📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 8

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

سنبھل کر گر مت جانا کہیں کہو تو مدد کر دوں؟ اسے کرسی پر کھڑا دیکھ وہ پیچھے سے آواز لگا گیا کبرا جو ڈیکوریشن کے لیے کرسی کا سہارہ لیے کھڑی تھی اسکے اچانک نازل ہونے پر لڑکھڑائی جس پر تسمیر تیزی سے اسکی کرسی تھام گیا تھا کہا بھی تھا مدد کرنے دو تسمیر اسے دیکھتا مزے سے بولا آپ کی مدد لینے سے اچھا ہے میں گر ہی جاؤں کبرا مصروف سی کہنے لگی ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی وہ عام سے انداز میں کہتا اسکی کرسی سے ہاتھ ہٹا گیا جبکہ اسکے اچانک عمل پر وہ اگلے ہی لمحے زمین بوس ہوئی تھی یہ کیا حرکت ہے؟ تمیز نہیں ہے آپ کو؟ کبرا خود کو سنبھالتی چلائی تم نے ہی تو کہا تھا میری مدد سے اچھا ہے کہ تم گر جاؤ میں نے تو بس تمہاری بات مانی ہے اور تمہیں کیا لگا تھا میں فلمی ہیرو کی طرح تمہارے منع کرنے کے باوجود تمہیں گرنے سے پہلے اپنی باہوں میں سمیٹ لوں گا؟ ویسے میں یہ کر بھی لیتا,اگر یہاں تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا لیکن اب یہاں تو تم ہو اور میں تمہاری بات کیسے ٹال سکتا ہوں؟ وہ اپنی ہنسی دباۓ معصومیت سے کہنے لگا آہ اس سے پہلے میں آپ کو کچھ کر بیٹھوں جائیں یہاں سے کبرا چلائی سوچ لو اب بھی مدد نہیں چاہیے؟ تسمیر جھک کر اسکے آگے ہاتھ پھیلا گیا کوئی ضرورت نہیں ہے جائیں یہاں سے وہ آنکھوں میں نمی لیے بولی جا رہا ہوں ویسے بھی مجھے اپنی عزت بہت عزیز ہے تسمیر اسکی پہلی والی بات پر زور دیے ذومعانی انداز میں کہتا آگے بڑھ گیا آہ میرے اللہ آہ اتنے سکون سے گزر رہی تھی زندگی ایسی بلا کو بھیجنے کی کیا ضرورت تھی؟ خود سے کہتی وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی جب صباحت تیزی سے اندر داخل ہوئی تھی کیا ہوا؟ آؤ اٹھو زیادہ تو نہیں لگی؟ اسے سہارہ دیے اٹھاتی وہ پریشانی سے گویا ہوئی شکر ہے تم آگئیں کبرا سکھ کا سانس لے گئی ہاں مجھے میر سر نے بھیجا ہے وہ کہ رہے تھے کہ تم اپنی بیوقوفی کی وجہ سے گر گئی ہو اسئلے انھوں نے مجھے بھیجا ہے کتنا خیال رکھتے ہیں وہ تمہارہ صباحت اسکا ڈوپٹا سیٹ کرتی مصروف سی بولی ہاں بلکل بہت خیال رکھتے ہیں پوری دنیا میں ایک وہی تو ہیں جنہیں میرا خیال ہے مجھے تو سمجھ نہیں آتی اللہ کا شکر کس طرح ادا کروں کبرا تپ کر کہتی اسے چٹ لگا گئی مار کیوں رہی ہو یار اتنے اچھے تو ہیں ویسے اگر تمہاری شادی ہو گئی ان سے تو؟صباحت منہ بناۓ کہتی آخر میں مزے سے بولی کبھی نہیں کبھی بھی نہیں مر کر بھی نا کروں ان سے شادی ابھی تمہیں پتا نہیں ہے انھوں نے میرے ساتھ کیا کیا ہے کبرا طنزیا لہجے میں کہنے لگی کیا مطلب؟ اسکی بات سے صباحت ابرو اچکاۓ کہنے لگی جس پر وہ اسے رات والا سارہ واقعہ سنا گئی الزام لگایا ہے لیکن مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا میرے اللہ جانتے ہیں میرا کوئی قصور نہیں ہے اور وہی میرا بدلا لیں گے کبرا پر اعتماد انداز میں بولی واٹ؟ واقعی؟ مطلب کے حد ہو گئی ہے میر سر ایسے کیسے کر سکتے ہیں؟ تم جیسی لڑکی پر کوئی کیسے الزام لگا سکتا ہے؟ مجھے تو یقین نہیں آرہا اسکی بات صباحت کے لیے واقعی حیران کن تھی اسئلے تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑا ہاں اگر یہ بات کوئی ایسا شخص کرتا جو مجھے اچھے سے جانتا ہو تو یہ بات میرے لیے صدمے سے کم نا ہوتی لیکن تسمیر خان سے مجھے کوئی امید نہیں کبرا لہجے میں بلا کی اجنبیت لیے بولی جس پر صباحت محض سر ہلا گئی تھی

*****************

رات کے کھانے کی ٹیبل پر سب موجود تھے عباس خان جب آغا جان نے خاموشی کو توڑا جی بابا عباس صاحب کے کہنے پر سب انکی طرف متوجہ ہوۓ گل خان نے برکت کے لیے اپنے بیٹے کا رشتہ ڈالا ہے آغا جان کے کہنے پر روحان کا چلتا ہاتھ رکا لیکن آغا جان برکت سے پہلے کبرا ہے ابھی رخسانہ بیگم انہیں دیکھتی کہنے لگیں ہاں انھوں نے ہمیں پہلے کبرا کی ہی بات کی تھی لیکن ہم نے انہین بتا دیا کہ کبرا تو ہمارے تسمیر کی مانگ ہے آغا جان عام سے انداز میں کہنے لگے جبکہ انکی بات سے ٹیبل پر بیٹھے ان پانچوں کے سروں پر دھماکہ ہوا تھا واٹ؟ یہ بات کس نے کہ دی ہے آپ کو؟ تسمیر جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا تھا آپ شاید بھول رہے ہیں تسمیر خان ہمیں یہاں پر اپنا حکم سنانا ہوتا ہے نا کہ دوسرے کے پیغام دینا ہوتا ہے یہ فیصلہ ہمارا ہے جس پر گھر میں کسی کو اعتراض نہیں ہے آغا جان اسکی حرکت سے سختی سے بولے ”لیکن مجھے ہے میرا اور کبرا کا کوئی میچ نہیں ہے آپ ایسے کیسے میری زندگی کا فیصلہ کر سکتے ہیں؟ مجھے یہ شادی نہیں کرنی آغا جان بہتر ہوگا آپ اسکی شادی وہاں کروائیں جہاں اسکا دل بھی ہو“ وہ بلند آواز میں کہتا آخر میں جون کی طرف اشارہ کرتا بولا (جبکہ کبرا اس وقت بلکل خاموش تھی یہ بات اسکے لیے کسی صدمے سے کم نا تھی لیکن ایک بات پر دل پرسکون تھا اسکا کام تسمیر خود کر رہا تھا) تسمیر خاموشی سے بیٹھ جاؤ علی صاحب کی روعبدار آواز گونجی تھی جس پر وہ سر جھٹک کر اپنے روم کی جانب تیز تیز قدم بڑھا گیا معاف کیجیے گا آغا جان میں سمجھاؤں گی اسے اسکی بدتمیزی کے لیے میں معافی مانگتی ہوں آپ سے سلمہ بیگم بیٹے کی بدتمیزی پر شرمندہ سی کہنے لگیں جب آغا جان اداسی سے اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے ٹیبل پر بیٹھا ہر شخص پریشانی سے انہیں جاتا دیکھ رہا تھا سواۓ روحان کے جو سرخ انگارہ آنکھیں لیے برکت کو گھور رہا تھا خود پر کسی کی نظر محسوس کرتی برکت اسے دیکھنے لگی جو,اسکی توجہ پاتے ہی اسے اوپر چلنے کا اشارہ کر گیا……

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ہاں بولو کیا بات ہے؟ برکت اسکے پاس آتی بولی تم ابھی جاکر اختر خان کے رشتے سے انکار کر رہی ہو! روحان سامنے دیکھتا سخت لہجے میں بولا کیوں بھئی؟ کس خوشی میں؟ اور میں کیوں کروں انکار؟ یہ فیصلہ بابا جان اور ماں کا ہے مجھے تو انکے کسی فیصلے سے اعتراض نہیں ہے برکت اسکی تنی ہوئی رگیں دیکھے بغیر مزے سے کہنے لگی جب وہ پلٹ کر جھٹکے سے اسے دیوار سے لگا گیا تم نہیں کروں گی اس سے شادی سرخ آنکھیں لیے وہ ایک ایک لفظ چبا کر کہنے لگا تتم ہوش میں نہیں ہو میں ابھی آغا جان کو بتاتی ہوں تم کوئی سستہ نشہ کر کے آۓ ہو برکت اسے دھکا دیتی نا سمجھی سے بولی میں پوری طرح ہوش میں ہوں برکت تم جاکر صاف منع کر دو چاچی کو میں اور کچھ نہیں جانتا روحان ہنوز ضدی انداز میں بولا اچھا وہ کیوں؟ برکت ابرو اچکا گئی کیوں کہ میں نہیں چاہتا تم جیسی چڑیل کسی کی زندگی برباد کر دے تم خود سوچو یار وہ اتنا شریف آدمی کیسے جھیلے گا تمہیں؟ میں سب کچھ جانتے بوجھتے کسی کو آگ میں نہیں جلنے دے سکتا میری بات مانو جاکر چاچی کو بتا دو کہ تمہیں صرف میں سنبھال سکتا ہوں میں انکے لیے یہ قربانی دے دوں گا تو پھر کیوں کسی کو بلا وجہ قربان کرنا؟ روحان اپنی ٹون میں واپس آتا شرارتی مسکراہٹ لیے بولا میں تمہارہ سر پھاڑ دوں گی برکت اسے چپل مارتی چلائی جس پر روحان کا زوردار قہقہ گونجا تھا

جبکہ دوسری جانب وہ روم میں آتے ہی شراب کی بوتل منہ سے لگاۓ بیڈ پر دھے سا گیا تھا جب جون اسکے کمرے میں داخل ہوا تو آخر چاہتا کیا ہے؟ اسے اس حالت میں دیکھ کر وہ ناسجھی سے بولا چاہتا تو میں بہت کچھ ہوں لیکن تو کس بارے میں پوچھ رہا ہے؟ تسمیر اپنی دھن میں کہنے لگا میں کُبرا کی بات کر رہا ہوں کل تک تو اسکے میرے ساتھ ہونے پر جل رہا تھا اسکے ساتھ ساتھ مجھے زلیل کر رہا تھا اور آج جب آغا جان نے تیری اور اسکی شادی کی بات کی تو پھر انکار کیوں کیا؟ تو اسے اپنانا بھی نہیں چاہتا اور کسی کا ہوتے دیکھ بھی نہیں سکتا آخر چاہتا کیا ہے تو؟ جون ناسمجھی سے بولا پتا نہیں وہ لڑکی عجیب ہے اور تو جانتا ہے مجھے عجیب چیزیں اچھی لگتی ہیں لیکن ہر چیز ایک وقت تک اچھی لگتی ہے اور وہ کوبرا تو کبھی کبھی مجھے زہریلی بھی لگتی ہے خاص کر جب جب وہ تیرے ساتھ ہو دل کرتا ہے جان سے ہی ختم کر دوں تم دونوں کو ہاں لیکن مجھے وہ میرے ساتھ بھی نہیں چاہیے تسمیر گھمبیر لہجے میں کہنے لگا تو ابھی نشے میں ہم اس بارے میں کل بات کریں جون اسکے ہاتھ سے بوتل لیتا بولا میں ہوش میں ہوں تو بتا مجھے میں کیا کروں؟ تو سب سے پہلے اپنی کنفیوزن ختم کر خود سے پوچھ اور پھر ہی کوئی فیصلہ کر اسکے سوال پر جون ایک ایک لفظ پر زور دیتا بوتل لیے روم سے باہر نکل گیا

***************

اپنے کمرے میں آتے ہی وہ سب سے پہلے جاۓ نماز پر بیٹھ گئی تھی اس کے آغا جان نے اسکے لیے وہ بندہ چنا تھا جس نے ایک دن پہلے ہی اسکے کردار پر انگلی اٹھائی ہے یا اللہ آپ بس وہی کریئے گا جو میرے حق میں ہو میرے نصیب میں اسے ہی رکھیے گا جو میرے لیے بہتر ہو جسے میرے کردار پر مجھ سے بھی زیادہ یقین ہو جو میرے ساتھ ہو تو میں خود کو محفوظ محسوس کروں جس سے ملنے کے بعد مجھے میرے ایمان پر جو یقین ہے وہ اور بڑھ جاۓ میں اپنا سب کچھ آپ کے حوالے کرتی ہوں آپ میرے لیے ایسا ہمسفر ڈھوندیے گا جو میرے لیے بہتریں ہو دعا مانگ کر اٹھتی وہ بیڈ پر آئی تھی جب اسکا فون بجا جسے وہ فورا آٹینڈ کر گئی فرماؤ فون اٹھاتے ہی وہ منہ بناۓ بولی کیا ہو گیا موڈ کیوں خراب ہے؟ دوسری طرف سے صباحت کی آواز گونجی تھی تمہاری کالی زبان کے چکر میں خراب ہے میرا موڈ کُبرا جل کر کہنے لگی کیوں بھئی میں نے کیا کیا ہے؟ اسکے پوچھنے پر وہ اسے سارہ واقعہ سنا گئی جس پر صباحت کا زوردار قہقہ گونجا تھا ہنس کیوں رہی ہو اب؟ تمہیں ہنسنے کی پڑی ہے یہاں میرا دماغ سوچ سوچ کر خراب ہو رہا ہے کُبرا تپ کر بولی ریلیکس یار تم خود تو کہ رہی ہو کہ تسمیر سر نے منع کر دیا خود تو کہتی ہو تسمیر خان کے آگے کسی کی نہیں چلتی تو تم اب کیوں پریشان ہو رہی ہو؟ صباحت ہنستے ہوۓ بولی ہاں ویسے کہ تو تم ٹھیک رہی ہو جب تک وہ خود اس بات کے خلاف ہیں مجھے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے خیر چھوڑ یہ بتاؤ کل کیا پہن رہی ہو پارٹی میں؟ صباء کی بات سے وہ پرسکون ہوتی ادھر ادھر کی باتوں میں مصروف ہوگئیں

*****************

صبح ناشتہ پرسکون ماحول میں کیا گیا اسکے بعد سب پارٹی کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے تھے رسٹ کلڑ کی لونگ شرٹ پلازو پہنے بالوں کو فرینچ چٹیاں باندھے کانوں میں ٹوپس پہنے سر پر اسٹولڑ ڈالے لائٹ سے میک اپ میں وہ بے حد پیاری لگ رہی تھی آجاؤ نیلی بلی ورنہ میم سر کھول دیں گی روحان اسے دیکھتا مسکرا کر بولا ہاں آرہی ہوں برکت چلی گئی ہے؟ کبرا ابرو اچکاۓ کہنے لگی ہاں وہ میر بھائی کے ساتھ گئی ہے ناراض ہے مجھ سے روحان کندھے اچکا گیا آہاں؟ بہت ناراضگیاں چل رہی ہیں تم دونوں میں خیر تو ہے؟ کبرا کے کہنے پر روحان سر جھٹک گیا فلحال تو کوئی سین نہیں ہے اگر ہوا تو تمہیں سب سے پہلے بتاؤ گا میری دوست!

روحان مسکرا کو بولا اچھا مطلب ارادہ ہے؟ کبرا اسے چھیڑنے لگی جس پر وہ آنکھ مارتا اسے چلنے کا اشارہ کر گیا

****************

کہاں رہ گئے ہیں کبرا اور روحان ارم میم غصے سے بولیں لیجیے آگئے وہ رہے جب صباحت انہیں دیکھ کر خوشی سے بولیں تھی

پارٹی زور و شور سے ہو رہی تھی صباحت تم ایسا کرو اندر سے چارٹ لا دو کبرا اسکے پاس آتی کہنے لگی کہاں رکھے ہیں؟ صباحت ابرو اچکاۓ بولی ایف اس سی کی کلاس میں رکھے ہیں تم پلزز لے آؤ جب تک میں باقی سب دیکھتی ہوں کبرا منت بھرے لہجے میں کہنے لگی جس پر وہ سر ہلاتی اندر کی طرف بڑھی افف اتنا اندھیرا کر دیا ہے یہاں سامنے اندھیرا دیکھ کر وہ خود سے بولی (پارٹی کی وجہ سے لائٹ مدھم رکھی گئی تھیں) یہ سب سوچتے ہوۓ وہ سامنے کلاس کی طرف بڑھی جب اسے خود پر کسی کی نظریں محسوس ہوئی پلٹ کر دیکھنے پر وہاں صرف پیر تھا افف صباحت فضول مت سوچو جلدی سے چارٹ اٹھاؤ اور چلو یہاں سے خود سے کہتی وہ کلاس کے اندر داخل ہوئی جب کوئی اسکے پیچھے آتا دروازہ بند کر گیا ککون ہے؟ گھپ اندھیرے میں دروازہ بند ہونے کی آواز سے وہ کپکپاتے ہوۓ بولی (یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ اسے لائٹ اون کرنے کا موقع ہی نا ملا) ارے اکیلے آنے کی کیا ضرورت تھی مجھے بتاتی تو میں بھی ساتھ آجاتا کسی کی لفرانہ آواز گونجی انجانی آواز سنتے ہی اسکی روح تک کانپ گئی تھی کککون ہو ککیا چاہیے تمہیں؟ وہ اب آنکھوں میں نمی لیے چلائی ارے یار تم نے پہچانہ نہیں مجھے کتنی غلط بات ہے میں تو کب سے تم پر نظر رکھے ہوۓ ہوں اور تمہیں کبھی میری محبت نظر ہی نہیں آئی لڑکا لفرانہ انداز میں کہتا اسکی جانب قدم بڑھا گیا بچاؤ کوئی ہے اسکے الفاظ سنتے ہی وہ زور سے چلائی تھی ارے شور مت کرو نا ویسے بھی کوئی فائدہ نہیں ہے چیخنے کا اس شور میں کون تمہاری آواز سنے گا لڑکا قہقہ لگاۓ بولا بچاؤ پلززز کوئی ہے؟ صباحت آنسوؤں سے تر چہرہ لیے چلائی جب وہ جھٹکے سے اسے اپنے قریب کر گیا گھبرا کیوں رہی ہو جان میں ہی ہوں تمہارہ اپنا ابھی وہ بول ہی رہا تھا جب کسی نے پوری قوت سے دروازے کو جھٹکا دیا تھا جبکہ دروازے کی آواز سنتے ہی وہ لڑکا اس سے الگ ہوا “یو بیچ” غصے سے کہتا وہ کھڑکی پھلانگتا باہر کی طرف بھاگا جب تسمیر جھٹکے سے دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا وہ جو یہاں سگریٹ کے کش لگانے آیا تھا اندر سے آتی آواز سنتے ہی اس طرف متواجہ ہوا کون ہے یہاں؟ وہ چلایا جب صباحت شکر ادا کرتی وہی زاروں قطار رونے لگی اسکی آواز سے تسمیر اسکی طرف آیا صباحت؟ اسکے چہرے پر لائٹ ڈالے وہ حیرتذدہ سا بولا تھا

**************

روحان یار یہ صباحت کو دیکھ کر تو آؤ کہاں گئی ہے ابھی تک نہیں آئی کبرا پریشان سی کہنے لگی تم خود چلی جاؤ مجھے ابھی پرفوم کرنا ہے کبھی بھی جانا پڑھ سکتا ہے روحان مصروف سا کہنے لگا جس پر وہ سمجھتے ہوۓ اس جانب بڑھ گئی

کیا ہوا ہے؟ کچھ بتاؤ تو سہی تسمیر اسے کھڑا کرتا نرم لہجے میں بولا لیکن وہ اس وقت کچھ بھی کہنے کی حالت میں نہیں تھی اچھا ریلیکس تم رو مت ہم اس بارے میں بعد کرتے ہیں تسمیر اسکے بازو تھامے سمجھانے لگا جب کبرا یہاں داخل ہوئی صباحت؟ اسکی آواز سنتے ہی صباء بھاگتے ہوۓ اسکے گلے جا لگی کیا ہوا؟ کبرا لائٹ اون کرکے اسے دیکھتی پریشان سی بولی جو رو رو کر نڈھال ہو گئی تھی لیکن جواب میں وہ صرف روۓ جا رہی تھی جب کبرا کی نظر اس پر گئی جو خود پریشان سا اسے دیکھ رہا تھا وہ اسے ہٹاتی کچھ بھی سوچے سمجھے آگے بڑھتی ایک زور دار تھپر تسمیر کو جڑ گئی شرم آنی چاہیے آپ کو ایسی گھٹیا حرکت کرتے ہوۓ اس دن آپ میرے کردار پر انگلی اٹھا رہے تھے آج میں آپ سے پوچھتی آپ کا کردار کہاں گیا میری دوست کے ساتھ ایسی گھٹیا حرکت کرتے ہوۓ؟ آپ کیا منع کریں گے میں آج ہی آغا جان سے کہ دوں گی مجھے آپ جیسا شخص ہرگز قبول نہیں کبرا سرخ انگارہ آنکھیں لیے چلائی ہاؤ ڈئیر یو؟ ہمت کیسے ہوئی تمہاری؟ تسمیر اس اچانک حملے پر ڈھارا جبکہ اسکی ڈھار سنتے ہی کبرا کو اپنا وجود اندر تک کانپتا محسوس ہوا تھا آئندہ اگر ایک انگلی تک اٹھانے کی ہمت کی تو ہاتھ کاٹ دوں گا تمہارہ تسمیر غصے سے ڈھارتا باہر کی طرف تیز تیز قدم بڑھا گیا تھا