📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 45 (Last Episode Part 2)

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

رات کے نجانے کس پہر اسکی آنکھ مسلسل کسی کے جگانے کے باعث کھولی تھی

ہمم؟ وہ نیند میں ہی کمسمایا تھا

تسمیر اٹھیں…جلدی اٹھیں… اس کی آواز سے وہ ہڑبڑا کر اٹھا

کیا ہوا؟ میں موم کو بلاتا ہوں.. وہ تیزی سے اٹھتا اپنے سفید پاؤں میں چپل آڑستا بولا جبکہ اسکی حالت پر کُبرا اپنی ہنسی ضبط کرکے رہے گئی

مجھے چورن کھانا ہے! اس کی آواز سے وہ جاتے جاتے پلٹا تھا

واٹ؟

مجھے چورن کھانا ہے! وہ سنجیدہ تھی

دماغ سیٹ ہے تمہارہ؟ اتنی رات کو یہ فضول سی فرمائش کے لیے اٹھایا ہے مجھے؟ تسمیر ان آٹھ مہینوں میں اسکی بے وقت کی عجیب سی فرمائشوں پر تپ کر رہے جاتا تھا

ٹھیک ہے نا لائیں میں خود لے آؤں گی… ویسے بھی سوئیں آپ… وہ روٹھے انداز میں کہتی منہ موڑ گئی

اچھا بتاؤ؟ کہاں سے لاؤں اس ٹائم یہ چورن؟ اسکی کنڈیشن کو دیکھ کر وہ نرم پڑا

نیچھے کچن میں رکھا ہوا ہوگا اور اگر نا ہو تو کہیں سے بھی لا دیں…

اوکے! اسکے آرڈر پر سر جھٹک کر وہ کچن کی طرف آیا

یہ لو… اور چھپ کرکے سو جاؤ! تقریبا آدھے گھنٹے کے وہ کہی سے چورن ڈھوند کر اسکے سامنے تھا

آپ بہت لیٹ آۓ ہیں اب مجھے نہیں کھانا…..!!!

اسکے عام سے انداز پر تسمیر کا منہ کھلا کا کھلا رہے گیا اتنےعرصے میں جتنا تنگ اسنے کُبرا کو کیا تھا ان آٹھ مہینوں میں وہ اس سے ڈبل اسے تنگ کر چکی تھی

تم بچو گی اب مجھ سے؟ تیش سے کہتا وہ اسکو اپنی مضبوط گرفت میں لے گیا

بہت تنگ کر رہی ہو نا؟ یاد رکھنا گن گن کر بدلے لوں گا میں.. اسکا سر اپنے سینے پر رکھے وہ اسکے بال سہلاتے ہوۓ بولا کے کُبرا اسکے محبت سے بھرپور لہجے سے گلابی ہوتی اسے مخاطب کر گئی

تسمیر؟

جی…

مجھے بہت ڈر لگتا ہے اگر میں مر گئی تو؟ وہ اسکے چہرے پر نظریں مرکوز کیے پرسوچ سی بولی تسمیر جو اسے خود سے لگاۓ آنکھیں موند ہوۓ تھا اسکی بات سے جھٹکے سے گردن اٹھا کر اسے دیکھا

نہیں مجھے یہ بتاؤ اس حالت میں انسان کا دماغ اپنی جگہ سے ہل جاتا ہے؟ سختی سے کہتا وہ اسے چٹ لگا گیا

بتائیں اگر مجھے کچھ…

یار کُبرا پلزز کیوں ایسے ری ایکٹ کر رہی ہو؟ کچھ نہیں ہوگا میں ہوں نا؟ اس کی بات بیچ میں اچکتا وہ اسکی پیشانی پر لب رکھ گیا

ویسے ایک بات بتاؤ؟ یہ تمہارا نام کُبرا رکھا کس نے تھا؟ کوبرا…! اس کو پرسکون کرنے کو وہ بات بدل گیا

آپ کو کیا سوجی ہے اس ٹائم؟

ہاں تو ٹھیک ہی تو پوچھ رہا ہوں تاکہ اپنے بے بی کا نام میں خود رکھ سکوں.. کل کو اگر کسی نے تمہاری طرح اسکا نام اینا کونڈا رکھ گیا تو پھر تو میں گیا نہ… وہ شرارتی انداز میں کہتا اپنی ہنسی دباۓ آنکھیں پھر سے موند گیا

تسسسمیر!!!! آپ کبھی سدھر سکتے ہیں؟ اسکی گرفت میں وہ مچلی سی تھی

.

نہیں! وہ بظاہر تو اسے پرسکون رکھے ہوۓ تھا جبکہ اسکی باتوں سے اسکا خود کا دل ضرور ڈوب کر ابھرا تھا

*********************

صبح وہ اس سے پہلے ہی اٹھ گیا تھا ان دنوں ویسے بھی وہ دیر سے ہی اٹھتی تھی اسکی عادتیں بگاڑنے میں سارہ ہاتھ تسمیر ہی کا تھا جو اسے سخت وارننگ دیے رکھتا تھا

کچھ دیر میں وہ فریش سا باہر آیا تو نظر اس پر گئی جو شاید ابھی ہی اٹھی تھی

کہاں جا رہے ہیں؟ آنکھیں ملتی وہ ڈریسنگ کے پاس آئی

آوفس.. ایک لفظی جواب دیتا وہ اپنے بال بنانے لگا

کب آئیں گے؟ اگلا سوال آیا تھا

.

تسمیر نے ایک نظر اس پر ڈالی جو بھری بھری سی اسے مزید خوبصورت لگ تھی

ویسے کُبرا تم میں چاہتا ہوں تم بعد میں بھی ایسے ہی رہوں! اس پر گہری نظریں مرکوز کیے وہ محبت سے بولا

ہاں؟ دنیا میں شاید میرا شوہر ہی انوکھا ہوگا جیسے موٹی بیوی پسند آرہی ہوگی… وہ منہ پھلا گئی

اگر بیوی کُبرا تسمیر خان ہو تو پھر چاہیے موٹی ہو یا پتلی مجھے ہر حال میں قبول ہے…!!!

اب آپ بتانا پسند کریں گے یہ اتنی تعریفیں کس خوشی میں ہو رہی ہیں؟ اسکی معنی خیز باتیں سنتی وہ ابرو اچکا گئی

ہاں تو بات یہ ہے کے میں جا رہا ہوں آج لیٹ ہو جاؤں گا! مدعے پر آتا وہ اسے سلگا گیا

یو….!

تسمیر صاحب نیچھے مریم صاحبہ آئی ہیں باہر سے آتی ملازمہ کی آواز پر وہ دونوں چونکے

یہ یہاں کر رہی ہے! اسکی رگیں یکدم ہی تنی تھی تیز تیز قدم بڑھاتا وہ کمرے سے نکلا جب کُبرا بھی اسکے پیچھے ہی آئی تھی

تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ تیز تیز سڑھیاں عبور کرتا وہ ڈھارا

وہ میں… میں لنڈن جا رہی تو… میئری منمنائی

تو کیا ہاں؟ تم نے سوچا کے ایک آخری آگ لگا کر چلی جاؤ

وہ اس پر ڈھارتا اسکا بازو بری طرح جھنجوڑ گیا

تسمیر چھوڑیں اسے…. کُبرا مریم کے چہرے پر تکلیف دہ آثرات دیکھ کر اس سے بولی

تم اوپر جاؤ….

میئری نے ایک نظر اسکے پیچھے کھڑی کُبرا پر ڈالی جس کا بھرا ہوا وجود اس سے برداشت نہیں ہوا تھا

تم نے سکون چھینا ہے میرا… اللہ کرے تمہیں خود کبھی کوئی نصیب نا ہو مر جاؤ تم کُب… باقی الفاظ بولنے سے پہلے ہی تسمیر نے اس کی گردن دبوچی تھی

تسمیر چھوڑیں آپ کو میری قسم ہے چھوڑیں اسے…

اسکی آواز پر وہ جھٹکے سے مڑا

تمہیں سمجھ نہیں آرہی ہے؟ جاؤ یہاں سے! وہ اتنی زور سے چلایا تھا کے کُبرا کے قدم ہلکے سے ڈگمگاۓ لیکن اگلے ہی.لمحے وہ اس کی بات کا آثر نا لیتی اسکا بازو تھامے مریم کے بلکل سامنے آئی

میں نے تمہارہ کوئی سکون نہیں چھینا… یہ میرے شوہر ہیں ان پر صرف میرا حق ہے سمجھ آرہی ہے؟ ان پر تمہارہ حق کبھی تھا ہی نہیں…

تم نے سنا نہیں بیوی بیوی ہوتی ہے اور باہر والی باہر والی..! ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کرتی وہ مریم سے زیادہ تسمیر کو حیرتذدہ کر گئی

میں لنڈن جا رہی ہوں..اب کبھی نہیں آؤں گی تمہیں بس آخری بار دیکھنے آئی تھی اس سے زیادہ برداشت نا ہو تسمیر کو ایک نظر دیکھتی وہ ایک جلن حسد بھری نظر کُبرا پر ڈالتی تیزی سے باہر نکل گئی کے کُبرا اسکی نظروں دل ہی دل میں خوفذدہ ہوئی تھی

آہ میری جنگلی بلی!! اسکے جاتے ہی وہ کُبرا کو دیکھتا شرارت سے بولا

بیٹا سب ٹھیک تو ہے اتنا شور کیوں آرہا تھا؟ سلمہ آوازیں سنتی باہر آئیں

کچھ نہیں موم …چلو اب میں چلتا ہوں کھانا ٹائم پر کھا لینا… موم اسکا خیال رکھیے گا اسے تمہبیہ کرتا اسکی پیشانی چومتا وہ واک اوٹ کر گیا

سب خیریت ہے نا؟ سلمہ کے پوچھنے پر وہ انہیں سادہ واقعہ بتا گئی

اللہ رحم کرے…. میں ابھی تمہارہ صدقہ دیتی ہوں وہ خود بھی کافی حد تک پریشان ہو گئی تھیں

*********************

کیا کر رہی ہو؟ اسے چھت ہر اکیلا کھڑا دیکھ وہ پیچھے سے حصار میں لیے بولا

کچھ نہیں….برکت ریلنگ پر جھکی پرسکون سی کہنے لگی

اچھا تو پھر ہمارا بے بی کب آرہا ہے؟ اس نے اپنا روزانہ والا جمعلہ دھرایا

یقین کرو روحان اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں آج ہی اٹھا کر تمہاری گود میں ڈال دیتی یہ اللہ کے کام ہیں اب مجھ سے مت پوچھنا! وہ اب صیح معینوں میں تپی. تھی

اچھا تو بندوں کو بھی زرا اپنی کوشش تو کرنی چاہیے! ذومعانی انداز میں کہتا وہ اسکے گال پر بوسہ دے گیا کے اسکی باتوں اور جسارت پر برکت کے گال تمتما اٹھتے تھے

ویسے تم نے مجھے وش نہیں کیا…..؟

واٹ تمہاری برتھ ڈے؟ ہا میں کیسے بھول سکتی ہوں…..وہ دونوں ہاتھ تھامے پر مارتی اس کی طرف مڑی جو چہرے پر عجیب سے تاثرات سجاۓ اسے دیکھ رہا تھا

اگلے مہینے ہے میری برتھ ڈے…. میں اپنی پرموشن کا وش کہ رہا ہوں…. وہ بگرے تاثرات سے بولا

مطلب اس کی بیسٹ فرینڈ پلس اسکی اکلوتی بیوی کو اسکی برتھ ڈے تک نہیں پتا تھا

اچھا نہ لڑکیوں کی طرح کیوں روٹھ رہے ہو…. کانگریچولیشن!! اس کے گال پر چٹکی بڑھتی وہ محبت سے بولی

یار برکت مت کیا کرو…. وہ ہمیشہ ہی اس کے گال پر چٹکی بڑھنے سے اکتا جاتا تھا

اوپپ سوری میری روٹھی مینا تو ناراض ہو گئی قہقہ لگا کر کہتی وہ ایک بات اسکے گالوں پر چٹکی بھر گئی….

…………………..

اس کے جانے کے بعد وہ روم میں آتی اس کی اپنی فرسٹ اینیورسری پر دیے گئے گفٹ کو کھول گئی

اسنے اپنی اینیورسری پر کُبرا کو ایک خوب صورت سا ڈائمنڈ ایک نیکلس دیا تھا اور اس کے ساتھ ایک چٹ تھی جس پر اسنے خود اپنے جیل میں بتاۓ جاۓ والے دنوں میں اس کے لیے ایک غزل لکھی تھی جو اسنے اپنی زندگی کے سب کے خاص دن پر اسے سنائی تھی

شدتوں کا کمال لکھوں تو میں تجھے لکھوں.

اپنے دل کا حال لکھوں تو میں تجھے لکھوں.

پہلی نظر میں تجھ کو دیکھ کر سوچا تھا میں نے

گر قدرت کا شہاکار لکھوں تو میں تجھے لکھوں

اپنی سبز آنکھوں میں جو نظر آتی ہے ایک صورت

گر اسکا نین نقش بیاں کرو تو میں تجھے لکھوں

اس لفظِ شدت کو ہر زبان میں پڑھا ہے میں نے گر تیرے واسطے اپنے جزبات لکھوں تو تجھے شغف دل لکھوں..

تیری آنکھوں میں جھانک کر دیکھا ہے میں نے اگر کچھ سمندر سے بھی گہرا لکھوں تو تیری آنکھیں کا حال لکھوں

اور اپنی شدتوں کا حال کیا بیان کروں میں

میں نے سوچا ہے سب کے دھٹ جاؤں گا میں

جو کوئی تیرا نام بھی لے تو یا تو اسکے

حیات چھینوں گا یا خود مر جاؤں گا میں

تجھے میں کیسے بتلاؤں تیرے

واسطے دل کی شدت ہی کچھ اور ہے

یوں نہیں ملتا میں کسی سے بار بار یوں

یوں نہیں ہیں ہر کسی کے لیے میرا لہجہ نیاب

یہ صرف آپ کے لیے ہیں اور

پھر آپ تو آپ ہیں آپ کی تو بات ہی کچھ اور ہے

یہ آپ جناب کے سارے تقاضے ایک طرف تو میری محبت کو دیکھ تجھ سے میری گفتگو کا انداز ہی کچھ اور ہے

نہیں معلوم یہ محبتوں کے تقاضت ہمیں تم سے شاید محبت ہے عشق ہے یا شاید اس سے بھی بڑھ کر کچھ اور ہے

ہاں اپنی شدتوں کا کمال لکھوں میں تو میں تجھے لکھوں

اپنے دل کا حال لکھوں تو تجھے لکھوں

لفظِ شدت کو ہر زبان میں پڑھا ہے میں نے گر تیرے واسطے اپنے جزبات لکھوں تو تجھے شغف دل لکھوں

(ازقلم:سیدہ شاہ)

ہر لفظ محبت سے کہتا وہ اسے نیکلس پہنا گیا کے کُبرا آنکھوں میں آنسو لیے اسکے سینے پر سر رکھ گئی

درد کی اٹھتی ٹیس سے وہ ہوش میں آئی تھی

آیا جان…. اس کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر سلمہ فورن سے رخسانہ کو کہتی جون کے ساتھ ہوسپٹل پہنچی تھیں

آیا جان….تسس.تسسمیر کو بلائیں!

ہاں میں کال کرتی ہوں… سلمہ کہتے ہی کال ملا گئیں

جی موم! وہ کام میں مصروف سا بولا

بیٹا کُبرا کی طبیت خراب ہو گئی ہے ہم ہوسپٹل پہنچ رہے ہیں تم جلدی آجاؤ…. ان کی بات سنتے ہی وہ جھٹکے سے کھڑا ہوا تھا

ککون سے ہوسپٹل.. میں آرہا ہوں!!!

اپنے سارے کام ایسے ہی چھوڑتا وہ بھاگنے کے سے انداز میں باہر نکلا پندرہ منٹ کا راستہ اسنے پانچ منٹ میں تہ کیا تھا

کیا ہوا ہے موم؟ سلمہ بیگم اسے سامنے ہی کولڈور میں کھڑی نظر آئیں

بیٹا ایک دم ہی طبیت بگڑ گئی ہے اس کی ڈاکٹر ابھی تک آے نہیں ہیں باہر….

ان کے کہتے ہی ڈاکٹر باہر آے تھے

پیشنٹ کے ساتھ کون ہیں؟ لیڈی ڈاکٹر نے آتے ہی انہیں مخاطب کیا تھا

جی میں شوہر ہوں ان کا! تسمیر علی خان!

دیکھیں مسٹر تسمیر ہم آپ سے کوئی چیز نہیں چھپائیں گے اصل میں آپ کی وائف میں کیس میں کمپلیکیشنز ہیں ہمیں آج ہی اوپریشن ہوگا آپ خود کو ہر طرح کے نیتجے کے تیار رکھ لیں…. ڈاکٹر کے الفاظ پر اس نے نا سمجھی سے انہیں دیکھا

بٹ ڈاکٹر میری وائف اور بے بی دونوں ہی ہیلتھی ہیں تو کمپلیکیشنز کس چیز کی؟

آپ شاید جانتے نہیں ہیں… ہم نے آپ کی وائف اور مدر کو پہلے وارن کیا تھا کے ان کی کنڈیشن ٹھیک نہیں ہے ویکنس ہے! اس کی بات پر اسنے گردن موڑ پر پیچھے کھڑی اپنی ماں کو دیکھا جو نظریں جھکا گئیں اسکی رگیں یکدم ہی تنی تھیں مٹھیاں بھینج کر اسنے اپنا غصہ بامشکل خود کے اندر اترا

اللہ ایسی نوبت نا لاۓ لیکن ہم ایک بار پھر بھی آپ سے پوچھنا چاہتے ہیں کے ماں اور بچے میں کیسی ایک کو بچانا…..

Save my wife!!

ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے وہ بیچ میں ہی اچک گیا تھا کے سلمہ نے بے اختیار آنکھیں مچی وہ اتنے دنوں سے اپنے بیٹے کے چہرے پر باپ بننے کی خوشی کے الگ ہی رنگ دیکھ رہی تھیں اور اب اس کے لیے کسی ایک کا فیصلہ کرنا کتنا مشکل تھا یہ بھی وہ بہت اچھے سے جانتی تھی

اور ایک بات اندر سارہ اسٹاف فی میل ہونا چاہیے..!

تسمیر؟ وہ اسے آوازیں دیتی رہے گئی تھیں جو ان کی ایک بھی سنے بغیر لمبے لمبے ڈھگ بھرے باہر نکل گیا

آپ لوگوں نے اچھا نہیں کیا! جون نے افسوس سے سر جھٹکا تھا

گھٹنے گزرتے جا رہے تھے اور دوسری طرف وہ مسجد میں بیٹھا ان دونوں کی سلامتی کے لیے دعا گو تھا

کچھ ہی لمحوں میں اسکا فون بجا سکرین پر روحان کا جگمگاتا ہوا نام دیکھ کر اسنے دل پر ہاتھ رکھا تھا وہ مضبوط تھا لیکن جب بھی بات اس کی بیوی پر آتی تھی وہ کمزور پڑ جاتا تھا

بھائی؟ کہاں ہے آپ؟

آپ کا دوسرا ورژن اور آپ کی بیگم صاحبہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں …. جلدی آجائیں!

ایک آنسو ٹوٹ کر اسکی ڈارھی میں گھم ہوا تھا

آرہا ہوں…! ایک لفظی جواب دیتا وہ سجدے میں گرتا چلا گیا

*******************

اپنے ارد گرد سے آتی آوازوں سے وہ آستہ آستہ آنکھیں کھول گئی خود کو ہوسپٹل میں موجود پاکر وہ پوری طرح بیدرا ہوئی

ماں میرا..؟

بیٹا ہوا ہے! رخسانہ جو اسکے ساتھ ہی بیٹھی تھیں اسے ہوش میں آتا محبت سے بولی

ان کی بات پر اسنے پرسکون ہوکر نمی اپنے اندر اتاری تھی

کہاں ہے؟ آس پاس دیکھنے پر جب وہ اسے نظر نہیں آیا تو وہ سلمہ سے مخاطب ہوئی

یہ لو یہ… اس کی آواز پر صباحت نے بچہ اسکی گود میں ڈالا ماں کی گود میں آتے ہی وہ پھٹ سے آنکھیں کھول گیا کُبرا نم آنکھوں سے اس حسین سے بچے کو دیکھنے لگی جو ہو باہو اپنے باپ کی کاربن کوپی تھا سبز گہری آنکھیں, مغرانہ ناک,گلابی سے ہونٹ ہاں مگر براؤن بال اسنے ضرور اپنے چاچو سے چراۓ تھے

کتنا پیارہ ہے یہ… وہ مہبم سی مسکرا کر بولی

آیا جان تسمیر کہاں ہیں؟ مصوم کو دیکھتے ہی اس کے باپ کی یاد آئی تھی

اس کے پوچھنے پر سلمہ اسے ساری بات بتا گئیں جسے سنتے ہی اسکا رنگ فق ہوا تھا اب اسکا ری ایکشن کیا ہوگا وہ اندازہ لگا سکتی تھی

اسلام و علیکم! تبھی اسکی آواز گونجی تھی

وعلیکم السلام! آؤ بھئی مبارک ہو بہت بہت خان خاندان کو تم نے ایک اور وارث سے نوازا ہے…. عباس اس کے آتے ہی جوش سے اسے گلے لگاتے بولے

شکریہ چاچو… ان سب سے مبارک باد وصول کرتا وہ اب مسکرا اسکے پاس آیا جو نظریں جھکاۓ ہوئے تھی اسے نظرانداز کرتا وہ اپنے بیٹے کو دیکھنے لگا

کُبرا اسکی جھجھک سمجھ گئی کے وہ اسے اٹھانے سے ڈر رہا ہے..

یہ لیں ایسے پکڑیں! خود سے اسے پکڑاتی وہ غور سے اسکے تاثرات دیکھنے لگی

کے اپنے بیٹے کو دیکھتے ہی تسمیر خان کی آنکھوں میں نمی تیری تھی کُبرا پہلی بار اس کی آنکھوں میں یہ چمک اور نمی دیکھ رہی تھی

تم پر گیا ہے! سلمہ اسکی پیشانی چوم کر بولی

میرا بیٹا جو ہے! فخر سے کہتا وہ ایک نظر اسکی ماں پر ڈال گیا جو منہ بناۓ اسے دیکھ رہی تھی

نام کیا رکھنا ہے اس کا؟ کُبرا کا نام تو تسمیر نے رکھا تھا اسئلے اب کی بار نام کُبرا رکھے گی… سلمہ کے نئے انکشاف پر حیرت سے انہیں دیکھا جبکہ ان کی بات سنتے ہی کُبرا کا جاندار قہقہ گونجا تھا

ککیا ؟ اسکا نام میں نے کیسا رکھا؟ وہ اب بھی حیرت میں تھا

جب کُبرا ہوئی تھی تو تم تقریبا آٹھ سال کے تھے اس وقت ایک درامہ تھا اس میں لڑکی کا نام کُبرا کا تھا تو تم نے اس کے نام پر اس کا نام رکھا تھا جو ہمیں بھی پسند تھا رخسانہ اسے تفصیل بتانے لگیں

کُبرا یہ کیسا نام ہے کس نے رکھا ہے یہ نام؟ اپنے کہے گئے الفاظ یاد کرتے ہی اسنے لب بھینجے تھے

چلیں آپ لوگ کونسی باتیں نکال کر بیٹھ گئے چلیں تسمیر بھائی بے بی کا نام بتائیں برکت ایکسائیٹڈد سی کہنے لگی

اس کا نام کُبرا رکھے گی! اسنے وہ اب اس پر نظریں جما گیا

میں نے اس کا نام… کبیر علی خان سوچا ہے! میرا اور تسمیر کے نام کا میکس! کُبرا گلابی سی بولی جس پر سب سمیت تسمیر کے چہرے پر گہری مسکراہٹ رینگی تھی

آپ لوگ اب گھر جائیں سب تھک گئی ہونگے میں ہوں یہاں! اسکے کہنے پر سب ان سے ملتے اٹھ گئے

ناراض ہیں؟ سب کے جاتے ہی وہ اسکا ہاتھ تھام گئی

میں کون ہوتا ہوں آپ سے ناراض ہونے والا؟ سب آپ ہی کی تو مرضی سے ہوتا ہے!

سوری! میں نہیں چاہتی تھی آپ.پریشان ہوں مجھے میرے اللہ پر پورا یقین تھا

وہ اسکا ہاتھ تھامے محبت سے بولی کے اس کی بات پر تسمیر جھک کر اسے اپنے حصار میں لے گیا اس وقت وہ اس سے ناراض ہو بھی نہیں سکتا تھا

You made me complete!

اسکی آنکھوں پر جھکے محبت سے اپنے لب رکھتا وہ پرسکون سا بولا تھا کے وہ اسکے حصار میں سمٹی سی تھی

*****************

تین سال بعد:

وہ کچھ بنانے میں مصروف تھی جب اسے اپنی کمر پر سنسناتا ہوا ہاتھ محسوس ہوا اسکی خوشبو پہنچانتے وہ پرسکون ہوئی

مجھے یاد کر رہی تھیں؟ آوفس سے آتے ہی اسے تلاش کرتا ہوا وہ کچن میں آیا جہاں وہ اسے ہمیشہ ہی کبیر کے لیے کچھ نا کچھ بناتی نظر آتی تھی

نہیں آپ کا بیٹا میری جان بخشے تو میں آپ کو یاد کروں گا! اکتاہٹ سے کہتی وہ تسمیر کو مسکرانے پر مجبور کر گئی

اب کیا کر دیا ہے میرے بیٹے نے؟ اسکے کندھے پر تھوڈی ٹکاۓ وہ محبت سے مخاطب ہوا

یہ پوچھیں کیا نہیں کیا؟ تیسرا سوٹ ہے جو میں چینج کروا کر آئی ہوں ابھی… مجھے تنگ کرنے کی قسم کھائی ہوئی ہے آپ باپ بیٹے نے….! وہ سیدھے ہوتی اسے گھورتے ہوۓ بولی

اتنا بھی مت پیچھے پڑا کرو فلحال مجھ پر دھیان دو اسکے صراحی گردن پر لب رکھے کہتا وہ اسے پل میں سرخ کر گیا

بڑی ماما بڑی ماما…. یہ مجھے تنگ کر رہا ہے اس کی آواز پر کُبرا اور تسمیر دونوں اس طرف متواجہ ہوۓ

براؤن بال اور براؤن ہی آنکھوں والی یہ خوب صورت سی بچی جس کا نام فجر روحان خان اسنے باپ نے رکھا تھا وہ ابھی دو سال ہی کی تھی جس کی جان کبیر ہر وقت ہی ہلکان کیے رکھتا تھا

تم آرہی ہو یا اٹھا کر لے چلوں؟ اسکے پیچھے ہی وہ آتا دونوں ہاتھ کمر پر باندھے اس سے مخاطب ہوا کے کُبرا اسے دیکھ کر رہے گئی

ہونہوں بگڑے باپ کی بگڑی وی اولاد! اس چار سال کے شہزادے پر ایک نظر ڈالی تو وہ آخر میں تسمیر کو گھور گئی اس کا بیٹا نا صرف صورت میں بلکہ حرکتوں میں بھی اپنے باپ پر تھا

بگڑنے دو میری طرح اسے بھی کوئی سدھارنے والی آجاۓ گی وہ ڈھٹائی سے کہتا اسکے بال سنوارنے لگا

چلو کبیر سونے بہت ٹائم ہو گیا ہے اب فجر کو تنگ مت کرنا! اس نے اسے گھورا تھا

نو کبیر آج دادو کے پاس سوۓ گا! تسمیر کے کہنے پر اسنے چونک کر اسے دیکھا جو گہری نظریں اس پر مرکوز کیے ہوۓ تھا

کبیر! اسنے زور دیا

ڈیڈ! وہ اپنے باپ کو دیکھنے لگا جو اسے جانے کا اشارہ کر گیا

تم اب آرہی ہو یا اٹھا کے لے چلوں؟ کبیر اب مصوم سی فجر سے مخاطب ہوا جو منہ بنا کر اسکے ساتھ چل دی

تم بھی آرہی ہو یا اٹھا کے لے چلوں! اسنی مسکراہٹ چھپاتا وہ کُبرا کی طرف مڑتا اگلے ہی لمحے اسے بازؤں میں بڑھ گیا

چھوڑیں مجھے!!! بے شرم آدمی! اس اچانک اتفاد پر شرم سے لال ہوتی وہ اسکی شرٹ میں منہ چھپاۓ اسکے بازؤں پر اپنے ناخون چبا گئی

آہ ظالم بیوی! قہقہ لگا کر ہنستا وہ اسے ایسے ہی اٹھاۓ اپنے روم کی جانب قدم بڑھا گیا کے وہ خود بھی اس کی ہنسی سے اپنے چہرے پر آۓ مسکراہٹ روک نہیں پائی تھی…..

True love never dies it only gets stronger with time…♡