📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 41

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

پورے دن وہ آوفس کے کاموں میں مصروف رہا تھا اتنے دنوں کی غیر حاضری میں اس کے کافی کام پینڈنگ پڑے تھے شام کے چھ بجے وہ فارغ ہوتا کنسٹرکشن سائٹ پر جانے کے اٹھا گاڑی میں بیٹھتے ہی اسنے سب سے پہلے خرم کو کال ملائی تھی

اسلام و علیکم سر!

وعلیکم السلام کہاں ہو تم؟ ابھی آدھے گھنٹے میں کنسٹرکشن سائٹ پر پہنچو!

اپنی بات کرتا وہ فون رکھ گیا جب نظر سکرین پر جگمگانے والے میسج پر گئی

سوئٹ ہارٹ کا نام دیکھتے ہی وہ میسج کھول گیا جہاں

”گڈ مورننگ“ کا ٹیکس تھا وہ صبح اس کے اٹھنے سے پہلے ہی نکل آیا تھا اسکا ٹیکس پڑھتے ہی موڈ بحال ہوا لیکن فلحال وہ اس سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا تھا

اس کی بے اعتباری نے تسمیر خان کے دل کو بے حد تکلیف پہنچائی تھی یہ صرف وہی جانتا تھا

واٹ؟ وہ آپ کی دادی…. خرم کی حیرانگی پر وہ بات اچک گیا

ہاں اب تم حیرت کم کرو اپنی اور مجھے یہ بتاؤ گل خان والے معاملے کا کیا سوچا ہے؟ وہ اس وقت کنسٹرکشن سائٹ پر تھے جہاں اس نے خرم کو بھی بلا لیا تھا

”اس کے سامنے اپنے گزارے دو مہینے لہراۓ تھے جب اسے اس شہر سے دور ایک ویران سے کمرے میں قیدی کے توڑ پر رکھا گیا تھا خرم کے تعلقات کے باعث محکمے والوں نے اسے جیل کے بجاۓ یہاں رہنے کو کہا تھا میر خان نے اس پر خود پر چلائی گئی گولی کا کیس کیا تھا جس میں اس کے خلاف اور بھی بہت سے غلط کاموں کے نکلی ثبوت اس نے عدالت میں پیش کیے تھے ان سب میں بھی اس نے خرم سے اپنے اوپر کیے جانے والے پہلے حملے سے لے کر کُبرا کی کڈنیپنگ تک کے سارے معاملے پر غور کرنے کو کہا تھا جس پر اسنے اماں جان کی کچھ ریکوڑدنگس نکلوائی تھیں“ جو بھی تھا اس سب میں خرم نے اس کا بہت ساتھ دیا تھا….

سر میری ماننیں تو آپ گل خان کو رہنے دیں ابھی… وہ ویسے ہی اپنی زمین کی وجہ سے پاگل ہوا پڑا ہے…اگر ہم نے اسے مزید چھیڑا تو آپ کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے میر خان بھی آپ کے پہچھے پڑا ہے …… آپ خود کچھ دنوں کے لیے گھر میں ہی رہیں خرم ہمیشہ کی طرح اسے سمجھا رہا تھا

کچھ نہیں ہوگا… تم سب اس جگہ پر اپنے بندوں کو بھیجو اور ان سے کہوں کے ان کے ہر قدم پر نظر رکھیں ہم وہی سے اس کا یہ سارہ کام تمام کریں گے…. بہت کھیل لیا ان لوگوں نے نوجوانوں کی زندگیوں سے….. وہ اپنا اشتعال دباۓ کہنے لگا

ویسے سر آپ کو لاء کی جگہ پولیس میں ہونا چاہیے تھا خرم کے انداز پر وہ مسکرا دیا

پولیس کو تم جیسے عقل مندوں کی ضرورت ہے مجھ جیسے جزباتیوں کی نہیں…. اسکے کندھے کو تھپتھپاتا وہ چلنے کا اشارہ کر گیا

.********************

سین بھی کر لیا جواب بھی نہیں دیا…اپنا موبائیل دن میں کوئی چھٹی بار وہ دیکھ رہی تھی جہاں اسکا کوئی ریپلائے نہیں آیا تھا

کیا سوچ رہی ہو؟ صباحت کو آج رخسانہ بیگم نے. خود بلایا تھا جون گھر پر موجود نہیں تھا اسئلے وہ بھی یہاں آگئی تھی ورنہ ان کی شادی میں اب بس ہفتہ ہی رہے گیا تھا

آہاں؟ آج تو دلہن میڈم تشریف لائیں ہیں اسے دیکھتے ہی خوشگوار حیرت ہوئی تھی

ہاں پھوپھو نے بلایا تھا تم بتاؤ کونسی سوچوں میں گھوم تھیں؟ اسے میئری کی ساری کہانی تو وہ ویسے ہی بتا چکی تھی جس میں اس کے ساتھ ساتھ صباحت بھی تسمیر کو ہی غلط ہونے کا ٹیگ پہنا چکے تھے

وہ… کل… اس نے جھکجھکتے ہوۓ کل کی ساری کہانی اسے بتائی تھی کے اس کی بات پر صباحت حیرت سے پوری آنکھیں کھول گئی

کوئی اس حد تک بھی گر سکتا ہے؟ وہ اسی پوزیشن میں بولی

شرم سے ڈوب مرو اب تم اس گلاس کے پانی میں اپنے اتنے اچھے شوہر پر شک کیا تم نے… اسنے فوری سے پینترا بدلہ تھا جس پر کُبرا نے منہ بنا کر اسے دیکھا

ہمم پتا نہیں اب کیسے مناؤ گی میں انہوں مجھے تو منانا بھی نہیں آتا… وہ چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر بولی

اچھا ٹینشن مت لو مزاق کر رہی تھی میں وہ کیوں ناراض ہونگے اتنے اچھے تو ہیں تسمیر بھائی… صباحت اسے حوصلہ دینے لگی

کوئی اچھے نہیں ہیں, جب غصہ آتا ہے تو ایک نمبر کے کھڑوس بن جاتے ہیں, میری جان ہلکان کرتے ہیں اور غصہ تو پھر ہٹلڑ سے سوغات میں لے کر آۓ ہیں…. میں بھی اب جب تک روم میں نہیں جاؤں گی جب تم خود مان نہیں جاتے… کھڑوس کہیں کے!!! وہ ہنوز چہرہ دونوں ہاتھوں میں دہے بول رہی تھی جب صباحت کی جگہ اس کی آواز سے دل دھک سے رہے گیا

میری برائیاں کر لی ہوں تو کوفی بھیجوا دینا روم میں..!!

اس پر ایک نظر ڈالے وہ اپنے روم کی جانب بڑھ گیا کے اس کے جاتے ہی کُبرا نے جھٹکے سے سر اٹھایا تھا جہاں صباحت بامشکل اپنی ہنسی روکے ہوۓ تھی

تم میرے ہاتھوں قتل ہونگی… بتا نہیں سکتی تھیں کے پیچھے کھڑے ہیں میرے..!!

کیسے بتاتی وہ سن ہی چکے تھے… اب جاؤ بچو جاکر کلاس لے کر آجاؤ صباحت شرارت سے کہتی اسے مزید روہانسی کر گئی

ویسے پھوپھو کہاں ہیں مجھے بلا کر اب تک نظر ہی نہیں آئی؟ اسکو اٹھتا دیکھ وہ بھی ساتھ اٹھی تھی

یہ رہی میں پھوپھو کی جان!! جب رخسانہ بیگم مسکراتی ہوئی اسکے پاس آئیں

چند ایک باتوں کے بعد وہ اسے کل کی ساری گفتگو بتانے لگئیں جن میں سب سے بڑھ کر اسکے باپ کا بے گناہ ہونا تھا

ایک کرنٹ سا لگا تھا اسے… پھوپھو میں نے کہا تھا نا آپ کو میرے بابا بے گناہ ہیں تشکر سے اسکی آنکھیں بھیگنے لگی

ہاں میرا بچہ… تمہارہ باپ اور میرا بھائی بے گناہ ہیں… ہم سب آئیں گے ان سے معافی مانگنے آغا جان بھی آئیں گے اور اصل گناہگاروں کو بھی اب آغا جان جلدی اس حوایلی سے نکال باہر کریں گے وہ خود بھی روتے ہوۓ اسے گلے لگا گئی

میں زرا سلمہ بھابھی کو دیکھ لوں تم یہی رہنا رات کا کھانا کھا کر جانا……

چلو شاباش تم جاؤ اور جاکر کوفی بناؤ تسمیر بھائی کے لیے میں برکت کو دیکھتی ہوں… سامنے کھڑی کُبرا یاد دلواکر صباحت برکت کے روم کی جانب چلی گئی

کچھ لمحوں بعد وہ کوفی کا کپ تھامے ڈھرکتے دل سے روم میں آئی شاید وہ روم میں نہیں تھا کچھ سوچتے ہوۓ وہ بلکنی کی جانب بڑھی تو اسے وہ نیچھے ہی لان میں علی صاحب سے کچھ باتیں کرتا نظر آیا

مجھے کافی کا کہ کر خود نیچھے چلے گئے… کوفی کا کپ ٹیبل پر رکھے وہ واشروم کی طرف گئی

نہیں ڈید میں آغا جان کو بلکل نہیں رکوں گا آعبدہ بیگم کے لیے انہوں نے یہ چھوٹی سزہ منتخب کی ہے اگر وہ آج فیصلہ نا کرتے تو میں خود انہیں اندر کرواتا…. وہ اپنی ہی بات پر با ضد تھا

علی صاحب اسے کب سے منانے کی کوشش کر رہے تھے کے وہ آغا جان کو آعبدہ بیگم کو گھر سے نکالنے کے لیے منع کرے جس پر وہ صاف انکار کر گیا تھا

ان سے بحث کے بعد وہ اپنے تھکا سا روم کی طرف آیا آوفس سے آنے کے بعد بھی فریش ہونے سے پہلے اسے علی صاحب نے بلا لیا تھا

اب اسکا ارادہ سیدھا باتھ لینے کا تھا روم میں آتے ہی نظر ٹیبل پر رکھی کوفی پر گئی

اسکا مطلب ہے وہ کوفی رکھ کر جا چکی تھی ڈریسنگ پر اپنی چیزیں رکھتا وہ ایک نظر خود کو شیشے میں دیکھنے لگا اسنے یہاں آتے ہی بالوں اور بیئرڈ کو سیٹ کروا لیا تھا ٹاۓ اتار کر ڈریسنگ پر رکھنے لگا جب کلک کی آواز سے واشروم کا دروازہ کھولے وہ باہر نکلی

باہر آتے ہی اسے دیکھ کر وہ ٹھٹھکی تھی وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا اسکا نم گیلے چہرے کو سنجیدگی سے دیکھتا چند قدم بڑھا کر اس کے قریب آیا بغیر کچھ کہے وہ اسکے مزید قریب ہوا جس پر کُبرا بے اختیار آنکھیں مچ گئی

اس نے اسکی بند آنکھوں کو کافی لمحے ایسے ہی نظروں میں اتار کر وہ زرا پیچھے ہوا کے کافی دیر اسکی کوئی جسارت نا ہونے پر وہ آنکھیں کھول گئی وہ اب بھی اسکے قریب ہی کھڑا اس پر گہری نظریں مرکوز کیے ہوۓ تھا

کیا تھا جو اس وقت اس کی آنکھوں میں نہیں تھا

وہی کرب …..جو اس نے اس رات نیند میں ہونے کے باعث محسوس نہیں کیا تھا

وہی تکلیف…. جو کُبرا اسے انجانے میں پہنچا گئی تھی

وہی غصہ…. جو اس پر اعتبار نا کرنے کا تھا

وہی ہجر کی تلخیاں…جس سے وہ اب بھی گزار رہا تھا

آج دور نہیں کرو گی مجھے؟ اس کے لہجے کی چھبن سے کُبرا کا دل ڈوب کر ابھرا

سوری… میں…. اسکے الفاظ منہ میں ہی رہے گئے جب وہ اس کی بات سننے بغیر تیزی سے واشروم میں جاتا ڈھار سے دروازہ بند کر گیا

بد تمیز…

کھڑوس… اس کی آنکھوں میں اب نمی تیرنے لگی تھی وہ کہاں اس کا اگنور کرنا برداشت کر سکتی تھی اپنی غلطیوں کا اب سختی سے احساس ہو رہا تھا

میں بھی اب بات نہیں کروں گی… روتے ہوۓ وہ روم سے باہر نکل آئی تھی

***************

برکت سے باتیں کرکے وہ ٹیرس پر آئی تھی

جون گھر میں موجود نہیں تھا وہ کسی کام سے شہر سے باہر گیا تھا اسکی غیر موجودگی میں پہلی بار صباحت کو پہلی بات عجیب لگا تھا

اب جب بھی وہ یہاں آتی تھی جون پہلے سے ہی موجود ہوتا تھا

ابھی وہ انہی خیالوں میں تھی جب اسکا فون چیخا نام دیکھتے ہی لبوں پر حسین سی مسکراہٹ رینگی تھی

میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا جناب؟ ورنہ آج اتنے مصروف رہنے والے لوگوں نے پہلی ہی رنگ پر کال اٹھا لی ہے یہ کیسے ممکن ہے؟ اسکی خوشگوار آواز گونجی

نہیں آپ کوئی خواب نہیں دیکھ رہے ہیں…. میں ابھی آپ کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی.. کہتے ساتھ ہی اسنے زبان دانتوں تلے دبائی کے اس کی بات سے دوسری طرف جون پہلے تو حیران ہوا پھر کچھ دیر کی خاموشی کے بعد مسکراہٹ گہرے کیے اس سے مخاطب ہوا.

اہمم تو کیا سوچ رہی تھیں؟

بس وہ مجھے آج پھوپھو نے یہاں بلایا تھا تو انھوں نے مجھے بتایا کیسے تسمیر بھائی نے بابا کے اوپر لگا الزام ہٹایا ہے میں بہت خوش ہوں آج…

میں بھی… اسکے لہجے کی خوشی سنائی دینے پر وہ خود بھی خوش ہو گیا تھا

لیکن ماں نے ٹھیک نہیں کیا میرے ساتھ…. انہوں معلوم تھا کے میں آج اسلام آباد جا رہا ہوں جبھی آپ کو بلایا ہے وہ شکواہ کرنے لگا

اچھی بات ہے آپ نہیں ہیں گھر پر اب آپ صرف مجھے ایک ہفتے بعد ہی دیکھیں گے صباحت ہنستے ہوۓ بولی.

ہاں ہنس لیں ہنس لیں ایک ہفتے بعد آپ کو اچھے سے سب بتاؤں گا ذومعانی انداز میں کہتا وہ اسے سرخ کر گیا

ممیں نیچھے جا ررہی ہوں پھوپھو بلا رہی ہیں! کال رکھتے ہی وہ دل پر ہاتھ رکھ گئی ……

•••••••••••••••••

کھانے کی ٹیبل سب موجود کے سواۓ اس کے جس کا کہنا تھا جب تک اماں جان اس گھر میں ہیں وہ ان کے ساتھ ایک جگہ نہیں بیٹھے گا

کُبرا بیٹا تم ایسا کرو تسمیر کا اور اپنا کھانا روم میں ہی لے جاؤ سلمہ کے کہنے پر وہ سرد آہ بھر کر رہے گئی

ایک تو اتنی بھوک لگ رہی ہے اوپر سے اتنے ناراض ہوکر بیٹھے ہیں مجھ سے کھڑوس کہیں کے.. خود سے کہتی اچانک سے اسے شرارت سوجھی تھی

تیزی سے کچن میں جاکر وہ اسکے لیے نکالے ہوۓ سالن میں دو چمچ مرچیں ڈال گئی

بہت شوق ہے نا آپ کو مرچیں چبانے کے اب اصل والی مرچیں چبا کر دیکھیں نا نکالے میں نے آنکھوں سے آنسو تو میرا نام بھی کُبرا تسمیر خان نہیں….!!!

کہتے ساتھ ہی وہ ملازمہ کو ساتھ لیے لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ سے اپنے روم کی جانب گئی کچھ دیر پہلے جن آنکھوں میں نمی تھی اب ان میں شرارت کے فوارے پھوٹ رہے تھے

روم میں آتے ہی نظر اس پر گئی وہ صوفے پر لیٹنے کے سے انداز میں سامنے رکھی ٹیبل پر پاؤں رکھے بیٹھا لپ ٹوپ میں مصروف تھا

ہاں بس اب تم جاؤ میں لے جاؤں گی! ملازمہ کو دروازے پر چھوڑے ٹرے بیڈ پر رکھی جانتی تھی تسمیر کو روم میں کسی بھی تیسرے کا آنا قبول نہیں تھا

کھانا لگ چکا ہے! اس کے خود کو نظرانداز کرنے پر وہ بلند آواز میں اعلان کرنے لگی

مجھے بھوک نہیں لگ رہی…. وہ ہنوز لپ ٹوپ پر نظریں جماۓ ہوۓ تھا کے اسکی انکار سے کُبرا کو اپنا پلان ناکام ہوتا محسوس ہوا اگلے ہی لمحے وہ اسکے پاس جاتی اسکی چوڑی کلائی دونوں ہاتھوں سے تھام گئی

آئیں نا ساتھ کھاتے ہیں میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا

اور اگر آپ نہیں کھائیں گے تو میں بھی نہیں کھاؤں گی…

اس کی بات پر تسمیر نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھنے لگا

اتنی مہربان تو وہ کبھی ہو نہیں سکتی تھی

کونسی کھچڑی چل رہی ہے اب تمہارے دماغ میں؟ اس کے غور سے دیکھنے پر کُبرا سٹپٹائی کہیں وہ اسکی چوری پکڑ ہی نا لے

نہیں کھانا تو مت کھائیں… میں بھی نہیں کھا رہی! گھبرا کر کہتی وہ اسکا ہاتھ چھوڑتی بیڈ پر آگئی

(اتنا تو وہ جان ہی گئی تھی کے وہ اپنے کھانے پر کمپرومائز کر سکتا تھا لیکن اسکے بارے میں وہ کسی چیز پر کمپرومائز نہیں کر سکتا تھا)

ایک لمحے کی دیر کیے بغیر وہ اسکے پیچھے آیا

اسے دیکھتے ہی وہ چہکتی ہوئی پلیٹ سیٹ کرنے لگی

پہلا نوالہ لیتے ہی اسنے ایک نظر کُبرا کو دیکھا وہ جو کب سے اسے شرارت سے دیکھ رہی تھی اسکے دیکھنے پر سٹپٹا کر منہ جھکاۓ پھر سے کھانے لگی

اس کی حرکت پر تسمیر کی مسکراہٹ گہری ہوئی اب ساری مہربانیاں سمجھ آئی تھی اب کی بار وہ ریلیکس ہوکر مزے سے کھانے لگا

کُبرا وقفے وقفے سے اسے دیکھ رہی جو ایسے کھا رہا تھا جیسے اس میں کچھ مسئلہ ہی نا ہو کافی دیر اسے دیکھنے کے بعد اکتا کر وہ اسکی پلیٹ میں سے ایک نوالہ لے گئی جسے کھاتے ہی اسکی ناک آنکھیں سب لال ہوئی

پپپا پپانی ددیں…. اسے گھوری سے نوازتی وہ چلائی جس پر تسمیر کا جاندار قہقہ گونجا تھا

بہو اگلی بار ایسی مرچیں ڈالوں…..تو زیادہ ڈالنا!!! ہنستے ہوۓ کہتا وہ اسے پانی کا گلاس پکڑا گیا کے کُبرا اس کی ہنسی میں کھوئی سی تھی

ڈارلنگ کیوں خود کی جان ہلکان کرتی ہو…. یہ اسپائسی کھانے میں نے لنڈن میں بہت کھاۓ ہیں یہ تو پھر کچھ نہیں تھا

ویسے… اب تم سوچوں میرا ریٹرن ریوینج کیا ہوگا؟ اسکے اٹھا دیکھ وہ سلگا گیا

تو آپ کو مرچیں لگی تو نہیں نا اسئلے کوئی ریوینج نہیں بنتا…. وہ کیسے بھول گئی تھی کے یہ شخص اپنا ریٹرن ریوینج کبھی نہیں بھولتا تھا

اس کہ نظروں سے بچتی وہ جلدی سے چیزیں سمیٹ کر باہر نکل گئی

کچھ ہی لمحوں میں وہ کوفی کے دو مگ لیے روم میں آئی اور سامنے کا منظر دیکھ کر اسے اپنا قدموں پر کھڑا ہونا مشکل لگا

افف اللہ یہ میرا روم ہے؟ چاروں طرف نظریں گھوماتی وہ پاگل سی ہوئی

بیڈ شیٹ اپنے جگہ سے آدھی نیچھے تھی ڈریسنگ سے کچھ چیزیں نیچھے پڑی تھیں اور باقی وہی بکھری تھیں اسکی وار ڈروب سے آدھے کپڑے باہر نکلے اسے منہ چڑا رہے تھے

تسسسسسمییرررررر میں چھوڑوں گی نہیں آپ کو غصے سے چلاتی وہ بلکنی میں اسکے پاس آئی کوفی کے مگ جلدی سے چکڑ میں وہ اپنے ساتھ ہی بلکنی میں لے آئی

وہ مزے سے سگریٹ کے کش لگانے میں مصروف تھا جب اسکی چیخ سن کر چہرے پر دلفریب مسکراہٹ رینگی تھی

تھینک یو! اسکے ہاتھ سے کوفی لیتا وہ ٹھنڈے لہجے میں بولا

میں جان سے مار دوں گی آپ کو….شرم نہیں آتی ہے مجھے تنگ کرتے ہوۓ! غصے سے کہتی وہ کپ سائد پر رکھے اسکے اوپر جھنپٹی تھی

اب تم زیادتی کر رہی ہو… میرا صبر آزماء رہی ہو… خمار آلود لہجے میں کہتا وہ اسکی بیٹ مس کروا گیا

جھٹکے سے وہ اس سے الگ ہوئی

میں نہیں سمیٹوں یہ کمرہ غصے سے کہتی پلٹ گئی کے تسمیر پیچھے ہنستے ہوۓ سر جھٹک گیا

یہ تو چھوٹا سا ریٹرن رویوینج تھا ڈرالنگ اگر مجھے تمہیں ٹھیک سے سبق نا سیکھانا ہوتا تو اپنے طریقے سے ریٹرن لیتا خود سے بولتا وہ کوفی گھونٹ بھرنے لگا

***********************

.شادی کے دن اب کچھ ہی دور تھے کل روحان اور برکت کی مہندی تھی

تسمیر اس سے تلخ روایہ ہی اپناۓ ہوۓ تھا جس کی وجہ سے وہ اب آج کل چڑچڑی ہی رہتی تھی

اب بھی وہ اسی کے خیالوں میں بیٹھی تھی جب وہ روم میں داخل ہوا شاید ابھی ہی وہ آوفس سے آیا تھا

اسے نظرانداز کرتا اپنے کپڑے لیے وہ واشروم میں بند ہو گیا

کچھ لمحوں میں فریش سا وہ بلیک ٹریک سوٹ میں باہر نکلا

آج اسے ہر حال میں اس مغرور شہزادے سے بات کرنی تھی جو اتنے دنوں سے اس سے بے رخی اپناۓ اسے اپنی غلطی کا احساس بہت اسے دلاء چکا تھا

مجھے بات کرنی ہے آپ سے! اسے لپ ٹوپ میں مصروف دیکھ وہ آنکھوں میں امڑنے والی نمی چھپاۓ بولی

آپ سے مخاطب ہوں… اسے نظرانداز کرتا دیکھ اب کی بار آواز بلند کی تسمیر نے اسے ایک نظر اٹھا کر دیکھا وہ بامشکل اپنے آنسؤ پر بند باندھے ہوۓ تھی

بولو سن رہا ہوں! اسکے انسوؤں سے پمیشہ ہی پگھل جاتا تھا ویسے بھی اتنے دنوں سے وہ جس طرح اس سے بے رخی اپنے ہوۓ تھا یہ صرف وہی جانتا تھا

آپ… وہ…. میں…

ڈیوارس کا پوچھنے آئی ہو؟ دے دوں گا جلدی…. اسکے چہرے کا رنگ فق ہونا پہلی بار تسمیر کو اچھا لگا تھا

نننہیں…. ایسا کچھ نہیں ہے.. مجھے نہیں چاہیے ڈیوارس…. میں تو سسوری کرنے آئی تھی اسکی بات سے کُبرا جو آنسو روکے ہوۓ تھی اب ضبط کھو چکی تھی

کس چیز کی سوری؟ اسے گہری نظروں سے سر تا پاؤں تک دیکھا تھا

مجھے یقین کرنا…. چاہیے تھا.. میں نے نہیں کیا.. سسوری…!!! وہ اب ہجکیوں سے رونا شروع ہوئی تھی

Come here!

اسکی گھمبیر آواز گونجی

ہاں؟ اسکا منہ کھولا کا کھولا

Come here!

اسکے دوبارہ کہنے پر وہ سوسوں کرتی اسکے پاس آئی جب وہ اسے اپنے اوپر کھینچ گیا

اتنی آسانی سے تو میں معاف نہیں کروں گا جب تک مناؤ گی نہیں مجھے جب تک میں ایسے ہی رہوں گا… اسے اپنے حصار میں لے خمار آلود لہجے میں بولا

جب کے وہ اسکا حصار پاتے ہی ہجکیوں سے رونا شروع ہوئی تھی اسی کی تو کمی تو جو وہ اتنے دنوں سے محسوس کر رہی تھی

تسمیر نے بھی اسے رونے سے نہیں روکا

اور ان پر بھی رحم کیا کرو مجھ پر نہیں کرتی تو ان پر تو کر دیا کرو جانتی ہو مجھے ان میں آنسو برداشت نہیں ہے…. اسکی انکھوں کو باری باری محبت سے چومتا وہ اٹھ گیا تھا

اگر اس سے زیادہ وہ اسکے پاس رہتی تو وہ اپنی ناراضگی اسکے.منانے سے پہلے ہی زائل کر دیتا