Shagaf-e-Dil Episode 20
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shagaf-e-Dil by Syeda Shah
صبح اسکی آنکھ کھولی تو نظر اپنے ساتھ لیٹی اس لڑکی پر گئی جو پوری رات وقفے وقفے سے ڈر کر کئی بار نیند میں ہی اسکا ہاتھ تھام چکی تھی اب بھی وہ اسکا ہاتھ تھامے پرسکون سی گہری نیند میں تھی جبکہ تسمیر کو تکیوں کے باواجود بھی وہ اس وقت اپنے بے حد قریب محسوس ہوئی تھی گہری نظروں سے اسکے چہرے کو دیکھا وہ اسے اس وقت واقعی کوئی مصوم سی بچی لگ تھی بے اختیار وہ اسکے چہرے پر آۓ اسکی کچھ شرارتی لٹوں کو انگلیوں کے پور سے پیچھے کر گیا جیسے وہ لٹیں اسکے چہرے پر گرتی اسے چیڑانے کا ارادہ رکھتی ہوں
”افف یہ کیا وہ رہا ہے تمہیں تسمیر یہ لڑکی آۓ دن تمہارے حواسوں پر سوار ہو رہی ہے“ خود سے آۓ خیال پر وہ جھرجھرلی لیے اٹھا نرمی سے اسکا ہاتھ تکیے پر رکھے وہ واشروم میں بند ہو چکا تھا
کچھ دیر میں وہ فریش سا بلیک ڈریس پینٹ میں اس وقت شرٹ سے بے نیاز بنیان میں باہر نکلا نظر اس پر گئی جو اب تک آنکھیں موندھے لیٹی تھی
”لگتا ہے میڈم کا اٹھنے کا ارادہ ہی نہیں ہے“ وہ خود سے کہتا اسکی جانب آیا جب دماغ نے ایک شرارت سوجھی تھی اپنی سائد سے احتیاط سے تکیے ہٹا کر نیچھے پھینک کر اب وہ اس پر جھکا تھا
خود پر مسلسل کچھ ٹپکتا محسوس کرتی وہ آنکھیں کھول گئی جہاں وہ اس پر جھکے اپنے گیلے بالوں سے ٹپکتا پانی اسکی آنکھوں پر گراتا لبوں پر شرارتی مسکراہٹ لیے اسکے دیکھ رہا تھا
ہوش میں آتی وہ جھٹکے سے اٹھی جبکہ اسے اپنے اتنے قریب بنیان میں دیکھ کر وہ خاصا سٹپٹائی تھی دل جیسے ساری حدود توڑ کر باہر نکلنے کو تھا
“اب کیوں شرما رہی ہو اب کیا فائدہ شرمانے کا؟“وہ آنکھیں سکیڑ کر بولا انداز جبکہ ذومعانی تھا
”کیا مطلب؟
اور یہ تکیے کہاں گئے؟“
اسکی نظروں سے کنفیوز ہوتی وہ نجانے کونسا خدشہ ظاہر کر گئی تھی
”اب زیادہ بھولنے والی آیکٹنگ مت کرو تم نے ہی تو کل سارے تکیے ہٹا دے تھے اور…. “وہ ذومعانی انداز میں کہتا اسکی جان ہوا کر گیا
”اور؟“ وہ سہم کر بولی
“چھوڑو نا مجھے شرم آرہی ہے ویسے بھی کوئی بات نہیں مجھے اچھا لگا تم پورا حق رکھتی ہو مجھ پر آفٹر آل ہم میاں بیوی ہیں تو ڈونٹ وری“ وہ آنکھ مار کر ایسے بولتا صبح صبح ہی اسکی جان لینے کو تل گیا تھا
”ججھوٹ بول رہے ہہیں آپپپ“ کُبرا اسکی باتوں کا مطلب سمجھتی روہانسی ہوئی
”ریلیکس یار کوئی بات تم پریشان کیوں ہو رہی ہو؟ میں نے ہوں نا “ وہ شرارت سے کہتا اس کے ساتھ بیٹھا
“جھوٹ بول رہے ہیں آپ اور اگر سچ بھی ہے تو آپ نے ضرور مجھے کچھ پیلایا ہوگا“ اب کی بار وہ زور زور سے روتی اس کے سینے پر مکے مارتی اسے خاصا ششدر کر گئی تھی
“آہ یار لگ رہی ہے مار کیوں رہی ہو تم سے کنٹرول نہیں ہوا تو اس میں میری کیا غلطی ہے “ وہ اسکے ہاتھ تھامے ہنوز شرارت سے بولا
“اچھا سوری یار مزاق کر رہا تھا سوری“ اسکی غیر ہوتی حالت دیکھ کر وہ اپنی ہنسی بامشکل دباۓ چلایا لیکن وہ تو سنے کے موڈ میں ہی تھی
”لسن کوبرا کی بچی لگ رہی ہے مجھے لسن ٹو می مزاق کر رہا تھا میں “ اسکے مسلسل اپنی گرفت میں بھی چلتے ہاتھ جھٹکے سے تھامے اب وہ ایک ایک لفظ چبا کر کہنے لگا جس پر وہ ہوش میں آتی خونخوار نظروں سے اسے دیکھنے لگی ڈھلی پونی میں بندھے بال اب کھل کر کمر پر بکھر چکے تھے
”اس طرح کا گھٹیا مزاق آپ ہی ڈھٹائی سے کر سکتے ہیں“ وہ اسے دیکھتی زہر خندق ہوئی جو اسکی حالت کو انجواۓ کرتا بامشکل اپنی ہنسی روکے ہوۓ تھا
” میں اس طرح حرکت بھی انتہائی ڈھٹائی سے کر سکتا ہوں اور یقین مانو اس میں مجھے زرا بھی شرم محسوس نہیں ہوگی “ وہ اسکی سرخ پڑھتی ناک دیکھتے گھمبیر لہجے میں اس پر آدھا جھکا بولا تھا جب کُبرا کو اندازہ ہوا کہ وہ اس وقت ڈوپٹے سے بے نیاز اسکے کافی قریب ہے پل بھر میں اسکا چہرہ غصے اور شرم سے سرخ ہوا تھا
”بے شرم! “ جھٹکے سے اسے پیچھے ڈھکیلتی وہ لقب سے نوازتی ڈوپٹا اٹھاۓ واشروم میں بند ہوئی تھی جبکہ پیچھے سے وہ جاندار قہقہ لگا کر اسے مزید تپا گیا تھا اگر اس وقت کوئی باہر کا شخص اس خبرو جوان کو ایسے دیکھتا تو ضرور حیرت میں مبتلا ہو جاتا وہ باہر سب کے لیے تنے تاثرات رکھنے والا شخص اس لڑکی کے سامنے بچکانہ حرکتیں کرتے اسے ستاتا تھا
***********************
وعلیکم السلام کہاں تک پہنچا کام؟ وہ ہمیشہ کی طرح ڈائریکٹ مدعے پر آیا
مجھے کل تک سب کام کملیٹ چاہیے پھر میں خود دیکھتا ہوں اس گل خان کو ایسی جگہ سے ماروں گا جہاں سے اسنے سوچا بھی نہیں ہوگا وہ ڈھار کر کہتا کال رکھ گیا جب کسی نے اسکا کندھا تھاما پلٹ کر دیکھنے پر جون سخت نظریں اس پر مرکیوز کیے ہوۓ تھا
اندازہ تو تھا مجھے لیکن اس بات کا یقین نہیں تھا کہ تو کوئی بات مجھ سے بھی چھپا سکتا ہے جون رات کی ساری کہانی سننے کے بعد حیرانگی اور خفگی سے بولا
رات کو وہ اتنا ڈر گئی تھی اسئلے ہی فورن چلا گیا تھا اسکے پاس نہیں تو تجھے بتاۓ بغیر نا سوتا تسمیر سگریٹ کے گہرے کش لگاۓ اسے بتانے لگا
محبت ہو گئی ہے اس سے؟
اسکے اچانک کیے جانے والے سوال پر تسمیر نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا
نہیں! کبھی نہیں وہ پراعتماد سا بولا
پھر نفرت ہے؟ جون واپس سے سوال کر گیا
نہیں!! اب نہیں ہے! تسمیر اسے نے تکے سوالات سے حیران ہو رہا تھا
پھر کیا ہے؟ وہ ہنوز اس ہر نظریں گہرے بولا
پتا نہیں کیا ہے مجھے وہ بری اسئلے نہیں لگتی کیوں کہ وہ بری ہے ہی نہیں اور اچھی بھی شاید اسئلے لگتی ہے کیوں کہ وہ خود اچھی ہے ہاں مجھے اس سے محبت نہیں ہے لیکن نفرت بھی نہیں ہے بس اب اسکی غیر موجودگی مجھے اب اچھی نہیں لگتی خیر تو کیوں پوچھ رہا ہے؟ تسمیر اب بھی اسکے سوالات کو نا سمجھ سکھا تھا
کیوں کہ تو نے آج اسکا نام نہیں لیا اسکا مختصر سا جواب تسمیر کو ہلا گیا تھا وہ واقعی کسی کے سامنے اسکا نام لینا پسند نہیں کرتا تھا جیسے اسکا نام بھی سب سے چھپا کر رکھنا چاہتا ہو
ایسا کچھ نہیں ہے تو اپنی لیو اسٹوری مجھ پر مت ڈال ویسے بھی میں اور وہ کبھی ایک نہیں ہو سکتے
(بے اختیار اسے وہ تھپڑ یاد آیا تھا اسے کُبرا کے تھپڑ سے زیادہ ہرٹ اسکے کریکٹر پر شک نے کیا تھا وہ جیسا بھی تھا اپنے ہی گھر اور علاقے کی عورتوں پر کبھی غلط نگاہ نہیں ڈال سکتا تھا شاید ایک یہی بات تھی جو اسے کُبرا سے محبت کرنے سے روکے ہوۓ تھی)
ایک دوسرے کو موقع دے کر تو دیکھو ہو سکتا تم دونوں کو ایک دوسرے میں چھپی اچھائیاں ایک کر دیں جون اسکے ساتھ ساتھ چلتا بولا وہ دونوں پارکنگ سے ہوتے اب اسکی گاڑی کے آگے رکے تھے
چل میں اب چلتا ہوں مجھے لیٹ ہو رہا باقی باتیں آکر کر لیں گے بات بدلتا وہ گاڑی زن سے بھاگا گیا تھا جبکہ جون جو کل انہیں ساتھ دیکھ کر مطمئن ہوا تھا آج اسکی باتوں سے پھر سے دل بہن کے لیے پریشان ہو گیا تھا
وہ فریش سی بلیک جینس اور گھٹنوں سے نیچھے آتی بلیک ہی شرٹ پر ریڈ کوٹ پہنے باہر نکلی ریشمی بال اب کمر پر بکھرے پڑے تھے اسے کمرے میں نا پاکر وہ کچھ پر سکون ہوئی
” میں اس طرح حرکت بھی انتہائی ڈھٹائی سے کر سکتا ہوں اور یقین مانو اس میں مجھے زرا بھی شرم محسوس نہیں ہوگی“ اسکے الفاظ کانوں میں گونجے پل بھر میں چہرے پر گلابی رنگ پھر سے چھا تھا
کیا ہوگیا ہے تمہیں کُبرا تم اسے سوچ کر شرما کیوں رہی ہو وہ خود سے سوچتی اپنے بال بنانے لگی جب دروازہ نوک ہوا
کون؟ وہ شیشے کے پاس سے ہی چلائی تھی
میں ہوں! دروازے کے باہر سے صباحت کی آواز گونجی
آجاؤ وہ ہنوز مصروف سی بولی
تم ٹھیک ہو نا؟ سنا ہے کل تم لوگوں کا آیکسیڈنیٹ ہو گیا تھا وہ چہرے پر پریشانی لیے کہنے لگی جبکہ اسکی بات سے رات والا منظر ایک بار پھر اسکے سامنے آتے اسے خوفذدہ کر گیا تھا
تم ٹھیک ہو نا؟ وہ اسکا دھیان نا پاتی اسکا بازو ہلا گئی
ہمم میں تو ٹھیک ہوں لیکن میر جو چوٹیں آئی ہیں
اہمم اہمم میر؟ صباحت نے اسے چھیڑا تھا جسے خود کہنے کے بعد احساس ہوا کہ وہ کچھ غلط کہ گئی ہے
کتنا حسین ویو ہے نا صباحت اس روم میں موجود گلاس وال کے پاڑ دیکھتی بولی جب نظر نیچھے ہوٹل کے باہر بنے چھوٹے سے گراسی آئریا میں کچھ ٹیبلز اور چیئر کے درمیان بیٹھے جون ہر گئیں جس پر وہ بے اختیار نظریں جھکا گئی
ناران ہے ہی بیوٹی کُبرا مسکرا کر کہنے لگی
بیوٹی تو اصل میں آپ ہیں برکت اندر داخل ہوتی محبت پاش نظروں سے بہن وہ دیکھ کر بولی
اب آپ دونوں تیار ہو گئی ہیں تو باہر چلیں؟ وہ ایکساڈٹڈ سی پوچھنے لگی
ہاں چلتے ہیں کُبرا مسکرا کر کہتی ڈوپٹا سر پر ٹکاۓ کہنے لگی
تبھی وہ روم میں داخل ہوا ان دونوں میں موجود دیکھ کر ایک لمحے کے لیے اسکے قدم تھمے تھے جب کہ وہ دونوں اسکے آتے ہی سلام کرتی وہاں سے باہر نکل گئی تھیں
یہ دونوں یہاں کر رہی تھی وہ اس پر نظر ڈالے بغیر سختی سے گویا ہوا
یہ ہوٹل ہے تسمیر یہاں پر تو وہ آ ہی سکتی ہیں وہ اسکی بات سے خاصی حیران ہوئی تھی( اسنے سنا تھا وہ اپنے روم میں کسی کو برداشت نہیں کرتا یہی وجہ تھی اسکی غیر موجودگی میں بھی کوئی اسکے کمرے میں محض اسی کے کسی ضروری کام سے جایا کرتا تھا ورنہ کسی کو اتنی اجازت نہیں تھی)
کچھ چیزیں پرنسنل ہوتی ہے جن پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوتا اور مجھے بلکل نہیں پسند میرے کمرے میں کوئی بھی آۓ تم ساتھ رہے رہی ہو نا یہی کافی ہے وہ سرد لہجے میں کہنے لگا نجانے کس کا غصہ اس پر اتڑ رہا تھا
اوکے فائن! وہ غصے سے کہتی باہر کی جانب بڑھتی جب اسکی آواز سے قدم تمھے تھے
” ادھر آؤ!“
اسکے کہنے پر وہ محض ایک سرد نگاہ اس پر ڈال کر رہے گئی تھی جو اپنے اس لہجے سے کچھ دیر پہلے دل میں اٹھتی ساری خوش فہمیاں ختم کر چکا تھا
واٹ ڈا ہیل یہ میڈج کھولو میری! وہ جو کافی دیر سے بیڈج کھولنے کی سعی کرنے میں ہلکان ہو گیا تھا اب قدرے جھنجھلا کر بولا جس پر وہ گہری سانس بھر کر اسکے پاس آئی
خاموشی سے بیڈ کے سامنے کرسی رکھے وہ اسکا ہاتھ تھام گئی
زخم اب بھی گہرا ہونے کے باعث ہلکا ہلکا خون اب بھی رس رہا تھا وہ پریشان سی اسے دیکھنے لگی جو بنا کسی تاثر کے اسکی ساری کاروائی دیکھ رہا تھا
احتیاط سے اسکی پٹی کھولنے کے بعد وہ اب اس پر کریم لگانے لگی جب وہ اسکا ہاتھ تھام گیا
مجھے نہیں کروانی اب یہ پٹی وہ ضدی انداز میں کہنے لگا
خاموش کُبرا جو کب سے زضبط کیے بیٹھے تھی اب اسے آنکھیں دیکھا گئی
زیادہ ماں مت بنو میری یہ اسکی اب ضرورت نہیں ہے اسکی وجہ سے میں ڈرائیوو بھی صیح سے نہیں کر پا رہا اوپر سے آج سارے پیپڑ ورک میں اسنے مجھے پریشان کیا ہے تسمیر جھنجھلایا
زخم ابھی گہرا ہے جب ہلکا ہو جاۓ گا تو اتار دیجیے گا ایسے کام مت کریں جو مزید تکلیف دیں اور مجھے ماں بننے کی ضرورت نہیں ہے میں بیوی بن کر ہی سارے حکم چلا سکتی ہوں وہ اسے گھور کر رہے گئی جسے اپنی تکلیف کا کوئی احساس ہی نہیں تھا
اسکے ہاتھ پر پٹی باندھتی وہ اب اسکی پیشانی کے. زخم پر کریم لگانے لگی اس لمحے اسکی تکلیف خود میں اترتی محسوس ہوئی تھی ہاتھ کی نصبت پیشانی کا زخم زیادہ گہرا تھا بے اختیار وہ آنکھوں میں اٹھنے والے سیلاب کو روکنے کے لیے آنکھیں مچی تھیں
بندہ کانگریچولیشن ہی کہ دیتا ہے شوہر کی جوب لگ گئی ہے اسکی ساری کاروائی بغور دیکھتا ہمیشہ کی طرح اپنی کان کی لو مسلے وہ طویل خاموشی کے بعد بولا
مجھے تو جیسے الہام ہو رہے تھے نا وہ تپ کر کہنے لگی
تمہیں زیادہ ہی غصہ نہیں آرہا آج کل؟ وہ اسے جھٹکے سے قریب کیے خماد آلود لہجے میں بولا
دور رہے کر بھی بات ہو سکتی ہے اسکی قربت میں وہ خاصا گھبرا گئی تھی
مجھ سے تو ایسے ہی ہوتی ہے وہ شرارت سے کھڑے ہوکر کہتا اسے مزید قریب کر گیا جبکہ وہ اس شخص کے پل میں بدلتے موڈ سے حیران ہوتی رہے گئی
”یقین کرو جب تم میرے قریب آنے سے شرماتی ہو نا خود مجھے دعوت دے جاتی ہو“ وہ ذومعانی انداز میں کہتا اسکے چہرے پر آئی لٹوں پر انگلیاں پھیرتا کان کے پیچھے اڑس گیا
پتا نہیں کیا چاہا رہا ہے یہ شخص وہ تپتا چہرہ لیے اسکے پیچھے کرتی باہر آتی گہری گہری سانس لیے بولی تھی…
*********************
کتنا حسین موسم ہے نا روحان اسکے ساتھ چلتا کندھا اسے مار گیا تھا
اور تم نے آکر اس موسم سمیت میرے موڈ کو بھی خراب کر دیا ہے برکت منہ بسور گئی
یہ تم بہت ناشکری نہیں ہو رہی اگر تم سے محبت کرتا ہوں تو اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ مجھے کمی ہے کوئی لڑکیوں کی وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیڑے بولا
اچھا؟ تو دیکھاؤ کونسی چڑیلیں مرے جا رہی ہیں تم پر؟ وہ ابرو اچکاۓ کہنے لگی جبھی دو لڑکیوں سامنے سے گزرتی اس پر ستائشی نظر ڈالے پاس سے گزری تھی
حیرت کا جھٹکا تو اسے جب لگا جب وہ دو منٹ بعد اسکے سامنے ایک چٹ لہرا گیا تھا
نمبر ہے یقین نہیں آتا تو خود چیک کر لو وہ کالڑ جھار کر بولا
اللہ توبہ استغفراللہ برکت اسکی حرکت سے حیرتذدہ ہوتی کانوں پر ہاتھ رکھ
ہاں ہاں اب تو جل گئی روحان اسکی حیرت سے جھینپ کر کہنے لگا
اؤۓ کدھر؟ جبھی جون کی آواز سے وہ اس کی طرف متواجہ ہوۓ
آجاؤ پہلے کچھ کھا لو وہ انہیں آواز لگاتا ایک خوب صورت سے بنے ڈھابے میں قدم رکھ گئے
____________________
کھانے کا آڈدر اسنے الجھ کر کیا تھا سیدھے ہاتھ میں چوٹ لگنے جے باعث وہ عجیب جھنجھلاہٹ کا شکار ہو رہا تھا
بھائی آپ نہیں کھائیں گے؟ روحان پریشانی سے اسے ہاتھ کو دیکھنے لگا
کھاتا ہوں تسمیر غصہ ضبط کیے ہاتھوں سے نوالہ توڑنے جی ناکام کوشش کرنے لگا بھوک پر وہ کبھی بھی کمپرومائز نہیں کر سکتا تھا
اسے کھانے سے الجھتا دیکھ کُبرا اپنی مسکراہٹ دبا گئی
بہت ہنسی آرہی ہے؟ وہ تیوری چڑھاتا کر کہتا اسے کوئی چھوٹا سا بچہ ہی لگا تھا
اگلے لمحے وہ کسی کی بھی پروا کیے بغیر خود سے نوالہ بناۓ اسکے آگے کر گئی جبکہ اسکی ہمت پر وہ آش آش کر اٹھا تھا
کھا لیں فلحال آپ کو اپنے کاموں میں میری ضرورت پڑنے والی ہے وہ اسکی نظروں سے کنفیوز سی بولی
اہم اہمم کھا لیں کھا لیں بھائی ہم نہیں دیکھ رہے روحان آنکھوں پر ہاتھ رکھے وہ کُبرا کو اچھا خاصا شرمندہ کر گیا
بے بی میں جانتا ہوں تم رومینٹک ہوں لیکن یہاں سب سے سامنے اچھا تھوڑی لگتا ہے وہ اسکے ہاتھ سے نوالہ لیے سرگوشی کر گیا تھا جبکہ اسکی باتوں سے سرخ ہوتا چہرہ لیے اپنی جلد بازی پر خود کو کوس کر رہے گئی تھی
روحان اٹھا لو اسکے مسلسل بجتے فون سے تسمیر اب اکتا چکا تھا
جی بھائی وہ سکڑین پر جگمگاتا نام دیکھ کر تنے عصاب سے اٹھتا سائد پر گیا
بولو! سیدے مدعے پر آیا تھا
میں نہیں مل سکتا سمجھ آئی؟ اب فون نا آۓ واپس وہ سخت لہجے میں کہتا کال رکھ گیا تھا