📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 7

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

آگئے ہیں آپ؟ اسے چھپکے سے اندر آتا دیکھ وہ منہ بناۓ بولی ہاں وہ ابھی وہ بول ہی رہا تھا جب وہ پلٹی تھی مجھ سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے کبرا منہ پھولاۓ کہنے لگی یار سوری ایک بہت ضروری کام آگیا تھا سچ میں سوری جون اسے مناتے ہوۓ کہتا اسکے پیچھے آیا تھا ایسا کونسا ضروری کام آگیا؟ ویسے تو آپ بڑا کہتے تھے کہ جب پاکستان آئیں گے تو میری ساری باتیں مانیں گے وہاں بھی میرے لیے ٹائم نہیں تھا اور یہاں بھی نہیں ہے کُبرا ہنوز منہ بناۓ بولی اچھا نا سوری جب جون آگے بڑھتا اسے اپنے ساتھ لگا گیا جس پر وہ شرمیلی مسکراہٹ سجاۓ سر اثباب میں ہلا گئی جیسے کہنا چاہ رہی ہو کہ وہ مان چکی ہے جبکہ یہ منظر سامنے سے گزرتے تسمیر سے چھپ نہ سکا تھا وہ جو سگریٹ کے کش لگانے کو روم سے نکلا تھا تنی رگوں سے وہ اسکے روم میں داخل ہوا کیا چل رہا ہے یہ سب؟ تسمیر دھاڑا تھا کیا ہو گیا بھائی غصہ کیوں کر رہا ہے اتنا جون اسکے پاس آتا بولا جب تسمیر اسے ہاتھ کے اشارے سے روک گیا یہ ہے تمہارا اسلام؟ جو صرف مجھ تک ہی محدود ہے؟ اسکی باری تمہیں تمہارے اصول یاد نہیں آتے؟ یہ تمہیں گلے لگاۓ تو جب بھی تم خوش ہو لیکن میرے سامنے تم ایسے بنتی ہو جیسے تم نے تو کسی کا ہاتھ کبھی پکڑا ہی نہیں اس دن تم مجھے ہمارے علاقے کی تہزیب سکھا رہی تھیں نا تو آج میں بھی تمہیں بتاتا ہوں ہمارے علاقے کی لڑکیاں کسی کو بھی ایسے ہی اپنے روم میں آنے نہیں دیتی اور نا ہی کسی کو اتنی اجازت دیتی ہیں کہ وہ انہیں گلے لگا سکیں تسمیر اسے سختی سے جنجھورے سرخ آنکھیں لیے بولا دماغ خراب ہو گیا ہے تیرا میر چھوڑ اسے جیسا تو سمجھ رہا ہے ویسا نہیں ہے کچھ جون اسے پیچھے کرتا سمجھانے لگا اوہ رئیلی؟ چل پھر تو ہی مجھے بتا دے کہ میں کیا سمجھو؟ تسمیر اسے دیکھتا آئبرو اچکاۓ بولا کُبرا پر میرا پورا حق ہے میں اسکا ابھی وہ بول ہی رہا تھا جب وہ اسکا ہاتھ تھام گئی کسی کو کوئی صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے یہ میرے لیے اتنے اہم نہیں ہیں کہ میں انہیں اپنے کردار کی صفائی دوں کُبرا سرخ آنکھوں سے کہتی ان دونوں کو باہر جانے کا اشارہ کر گئی بہت ہوا تماشا اب آپ جائیں جون اور انہیں بھی ساتھ لے جائیں اس پر نظر ڈالے بغیر وہ چلائی جس پر وہ تیز تیز قدم بڑھاۓ باہر کی جانب بڑھ گیا….

*************

صبح ناشتے کی ٹیبل پر وہ لیٹ پہنچا تھا جب تک وہ آیا کُبرا کالج کے لیے نکل چکی تھی اسے اپنی رات والی حرکت پر شرمندگی تھی جو بھی تھا کوئی کچھ بھی کرے اس سے اسکا کیا لینا دینا یہ سوال وہ پوری رات خود سے پوچھتا آیا تھا زندگی میں پہلی بار تسمیر خان کو کسی کے ہر عمل سے فڑق پڑھ رہا تھا کیوں؟ یہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا جانتا تھا تو صرف اتنا کہ اسے اب خود سے ڈر لگنے لگا تھا اچھا نہیں کیا تو نے جون کی آواز سے وہ ہوش میں آیا کیا؟ ابرو اچکاۓ سوال پوچھا گیا زیادہ بھولا مت بن میں نے تو کبھی تجھے کسی لڑکی کے ساتھ دیکھ کر ایسا ریئکٹ نہیں کیا جتنا تو نے کل رات اؤور ریئکٹ کیا ہے جون منہ بناۓ بولا وہ لنڈن تھا اور یہ ناران ہے میں یہ سب اپنے علاقے میں برداشت نہیں کروں گا تسمیرلہجہ سخت کیے کہنے لگا اس علاقے میں یا کُبرا کے ساتھ کسی کو برداشت نہیں کرے گا؟ جون ابرو اچکاۓ بولا وہ کوبرا میرے لیے اتنی خاص نہیں ہے جو میں اسے کسی کے ساتھ برداشت نہیں کروں گا تسمیر سخت لہجے میں کہنے لگا اچھی بات ہے ویسے بھی تیرا اور کُبرا کا کوئی میچ نہیں ہے برو جون مسکرا کر کہتا اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ گیا اچھی بات ہے یہ بات تجھے سمجھ تو آئی اب اسے یاد بھی رکھنا وہ سر کو جھٹک کر کہتا باہر کی جانب قدم بڑھا گیا

***********

پورے کالج میں پاڑٹی کی تیاریاں زور شور سے ہو رہی تھیں آۓ خوابوں کی ملکہ اپنا نام تو بتا ہاۓ نوری ہاۓ نوری تو بچ کے دل لگا برکت ڈانس کے اسٹیپس سیکھنے میں مصروف تھی جب روحان روم میں داخل ہوا اسکے دیکھتے ہی قدم رکے گھومتے گھومتے اسکے قدم لڑکھڑاۓ اس سے پہلے وہ زمین پر بوس ہوتی وہ آگے بڑھتا اسکا ہاتھ تھام گیا یہ تمہیں ہمیشہ مجھے ہی کیوں سنبھالنا پڑتا ہے؟ روحان اسے دیکھتا شرارت سے بولا ایسا کیوں نہیں کہتے کہ جب بھی تم میرے آس پاس ہوتے ہو میرے ساتھ کچھ نا کچھ برا ہی ہو جاتا ہے برکت کھڑی ہوتی اسے گھورنے لگی نا شکری ہی رہنا ویسے یہ کیا کر رہی تھیں تم؟ بتاؤں آغا جان کو؟ اسکے ڈانس پر پوائنٹ کرتا کہنے لگا ککیا؟ ہاں بتا دو میں بھی کہ دوں یہ سب تسمیر بھائی کے حکم کے مطابق ہی ہو رہا ہے وہ چہرے پر بلا کی معصومیت سجاۓ بولی بس بس اب ہر کام میں میرے بیچارے بھائی پر الزام مت لگا دینا دیکھ رہا تھا میں کیسے مزے سے ڈانس کر رہی تھیں وہ اسکی حالت انجواۓ کیے کہنے لگے روحان اگر تم نے آغا جان کو بتایا تو اچھا نہیں ہوگا پلززز مت بتانا برکت آنکھوں میں نمی لیے منت بھرے لہجے میں بولی جس پر سامنے کھڑے شخص کا قہقہ چھوٹا تھا بس؟ ڈر گئی؟ یار تم تو بہت بزدل نکلی میں تو سوچ رہا تھا تمہیں تھوڑا اور تنگ کروں گا لیکن تم نے تو ابھی سے ہار مان لی روحان قہقہ لگاۓ کہتا اسے تپا گیا بات مت کرنا مجھ سے تم وہ چلا کر کہتی باہر کی طرف بڑھی تھی جب اگلے ہی لمحے وہ اسکا ہاتھ تھامے جھٹکے سے اسے قریب کر گیا تم شاید بھول رہی ہو میم ارم نے ہم دونوں کو پارٹنر بنایا ہے اسئلے ایسے اپنے پارٹنر کو چھوڑ کر جانا اچھی بات نہیں ہوتی وہ گھمبیر لہجے میں کہتا اسے کنفیوز کر گیا تھا کتنی دفعہ منع کیا ہے کہ میرے ساتھ لوفر پن مت کیا کرو برکت اسے گھور کر کہتی چلنے کا اشارہ کر گئی جس پر وہ مسکراتا ہوا سر ہلا گیا

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

اسلام و علیکم! اسکے پاس آتا وہ مسکرا کر کہنے لگا جی؟صباحت ابرو اچکاۓ بولی جیسے پوچھنا چاہ رہی ہو کام کیا ہے وہ میں یہاں پارٹی کی تیاریوں کے لیے آیا تھا آپ کو دیکھا تو سوچا ملاقات کر لوں شاید آپ نے مجھے پہچانا نہیں جون جھینپ کر بولا نہیں ایسی بات نہیں ہے میں پہچان گئی ہوں آپ کو بتائیں کیسا لگا آپ کا ہمارا کالج؟ صباء اب لہجہ نارمل رکھے بولی جانتی تھی وہ تسمیر خان کے ساتھ آیا تھا اور تسمیر جو اب انکا ہیڈ تھا اسکے مہمان کو عزت دینا انکی زمےداری تھی جی میں بس بور ہو رہا تھا تو سوچا آپ کی ہیلپ کر دوں وہ اسے دیکھنے لگا جو مصروف سی ہاتھ میں رجسٹر اور پین لیے کسی چیز کی لسٹ بنا رہی تھی شیور یہ سارے نمبرز ہیں آپ پلیز یہ لسٹ پر جو نمبر ہیں انہیں کال کر کے پارٹی کا انفارم کر دیں اسکے کہنے پر جون مسکرا کر فون تھام گیا …..

************

بیلون اور فلاورز ابھی تک نہیں آۓ فورا آرینج کرو کُبرا مصروف سی آؤڈر دینے لگی نہیں ہمیشہ کی طرح ڈیکوریشن اسکے زمے تھی ارے کُبرا تم یہاں کھڑی ہو وہاں پر تسمیر سر سب کو ڈیٹیلز سمجھا رہے ہیں جلدی آجاؤ صباحت اسے دیکھتی کہنے لگی تو دیتے رہیں مجھے پتا ہے مجھے کیا کرنا ہے کُبرا بنا کسی تاثر کے کہنے لگی کُبرا ضد مت کرو تم خود ہی کہتی ہو یار کہ تسمیر سر بہت کھڑوس ہیں تو کیوں انکے غصے کو ہوا دے رہی ہو صباحت اسے سمجھانے لگی ہاں کہا تھا اور کچھ غلط نہیں کہا تھا وہ انتہا کے بدتمیز, بدتہزیب, کھڑوس ترین انسان ہیں مجھے اب فرق نہیں پڑھتا انکے غصے سے اب اگر وہ میرے سامنے آۓ تو خود بھی منہ کی کھائیں گے بہت ہو گئی بدتمیزی وہ اپنے ارد گرد دیکھے بغیر بلند آواز میں کہنے لگی تو یہ سب سیکھنے اور سیکھانے آتی ہیں آپ کالج؟ میرا خیال تھا کہ آغا جان کے پیسے ضائع نہیں ہو رہے لیکن آج میرا خیال غلط ثابت ہو گیا اسکی آواز سنتے ہی کُبرا کی نون اسٹوپ بولتی بند ہوئی نظریں اسکی جانب گئیں جو اسکے بلکل قریب کھڑا گھورتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا وہ آپ ککب آۓ تیز بڑھتی ڈھرکنوں کو سنبھالتی وہ چاہ کر بھی لہجے کی لڑکھڑاہٹ کو چھپا نا پائی تھی جب آپ میری شان میں قصیدے پڑھ رہی تھیں کیا خوب راۓ ہیں آپ کی میرے بارے میں واؤ تسمیر اسے داد دیتا کہنے لگا جس پر وہ منہ بنا گئی سچ ہی تو تھا وہ بربرائی تھی جسے تسمیر با آسانی سن گیا مسز کوبرا خان بہتر ہے کہ آپ میری اچھائیاں کرنے کے بجاۓ اپنے کام پر دھیان دیں یہاں پر میں سر ہوں تمہارہ اسئلے جو بھی بات کرو سوچ سمجھ کر کرنا وہ اسکے قریب ہوتا گھمبیر لہجے میں بولا چلو صباحت! تسمیر کو دیکھتی وہ چلائی اچھا؟ کہاں ہے صباحت مجھے تو نظر نہیں آرہی مجھے دیکھتے ہی بھاگ گئی تمہاری بزدل دوست تسمیر شرارت سے کہنے لگا جبکہ اسکی بات سے وہ چہرے پر مزید سرخی لے آئی بزدل نہیں ہے میری دوست بس آپ جیسی چیزوں کو دیکھ کر ڈر جاتی ہے کُبرا منہ بناۓ کہتی آگے بڑھ گئی کیا مطلب میرے جیسی چیز؟ لڑکیاں مرتی تھیں لنڈن میں یہاں آکر تو قید ہی ہو گیا ہوں میں وہ خود سے کہتا اسکے پیچھے آیا تھا ایک بات تو تہ تھی اسے تنگ کرنے میں تسمیر خان کو مزہ خوب آتا تھا……