Shagaf-e-Dil Episode 40
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shagaf-e-Dil by Syeda Shah
سب سے باری باری ملنے کے بعد وہ اپنی مخصوص چیئر سنبھال گیا
ارے میرا بچہ کتنا بڑا اور خوبصورت ہو گیا ہے. پھوپھو کی آواز پر وہ انہیں سر کے اشارے سے سلام کرنے لگا
کُبرا بیٹے وہاں کیوں کھڑی ہو؟ آؤ آکر ناشتہ کرو… سلمہ کے پکارنے پر وہ جھجھک کر تسمیر کے ساتھ رکھی اپنی کرسی پر بیٹھی
ناشتہ پرسکون محول میں کیا گیا تھا اس کے بعد آغا جان اور گھر کے باقی مرد اپنے کاموں پر چلے گئے سواۓ تسمیر کے جس کا اج اوف لینے کا ارادہ تھا
ویسے برا نا ماننا سلمہ… لیکن تم اپنے بیٹے کے لیے میری پوتی حفصہ کو بھی دیکھ سکتی تھی پھوپھو اپنی نیچڑ کے مطابق پھر سے شکواہ کر گئیں جب کے ان کی بات پر تسمیر نے پلیٹ سے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا جو عجیب سے تاثرات سے کُبرا کو دیکھ رہی تھیں
ضرور دادی جان اگر آپ کی پوتی میری بیوی کی طرح حسین ہونے کے ساتھ ساتھ محبت اور زمےداریاں نبھانے
والی ہوتی تو ضرور موم اس پر بھی دھیان دیتی…!!! ہر لفظ چبا چبا کر ادا کرتا وہ پھوپھو سمیت وہاں موجود ہر شخص کا منہ کھلوا گیا کے کُبرا کو اب اس کی
موجودگی کا صیح میعنوں میں یقین ہوا تھا ایک وہی تھا جو کسی کو بھی کوئی بھی بات نے ڈھڑک کہ سکتا تھا یا شاید وہ صرف اس کے معاملے میں ایسا تھا کتنے
ہی دن وہ اماں جان اور پھوپھو کے سخت طنز سنتے آئی تھی اور اب اس کی موجودگی میں اسے اپنا آپ کسی درخت کے ساۓ میں محسوس ہوا جو ہمیشہ اسے تیز دھوپ اور طوفان سے بچانے کے لیے اس پر گھنا سایہ کیے رکھتا تھا
********************
کمرے میں بیٹھا وہ کب سے اسکے انتظار میں تھا جو اس کے آنے کے بعد ایک بار بھی روم میں داخل نہیں ہوئی تھی کافی دیر اسکا انتظار کرنے کے بعد بلاآخر وہ باہر نکلا
موم کُبرا کہاں ہے؟ ان سے پوچھنے پر وہ کچن کی طرف اشارہ کر گئیں
کُبرا آج کام نا ہونے کے باواجود خود کو کسی نا کسی کام میں مصروف رکھے ہوۓ تھی اسکی موجودگی میں اب
اسکے سامنے جانے سے وہ کترا رہی تھی برتنوں پر جھکی وہ اسی کے خیالوں میں تھی جب اپنے بال کیچڑ کی زد سے نکلتے محسوس ہوۓ
دل دھک سے رہے گیا جب وہ اسکے بال کھول کر اسے اپنے حصار میں لے گیا
مجھ سے چھپ رہی ہو؟ اس کی گردن پر ٹھوڑی ٹکاۓ گھمبیر لہجے میں بولا
ننہیں تو….دور ہوں کچن میں ہیں ہم! اسے پیچھے کرنے کی ناکام کوشش کی
شکر ہے تم نے بتا دیا ورنہ میں تو بیڈ روم سمجھ رہا تھا… طنزیا مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ کہتا اسکا رخ اپنی جانب کر گیا
تم نے مس نہیں کیا مجھے؟
نہیں! اس کی نظروں کی تاب نا لاتی وہ نظریں جھکاۓ ہوۓ تھی جس پر وہ جھکے محبت سے لب رکھ گیا
میں نے بھی نہیں کیا! خمار آلود لہجے میں وہ اسے تپا گیا
ہاں تو جانتی ہوں میں کہ نہیں کیا آپ نے اگر کیا ہوتا تو دو مہینے میں ایک بار تو کال آتی مگر یہاں فکر کس کو تھی… نا چاہتے ہوۓ بھی وہ اس سے شکواہ کر بیٹھی تھی
اہمم اہمم آپ لوگ اپنا یہ رومینس کائنڈلی روم میں کنٹینیؤ کر لیجے گا…. عادل کی آواز سے وہ چونک کر اس سے الگ ہوئی
کُبرا یار ایک کپ چاۓ تو بنا دو….
اس کے پاس آتا وہ جس انداز میں مخاطب ہوا تسمیر کا بس نہیں چلا تھا اس کا سر پھاڑ دے (عادل سلمہ کی پھوپھو کا پوتا تھا جو بچپن سے ان سے تھوڑا بہت آٹیچ رہا تھا)
بھابھی بول…!!! اسے غصے سے وارن کیا
نا بولوں تو؟ تسمیر سے پہلے اچھی بول چال ہونے کے باعث وہ چھیڑنے لگا
تو تیری زبان اگلی بار اس کا نام بھی نہیں لے پائی گی…. ازلی بے نیازی سے کہتا وہ ان دونوں کو حیران کر گیا
عادل آپ جاؤ میں چاۓ بنا کر لاتی ہوں… بولتے ساتھ ہی ایک نظر گھور کر تسمیر کو دیکھا جو پشت سلیپ سے لگاۓ دونوں ہاتھ پنٹ کی جیب میں ڈالے اسے ہی دیکھ رہا تھا
کیا ہو گیا ہے آپ کو مہمان ہے وہ ہمارا… اسکے سامنے وہ اب پراعتماد طریقے سے کھڑی تھی
ہاں تو رہے مہمان لیکن مجھے نہیں پسند کوئی ایسے نام لے تمہارہ روٹھے انداز میں بولتا وہ اسے چھوٹا بچہ ہی لگتا تھا
کیوں؟ کیوں نہیں پسند؟ کُبرا ابرو اچکا گئی
کیوں کے محبت جو ہوگئی ہے تم سے ڈارلنگ… اس کی عام سے لہجے میں کی گئی بات سے ایک بار پھر کُبرا بامشکل سنبھلی تھی
آپ شاید بھول رہے ہیں جانے سے پہلے کونسا وعدہ کیا تھا آپ نے میرے سے آپ بھول گئے ہیں لیکن میں نہیں!!! اس کے اپنی جانب بڑھتے قدم وہ منجمد کر گئی
بھولا نہیں ہوں یاد ہے مجھے!!! یکدم ہی اسکی آنکھوں کا رنگ سبز کی جگہ سرخ لے لیا تھا تیش سے اسے ایک نظر دیکھے وہ باہر نکل گیا
( وہ تو واقعی میں یہ بات تو بھول ہی گیا تھا کہ اس نے جب تک وہ سوری نا کرے جب تک اسکے پاس نا جانے کا وعدہ کیا تھا)
اس شخص پر مزید غصہ بڑھ گیا تھا جس کی وجہ سے اس نے اپنی بیوی کا اعتبار کھویا تھا
ہاں خرم پتا لگا کچھ؟
سگریٹ کے گہرے کش لگاۓ وہ اب دوسری طرف کی بات سننے لگا جسے سنتے ہی ایک فاتحانہ مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر رسک کی تھی اب اسے صرف رات کا انتظار تھا
کچھ گھنٹے اور پھر تمہیں بھی ٹھیک سے دیکھتا ہوں میں سوئٹ ہارٹ!!! اس کا ریکشن شوچ کر وہ دل ہی دل میں محفوظ ہوا
………………………..
مجھے آپ لوگوں سے کچھ بات کرنی ہے!!! رات کے کھانے کے بعد وہ ان سے مخاطب ہوا
کیا بات؟ آغا جان ابرو اچکا گئے
یہاں نہیں آپ لوگ ڈرائنگ روم میں آجائیں…. اور یاد رہے صرف گھر کے افراد ہی ہوں…. کہتے ہی وہ اٹھ کر اپنے روم کی جانب بڑھا
پھوپھو نے اس کی بات پر کڑھتے سلمہ کو دیکھا جو معذرت خواہ انداز میں نظریں جھکا گئیں
کچھ لمحوں بعد وہ سب ڈرائنگ روم میں موجود تھے
بتاؤ گے کچھ؟ کیوں جمع کیا ہے ہمیں یہاں؟ علی اسے گھورنے لگے جو بے نیازی سے صوفے پر ٹیک لگاۓ بیٹھا تھا ان کی بات پر اسنے کمرے میں نظر ڈرائی جہاں ایک
صوفے پر سلمہ, رخسانہ اور اماں جان اس پر پریشان نظریں جماۓ ہوۓ تھیں اور باقی صوفوں پر علی صاحب کے ساتھ عباس صاحب اور آغا جان برجمان تھے
جب کے جون اور روحان ایک طرف کو کونے میں کھڑے تھے اور ان کے ساتھ ہی صوفے پر برکت اور کُبرا تھیں
کُبرا اسکے اچانک بلانے پر خود تشویش میں مبتلا تھی
سب پر ایک نظر ڈالے وہ سیدھا ہوا
ہمم میں لمبی بات کرنے کا عادی نہیں ہوں اسئلے سیدھا مدعے پر آتا ہوں تو بات کچھ یوں ہیں کے جب سے میں پاکستان آیا ہوں میرے ساتھ الگ ہی چیزیں ہو رہی ہیں
پہلی کُبرا سے شادی ہونا….جس کے لیے میں دل سے راضی نہیں تھا… اس کی بات پر کُبرا نے کرب سے آنکھیں مچی تھیں
لیکن پھر میری پیاری دادی…. کہتے ہی نظر ان پر ڈالی جو اپنا نام سنتے ہی سانس روک گئیں
اماں جان نے مجھ سے کہا کے میں کُبرا سے شادی کر لوں تاکہ لوگوں کی نظروں میں اچھا بھی بن جاؤ آغا جان کی
بات مان کر اور شادی کے بعد ہی کُبرا کو ڈیوارس دے دوں……
کیوں شادی کے بعد طلاق کی وجہ جو بھی ہے لوگ
قصوروار ہمیشہ عورت کو ہی سمجھتے ہیں!!
آغا جان سمیت گھر کے سبھی افراد نے چبتی ہوئی نظروں سے آعبدہ بیگم کو دیکھا ان کی نظروں سے وہ اپنی جگہ کھسیانی ہوئی
پھر اسکے بعد مجھے بار بار کُبرا سے بدمگان کرنے کی کوشش کی گئی اور پھر سب سے ضروری اور خاص بات ان ہی کی ملازمہ نے میرے ناران سے نکلنے سے پہلے پہلے گل خان کو میرے نکلنے کی ٹائمنگ بتائی اور پھر مجھے پر حملہ بھی کروایا
شک تو مجھے اس دن ہی ہوگیا تھا کے یہ محض اتفاق نہیں ہے کے کسی کی ٹائمنگ اتنی اچھی ہو اس میں ضرور کوئی ایسا بندہ شامل ہے جو ہماری ہی آستین کا
سانپ ہے بولتے بوکتے اسنے جون کو طنزیا نظروں سے دیکھا( جو اس سب کو حقیقی زندگی کا نام دے کر اسے فلمی دنیٹ سے باز رہنے کی نصحیت کرتا رہتا تھا)
اور یہاں کہانی ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ وہ عورت ہے جس نے میرے ہی گھر میں ہوتے ہوۓ میری ہی بیوی کو کڈنیپ کرنے کی پلاننگ میں میرے دشمن میر خان تک کا ساتھ دیا کُبرا کے کالج آنے جانے کی ٹائمنگ سب انھوں نے ہی ان تک پہنچایا
یہ رہی ساری ریکوڑدنگز!
یہ یہ یہ ججھوٹ ہے وہ فورن سے بولی
یہ بھی جھوٹ ہے کیا؟ ہاں؟ اندھے ہیں ہم؟
وہ اتنی زور سے ڈھارا تھا کے اماں جان اپنی جگہ سے اچھلی تھیں
بامشکل اپنے اندر کا اشتعال دباۓ وہ خود کو سخت لفظوں سے باز رکھے ہوۓ تھا
یہ سب کیا ہے آعبدہ بیگم؟ کیا کہ رہا ہے یہ؟ آغا جان کی ڈھار سے علی نے انہیں سنبھالا
کیوں کیا ہے آپ نے یہ سب اماں؟ یہ تو آپ کی اپنی بچی تھی نا پھر آپ نے کیوں کیا آپ نے اس کے ساتھ ایسا؟ رخسانہ روہانسی ہوئی
میں بتاتا ہوں کیوں کیا انہوں نے ایسا… کچھ وقفے کے بعد وہ پھر سے بولنا شروع ہوا
کُبرا خون جو نہیں تھی ان کا………
بلکہ یہ کہوں کے یہ جو غیر تھیں ڈیڈ اور چھوٹے بابا کو انہوں نے کبھی اپنی اولاد سمجھا ہی نہیں.
تسمیر! سلمہ نے اسے ٹونکا
پلزز موم کوئی بیچ میں نہیں بولے گا
آپ کو کیا لگتا ہے مجھے نہیں معلوم کے آپ نے کیسے میری دادی کو راستے سے ہٹا کر اپنا راستہ اس گھر میں بنایا تھا؟
جونید پھوپھا کو بھی آپ نے راستے سے اسئلے ہٹایا کیوں کے وہ سچ جان گئے تھے آپ کا اور آپ کو ڈر تھا کے کہیں آپ کی اپنی ہی اولاد کا شوہر آپ کو اس گھر سے
نا نکلوا دے اس دن بھی ایکسڈینٹ آپ نے کروایا تھا لیکن افسوس آپ کو یہ معلوم تھا آپ کی خود کی بیٹی
اس گاڑی میں موجود ہو کتنے ہی عرصے آپ نے ولید چاچو کو اس الزام میں پھنساۓ رکھا…. وہ جیسے جیسے بول رہا تھا گھر کے سبھی افراد کا رنگ فق ہوتا جا رہا تھا
بکواس بند کرو اپنی جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہے ہو!! وہ اب اپنے اصل روپ میں آئی
میں جھوٹ بول رہا ہوں؟ ان کی طرف قدم بڑھاۓ وہ غرایا
اندر آؤ!! اس کی ڈھار سے فریدے جو کمرے کے باہر ہی ان کے بلاؤے کے انتظار میں تھی سہم کر اندر داخل ہوئی
تسسمیر بابا ٹھیک کہ رہے ہیں…بی بی نے ہی سارہ بی بی کو سڑھیوں سے ڈھکا دیا تھا…… اور انہوں نے ہی ہالہ باجی کے شوہر…. چٹاخ کی آواز سے فریدے کی بولتی بند ہوئی ان کے راز کھولنے پر آعبدہ نے اسکے چہرے ر رسید کیا
غدار… اسے جھنجھورتی وہ آگ بغولہ ہوئیں
آپ تو ابھی سے ہی ہار مان گئی ہیں آعبدہ بیگم! اصل کہانی بھی تو بتا دینے دیجیے اب کی بار ہنکار بھر کر
کہتا وہ کُبرا کی طرف متواجہ ہوا جو پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی
ایک اور بات تو میں بتانا ہی بھول گیا میئری عرف مریم میری سب سے اچھی دوست جسے اچانک ہی پاکستان آنے کا خیال آگیا
کیوں کُبرا؟ تم تو بہت اچھے سے جانتی ہو افیکٹ بہت یقین ہے تمہیں اس پر! اس سے طنز پر وہ اسے گھور کر رہے گئی
میئری کو اچانک ہی میری شادی کی خبر لنڈن پہنچتی ہے پھر اس سے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ شادی میں نے زبردستی کی ہے اور آغا جان سے میں نے مریم نامی لڑکی سے شادی کرنی کے درخواست کی ہے
واٹ ڈا….. خیر اس کے بعد اچانک ہی میئری سے کُبرا کی گہری دوستی ہو جاتی ہے اور پھر کُبرا کو خبر دی جاتی ہے کہ میری آپسپیکٹ کر رہی ہے…. سرد لہجے میں گویا ہوتا وہ صوفے پر ڈھے سا گیا
سلمہ نے حیرانگی سے اپنے بیٹے کی جانب دیکھا
اسکا بھی تم جود بتاؤ گی فریدے یا.میں اپنے الفاظوں میں بتاؤں؟؟
ہاں میں نے ہی کہا تھا اسے میں نے بلایا تھا نفرت ہے مجھے اس کُبرا سے اسکی وجہ سے میرے شوہر نے کبھی مجھ پر اور میرے سگے نواسے پر تواجہ نہیں دی
مریم کو بھی میں نے ہی کہا تھا لیکن یہ منحوس کسی کی زندگیوں سے نکلنے کا نام ہی نہیں لیتی آعبدہ اب زہر خندق ہوئیں جبکہ اپنے اس طرح حقارت سے بات کرنے پر کُبرا کا دل دھک سے رہے گیا
(وہ اتنی نفرت کرتی تھیں اس سے؟)
تسمیر بابا کا کوئی تعلق نہیں تھا مریم باجی سے میں گواہ ہوں اس بات کی انہوں نے بی بی نے ہی اکسایا تھا…. فریدے کے بولنے پر وہ بے یقینی سے ادھر ادھر دیکھنے لگی
موم؟ کیا بیویاں ایس ہوتی ہیں کہ.کوئی بھی باہر کی عورت آکر کچھ بھی کہ وہ اپنے شوہروں کا یقین کرنے کے بجاۓ ان کا یقین کریں؟
آپ تو کہتی تھیں کے بیویاں وہ ہوتی ہیں جنہیں اپنے رشتے پر اتنا یقین ہوتا ہے کے کوئی چاہیے انہیں کچھ بھی کہ کوئی بھی ثبوت دیکھائیں لیکن وہ اپنے شوہر کے کردار کہ گواہی دہتی ہیں … اس کے الفاظ تھے یا طنز کے تیر جو کُبرا کے کانوں میں بری طرح چبے تھے
ان کی سزا اب میں بتاؤں یا آغا جان آپ خود منتخب کریں گے؟
اس گھر میں آج کے بعد مجھے یہ عورت نظر نا آۓ باقی اسکا فیصلہ میں خود کروں گا آغا جان بے سد سے تھے
میرا بھائی بے گناہ تھا میں نے آپ سب سے کہا تھا نا! رخسانہ روہانسی ہوئی جس پر جون نے انہیں گلے لگایا تھا
نا نا نا آغا جان کوئی فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ یہ اب سیدھا جیل کی ہوا کھائیں گی تسمیر سر نفی میں ہلانے لگا
دماغ درست ہے تمہارہ تسمیر؟ خان خاندان کی عورتیں ان جیل جائیں گی؟ علی صاحب بھڑکے
صرف چوبیس گھنٹے کا وقت ہے آپ لوگوں کے پاس سوچ سمجھ لیں نہیں تو ان کا وہ حشر کروں گا جو تسمیر خان کی بیوی کو تکلیف دینے والے کا میں کر چکا ہوں
ایک نظر سب پر ڈالے وہ غراتا باہر نکل گیا کے کُبرا اس کے پیچھے لپکی تھی
اچھا نہیں کیا ہے آپ نے اماں, ہم نے شروع سے آپ کو اپنی ماں کا درجہ دیا لیکن آپ نے کیا کیا ہمارے ساتھ؟ علی صاحب اور عباس ساتھ بولے تھے
جبکہ وہ تو تسمیر کی ہہ باتوں کے آثر میں دل پر ہاتھ رکھے بیٹھتی چلی گئیں…
ڈرائنگ روم سے نکلتے ہی وہ اسکا بازو تھام گئی جسے وہ فوری جھٹک گیا تھا
اور تم… جلد تمہیں ڈیوارس کے پیپر مل جائیں گے! اس پر نظر ڈالے بغیر وہ ازلی بے نیازی سے بولا
کیا؟ اسے لگا شاید اسے سننے میں غلطی ہوئی ہے
تم نے ہی کہا تھا نا اس دن کے ڈیوارس چاہیے تمہیں تو دے دوں گا….کہتے ہی وہ اوپر کی جانب بڑھ گیا
( یہ بھی صرف اسے اپنی کہی ہوئی باتیں یاد دلانے کو کہا تھا اب اس کی باری جو تھی اسے ستانے کی)
اسکے جاتے ہی اسے اپنے دو مہینے پہلے کی گئی بدتمیزی یاد آئی تھی کتنا کچھ وہ اسے کہ گئی تھی کیا وہ سچ میں اسے چھوڑ دے گا؟ زہن میں پھر سے طرح طرح سے وسوسے اٹھ رہے تھے
*******************
روم میں آتے ہی سامنا خالی کمرے سے ہوا تھا شاید وہ جب سے واشروم میں ہی تھا اپنے روایے پر شرمندگی سے وہ اب اسکا سامنا کہاں کرسکتی تھی اور سونے پر سہاگا آج ہی وہ اسے مزید سلگا گئی تھی
سب کچھ سوچتے ہوۓ تیزی سے بیڈ پر لیٹے کمبل منہ تج تان گئی اس کے آنے سے پہلے ہی وہ سو جانا چاہتی تھی
بامشکل پانچ منٹ ہی گزرے تھے جب وہ باتھ لے کر باہر آیا نظر اس پر گئی کمبل میں بھی اسکے ہلتے وجود سے اندازہ لگا گیا کے وہ جاگ رہی ہے
کچھ بھی کہے بغیر ڈریسنگ کے سامنے آکر اپنا کندھے اور گردن کا زخم دیکھا جو بے احتیاطی کے باعث اب مزید گہرا ہو چکا تھا
کافی دیر تک خاموشی محسوس کرنے پر وہ کمبل سے چہرہ نکال.کر دیکھنے لگی آیا کے وہ یہاں موجود ہے بھی کے نہیں لیکن سامنے کا منظر دیکھتے ہی دل میں ایک ٹیس سی اٹھی جہاں وہ شرٹ لیس کھڑا اپنے زخموں کا معائنہ کرنے میں مصروف تھا
یہ کیا ہوا ہے؟ سب کچھ بھلاۓ وہ اسکے سر پر تھی کے اسکے پوچھنے پر بھی تسمیر اسے نظرانداز کرتے ہوۓ کوئی کریم لگانے لگا
میں کچھ پوچھ رہی ہوں!! اب کی بار ایک بار پھر اسکا بازو تھاما جس پر وہ تیزی سے اسکا ہاتھ جھٹک گیا
تم.سے مطلب؟ کیا اجنیبت تھی اسکے لہجے میں وہ کُبرا کو رونے سے بہت مشکل سے باز رکھے ہوۓ تھی
سارے مطلب مجھ سے ہی ہیں!!! ہمت کرکے اسی کا جمعلہ اسے واپس لوٹایا تھا تسمیر نے ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھا
اپنے کام سے کام رکھوں اور ہٹو ٹائم نہیں ہے میرے پاس اتنا…
پہلے آپ بتائیں کیا ہوا ہے یہ؟
کچھ نہیں معمولی سی چوٹ ہے اب راستہ دو مجھے کام ہیں… سپاٹ لہجے میں کہتا وہ پلٹا کے کُبرا پھر سے اسکا ہاتھ تھام گئی
یہ معمولی تو نہیں ہے آپ خیال کیوں نہیں رکھتے اپنا؟ وہ اب روہانسی ہوئی
کیوں کے مجھے فرق نہیں پڑھتا!!!!
لیکن مجھے پڑتا… وہ بولتی کے تسمیر بیچ میں ہی اس کی بات اچک گی
تمہیں بھی نہیں. ہڑھتا…!!!! سر جھٹک کر وہ بلکنی کی طرف بڑھ گیا جہاں اسکی پہلی محبت (سگریٹ) اسکا انتظار کر رہی تھی