Shagaf-e-Dil Episode 37
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shagaf-e-Dil by Syeda Shah
ایک ہفتہ ہونے کو آیا تھا کُبرا کے ایگزیم بس اب ایک دو دن میں ختم ہی ہونے تھے اس دوران وہ اس سے کم ہی ملا تھا آج کل اسکے آوفس میں بھی اتنی مصروفیات تھیں کے اسے اپنا ہی ہوش نہیں ہوتا تھا ابھی بھی وہ انہیں سب میں مصروف تھا جب اسکا فون رنگ ہوا نمبر آن نون تھا لیکن کچھ سوچتے ہوۓ وہ آٹینڈ کر گیا
جی میں تسمیر خان ہوں! آگے کی بات سنتے ہی اس کے پیروں کے نیچھے سے زمین نکلی تھی
کونسے ہوسپٹل؟ میں آتا ہوں__ اپنی چیزیں ایسے چھوڑے وہ باہر کی طرف لپکا ابھی اسے کسی نے فون کرکے جون کے بری طرح آیکسیڈنٹ کی خبر دی تھی
رش ڈرائیونگ کرتا اس وقت وہ ہوسپٹل میں تیزی سے داخل ہوا
یہاں جہانگیر خان نام کے پیشنٹ کو لے کر آۓ ہونگے انکا ابھی آیکسیڈنٹ ہوا ہے! وہ ریسپشن پر کھڑی لڑکی سے
مخاطب تھا جب میئری بھاگتے ہوۓ اس کے گلے سے لگی
شکر ہے تم آگئے پتا نہیں جون کہاں ہے یہ لوگ تو منع کر رہے ہیں کہ اس نام کا کوئی پیشنٹ یہاں نہیں آیا وہ
اسکے گلے لگی رو رہی تھی جب تسمیر نے ایک جھٹکے سے اسے پیچھے کیا
تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ اسکی پیشانی پر ان گنت بل نمودار ہوۓ
وہ وہ مجھے کال آئی تھی کہ جون کا آیکسیڈنٹ تو میں
اسکے خطرناک تاثرات دیکھ کر وہ ٹوٹے پھوٹے لفظ ادا کرنے لگی
نو سر یہاں اس نام کے کوئی پیشنٹ نہیں ہیں آپ کو شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہے لڑکی کے بولنے پر وہ اس طرف متواجہ ہوتا جون کو فون ملا گیا
یس بڑو؟ وہ اپنی فائل میں منہ دیے بیٹھا تھا جب اسکی کال سے وہ کچھ تشویشی انداز میں کال اٹھا گیا
کہاں ہے تو؟..
آوفس… کیوں؟
بس کچھ نہیں ٹھیک ہے پہلا سوال پوچھتے ہی وہ کال رکھ گیا
کچھ نہیں ہوا ہے اسے اپنے آوفس میں ہے اس پر نظر بغیر ہی وہ فون جیب میں رکھے موڑا
کسی نے پرینک کر دیا ہے ہمارے ساتھ! میئری اسکے ساتھ ساتھ چلنے لگی
ہاں عجیب لوگ ہیں پرینک کرنے کے لیے ایک تو ان کے پاس میرا نمبر بھی آگیا اور پھر یہ دیکھو کہ میرے ساتھ کرنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے تمہیں بھی اس پرینک میں گھسیٹنا لازمی سمجھا بہتر ہوگا آئندہ اس قسم کے پرینک میرے ساتھ نا ہی ہوں!
وہ ایک کاٹ دار نظر اس پر ڈالے لمبے لمبے ڈھگ بھرے گاڑی کی طرف بڑھ گیا
کے میئری مٹھیاں بھینج کر رہے گئی لیکن جو بھی اس نے اپنا کام تو کر ہی دیکھایا تھا
**********************
مے آئی کم ان سر؟ وہ اسکے دروازے پر دستک دیتی پوچھنے لگی
یس پلزز مس صباحت جہانگیر آئیے! وہ جس انداز میں بولا تھا صباحت اپنی مسکراہٹ چھپا گئی وہ ابھی سے ہی اسکا نام کے آگے اپنا نام جوڑ گیا تھا
وہ سر میں آج جلدی چلی جاؤں؟ میرا کل پیپر ہے! وہ جھجھک کر کہنے لگی
”جی بلکل لیکن آپ زرا یہ کچھ فائلز دیکھ لیجیے گا اور دوسرا یہ کے ایک شرط پر آپ کو جانے دوں گا…“
کیسی شرط؟ صباحت حیران ہوئی
یہی کے دوراپ میں ہی کروں گا! وہ مسکرا کر کہتا اپنی چابی اٹھا گیا
نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے!
میں نیچھے ویٹ کر رہا ہوں جلدی آجائیں! اسکی سننے بغیر ہی وہ باہر نکل گیا تھا کے صباحت پیچھے عجیب سی الجھن میں پھنس گئی اب تو ویسے بھی وہ اسکے سامنے کنفیوز ہی ہو جایا کرتی تھی
اسٹوپ!
کیا ہوا؟ جون اسکے اچانک چیخنے پر فورن بریک لگا گیا
وہ بلی کا بچہ! ابھی نیچھے آجاتا گاڑی کے!
افف آپ نے تو مجھے ایسے ڈرایا تھا جیسے آگے کوئی انسان کا بچہ ہو! جون خفگی سجاۓ بولا
تو؟ مطلب یہ جانواروں کی جان کوئی ویلو نہیں رکھتی؟ انکا کیا قصور ہے لوگ ہی گاڑیاں اندھے ہوکر چلاتے ہیں!
وہ منہ بنا گئی کے جون اسکی اس ٹون پر حیران تھا
تمہیں بلیاں پسند ہیں؟ اب کی بار وہ مسکرا کر اسکا ہاتھ تھام گیا
جی بہت پسند ہیں ان کے معاملے میں کوئی کمپرومائز نہیں کرتی میں اور ویسے بھی ہمیں ہر جانوار سے ہی
پیار کرنا چاہیے اتنے کیوٹ تو ہوتے ہیں! اپنے ہاتھ پر اسکی گرفت دیکھ کر وہ بامشکل سنبھلی
اچھا جی آئندہ خیال کروں گا اب آپ مسکرا دیں زرا! اسکے محبت پاش لہجے سے صباحت نظریں جھکا گئی
…………………………….
اوۓ نیلی بلی تم نے یہ دیکھی ہیں؟ روحان کے بلانے پر وہ اس طرف آئی جب وہ اپنے نکاح کی آیلبم اسکے
سامنے کر گیا جہاں اسکی اور تسمیر کی تصویر تھی وہ کمیرے میں دیکھ رہی تھی جبکہ تسمیر سبز آنکھوں میں
ڈھیروں محبت لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا تصویر کھینچنے والے کا کمال تھا جس نے اس جوبصورت لمحے کو بخوبی کمیرے میں اترا تھا
کتنے اچھے لگ رہے ہو تم دونوں… روحان ستائشی انداز میں کہنے لگا جس پر کُبرا محض مسکرا دی
اگر وہ اس شخص کی آنکھوں کو دیکھتی تو وہاں اسے اپنے لیے محبت ہی نظر آتی تھی لیکن جب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے گئے منظر کو دیکھتی تو اسے اپنی آنکھوں پر ہی عتبار ہوتا تھا عجیب ہی کشمکش میں تھی وہ جہاں دل اسکے گواہی دیتا تھا لیکن دماغ اسے دوبارہ ملنے والے دھوکے سے باز رکھے ہوۓ تھا
کہاں کھو گئی ہو؟ تم بھی تعریف کرو نا؟ روحان کی آواز سے وہ اسکی طرف متواجہ ہوئی جو اب اپنی تصویریں اسے دیکھا رہا تھا
تمہاری کیا تعریف کروں؟ جھوٹی تعریفیں نہیں ہوتی میرے سے وہ منہ بنا گئی
تو کس نے کہا ہے جھوٹی کرو؟ سچی کرو نا دیکھو تو کتنا پیارا لگ رہا ہوں میں آہاں… دونوں ہاتھ میں منہ چھپاۓ وہ اسے عورت ہی لگا
بلکل تم اس باجی کی تعریف کر دو نہیں تو انہیں رات کو نیند نہیں آۓ گی برکت اب چاۓ کی ٹرے اٹھاۓ مسکراہٹ دباۓ بولی
ان کی نوک جھوک جاری تھی جب کُبرا کا موبائیل چیخا
تم لوگ کنٹینؤ کرو میں آتی ہوں ابھی! ان سے معذرت کرتی وہ باہر لان کی طرف آتی کال آٹینڈ کر گئی
ہیلو؟ ان نون نمبر دیکھ کر وہ پانچ منٹ بعد بولی جب دوسری جانب سے کسی کی رونے کی آواز گونجی
ہیلو کُبرا؟ میں مریم بات کر رہی ہوں! اسکی آواز سے وہ دل تھام گئی اب کیا تھا جو وہ اسے بتانے والی تھی
ہاں بولو تم رو کیوں رہی ہو؟ کُبرا تفتیشی انداز میں پوچھنے لگی
تسمیر کہاں ہے؟ تم اسے کہو مجھ سے بات کرے……اس نے میرے ساتھ بلکل اچھا نہیں کیا….. وہ اب ہجکیاں لے رہی تھی
کیا ہوا ہے مریم؟ تم مجھے بتاؤ اور کیا کہنا ہے تسمیر سے تم ٹھیک ہو نا؟ وہ ان خاصی پریشان ہوئی
اس نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا……وہ تمہاری وجہ سے مجھ سے بہت ناراض ہے اس نے مجھے منع کیا تھا کہ
ہمارے بارے میں تمہیں کسی صورت پتا نا لگے لیکن سچ تو یہ ہے آئی ایم….. آئی ایم ایکسپیکٹنگ!
اسکے الفاظ تھے جو اس وقت کُبرا کے پیروں کے نیچھے سے زمین نکال چکے تھے
ججھوٹ بول رہی ہوو تمم! آئندہ مجھے کال مت کرنا وہ خواب کی سی کیفیت میں بولی
اگر تمہیں میرا یقین نہیں ہے تو میں تمہءں ثبوت دیکھا سکتی ہو…مئیری ابھی بول رہی تھی جب وہ کال کاٹ چکی تھی
تیز تیز قدم بڑھاۓ وہ اندر داخل ہوئی
اؤے یہ چاۓ تو پی لو…. برکت اسے پیچھے سے کہنے لگی لیکن وہ ان سنی کرتی تیز تیز سیڑھیاں عبور کر رہی تھی اس وقت بس وہ سب کی آنکھوں سے اوجھل.ہونا چاہتی تھی
روم میں آتے ہی اسے خود کو میئری کی بات جھوٹ ہونے پر یقین دلایا جب پھر سے فون پر یکے بعد دیگر
نوٹیفیکیشن جگمگاۓ اوپن کرنے پر وہ میئری اور تسمیر
کی ہوسپٹل کی چند تصویریں تھیں جن میں وہ کبھی اسے گلے لگاۓ ہوۓ تھا تو کہیں وہ دونوں ساتھ باہر نکل رہے تھے
کچھ رپورٹس بھی تھیں جن میں اسکی بات کے حقیقیت ہونے پر کوئی شبہ باقی نہیں رہا تھا وہ موبائیل بیڈ پر پھینکتی روتی چلی گئی تھی
………………………………
وہ آوفس سے تقریبا دس بجے تج فری ہوا تھا
گاڑی پورچ میں کھڑی کرکے اپنا کورٹ ایک بازو پر ڈالے وہ بے نیاز سا اپنے روم کی جانب بڑھنے لگا
بھائی کہاں گم ہیں آپ؟ یار کچھ رحم ہی کر لیں میری شادی کے دن قریب ہیں لیکن کوئی سیریس ہی نہیں لے
رہا وہ دونوں بہنیں بھی ایگزیم میں بزی ہیں اور میری والی تو اب کوئی لفٹ ہی نہیں کروا رہی وہ اسے آتے دیکھ اکتا کر بولا
اور تم تمہارے نہیں ہے ایگزیم؟ میرے خیال سے تو تم اور برکت ایک ہی کلاس میں ہو جا شاباش پڑھو! تسمیر اسے گھور گیا
بھائی یار کیا ہے بور ہو رہا ہوں ویسے بھی وہ نیلی بلی بھی صبح سے منہ پھلاۓ بیٹھی ہے! اسکے کہتے ہی تسمیر سیدھا ہوا
کیا مطلب میری والی؟ وہ اپنی طرف اشارہ کرنے لگا
جی جی آپ ہی کی والی اب یہ مت پوچھیے گا کہ کیوں منہ پھلاۓ ہوۓ ہے کیوں کہ یہ مجھے خود نہیں پتا! وہ
کندھے اچکا گیا جس پر تسمیر سر ہلاتا اوپر کی جانب بڑھا (ضرور وہ اس سے کوئی حساب لینے بیٹھی ہوگی!)
کمرے میں آتے ہی وہ صوفے پر بیٹھی کتابوں میں منہ دیے نظر آئی
کیا ہوا ہے تمہیں اب؟ وہ کورٹ الماری میں سیٹ کرتا اس سے مخاطب ہوا جو اسکی بات ایسے نظرانداز کر گئی جیسے وہ یہاں موجود ہی نا ہو
اٹھو جاکر کھانا لگاؤ ہم ساتھ کھائیں گے! اب کی بار تسمیر اسکا بازو تھامے بولا جسے وہ درشتی سے پیچھے ہٹا گئی
پیچھے ہوں! وہ سرخ آنکھوں سے چلائی
کیا ہوا ہے تمہیں؟ اسکی لاکھ مزاحمت کے باواجود وہ اسے جھٹکے سے اپنے مقابل کر گیا
ہٹیں اور بہت بہت مبارک کو آپ کو اپنے ہونے والی اولاد کی! وہ اسکی غرائی جبکہ اسکی بات پر تسمیر کے تاثرات دھیلے پڑے
نو وے سوئٹ ہارٹ تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے اس کے سرہاپے پر نظر ڈالے وہ ذومعانی انداز میں بولا مسکراہٹ چاہنے کے باواجود بھی وہ چھپا نہیں سکا
فضول باتیں بند کریں اپنی میں آپ کی اور میئری کی بات کر رہی ہوں اور غلطی سے بھی جھوٹ نا بولیے گا!
اس کے کہتے ہی تسمیر کے دماغ میں جھماکہ سا ہوا دوپہر والا واقعہ یاد آیا لیکم فلحل اسکے پاس مئیری کو چھوڑ کر بہت سے کام تھے جو اسے سمیٹنے تھے
اب کیوں چپ ہو گئے ہیں؟ چوڑی جو پکڑی گئی ہے! کُبرا اب تلخی سے گویا ہوئی
فضول بحث کرنے کا ٹائم نہیں ہے میرے پاس اور وہ بھی اس شخص سے جسے میری باتوں کا اعتبار ہی نا ہو جسے مجھ سے زیادہ اپنی آنکھوں پر یقین ہو! اسے سائد پر کرتا وہ واشروم کی طرف بڑھ گیا
کچھ لمحوں بعد وہ فریش سا روم میں آیا اسکا کھانا بیڈ پر ہی رکھا تھا گہری مسکراہٹ نے ہونٹوں کا احاطہ کیا وہ چاہیے جتنی ہی بے رخی دیکھاۓ لیکن اسکے کام خود ہی کیا کرتی تھی
کچھ ہی دیر میں وہ فری ہوکر بیڈ پر ڈھے سا گیا دن رات کے کام سے وہ مزید تھک جایا کرتا تھا
اسکے برتن سمیٹ کر ٹیبل پر رکھے وہ موڑی کے وہ اسے جھٹکے سے بیڈ پر کھینچ گیا
کیا ہے چھوڑیں مجھے! اسکی گرفت سے نکلنے کو وہ مچلی سی تھی.
چھوڑنے کے لیے تھاما اب چپ ہوکر سو جاؤ میں بہت تھکا ہوا ہوں آج! وہ اسکے کان کے قریب گھمبیر آواز سرگوشی کرنے لگا
ہٹیں پیچھے!
میئری کا ایسپیکٹ کرنا اتنا ہی امپوسبل ہے جتنا کہ تمہارہ!
آج ایسے ہی لیٹ جاؤ کیا پتا کل ہو نا ہو! اسکی کان کے قریب خمار آلود لہجے میں کہنے لگا کے اسکی بات سے نجانے کیوں کُبرا کے مزاحمت کرتے ہاتھ روکے تھے
جس پر وہ مسکرا کر اسے حصار میں لیے آنکھیں موند گیا