلاف کوئی اسٹیپ نہیں اٹھایا؟ وہ کھوئی کھوئی سی تھی

ہاں اب پاکستان آتے ہی سب سے پہلے اسکی خبر لی تھی جب پتا چلا کہ وہ نفصیاتی آدمی تھا وہ تو ایک مہینے بعد ہی یہاں سے کہیں چلا گیا تھا پھر کچھ عرصے بعد اسکے بری طرح سے ایک حادثے کا شکار ہوتے مرنے کی خبر آئی تھی لیکن میں چاہتا تھا میں اب اسکا سامنا کروں اسے بتاؤں کہ اب میرے پاس عزت بھی ہے اور لوگوں کے دل میں مقام بھی میں اسے بتانا چاہتا تھا جس عزت کی وجہ سے وہ اس وقت میرا منہ بند کروا گیا تھا آج وہی عزت صیح معانی میں میرے پاس تھی میں نے اپنا کردار اتنا مضبوط بنایا ہے کہ اب اگر میں ایک اشارہ بھی کرتا لوگ اسے زندہ دفن کر دیتے کاش وہ مجھے مل جاتا ! وہ حسرت سے بولا تھا

تو اب اسے سمجھ آیا تھا وہ کیوں اسکا تھپڑ یاد آنے پر فوری روایہ بدل جاتا تھا کیوں کہ وہ اب اپنے کردار پر کوئی بات نہیں سننا چاہتا تھا

آہ وہ اسکی تکلیف محسوس کرتی کانپ کر رہے گئی کتنے عرصے سے وہ اپنے ساتھ ہوئی زیاتی اپنے دل میں زخم کی طرح چھپاۓ ہوۓ تھا جو اسے دیمک کی طرح اندر سے ختم کرتی جا رہی تھی

سو جاؤ بہت رات ہو گئی ہے وہ بیڈ سے اٹھنے لگا جب وہ اسکا ہاتھ تھام گئی تھی جسے فوری اسکی نظروں سے کنفیوز ہوتی وہ واپس چھوڑ گئی اسکی حرکت پر تسمیر سر جھٹک کر رہے گیا

سوری! اسکی رندھی ہوئی آواز سے وہ آنکھیں سیکڑے اسے دیکھنے لگا

فار واٹ؟ وہ ابرو اچکا گیا

فار ایؤری تھینگ وہ سر جھکاۓ کہنے لگی

مجھے سیمپاتیس لینا بلکل پسند نہیں ہے میں نے تمہیں بتایا بھی صرف اسئلے ہے تاکہ تم مجھے بیچارہ سمجھو

وہ تیوری چڑھا گیا تھا

میں کیوں آپ کی بیچارہ سمجھوں گی لیکن ہاں آپ کو پہلے ہی سب کو بتانا چاہیے تھا آغا جان کو بتاتے آپ نے آخر وہی کیا نا جو برسوں سے لوگ کرتے آرہے ہیں لوگ غلط کو ہمیشہ کیوں عزت کی خاطر چھپاتے ہیں؟ کیوں والدین اپنے بچوں کی بدلتی حالتوں کو نہیں سمجھ پاتے کیوں وہ بچوں کی طرف سے اتنے اہم مسئلے پر لاپروائی بڑتے ہیں؟ وہ اسے دیکھتی پوچھنے لگی جس لے پاس خود اسکی باتوں کا جواب نہیں تھا

سو جاؤ! وہ اٹھ کر اب واشروم میں بند ہو گیا جبکہ وہ باقی سوالات کل پر چھوڑتی تکیوں کہ دیوار بناۓ لیٹ گئی

اسکی باتیں ذہن میں گونجتی محسوس کیے اب نیند بھی جیسے بھاگ گئی تھی وہ اتنے عرصے میں تکلیف میں تھا یہی بات ہی اب کُبرا کو تکلیف میں مبتلا کر رہی تھی

اس سے کچھ دیر پہلے والی ناراضگی وہ اب بھول چکی تھی