📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 34

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

پوری رات وہ روتی رہی تھی اسے وہ منظر یاد آیا جب اس رات وہ گاڑی میں خود سے زیادہ اس کی فکر کر.رہا تھا(ناران جاتے ہوۓ جب انکی گاڑی پر حملہ ہوا تھا)

جب سے وہ اپنا دل تسمیر کو دے چکی تھی ہاں اعتراف نہیں کیا تھا لیکن اسے کسی کے ساتھ کسی کو تصور بھی وہ اب نہیں کر سکتی تھی آنسو تھے جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے

جون کے لاکھ کہنے کے باواجود وہ تھوڑی دیر میں آنے کا کہ کر صبح چار بجے واپس آیا تھا

روم میں آتے ہی نظر اس پر گئی جو بیڈ کے نیچھے بیٹھی گھٹنوں پر سر رکھے شاید سو ہی گئی تھی

اس پر ایک نظر ڈالے وہ لگتار سگریٹ پینے کے باعث سرخ آنکھیں لیے واشروم کی طرف بڑھ گیا

کچھ لمحوں میں وہ فریش سا بلیک اور وائٹ ڈریس پنٹ کورٹ پہنے جس کی مہنگی ترین قیمت کا اندازہ کوئی بھی لگا سکتا تھا شیشے کے سامنے آتا بالوں کو جیل سے

سیٹ کرتا بلیک ہی ٹاۓ لگاتا وہ آوفس کے لیے نکل گیا وہ بلکل فریش ہی لگ رہا تھا صرف آنکھیں تھیں جو رتجگے کی چگلی کھا رہی تھیں

تم ابھی تک گئی نہیں؟ وہ جو سیڑھیاں اتر رہا تھا اسے سامنے دیکھ کر چلایا

کیا ہوگیا ہے تسمیر ایسے بات کرتے ہیں؟ سلمہ نے اسے ٹونکا

موم اسے عزت راس نہیں ہے کیا؟ جا کیوں نہیں رہی ہے یہ؟ وہ چلایا تو میئری اپنی بے عزتی پر لب بھینجے نمی آنکھوں میں اتاڑنے لگی

تسمیر! سلمہ اب زیادہ زور دے گئیں

میں شام میں آؤ تو یہ یہاں نا ہو! انگلی سے تمبی کرتا وہ

سلمہ بیگم کے لاکھ کہنے پر بھی وہ ناشتہ کیے بغیر ہی باہر نکل گیا

تم برا نا ماننا بیٹا یہ بہت بدتمیز ہو گیا ہے ! سلمہ افسوس سے بولیں

نہیں آنٹی کوئی مسئلہ نہیں ہے میں اچھے سے جانتی ہوں اسے بس تھوڑا غصہ ہے اسئلے ایسے کر رہا ہے جب غصے کا بھوت اترے گا تو خود آۓ گا منانے وہ مٹھی بھینج کر چہرے پر بظاہر مسکراہٹ سجاۓ ہوۓ تھی لیکن دماغ ابھی سے بےعزتی کا بدلہ لینے کے منصوبے بنانے لگا تھا

اسکی آنکھ کھولی تو خود کو بیڈ پر پاتے ہی اسے جھٹکا لگا تھا جہاں تک اسے یاد تھا وہ بیڈ کے نیچھے ہی بیٹھی روتے روتے سو گئی تھی

پھر کچھ سوچتے ہوۓ غصے اور شرم سے یکدم اسکا چہرہ سرخ ہوا یہ حرکت صرف وہی کر سکتا تھا

نظر کمرے میں دروائی تو وہ کہیں نہیں تھا اسکی طرف کی بیڈ شیٹ یہ گواہی دے رہی تھی وہ یہاں نہیں سویا تھا

سر جھٹک کر وہ باتھ لینے چلی گئی

********************

وہ نیچھے آئی تو میئری سامان باندھے کہیں جانے کی تیاری میں تھی

تم کہیں جا رہی ہو؟ اسنے پوچھنا مناسب سمجھا

ہاں لیکن لنڈن نہیں جا رہی بس یہی ایک اپارٹمنٹ کراۓ پر لیا ہے میں نے وہی شفٹ ہو رہی ہوں وہ چہرے پر مسنوئی مسکراہٹ سجاۓ بولی

لیکن بیٹا جب یہی رہنا ہے تو ہمارے گھر ہی رہو نا؟ سلمہ پریشان سی کہنے لگیں بیٹے کو تو وہ اب کچھ کہ نہیں

سکتی تھیں بس اسکی حرکتوں پر شرمندہ ہی ہو سکتی تھیں

نہیں آنٹی اب لنڈن واپس تو میں شاید کبھی نا جاؤں اسئلے ساری زندگی تو یہاں نہیں رہے سکتی نا؟ آتی جاتی رہوں گی

چلو جیسے تمہاری مرضی خوش رہو اماں جان بولیں تو سب خاموش ہو گئے اور وہ سب سے باری باری ملتی اب کُبرا تک آئی

ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا لیکن ہم دونوں کا دکھ ایک ہی ہے ہم.نے جس سے محبت کی اس نے ہم.دونوں کو ہی دھوکا دیا ! اسے گلے لگاۓ کان کے قریب کہتی وہ آگے بڑھ گئی.لیکن اسکے چہرے پر کوئی افسوس نہیں بلکہ ایک پرسوچ مسکراہٹ تھی

شاید اس بار وہ منصوبہ اسنے بنایا تھا وہ بہت جلد کام آنے والا تھا

کُبرا بس اسے جاتا دیکھنے لگی

تم نے کالج جانا ہے بیٹا؟ سلمہ اس سے مخاطب ہوۓ

نہیں آیا جان بس ایک دو دن میں پیپرز ہیں تو میں جب ہی جاؤں گی وہ پھیکی سے مسکراہٹ کے ساتھ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھی

آج یہ پہلی بار تھا جب وہ اسکے بغیر ناشتہ کر رہی تھی اپنی سوجھی ہوئی آنکھوں کو وہ بامشکل چھپا پائی تھی

بیٹا تم ٹھیک ہو نا سوئی نہیں ہو کیا؟ تسمیر بھی ناشتہ کیے بغیر ہی نکل گیا؟ سلمہ اب پریشان سی بولیں

نہیں آیا جان میں ٹھیک ہوں بس الڑجی ہو گئی تھی جس کی وجہ سے سو نہیں پائی اسی وجہ سے شاید تسمیر نے اٹھایا نہیں ہوگا مجھے وہ اعتماد سے بولی تو سلمہ سر اثبات میں ہلا گئیں

********************

دن جیسے منٹوں میں گزرے تھے تسمیر آج کل رات کو دیر سے گھر آتا تھا اور صبح ہی آوفس کے لیے نکل جاتا کتنے ہی دن ہوۓ تھے اسنے کُبرا سے بات تک نہیں کی تھی

میئری کے جانے کے بعد اماں جان بھی چپ ہوگئی تھیں تسمیر کا غصہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی تھیں اور وہ صاف لفظوں میں انہیں بھی دھمکا گیا تھا

اب بھی وہ آوفس میں بیٹھا کوئی کیس دیکھ رہا تھا جب اسے کنسٹرکشن سائیڈ سے کال آئی اور وہ وہاں کے لیے اٹھ گیا ابھی کچھ ہی دیر پہلے وہ کالج سے سارے

معملے دیکھ کر آیا تھا وہی سے اسے کالج میں ہونے والے ایگزیمز کے بارے میں پتا چلا تو وہ اسکی سلپ بھی ساتھ ہی لے آیا تھا

اتنے دن میں وہ اسے صیح سے دیکھ بھی نہیں سکا ہر وقت کام کی وجہ سے وہ گھن چکر بنا ہوا تھا اور گھر جاکر بھی اسکا سامنا بہت ہی مشکل.سے ہوتا تھا وہ خود بھی اسکے سامنے نہیں آتی تھی اور یہ بات وہ بہت سے جانتا تھا

اپنے آوفس میں بھی وہ آج کل سب سے ہی تلخی سے بات کرتا تھا جس کی وجہ سے اسکے انڈر کام کرنے والے اس سے خوف ہی کھاتے تھے

***************

سر یہ فائل دیکھ لیں؟ صباحت اسے کوئی تیسری بار فائل کی طرف متواجہ کر رہی تھی لیکن وہ نظریں اسے

پر جماۓ ہوۓ تھا جو سفید رنگ کا سوٹ پہنے اسکے پاس کھڑی تھی

ہمم دیکھ رہا ہوں! وہ نظریں اسکی پر مرکوز کیے بولا

مجھے نہیں آپ فائل کو دیکھ لیں صباحت اسے گھور کر رہے گئی کے اسکے گھورنے پر وہ مسکراہٹ ضبط کر گیا

اچھا سوری دیکھاؤ ہاں یہ جان ویلا کی ہے آپ ایسا کریں میری ان لوگوں سے ابھی کچھ ہی دیر میں میٹنگ سیٹ کروا دیں! جون اسکے مسلسل گھورنے پر ہتھیار ڈال گیا

جی اوکے ! وہ جانے لگی جب وہ اسکا ہاتھ تھام گیا

چھوڑیں! صباحت ابرو اچکا.گئی

آج تیار رہنا میں تمہیں دیکھنے ماں آئیں گی اسکی آنکھوں میں دیکھ کر وہ شرارت بولا تو صباحت نظریں جھکاۓ باہر نکل.گئی

…………………….

کیا کر رہی ہو؟ روحان اسکے پاس آۓ بولا

تم.ہمیشہ مجھ سے یہی کیوں ہوچھتے ہو جبکہ تمہیں پتا ہوتا ہے کہ میں کیا کر رہی ہوں آندھے ہو؟ وہ مسکراہٹ دبا گئی

تم بھی کبھی اپنی زبان کنٹرول میں رکھ لیا کرو! روحان اسے گھور کر بولا

وہ پیچھے کچھ دنوں سے آوفس جانے لگا تھا جس کی وجہ سے برکت بھی خوش ہی تھی

چاۓ پینی ہے؟ وہ ابرو اچکاۓ بولی تو روحان اسے حصار میں لے گیا

بلکل! وہ مسکرا کر اسکے گال پر لب رکھ گیا

فورن ہی چھچھوڑا پن شروع کر دیا کرو تم! دھکتے گالوں سے وہ شرم سے ٹماٹر ہوتی چلائی

تم نہیں آپ کہتے ہیں شوہر کو سمجھی؟ اور جب اتنے پیار سے بات کرتی ہو نا میرا دل کرتا ہے میں بھی تمہیں جوابا پیار سے ہی جواب دوں وہ شرارت سے بولا جس پر برکت نے اسے چٹ لگائی

جاؤ چینج کر لو بدبو آرہی ہے! وہ جواب میں شرارت سے کہنے لگی

روحان جھٹکے سے اس سے دور ہوا اور اپنی شرٹ سونگی

تمہاری ناک سڑھ گئی ہے! منہ بناۓ کہتا وہ اپنے روم کی جانب بڑھ گیا

بدتمیز انسان! برکت پیچھے سے قہقہ لگاۓ چلائی

***********

روم میں بیٹھی وہ کتابوں میں منہ دیے ہوۓ تھی تھک کر وہ باتھ لینے کا سوچتی واشروم میں گھس گئی

واشروم میں آنے کے بعد اسے احساس ہوا کہ وہ اپنے کپڑے تو باہر ہی بھول آئی ہے واشروم کی کبڈ کھولی تو اس میں تسمیر کی سفید رنگ کی ٹی شرٹ رکھی ہوئی تھی

وہ تو ویسے بھی آج کل دیر سے گھر آتا تھا اور ابھی صرف شام کے پانچ ہی بجے تھے کچھ سوچتے ہوۓ وہ اپنا کھلا سے ٹراوزر پر اسکی سفید شرٹ پہن گئی جو ڈھیلے ہونے کے باعث اسے لٹکی ہوئی تھی

کنسٹرکشن سائٹ سے وہ جلدی ہی فری ہو گیا تھا آوفس جانے کا ارادہ ترک کیے وہ گھر کی طرف گاڑی بھاگا گیا

گاڑی پورچ میں کھڑی کیے وہ اندر آیا تو سلمہ بیگم نے اسے حیرانگی سے دیکھا

اتنی جلدی؟ وہ حیرانگی سے بولیں

آپ کہتی ہوں تو چلا جاتا ہوں! وہ ابرو اچکاۓ بولا تو سلمہ نے سے خفگی سے گھورا

فریش ہوکر آجاؤ آج ڈنر پر سب کے ساتھ ہی بیٹھنا وہ اسے انگلی کے اشارے سے بولیں تو وہ سر ہلاۓ روم کی جانب بڑھ گیا

روم میں آتے ہی سامنا خالی کمرے سے ہوا کلک کی آواز سے وہ واشروم کی جانب متواجہ ہوا جہاں سے وہ نکلتی دیکھائی دی

بامشکل شرٹ کو سنبھالتی وہ باہر نکلی اور اپنے سامنے اسے دیکھتے ہی دل زور سے ڈھرکا تھا اسکے اچانک نازل

ہونے ہر وہ گھبرا کر مڑی کے اپنے ہی ٹراؤز سے الجھتی زمین بوس ہوتی جب تسمیر اسکے اپنی مضبوط گرفت میں تھام گیا

اسنے آنکھیں کھولے دیکھا تو وہ اسے پر ایک گہری نظر ڈالتے ہی اسے سیدھا کر گیا

مممیں وہ یہ ابھی چینج کرتی ہوں! اسکی نظروں سے کنفیوز سی وہ گھبرا کر بولی جس پر وہ اس پر وہ کچھ بھی کہ بغیر واشروم کی طرف بڑھ گیا

اسکے روائیے پر وہ رونے کو تھی بے شک وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اسکے قریب آۓ لیکن اسنے تو اسے کھل کر دیکھنا تک گوارا نہیں کیا تھا

وہ با مشکل خود کو کنٹرول کر پایا تھا اسکے بھیگے بال نیلی آنکھیں اور اسی کی ڈھیلی سفید شرٹ میں وہ ہر حال میں اسکا صبر آزمانے کو تیار رہتی تھی

اگر اس سے زیادہ وہ وہاں رکتا تو دل کے ہاتھوں مجبور ہو جاتا لیکن وہ اسکے دل کی حالت کو جانے بغیر اسے پھر سے اسے غلط سمجھ گئی تھی

***********************

نیچھے آتے ہی وہ سلمہ پاس گئی تھی

آیا جان ایک بات کرنی ہے آپ سے؟ وہ تہمید باندھنے لگی

ہاں بولوں میرا بیٹا! سلمہ ہمیشہ کی طرح محبت سے بولیں

میں چاہتی ہوں جب تک میرے ایگزیم نہیں ہوتے جب تم میں اپنے روم میں رہوں! وہ جھجھک کر کہنے لگی

ہاں تو بیٹا ٹھیک ہے تم اوپر ہی رہا کرو! وہ مسکرا کر بولیں

نہیں اوپر نہیں میرا پرانا روم! وہ اب اسکی بات سمجھ پائی تھیں

کیوں بیٹا ایسی کیا بات ہے؟ وہ تفتیشی انداز میں بولیں

وہ میں دیر تک پڑھتی ہوں تو تسمیر بھی ڈسٹرب ہوتے ہیں( اصل وجہ تو اسے دور ہی رہنا تھی) تو میں چاہتی ہوں کہ کچھ دن یہی رہے لوں!

وہ بول رہی تھی جب اسکی بھاری آواز سے دل تھام کر رہے گئی

کیا کہا پھر سے کہنا؟ وہ تیوری چڑھاۓ بولا نجانے کتنے دنوں بعد وہ اس سے مخاطب ہوا تھا

تسمیر آرام سے میں کر رہی ہوں نا بات؟ سلمہ بے اسے گھورا وہ آج کل کچھ زیادہ ہی سختی اختیار کیے ہوۓ تھا

موم اسے کہیں کے اسنے پوری پوری رات بھی پڑھنا ہے جتنی لائٹس اون کرنی ہے کرے لیکن سوۓ گی اوپر ہی میں اسے بلکل بھی ڈسٹرب نہیں کرتا وہ اسکے سامنے ہی صوفے پر برجمان ہوا.

میں تھوڑے دن یہی رہوں گی! وہ اسے دیکھے بغیر بولی

تمہیں بات سمجھ نہیں آرہی ہے میری؟ تسمیر ڈھارا تو وہ پیر پٹکتی باہر نکل گئی

کیا ہو گیا ہے تمہیں ایسے کیوں بات کرتے ہو ہر وقت؟ بیٹا شادی میں دونوں کو ہی کمپرومائز کرنا چاہیے! سلمہ نے افسوس سے دیکھا اسے

آپ اپنی بہو کو سمجھا لیں اسکے معاملے میں کوئی کمپرومائز نہیں کروں گا میں! وہ رعب سے کہتا اٹھ گیا

کچھ خبر ہے تمہیں کتنی طبیت خراب رہی ہے اسکی؟ انکی بات پر وہ اپنے قدموں پر گھوما

کیا ہوا ہے اسے؟ وہ پریشان سا بولا

.

تیز بخار ہے اسے کل سے اور کچھ کھا بھی نہیں رہی ہے لیکن تمہیں کام سے فرصت ملے تو دیکھوں نا بیوی کو ! وہ غصے سے کہنے لگیں

میں دیکھتا ہوں اسے! وہ فورن سے قدم اسکے روم کی جانب بڑھا گیا

روم میں آتے ہی وہ اوندھے منہ بیڈ پر ڈھے گئی

پتا نہیں کیا سمجھتے ہیں خود کو! خود سے کہتی وہ زہر خندق ہوئی

تمہارا شوہر! اٹھو کھانا کھاؤ! اسکی پھر سے بھاری آواز گونجی تو وہ سہم کر رہے گئی

مجھے نہیں کھانا! وہ اسی پوزیشن میں لیٹی منہ تلخی سے بولی

شرافت سے اٹھو اور کھانا کھاؤ نہیں تو میرے کھلانے کا انداز تمہیں پسند نہیں آۓ گا اب کی بار وہ اسے سیدھا کر گیا

اس کی بات پر وہ اسے گھورتے ہوۓ اٹھی جب وہ اسکا ہاتھ تھام گیا تھا