📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 42

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

فجر کی نماز کے لیے وہ اٹھی تو نظر اپنے ساتھ لیٹے وجود پر گئی وہ اس وقت رات کے بلیک ٹریک سوٹ میں ہی تھا اسکی شرٹ کے سیلوؤ لس ہونے کے باعث کچھ دن پہلے لگنے والا زخم صاف واضع تھا ایک نظر افسوس سے اسے دیکھتی وہ اٹھ کر احتیاط سے الماری سے فرسٹ آیڈ بوکس لیے واپس اس تک آئی

احتیاط سے اسکے بازو پر موجود زخم پر ٹیوب لگانے لگی اس کے ٹیوب لگانے سے وہ نیند میں ہی ہلکا سا کمسمایا جس سے کُبرا مزید. احتیاط سے ٹیوب لگاتی اسے دیکھنے لگی اس کے ماتھے پر بکھرے بالوں سے وہ اور بھی دلکش لگتا تھا محبت سے اس کی پیشانی کے بال سنوارتی وہ وضو کے لیے اٹھ گئی….

آج روحان اور برکت کی مہندی تھی جب کے انکے ساتھ صباحت اور جون کا نکاح رکھا گیا تھا ہمیشہ کی طرح آج بھی خان میشن میں ہل چل مچی ہوئی تھی

آپ آج بھی جائیں گے کیا؟ اسے آوفس کے لیے تیار ہوتا دیکھ وہ فوری سے بولی جس پر وہ خاموشی سے ٹاۓ اٹھاۓ باندھنے لگا جب کُبرا نے اسکے ہاتھوں سے ٹائی جھنپٹی تھی اس کی حرکت پر تسمیر نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا

میری باتوں کو نظرانداز مت کیا کریں…ٹائی خود سے باندھتی وہ اسے منانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی

آج جانا ضروری ہے کیا؟ وہ ٹائے سے الجھتی اس سے مخاطب تھی

ہممم جلدی آجاؤں گا… اسے کافی لمحوں تک ٹاۓ سے الجھتا دیکھ وہ سمجھ چکا تھا اسکی نکمی بیوی کو ٹاۓ باندھنے نہیں آتی اسکے ہاتھوں کو پیچھے کیے وہ ان خود باندھنے لگا کے کُبرا جھینپ کر رہے گئی

••••••••••••••••••••••

اوۓ ہوۓ دلہن میڈم آپ پر تو الگ ہی روپ آیا ہوا ہے کاموں سے فارغ ہونے کے بعد وہ برکت کے روم میں آئی تھی

مایو میں بیٹھنے کے باعث وہ دو دن سے پیلے رنگ کا جوڑا پہنے ہوۓ سادگی میں بھی بہت پیاری لگ رہی تھی

پالڑ جب جائیں گے ہم؟ برکت گھڑی پر نظر دراۓ بولی

اہمم اہمم بے صبری دلہن تھوڑا ویٹ کر لو…. بیوٹیشن یہی آرہی ہیں اور مہندی لگانے والی بھی گھر ہی آئیں گی …

کُبرا بچے ایسا کرو تم ڈرائیور سے کہ کر صباحت کو یہی بلاوا لو ولید بھائی کے گھر میں ہے ہی کون میں ماں بن کر کروں گی اسے رخصت سلمہ.کے کہنے پر وہ دونوں مسکرا دیں

جی آیا جان وہ بس آنے والی ہے وہ بول رہی تھی جب صباحت رخسانہ کے ہمراہ یہاں داخل ہوئی

لیں آگئی ہیں ہماری بھابھی برکت شرارت سے کہتی اسے اندر آتا دیکھ اٹھ بیٹھی تھی

چند ایک باتوں کے بعد سلمہ پھر سے باہر جاتی ملازمہ کو ہدایت دینے لگیں

کچھ دیر میں ہی مہندی والی لڑکی یہاں آئی تھی

تم نہیں لگواؤ گی کیا؟ صباحت مہندی لگواتے ہوۓ اس سے مخاطب ہوئی

نہیں میں نہیں لگوا رہی….کُبرا چیزیں سمیتی کہنے لگی

کُبرا میم کون ہیں؟ تبھی ایک لڑکی اس روم میں آئی

میں ہوں خیریت؟

جی میم مجھے تسمیر سر نے بھیجا ہے آپ کو مہندی لگانی ہے اور آپ کا میک اوؤر بھی میں نے ہی کرنا ہے…. وہ لڑکی نہایت ادب سے بولی کے اسکی بات سے صباحت اور برکت نے ہوٹنگ کی تھی جب کہ وہ تو حیران سی اس لڑکی کے الفاظوں پر غور کر رہی تھی اپنی شادی کے اتنے مہینوں میں اس نے کبھی ایسی نظریں کرم کُبرا پر نہیں کی تھی

میم اگر آپ فری ہیں تو آجائیں….!!! اسے خیالوں میں گھوم دیکھ کر وہ لڑکی پھر سے بولی

ججی چلیں….

اپنے روم میں آتے ہی وہ وارڈروب کی طرف بڑھی

میم آپ کا ڈریس تو بلیک کلڑ کا ہے آئی تھنک اس پر اسموکی میک اپ اچھا لگے گا… لڑکی اپنا میک اپ پیشہ ورانہ انداز میں کہنے لگی

نہیں میرا ڈریس پنک ہے…کُبرا اپنا سوٹ اس کے سامنے لائی

بٹ میم مجھے تو یہ ڈریس دیا گیا ہے کہ آپ نے آج یہ پہنا وہ سامنے صوفے پر رکھے ڈریس کی طرف اشارہ کر گئی جہاں کالے رنگ کا خوبصورت سا لہنگا رکھا تھا کُبرا کو اب صیح میعنوں میں اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا

تبھی اسکا فون بجا تھا نام پڑھتے ہی وہ فورن سے اٹھا گئی.

ڈارلنگ زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے شرافت سے جو وہ لڑکی کہ کر.رہی ہے کرو ورنہ تم جانتی ہو مجھ سے پنگہ لینا تمہارے بس کی بات نہیں ہے کُبرا تسمیر خان….!!!

اسکا جواب سننے سے پہلے ہی تسمیر کال کاٹ گیا تھا

کُبرا کو اب اسکی ساری مہربانیاں سمجھ آئیں تھیں وہ اب تک ناراض ہونے کے باعث اسے سزہ دے رہا تھا

مہندی سے اسے سخت چڑھ تھی اپنی شادی پر بھی اسنے بہت مشکل سے مہندی لگوائی تھی اور اب بلیک کلر اسے بہت کم ہی پسند آتا تھا غصے سے وہ منہ پھلاۓ وہ اس لڑکی کے پاس آئی تھی جبکہ اس کا اپنا نام خود سے جوڑنے پر کُبرا کا دل ہمیشہ ہی الگ انداز سے ڈھرکتا تھا

جب کے دوسری جانب تسمیر جو پہلی بار اسے خود کے لیے پوری طرح تیار ہوتا دیکھنا چاہتا تھا اب خواہش کو

پورا ہوتا دیکھ ایک گہری مسکراہٹ نے اس کے ہونٹوں کا احاطہ کیا تھا اسے کبھی مہندی پسند نہیں آئی تھی لیکن نجانے کیوں وہ کُبرا کے ہاتھوں پر مہندی لگے دیکھنا چاہتا

تھا شادی کے وقت جب اسنے لگائی تو اس وقت تسمیر نے اس پر بلکل غور نہیں کیا تھا لیکن اب وہ اسے دیکھنے کا خواہش مندہ تھا وہ بیوی تھی اس کی جس پر وہ ہر

طرح کا حق رکھتا تھا بے شک ابھی ناراض تھا لیکن اتنا تو وہ صبح جان ہی گیا تھا یہ لڑکی اسے زیادہ دیر ناراض نہیں رہنے دے گی اس کا چہرہ سامنے آتے ہی دل نے بیٹ مس کی تھی وہ اس سے اتنی محبت کب سے کرنے لگا یہ اسے خود نہیں پتا تھا

•••••••••••••••••••••••••••

روحان تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ سلمہ اسے برکت کے روم کے باہر کھڑے کن اکھیوں سے روم میں جھانکتے دیکھ چلائی

ووہ وووہ موم یار کیا ہے بیوی ہے میری آپ لوگوں اتنے دنوں سے دیکھنے بھی نہیں دے رہے… ان کے اچانک نازل ہونے پر وہ فوری سٹپٹایا

ہاں تو اب دیکھ لینا نا صرف ایک, دو گھنٹے ہی رہے گئے ہیں تمہارے ساتھ ہی بیٹھے گی وہ اب جاکر تیار ہو جاؤ ورنہ میری بہو کے ساتھ میں کسی چپڑاسی کو نہیں بیٹھنے دوں گی… سلمہ اپنی مسکراہٹ چھپاۓ بولیں

موم؟ میں آپ کو چپڑاسی لگتا ہوں؟ ابھی فیشل کروا کر آیا ہوں راستے میں آدھی لڑکیاں گر گئیں..!!روحان اپنا کولڑ جھار گیا

آندھی ہونگی وہ لڑکیاں جبھی کسی گدھے میں گر گئی ہونگی اندر سے برکت کی آواز گونجی تو سلمہ بیگم نے اسکے تاثرات پر قہقہ لگایا تھا

میں آپ کا بیٹا ہوں موم یا یہ؟ جو اس کی باتوں پر اسے روکنے کے بجاۓ ہنس رہی ہیں ایسے کرتی ہے بھلا بیویاں بات؟ آپ کرتی ہیں خان صاحب سے ایسے بات؟

بس بس جاؤ اب جاکر فریش ہو جاؤ جلدی سے… .سلمہ کے بات نظرانداز کرنے پر وہ آگے بڑھ گیا کے سکمہ برکت اور صباحت کے روم میں داخل ہوئی

ماشااللہ ماشااللہ بہت پیاری لگ رہی ہے میری بچیاں وہ برکت اور صباحت کو ستائشی انداز میں دیکھتی کہنے لگیں برکت لائٹ پنک کلر کے لہنگے میں لائٹ سا ہی میک اپ کیے بالوں کو کھلا چھوڑے سر پر لہنگے کا ہی ہم رنگ ڈوپٹا اوڑھے مہندی والے ہاتھوں میں گلابی چوڑیاں ڈالے بہت زیادہ پیاری لگ رہی

جب کے اس کے برعکس صباحت اوف وائٹ کلر کے لہنگا اور کڑتی پہنے ہوۓ تھی جس پر گولڈن اور سرخ رنگ کا خوب صورت سا کام تھا لائٹ سے میک اپ پر بالوں میں جوب صورت سے موتیے کے پھولوں والے جوڑے میں باندھے ہاتھوں میں سرخ ہی چوڑیاں پہنے گلے میں باریک سا سفید رنگ کا نیکلیس ڈالے سر پر گولڈن ڈوپٹا گھونگھٹ کی طرح لیے وہ بے حد خوب صورت لگ رہی تھی

میں ابھی رخسانہ کو بھیج کر دونوں کی نظر اتڑواتی ہوں سلمہ انہیں دعائیں دیتی باہر آئی

شام کے تقریبا ساتھ بج رہے تھے جب وہ گھر پہنچا تھا

مل.گئی ہے فرصت آنے کی؟ برکت اور صباحت کے روم سے نکلتے ہی ان کی نظر اپنے اس بیٹے پر گئی جسے شاید کام اپنی جان سے بھی زیادہ پیارا تھا

بس موم… اس سے زیادہ جلدی نہیں نکل سکتا تھا وہ تھکا تھکا سا کہنے لگا

تو آج جانا اتنا ضروری تھا کیا؟ جانتے ہو نا تمہاری شادی کے بعد یہ اس خاندان میں ہونے والی دوسری شادی ہے بیوی کا بھی کچھ خیال ہے تمہیں؟ وہ اسے ڈاپٹنے لگی

اچھا نا مسز خان ناراض تو مت ہوں… جا رہا ہوں آپ کی بہو کے پاس… تسمیر اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتا خود کو سلنڈر کرنے کے سے انداز میں بولا

اور آج دھنگ کا سوٹ پہن لینا ہر وقت ہی کالا پہنوا لو بس انہیں… اسے جاتا دیکھ دوسرا حکم جاری کیا

سوری موم پر میں لال ہرے گلابی رنگ پہنے سے تو رہا… عام سے انداز میں جواب دیتا وہ اپنے روم کی جانب چلا گیا کے پیچھے سلمہ اپنی مسکراہٹ ضبط کرکے رہے گئی

روم میں داخل ہوتے ہی وہ سامنے ہی ڈریسنگ کے پاس بیٹھی نظر آئی

اسے آتا دیکھ وہ اسے نظر انداز کر گئی…

سر آپ کی وائف بہت تنگ کر رہی ہیں… لڑکی کے کہنے پر کُبرا کا منہ کھلا کا کھلا رہے گیا

کیوں کیا کہ رہی ہیں یہ؟ تسمیر اپنا کورٹ بیڈ پر پھینکتا مسکراہٹ دباۓ بولا

یہ نا تو یہ ڈریس پہن رہی ہیں اور نا ہی مجھے صیح سے میک.اپ کرنے دے رہی ہیں مہندی بھی بہت مشکل سے لگوائی ہے… لڑکی کے کہنے پر اسکی نظر کُبرا کے ہاتھوں پر گئی جہاں اسکے سفید خوب صورت ہاتھوں کو مہندی کے سرخ رنگ نے مزید خوبصورت بنا دیا تھا

جیسے میم کہ رہی ہیں آپ ویسے کر دیں میک اپ… سب ڈریس یہ یہی پہنے گیں میں فریش ہوکر آؤں تو یہ ریڈی ہوں ہم لیٹ ہیں…. اسکی پشت پر نظریں مرکوز کیے وہ اپنے کپڑے لیے واشروم میں بند ہوگیا

کے اسکے جاتے ہی کُبرا نے اس لڑکی کو گھورا

میم ویسے آپ کو میک اپ کی ضرورت بھی نہیں ہے آپ ویسے ہی اتنی پیاری ہیں لڑکی فورن سے جھینپ کر کام میں مصروف ہوئی

کچھ ہی دیر گزری تھی جب وہ فریش سا سفید کڑتے پجامے میں ملبوس باہر آیا اور سامنے کا منظر دیکھتے ہی اسکا دل ڈوب پر ابھرا تھا

وہ اسکے بلکل سامنے کھڑی اسی کے دیے گئے بلیک لہنگے پر کالی کڑتی پہنے جس پر کالے رنگ کا ہی نفیس سا کام تھا اسموکی میک اپ پر ہونٹوں پر ریڈ لپ اسٹک لگاۓ ریشمی بالوں کو پشت پر بکھیرے مہندی والے ہاتھوں میں کالی چوڑیاں ڈالے ماتھے پر گول ٹیکا سیٹ کیے اپنے لہنگے کے جیسے ہی کالا ڈوپٹا ایک سائد پر ڈالے اس وقت اپنی کڑتی کے پیچھے موجود چھوٹی سی زیپ کو بند کرنے میں الجھی سی تھی

پالڑ والی شاید جا چکی تھی جبھی وہ اکیلی کھڑی تھی اسکے کافی لمحے اسے ایسے ہی نظروں میں اتاڑنے کے بعد وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیے اسکے قریب آیا بغیر کچھ کہ وہ اسکے ہاتھ ہٹاتا خود سے زیپ بند کرنے لگا

کُبرا کی اس کی طرف پشت تھی لیکن سامنے شیشہ ہونے کے باعث ہو اسے اپنے پہچھے دیکھتی سٹپٹائی وہ اس وقت اس سے ایک انچ کے فاصلے پر تھا اس کی زیپ بند کرتا وہ اسکے بالوں سے پیچھے کے بے گلے کو چھپا گیا بلا شہ وہ کسی کو بھی زیر کرنے کا ہنر رکھتی تھی

یہ کیسا لہنگا ہے پہچھے سے اتنا ڈیپ ہے اس کی قربت میں کنفیوز ہوتی وہ دل پر قابو کیے بولی

ٹھیک ہے کوئی ڈیپ نہیں ہے تمہیں لگ رہا ہے! وہ شیشے میں اسے دیکھتا خمار آلود لہجے میں بولا کے کُبرا تیزی سے اپنے جھمکے اٹھا کر کانوں میں ڈالنے جب وہ اسکے ہاتھ سے جھمکے لیے خود پہنا گیا یہ بھی اسنے ہی اس کے لیے خریدے تھے یہ پہلی بار تھا جب وہ کُبرا کو گفٹ دے رہا تھا اور. پہلی بار میں ہی اسنے ہر بار کی کثر پوری کر دی تھی وہ خود سے سوچ سکی تھی

جھمکے اسکے کان کی زینت کرتے ہی وہ اسے یاد آیا تھا کے وہ اس سے ناراض ہے اس سے پیچھے ہوتا وہ اب خود ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہوکر بال بنانے لگا

سفید کڑتے پجامے پر سکن شال لیے پیروں میں براؤن کھیڑی پہنے بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے وہ ہمیشہ کی طرح ہنڈسم لگ رہا تھا

دونوں آگے پیچھے چلتے ٹی وی لاؤنج میں آۓ جہاں گھر کے تقریبا سب افراد ہی موجود تھے

ماشااللہ چاند سورج کی جوڑی ہے میرے بچوں کو سلمہ اور رخسانہ ساتھ کہتی دل ہی دل میں اس جوب صورت جوڑے کی نظر اتار گئیں

آپ سب تیار ہیں تو چلیں؟ آغا جان کی آواز سے کُبرا ان کی طرف جاتی ان کے گلے لگی تھی

بہت پیاری لگ رہی ہے میری شہزادی! اسکی پیشانی چوم کر وہ آنکھوں میں آئی نمی چھپا گئے ان کی جان سے پیاری پوتی کو ان ہی کی بیوی نے نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی

ہم ریڈی ہیں آغا جان چلیں باقی یہ بچے تو آجائیں گے علی صاحب انکے ساتھ کہتے باہر نکل گئے

چلو تم دونوں ایسا کرو کُبرا اور برکت کو تم لے آنا روحان اور جون ایک کاڑ میں آجائیں گے باقی صباحت کو ولید بھائی کے ساتھ میں خود لے کر جاؤں گی رخسانہ تسمیر سے کہتی خود سب کے پیچھے گئی تھیں

بہت پیاری لگ رہی ہو! برکت کے پاس آتی وہ محبت سے بولی

لیکن ہر بار تم نمبر لے جاتی ہو نیلی بلی برکت مسنوئی غصے سے کہنے لگی

چلو آجاؤ جلدی باہر ہٹلر صاحب انتظار کر رہے ہیں… تسمیر کا موڈ یاد کرتی وہ کڑھتے ہوۓ بولی اسکا بدلتا موڈ شروع سے اسکی سمجھ سے باہر تھا

گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ وہ اسکے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی جبکہ برکت ان کے بیک سیٹ سنبھال گئی

کچھ دیر کی خاموشی سے اکتاتی وہ اسے دیکھنے لگی جس نے ایک بار پلٹ کر بھی اسے دیکھنا مناسب نہیں سمجھا تھا خاموشی کو توڑنے کی غرض سے وہ میوزک اون کر گئی

روٹھے ہو تم تم کو کیسے مناؤں پیا بولو نا… پہلا گانا اون ہوتے ہی جیسے اسکی دل کی بات کہ رہا تھا تسمیر نے ایک.نظر کن اکھیوں سے اسے دیکھا پھر زور سے ٹیپ پر ہاتھ مارتا گانا چینج کر گیا

”آرام دے تو مجھے…. برسوں کا ہوں میں تھکا“ گاڑی کی خاموشی سے وہ اس گانے سے اور اوپر سے برکت کی موجودگی میں کُبرا یک دم ہی گلابی ہوئی جس پر وہ یہ گانا بھی چینج کرتا ٹیپ ہی بند کرگیا…

تسمیر بھائی کیا ہے آپ تو سارے ہی بند کرتے جا رہے ہیں! برکت ان کی لڑائی سے تنگ آئی

بس اب آگیا ہے ہال…! سامنے ہی طرف اشارہ کرتا وہ گاڑی روک گیا

روحان جو پہلے ہی پہنچ گیا تھا اب. اسٹیج پر بیٹھا اسکے انتظار میں تھا

جب وہ سامنے سے آتی دیکھائی دی اسکو اپنے لیے تیار دیکھ روحان بے اختیار نظریں جھکا گیا کُبرا جون رخسانہ بیگم اور عباس صاحب اسے اپنے ساتھ اسٹیج تک لاۓ تھے

جب کے تسمیر کی نظریں تو اس کی والی میں ہی اٹک کر رہے گئی تھیں وہ کتنی مشکل سے اسے نظرانداز کر رہا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا

جان سے مارنے کا ارادہ ہے کیا؟ اسے اپنے ساتھ اوپر کھینچتا وہ محبت پاش لہجے میں بولا کے برکت پہلی بار اس کے آگے شرم سے نظریں جھکا گئی

اسکے بعد جون اور صباحت کا نکاح پڑھا گیا تھا

محترمہ صباحت ولید آپ کو صباحت جہانگیر بننے کی بہت بہت مبارک ہو… جون اسکے کان کے قریب سرگوشی کر گیا

آپ آج بہت جوبصورت لگ رہی ہیں بھابھی جی…. عادل اسکے پاس آتا کہنے لگا جبکہ اس کی بات سے کچھ فاصلے پر کھڑے تسمیر کے کان کھڑے ہوۓ لمحے کی دیر کیے بغیر وہ اسکے پاس آتا اسے خود سے لگا گیا

شکریہ! کُبرا اسکے اچانک سے قریب آنے پر اسے دیکھ کر رہے گئی

کُبرا زرا ادھر آنا مجھے تم سے کسی کو ملوانا ہے اسے عادل سے بات کرتا دیکھ اسکی رگیں تنی تھیں

کس سے ملوانا ہے؟ اتنے لوگوں کی موجودگی میں وہ اسے اپنے ساتھ لگاۓ اسٹیج تک لایا تھا

کسی سے نہیں! برکت اور صباحت کو ٹائم دو…!!! بے نیازی سے کہتا وہ وہی جون کے ساتھ مصروف ہو گیا کے اس کی حرکت پر وہ بامشکل غصہ ضبط کر پائی تھی

مہندی ہال میں ہونے کی وجہ سے گھر کی کسی لڑکی نے یہاں ڈانس نہیں کیا جب لوگوں کا رش ختم ہوا تو برکت اور روحان ہمیشہ کی طرح ذانس فلور سنبھال گئے

ہال کی لائٹ ڈیم ہو چکی تھیں کُبرا کی نظریں لاشعواری توڑ پر اسے تلاش کر رہی تھیں جو اسے کہیں بھی دیکھائی نہیں دے رہا تھا

ایک دم لائٹ اوف ہوئی خان میشن کے افراد میں ہل چل سی مچی تھیں کے ایک روشنی ڈانس فلور پر پھیلی

بنو کی مہندی کیا کہنا جون اپنے شیروانی پہنے صباحت کے بلکل سامنے آیا جس پر وہ حیرتذدہ سی اسے دیکھنے لگی جب کے برکت اور کُبرا کی ہوٹنگ ہال میں گونجی

ہنو کی سہیلی ریشم کی ڈوری چھپ چھپ کر شرماۓ دیکھے چوری چوری….. تسمیر کی انٹری سے کُبرا کا پل بھر کے لیے تالیاں بجاتا ہاتھ رکا وہ اس وقت ڈانس کرتے ہوۓ بھی اتنا پیارا لگ رہا تھا کے اسے بے اختیار اس پر پیار آیا لیکن اس مغرور شہزادے کی انا تھی جو وہ اسے دیکھ تک نہیں رہا تھا

مجھے نہیں پتا تھا بھائی ڈانس بھی کر سکتے ہیں…روحان سرگوشی نما انداز میں بولا

وہ سب کچھ ہی کر سکتے ہیں…. کُبرا کندھے اچکاۓ اسے نظروں میں اتارتی کہنے لگی

*************

فنشن بہت دھوم دھام سے ہوا تھا

گھر پہنچتے پہنچتے انہیں رات کے دو بج گئے تھے

چلو سب سو جاؤ صبح اور بھی زیادہ کام ہیں سلمہ سب کو محبت سے کہتی روحان کو بردستی اپنے ساتھ گھسیٹ کر لے گئی تھیں جانتی تھیں وہ ضرور برکت کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا ہوگا

کار میں بھی وہ اس سے کچھ نہیں بولا.تھا

اور اب بھی اس سے پہلے ہی روم میں چلا گیا برکت کو روم میں چھوڑنے کے بعد وہ بھی اپنے روم میں آئی تو سامنا نیم اندھیرے میں ڈوبے کمرے سے ہوا

اسکے روم میں آنے سے دو منٹ پہلے ہی وہ چینج کرکے اب بیڈ پر بیٹھا کچھ ڈاکومینٹس دیکھ رہا تھا

کُبرا اس پر ایک نظر ڈالتی خود بھی چینج کرنے چلی گئی چینج کرکے وہ ریلیکس سی ٹراؤزر اور وائٹ ٹی شرٹ میں نم چپرے سے باہر آتی شیشے میں ایک نظر خود پے ڈالنے لگی اسکا میک اپ ابھی تک ویسا ہی تھا تسمیر کن اکھیوں سے اسکی ساری حرکتیں ملاحظہ کر رہا تھا وہ بامشکل اسکے خود کو پاگل کرتے وجود سے نظریں ہٹاۓ ہوۓ تھا کُبرا بال جوڑے کی صورت میں باندھتی اب اسکے پاس بیڈ پر آئی

تبھی باہر سے بادلوں کی گرج سنائی دی جسے سنتے ہی وہ تیزی سے اٹھتی بلکنی میں پہنچی ابھی ہلکی ہلکی بارش شروع ہوئی تھی

تسمیر تو اسکی حرکت پر ہی اسے دیکھ کر رہے گیا جو نے موسمی بارش دیکھتے بچوں کی طرح باہر بھاگی

یہ ٹائم ہے یہاں کھڑے ہونے کا اندر آؤ…. کافی دیر تک اسے اندر نا آتا دیکھ وہ خود بلکنی میں آیا جہاں وہ ہلکی سی بارش میں چہرہ آسمان کی طرف کیے بند آنکھوں سے خود پر پڑھتے قطروں سے خود کے اندر سکون اترتا محسوس کر رہی تھی اسے دیکھتے ہی تسمیر حلق تر کر گیا

وہ پہلے ہی با مشکل خود پر قابو کیے ہوۓ تھا اور وہ ہلکی سی بھیگی ہوئی اسکے حواس سلیب کر رہی تھی

سمجھ نہیں آرہی اندر چلو بیمار ہو جاؤ گی… وہ اسے نظر انداز کرتی ایسے ہی کھڑی تھی جب وہ اسکا بازو تھامے اندر لے کر آیا

اللہ آپ جیسا شوہر کسی کو نا دے آمین! اسکے ہاتھ جھٹکتی وہ روہانسی ہوئی پہلے ہی وہ تسمیر کے اگنور کرنے پر آنسؤ پر ضبط کیے ہوۓ تھی اور اب وہ اسے بارش میں بھیگنے بھی نہیں دے رہا تھا

کیسا شوپر ہوں میں ہاں؟ وہ اسے جھٹکے سے اپنے قریب کر گیا کے کُبرا اپنا نم چہرہ اٹھا کر اسنے دیکھنے لگی

ایک بدتمیز, المینڑڈ اور بدلحاظ شوہر ہیں آپ….

اچھا اور تم تو جیسے بہت تمیزدار ہو نا؟ بھول گئی ہو کیسے بدتمیزی کی تھی….وہ اسے آنکھیں سکیڑ کر دیکھنے لگا

اتنے پیار سے تیار ہوئی تھی میں دیکھا بھی نہیں ایک دفعہ… اپنی انا سائد پر رکھتی وہ منہ پھلا گئی

بہت برا لگ رہا تھا میرا اگنور کرنا؟ اپنی باری بھول گئی ہو سب؟ وہ اسے مزید قریب کیے اسکے چہرے پر آئی لٹوں کو پیچھے کرنے لگا کے اسکے انداز پر کُبرا کے گال سرخی سے دھکنے لگے تھے

میں آپ سے.. وہ… وہ اسکی نظروں سی کنفیوز ہوئی

مجھ سے کیا؟ تسمیر اب الگ ہی موڈ میں آتا جوڑے سے اسکے بال آزاد کر گیا

سوری!!! وہ سٹپٹا کر فوری سے بولی

مناؤ پھر مجھے…!!! اسکی وہی فرمائش واپس آئی

مجھے منانا نہیں آتا کُبرا روہانسی ہوئی

اوکے پھر ٹھیک ہے … اسے چھوڑتا وہ آگے بڑھتا جب کُبرا اسکا بازو تھام کر اسکے سامنے آئی

تسمیر نے پھر سے سبز آنکھیں چھوٹی کیں جبکہ اسکی اپنی اگلی حرکت پر وہ اسے ششدر کر گئی

اسکے ہی پاؤں پر پاؤں رکھ کر تھوڑا اونچا ہوتی وہ اسکی پیشانی پر لب رکھ گئی

آئی.. ایم… سسس سوری! اسکی پیشانی پر لب رکھے ہی تیزی سے کہتی پیچھے ہوئی کے تسمیر اسے ایک جھٹکے سے کھینچ گیا

اپنے جزبات میں کی گئی حرکت سے وہ اسکے جزباتوں کو ضرور دعوت دے رہی تھی

کس لیے کی ہے سوری؟ وہ پر دفعہ اسکی سوری کرنے کی وجہ لازمی دریاف کرتا تھا

مجھے یقین کرنا چاہیے تھا میئری جھوٹی تھی… وہ نظریں جھکاۓ ہوۓ تھی

مجھے ہمارے رشتے پر اعتبار چاہیے کُبرا…!!! میں چاہتا ہوں پوری دنیا بھی آکر تم.سے کچھ کہے لیکن تم پمیشہ میری بات پر یقین رکھو….!!!!

میری اکلوتی محبت کی تم وارث ہو نا ہو لیکن میرے اکلوتے عشق کی ضرور تم ہی وارث ہو… اسے محبت سے کہتا وہ اسکا جواب سننے بغیر اسکے لبوں پر جھکا وہ تو اسکی باتوں سے ہی سنبھلی تھی کے اسکی جسارت پر وہ آنکھیں میچ گئی

.

کافی لمحے خود کو سیراب کرتا وہ اس سے الگ ہوا جو اب گہری گہری سانسیں لیتی خود کو نارمل کرنے کی کوشش میں تھی

مجھے نیند آرہی ہے اس کے پاس سے ہٹتی تیزی سے بیڈ پر جاتی اپنا کمفرٹر اوڑھ گئی

سوچنا بھی مت!! اسکے مقابل ہوتا وہ اسکے اطراف میں دونوں کہنیاں ٹکاۓ کمفرٹر اسکے چہرے سے ہٹا گیا

مممیر پلزز! اگر اسے پہلے معلوم ہوتا کے اسکا منانا اسکے لیے اتنا مہنگا پڑھ سکتا تھا تو وہ ضرور اسے ناراض ہی رہنے دیتی…

ششش… اب مزید مزاحمت برداشت نہیں کروں گا میں… اسکے لبوں پر انگلی جماۓ وہ اب اسکہ صراحی گردن پر جھکا

میر,.. اپنی گردن پر اسکا لمس محسوس کیے وہ آنکھیں زور سے مچتی اسکی شرٹ کوضبوطی سے جکڑ گئی اس لمحے تسمیر نے چہرہ اٹھا کر اسکی بند آنکھوں کو دیکھتا مسکرا کر اسکی پیشانی پر شدت سے لب رکھ گیا

یقین کرو تمہیں اگنور کرنا میرے لیے دنیا کا سب سے مشکل ترین کام.ثابت ہوا ہے اسکے کان کے قریب سرگوشی کرتا وہ اپنی باتوں اور جسارتوں سے اسے سرخ کرتا جا رہا تھا

مججھے ننید… باقی الفاظ تو منہ میں بھی رہے گئے جب وہ ایک بار پھر اسکے لبوں پر جھکے سائد لیپ اوف کرتا اس پر جھک گیا

باہر برستی بارش کی طرح وہ اسے اپنی محبت میں سمٹتا چلا گیا تھا