Shagaf-e-Dil Episode 1
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shagaf-e-Dil by Syeda Shah
ناران کے قریب ایک چھوٹے سے خوب صورت علاقے میں موجود ایک عالیشان کوٹھی تھی جسے آغا جان کی کوٹھی کہا جاتا تھا آغا جان نا صرف خان میشن کے آغا جان تھے بلکہ پورے علاقے کے آغا جان کہلائے جاتے تھے اور انکی بیگم اماں جان پورے گاؤں کو اپنی والدہ جیسی عزیز تھیں آغا جان اپنے اصولوں کے سخت تھے شاید اسی وجہ سے انکے خاندان کا نام پورے علاقے میں سب سے زیادہ شان اور عزت سے لیا جاتا تھا ان کے دو ہی بیٹے تھے بڑے بیٹے علی خان جبکہ چھوٹے بیٹے کا نام عباس خان تھا…….
وہ ہمیشہ کی طرح فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد دعا کے لیے ہاتھ بلند کر گئی اللہ تعالی میں آپ سے کیا مانگو؟ مجھے آپ نے سب کچھ ہی تو دیا ہے اچھے ماں باپ اچھا خاندان بہت سارے پیسے بس ایک چیز ہے جو مجھے آپ سے چاہیے اور وہ آپ خود جانتے ہیں آپ بس مجھے نیک حدایت دے دیں مجھے ویسا بنا دیں جیسی آپ کو پسند ہوں بس اور مجھے کچھ نہیں چاہیے وہ ہاتھوں کا پیالہ بنائے اپنے پر نور چہرہ پر ہاتھ ہھیرتی اٹھتی شیشے کے سامنے آئی تھی بڑی بڑی نیلی آنکھیں تھیکی ناک سفید مکھنی رنگت پھیرتی سرخ گلانی ہونٹ درمیانہ لیکن اچھا قد کمر تک آتے بال وہ دیکھنے میں یقینا بے حد خوبصورت لگتی تھی خود پر ایک نظر ڈالے وہ کالج یونیفوم پہنتی نیچے کی طرف بڑھی تھی….
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ناشتے کی ٹیبل بھرپور لوازمات سے سجائی گئی تھی اب بس انتظار تھا تو آغا جان کا اسلام و علیکم آغا جان انکے آتے ہی ٹیبل پر بیٹھا ہر شخص بولا تھا کون ابھی تک نہیں آیا ہے ناشتہ کے لیے؟ آغا جان خالی کرسی دیکھتے سختی سے گویا ہوۓ وہ کبرا اور روحان ابھی تک نہیں آۓ آغا جان بس آتے ہوں گے برکت دھیمی آواز میں کہنے لگی جبکہ اسکا نام سنتے ہی آغا جان خاموش ہوئے تھے انکی ایک ہی کمزوری تھی ان کی لاڈلی پوتی کبرا لیں گڈ مورننگ روحان ٹیبل پر آتا نظریں جھکاۓ بولا گھر کے چھوٹوں کو کسی نے سلام کرنا نہیں سیکھایا کیا؟ آغا جان اسے گھورتے ہوۓ کہنے لگے سوری اب نہیں ہوگا روحان شرمندہ سا بولا اچھا تو آپ کہاں تھے ناشتے پر دیر کیوں ہوئی؟ آغا جان کا ایک اور سوال آیا تھا_ اسلام و علیکم یہ میرے ساتھ ہوم ورک کروا رہا تھا آغا جان جب وہ سامنے سے آتی مسکرا کر کہتی کرسی سنبھال گئی جس پر آغا جان مسکرا کر خاموش ہو گئے جان بابا آپ مجھے اور برکت کو کالج چھوڑ دیں گے؟ کبرا انہیں دیکھتی کہنے لگی نہیں بیٹا میں آج زرا بزی ہوں آپ ڈرائیور کے ساتھ چلی جائیں لیکن ڈرائیور تو چھٹی پر ہے- کوئی بات نہیں عباس روحان چھوڑ دے گا سلمہ بیگم کے کہنے پر برکت منہ بنا کر رہ گئی چلیں اب ہم چلتے ہیں اوکے آغا جان خدا حافظ کبرا ان کے گلے لگتی محبت سے بولی اس گھر میں یہ مجال صرف کبرا عباس خان ہی کر سکتی ہے روحان کے حیرت سے دیکھنے پر وہ اترا کر.کہتی آگے بڑھ گئی ہاں تو روحان علی خان بھی کسی سے کم نہیں ہے _ لیکن تم ابھی برکت عباس خان کو نہیں جانتے روحان علی خان آیت منہ بناۓ کہتے اسکے پیچھے گئی تھی
علی خان آپ کے بڑے صاحب زادے کی کوئی خبر ہے کب تشریف لائیں گے؟ جی آغا جان وہ بس اسی مہینے آجاۓ گا بات ہوئی تھی میری ماشااللہ بہت اچھا پڑھ رہا ہے وہ اب تو فائنل امتحان بھی ہو گئے ہیں علی صاحب فخر سے کہنے لگے—-
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ہاۓ ڈارلنگ کیا تم میرے ساتھ ڈانس کرنا چاہو گے؟ ایک لڑکی اسکے قریب ہوتی ایک ادا سے بولی شیور بے بی اتنی خوب صورت لڑکی کے ساتھ ڈانس کرنے سے کوئی گدھا ہی انکار کرے گا وہ اسکا ہاتھ چومتا جھٹکے سے اسے اپنے قریب کر گیا وہ اس وقت لنڈن کے ایک بڑے کیفے میں موجود شراب کے نشے میں دھت تھا خان چل یہاں سے مجھے گربڑ لگ رہی ہے یہاں چل جون اسے پکڑتا سرگوشی کرنے لگا واۓ مین ابھی تو مزہ آنا شروع ہوا ہے وہ لڑکھڑاتا ہوا کہنے لگا خان مجھے لگ رہا ہے یہاں کوئی گڑبڑ ہونے والی ہے چل تو یہاں سے جون اسے کھینچنے لگا اوکے بے بی ہم کل ملیں گے جبکہ وہ اسکی بات کو نظرانداز کرتا الگ ہی موڈ میں تھا ابے چل باہر پولیس آگئی ہے ایک لڑکا بھاگتا ہوا ان تک آیا تھا آنے دے تسمیر علی خان کسی سے نہیں ڈرتا- بھائی تو یہی رہے لیکن یہ سوچ لے کہ اگر تو پکڑا گیا تو یہاں سے سیدھا فون آغا جان کو جاۓ گا پھر تو کبھی لنڈن تو کیا ناران بھی نہیں جا پاۓ گا جون اسے وارن کرتا آگے بڑھ گیا ایک تو یہ آغا جان بھی کہیں پیچھا نہیں چھوڑتے میرا وہ نا گواری سے کہتا اسکے پیچھے گیا تھا
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
آیا جان بھوک رہی ہے کبرا انہیں چکن میں دیکھتی ان تک آئی تھی تو بتا میری جان کیا کھاۓ گی؟ سلمہ بیگم محبت سے بولیں آپ کچھ بھی کھلا دیں اچھا ہی ہوگا ویسے آپس کی بات ہے ماں اتنا اچھا نہیں بناتی- ہاں ہاں ماں کا کب پسند آیا ہے اسے کبھی بچپن سے صرف آیا جان کے ہاتھ کا پسند کرتی ہے رخسانہ بیگم کچن میں آتی مسکرا کر کہنے لگیں نہیں ماں ایسی بات نہیں آپ بھی بہت اچھا بناتی ہیں لیکن آیا جان کی بات ہی الگ ہے— ہاں تو ساری زندگی آیا جان نہیں کھلائیں گی اب کل کو تمہاری شادی بھی تو کرنی ہے اور اگر شوہر مل گیا کھانے کا شوقین تو پھر تو لگ جائے گا پتا سلمہ بیگم شرارت سے کہنے لگیں کوئی بات نہیں آیا جان کھانا تو میں سیکھ لوں گی آپ سے سارے نخرے اٹھا لوں گی بس لڑکا آپ لوگ نیک ڈھونڈنا جسے دین اور دنیا دونوں کی سمجھ ہو بڑوں سے ادب سے بات کرے بس اور کچھ نہیں وہ مسکرا کر کہتی پھر سے کھانے میں مصروف ہو گئی ایسا لڑکا تو ہمیں آج کل کے زمانے میں ملنے سے رہا رخسانہ بیگم اسے چٹ لگاتی کہنے لگیں
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
یار تسمیر تو کم از کم بڑوں سے تو تمیز سے بات کر لیا کر اور ویسے بھی یہ لوگ بہت اللہ والے ہوتے ہیں ان کیا کا دل نہیں دکھانا چاہیے جون سر جھٹکتا کہنے لگا تو میں کیا کروں؟ بڑا ہوگا اپنے گھر میں اور اللہ والا ہے تو خود سنبھل کر چلے نا میرے راستے میں آئے گا تو اس سے بھی زیادہ برا کروں گا تو ابھی جانتا نہیں ہے مجھے تسمیر خان وہی کرتا ہے جو اسے کرنا ہوتا ہے چل اب وہ تیش سے کہتا آگے بڑھ گیا لیکن یہ غلط ہے میر سوچ اگر تیری بیوی ہوئی اسی ٹائپ کی جو خود اللہ والوں میں سے ہوئی تو پھر تو کیا کرے گا؟ جون اسے دیکھتا پوچھنے لگا پہلی بات میں شادی کروں گا ہی نہیں اور دوسری اور آخری بات میں شادی کسی اپنی ٹائپ والی سے ہی کروں گا اب تو چپ بھی ہوجا بلا وجہ موڈ خراب کر رہا ہے وہ منہ بنا کر کہتا بیڈ پر ڈھے سا گیا تھا……….