Shagaf-e-Dil Episode 13
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shagaf-e-Dil by Syeda Shah
کالج کے اندر داخل ہوتے ہی وہ سب کی نظروں کا مرکز بنی تھی اسکے ہاتھ میں پہنے کنگناننے کو سب ستائشی نظروں سے دیکھ رہے تھے جب تسمیر اسکے پیچھے آتا دیکھائی دیا
”آپ کیوں آۓ ہیں؟“ سب کی نظروں کا نظر انداز کرتی وہ اسے اپنے ساتھ آتا دیکھ پوچھنے لگی
”کام ہے کچھ اور کیا مطلب ہے میں جب بھی یہاں آؤنگا تمہیں آنے کی وجہ بتانی پڑھے گی؟“ تسمیر ابرو سکیڑ کر بولا جبکہ ایک دوسرے کے ساتھ چلتے وہ سب کو اپنی طرف متواجہ کر رہے تھے
”مجھے تو پہلے سے پتا ہے یہ جو اس دن اتنا بھڑک رہا تھا تو ضرور اسکی محبوبہ ہوگی “لڑکا انہیں دیکھ کر حسد سے بولا( یہ وہی تھا جسے تسمیر نے پہلے دن ہی تاکید کی تھی کہ کُبرا سے دور رہے)
”اوہ جبھی تسمیر سر نے صباحت کے مامعلے کو اتنا سیرئز لیا تھا “
”جو بھی ہے چاند سورج کی جوڑی ہے“
اسٹوڈنٹس کی آواز کُبرا کے کانوں تک پہنچ رہی تھی جسے وہ مہارت سے نظر انداز کرتی سامنے سے آتی صباحت کی جانب تیز تیز قدم بڑھا گئی صباحت جو اپنی دھن میں چلتی آرہی تھی اسے دیکھ کر چونکی پھر اسکی نظروں نے کُبرا کے ہاتھ کے کنگنانے سے تسمیر کے بازو پر بندھے امام ضامن تک کا سفر تہے کیا جو انکے ساتھ سے گزر کر ہیڈ آوفس کی طرف بڑھ گیا
”تتممم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟ ایسا کیسے کر سکتی ہو تم اپنی اکلوتی دوست کو بھول گئیں؟“ اگلے ہی لمحےوہ صورت حال سمجھ کر اسکے سر ہوئی تھی جس پر کُبرا نے. منہ بسور کر اسے دیکھا تھا
”تم اپنا موبائیل دیکھو تو تمہیں کچھ پتا چلے نا!“ کُبرا اسے گھورتے ہوۓ بولی
“اوہ ہاں ہار اصل میں میرا موبائیل خراب ہو گیا تھا“… آگے کی طرف چلتی دونوں باتوں میں مصروف ہو گئی تھیں
*****
”ویسے آج کل کا پیار بھی بڑا ہی عجیب ہو رہا ہے یار پہلے جن سے تھپڑ کھاتے ہیں بعد میں اسی کو ہی دلہن بنا کر لے جاتے ہیں “
تسمیر جو اپنے ہیڈ آوفس سے کچھ ڈاکومنٹ لیے نکل رہا تھا کسی کی آواز سے پلٹا سامنے موجود لڑکا اسے دیکھتا دوسرے لڑکے سے مخاطب تھا
”کیا بولا؟ “تسمیر کو لگا شاید اسکے سننے میں غلطی ہوئی ہے
”کیا یہ سچ نہیں ہے؟ تمہیں کیا لگا تھا تسمیر خان کے اس تھپڑ کے بارے میں صرف تم تینوں ہی جانتے ہو؟ وہ تو میری قسمت ہے کہ میں وہاں آیاز کو دیکھنے آگیا تھا اور میں نے وہ سب دیکھ لیا تھا کیسے تم اس دن عزت کی باتیں کر رہے تھے کہ میں اپنے علاقے کی خواتین پر کسی کی بری نظریں برداشت نہیں کر سکتا جبکہ اصل بات تو یہ ہے کہ تمہارے خود کے گھر کی عورت کو تمہارے کردار پر یقین نہیں تھا جبہی اسنے تمہیں بنا سوچے سمجھے تھپڑ رسید کیا اور کیا پتا تم پہلے یہ سب اسکے ساتھ کر چکے ہو جبھی اسنے تم پر شک کیا ہو“ وہ لڑکا اپنی دھن میں بولا رہا تھا جب تسمیر آگے بڑھ کر اسکے منہ پر دو تین مکے رسید کرتا جھٹکے سے اسکا گریبان پکڑا گیا تھا
”بکواس بند اب اگر ایک لفظ بھی اور بولا تو یقین کر میں تیرا ایسا حشر کروں گا کہ تجھے اپنے پیدہ ہونے پر بھی افسوس ہوگا“ تسمیر سرخ انگارہ آنکھیں لیے چلایا تھا
”برا لگا کیا؟ ہاہاہاہا سچ تو تجھے برا لگنا ہی تھا تسمیر خان اور تو جانتا ہے مجھے بھی بہت برا لگا جب تو نے اس دن اس نیلی آنکھوں والی حسینہ سے دور رہنے کو کہا تھا اور تو اور تو نے میرے دوست کو بھی جیل بھیجوا دیا لیکن یقین کر جب اس حسینہ نے تجھے تھپڑ مارا تھا نا یہاں یہاں سکون سا اترا تھا“ وہ لڑکا جس کا نام ریحان تھا دل پر ہاتھ رکھے اطمینان سے بولا جب تسمیر کا.ایک بار پھر ہاتھ اٹھا اور اس بار اسنے ایسا حملہ کیا تھا جس نے سامنے والے کا منہ پھاڑ کر رکھ دیا تھا ریحان کا ہونٹ پھٹ چکا تھا جس میں سے جون بہے رہا تھا
پورا کالج اس تماشے سے لفت اندوز ہوتا ویدیو بنانے مصروف تھا جبکہ کُبرا اس طرف سے آتی آوازوں کا پیچھا کرتی صباحت کے ہمراہ ادھر آئی تھی اور سامنے کا منظر اسکے لیے بلکل حیران کن تھا تسمیر کسی لڑکے کو گریبان سے پکڑے اس پر مکے اور گھوسے برسا رہا تھا اور وہاں موجود کسی شخص نے یہ زحمت نہیں کی تھی کہ انہیں الگ کرتا ہمت کرکے وہ اسکے پاس پہنچی تھی
”تسمیر چھوڑ دیں اسے مر جاۓ وہ“ اسکے پاس آتی وہ خوفذدہ سی بولی اسنے آج سے پہلے کبھی ایسی صورت حال کا سامنا نہیں کیا تھا لیکن وہ تو جیسے کسی کی سننے کو تیار ہی نہیں تھا بات آخر اسکی عزت پر آئی تھی جو تسمیر خان کو کسی صورت برداشت نہیں تھی
”چھوڑ دیں اسے تسمیر “اب کی بار کُبرا اسکا بازو دونوں ہاتھوں سے تھامے چلائی جب تسمیر نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا جو آنکھوں میں آنسو لیے اسے روک رہی تھی اسے دیکھتے ہی تسمیر کی رگیں مزید تنی تھی آخر وہی تو سارے فصاد کی جڑ تھی غصے سے ریحان کو چھوڑتا وہ لمبے لمبے ڈھک بڑھتا آگے بڑھ گیا جس پر کُبرا اسکے پیچھے آئی تھی
”کیوں کیا آپ نے ایسا؟ کیوں مارا اسے“ گاڑی کے پاس پہنچتے ہی وہ اس سے سوال کر بیٹھی جس کے جواب میں وہ کچھ نہیں بولا تھا
”آپ سے پوچھ رہی ہوں میں“ اب کی بار کُبرا نے اسکا بازو تھام کر پوچھا جس پر وہ سرخ آنکھیں لیے جھٹکے سے اسے گاڑی سے لگایا
“ تمہاری وجہ سے صرف تمہاری وجہ سے مرا میں نے اسے مزاق اڑا رہا تھا وہ میرا کہ رہا تھا کہ میں اتنا بغیرت ہونگا نجانے تمہارے ساتھ کیا کیا کر دیا ہوگا میں نے جبھی تم نے مجھ پر سوچے سمجھے بغیر ہاتھ اٹھایا نفرت ہے مجھ تم سے کُبرا عباس خان بے حد نفرت!“ لہجے میں بے حد نفرت لیے وہ پھنکار کر کہتا گاڑی میں بیٹھ کر زن سے بھاگا جبکہ پیچھے وہ بےسد سی اسے جاتا دیکھنے لگی کچھ تھا جو آج اسے توڑ گیا تھا پہلی بار تسمیر کے الفاظ اسکی اذیت کا سبب بنے تھے ورنہ پہلے وہ اسکے کسی بھی الفاظ کو خاطے میں لاۓ بغیر ہوا مین اڑا دیا کرتی تھی نجانے کیوں آج وہ اسکے الفاظ چاہ کر بھی ہوا میں نہیں اڑا پائی تھی شاید اسکی زندگی اس شخص سے جڑنے والی تھی اور اسے ساری زندگی اب ایسے ہی الفاظوں کی اذیت میں گزارنی تھی………..
**************
دن جیسے منٹوں میں گزر رہے تھے کل انکی مہندی تھی کیوں کہ آغا جان اپنے کاموں میں جلدی کے عادی تھے اسئلے شادی ایک ہفتے کے اندر اندر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا پورے خان مینشن کو خوب صورتی سے سجایا گیا تھا باہر لان میں مہندی کا خوبصورت سیٹ اپ کیا گیا تھا جس میں ایک ڈانس فلور بھی تھا جو روحان اور برکت کی بھرپور فرمائش پر رکھا گیا تھا
”ماں دن کا دن آگیا ہے اور ابھی تک
میری شوپنگ تک نہیں ہوئی ہے آپی کا بھی لہنگا نہیں آیا ہے اور آپ لوگ اتنے آرام سے بیٹھے ہیں؟ “برکت منہ بسورے بولی
جس پر سلمہ بیگم اور رخسانہ بیگم مسکرائی تھیں” اچھا تو میری اداس پری تم جاکر کر لو شوپنگ تمہیں کونسا سوٹ سلوانا ہے جو اتنی ٹینشن لے رہی ہو اور ویسے بھی پیچھلے ہفتے سے مسلسل تم شوپنگ پر شوپنگ کر رہی ہو جاؤ جاکر روحان سے کہ دو وہ تمہیں اور کُبرا کو لے جاۓ گا لیکن یاد رہے کُبرا کو سختی سے منع کر دینا کہ وہ ایک پل کے لیے بھی اپنا نقاب نہین اتارے گی مایو کی دلہن ہے کسی کو اپنا چہرہ نا ہی دیکھاۓ تو اچھا ہے “سلمہ بیگم مسکرا کر کہنے لگی
م”یں تو کہتی ہوں بھابھی کُبرا کو باہر نہیں بھیجتے مایو کی دلہن آخر کب گھر سے نکلتی ہے؟ “رخسانہ بیگم پریشان سی بولی
”کوئی بات نہیں جانے دو اپنے لیے اپنی پسند کا لہنگا لے آۓ گی ویسے بھی وہ تو کسی چیز میں تنگ نہیں کرتی برات اور ولیمے کا تو ہم بڑے لے آۓ تھے اب مہندی میں تو بچی کو اپنی مرضی کرنے دو مجھے تو ایسا لگ رہا ہے میری جگہ تم اسکی ساس ہو“ سلمہ بیگم مسکرا کر بولیں تو برکت بھی انکی بات کی تصدیق کرتی کُبرا کے روم کی طرف بھاگی تھی
”چلیں بڑو شوپنگ کرنے؟ “جون اسکے پاتھ آتا بولا
ن”ہیں یار تو روحان کے ساتھ چلا جا میرا موڈ نہیں ہے“ تسمیر بے دلی سے کہنے لگا
”اوہ کم اون مین شادی تیری ہے بڑو اور اگر دلہا میں لگنے لگ گیا تو تو ساری زندگی اسکی غم میں گزار دے گا کہ تیری شادی میں تیرے سے زیادہ تیرا یار ہنڈسم لگا تھا اور ویسے بھی میں اپنی کچھ کول سی فوٹوز بنا کر بچیوں کو واٹس ایپ کرنے والا ہوں“ جون اسکا موڈ اچھا کرنے کو بولا جس میں وہ کافی جد تک کامیاب بھی ہو گیا تھا
” نے شک یہ شادی میرے ایک سزہ ہے لیکن میں اسے بھرپور انجواۓ کرکے گزاروں گا اور یہ بات تو تو بھول ہی جا کہ تو میرے ہوتے ہوۓ کبھی مجھ سے زیادہ ہنڈسم لگ سکتا ہے تسمیر اترا کر کہتا باہر نکل گیا“ (تسمیر خود پسند نہیں تھا وہ تو بس اسے چھیڑا کرتا تھا جون خود بھی بے حد خوش شکل خبرو جوان تھا )
باہر نکلتے ہی روحان نے انہیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی تھی جیسے تسمیر کے لاکھ منع کرنے کے باواجود جون صباحت کو دیکھ کر قبول کر گیا تھا لیکن گاڑی میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے جون اور تسمیر الگ گاڑی میں جبکہ دوسری گاڑی میں کُبرا, صباحت,روحان اور اسکے ساتھ ہی فرنٹ سیٹ پر برکت پر بیٹھی تھی………
شوپنگ زور شور سے جاری تھی لیکن اس دوران تسمیر نے بار بھی پلٹ کر اسے نہیں دیکھا تھا ان دنوں میں کُبرا کے لیے اسکے دل میں بدگمانی مزید بڑھ گئی تھی اور کُبرا بھی اسکا آثر لیے بغیر اپنی قسمت پر سمجھوتا کر لیا تھا
ہاں یہ بہت اچھا ہے یہی پیک کر دیں دس سوٹ نکلوانے کے بعد وہ آخر ایک سوٹ پسند کر گئی تھی
بس بہت ہوا بھائی یہ چھوڑیں وہ والا دیکھائیں روحان فورن سے ایک دریس اسکے سامنے لاتا اسے تھاما گیا تھا اب تم یہی پہنو گی روحان اسے گھورتے ہوۓ کہنے لگا
کیوں؟ برکت ابرو اچکا گئی
کیوں کہ تم اس میں میرا صبر آزما سکتی ہو اسئلے وہ نہیں! روحان گھمبیر لہجے میں کہتا اسے شرمانے پر مجبور کر گیا تھا
آپ یہی پیک کر دیں برکت سرخ چہرہ لیے دوکاندار سے مخاطب ہوئی
لگتا ہے تمہارے ارادہ ٹھیک نہیں ہے؟ روحان شرارت سے بولا جب جون نے اسکی گردن سے اسے دبوچہ تھا
ارادے تو تمہارے ٹھیک نہیں لگ رہے ٹھرکی انسان جون اسکی گردن دبوچے اپنی مصنوئی غصے سے بولے
ہاں تو مجھے بھی آپ کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے دیکھ رہا ہوں میں بھی کیسے صباحت کے ارد گرد پھیر رہے ہیں روحان اپنی گردن اسکے قبضے سے نکلتا منہ خفگی سے بولا جبکہ اسکے کچھ فاصلے پر رکھی صباحت اپنا نام سنتے ہی شرم سے پانی پانی ہو گئی تھی
اوہ کیا کر رہا ہے؟ میں نے تو ابھی تک ظاہر بھی نہیں کیا اس پر جون اسے آنکھیں دیکھاۓ بولا
اوہ( آئی مین) کب سے دیکھ رہا ہوں صباحت کے پیچھے گھوم رہے ہیں تاکہ ولید صاحب کے لیے انکی پسند کا سوٹ لے سھکیں تو جاکر صاف صاف کہ دیں نا روحان فورن بات سنبھالتا ہوا بولا جس پر صباحت اطمینان سا سانس بڑھ گئی تھی
ہمم وہ میں سوچ رہا تھا ولید صاحب کے لیے ایک سوٹ تحفہ میں لے جاؤں تو کیا آپ میری مدد کریں گی؟ جون اسکے قریب آتا کھنکھار کر بولا
اسکی کیا ضرورت ہے بابا کے پاس پہلے ہی بہت سوٹ ہیں آپ بلاوجہ تکلف مت کریں صباحت مسکرا کر کہنے لگی وہ ہمیشہ ایسے ہی رہتی تھی مطمئن اور پرسکون جو کسی کو بھی اپنے اس پرسکون لہجے سے اپنی طرف متواجہ کر سکتی تھی
اپنوں کو تحفہ دینے کے لیے ضروری نہیں ہے کوئی وجہ ہو تحفہ دینا تو اپنی محبت کو ظاہر کرنے کی ایک نشانی ہے اور تحفہ دیا بھی اسے ہی جاتا ہے جو اس نشانی کی قدر کرے نا کہ قیمت یا اسکی ظاہری حالت کی جون ذومعانی انداز میں کہنے لگا
ٹھیک ہے چلیں پھر میں کر دیتی ہوں آپ کی مدد ویسے بھی اس دن آپ نے کالج میں میری مدد کی تو اسکا بدلہ بھی اتر جاۓ گا ویسے بابا کو سفید رنگ ہی پسند ہے آپ یہ والا دیکھ لیں صباحت ایک سوٹ اسکے سامنے کر گئی
ٹھیک ہے پھر یہی صیح ویسے آپ کچھ نہیں لیں گی؟
نہیں میں پہلے ہی اپنے لیے خوب شوپنگ کر چکی ہوں شکریہ!
ایسے کیسے آپ ہمارے ساتھ آئی ہیں میں خالی ہاتھ تو نہیں جانے دوں گا بھائی وہ والا سوٹ دیکھاۓ جون اسے کہتا دوکاندار سے مخاطب ہوا تھا
لیکن…
ششش بہت بولتی ہیں آپ! اس سے پہلے وہ کچھ کہتا جون اسے چپ رہنا کا اشارہ کر گیا تھا جس پر وہ محض جھینپ کر سوٹ ہاتھوں میں تھام گئی تھی……
******************
کُبرا کی تو ساری شوپنگ کمپلٹ ہو چکی تھی لیکن تسمیر اب بھی پرسوچ سا شیروانی ہاتھ میں پکڑے کنفیوز کھڑا تھا
یار بھائی یہ اتنی اچھی تو ہے روحان ستائشی انداز میں کہنے لگا
ہاں لیکن یہ بھی اچھی ہے سمجھ نہیں آرہی ان میں سے کونسی لوں تسمیر ہنوز کنفیوز سا کہنے لگا
تسمیر بھائی یہ مہرون والی زیادہ سوٹ کرے گی آپ پر آپ یہی لے لیں برکت مزے سے بولی
اس سے پوچھوں کون سی اچھی ہے تسمیر کُبرا کی طرف اشارہ کر گیا جبکہ کُبرا کو لگا تھا وہ شاید کوئی خواب دیکھ رہی ہے جو تسمیر خان اس سے راۓ مانگ رہا ہے
بتاؤ نیلی بلی کونسی اچھی ہے؟ روحان ابرو اچکاۓ بولا
یہ بلیک والی زیادہ اچھی ہے خود پر قابو پاتی وہ مسکرا کر کہنے لگی
تو بس ٹھیک ہے جو گیا فائنل یہ مہرون والی پیک کر دیں بھائی آپ اسکا جواب پاتے ہی تسمیر پرسکون سا دوکاندار کو شیروانی پکڑاتا ایک شرارتی نظر سامنے کھڑی کُبرا پر ڈال گیا جو بڑی بڑی آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہی تھی اسکا بس نا چلے تھا وہ تسمیر کا سر پھاڑ دے
کوئی بات نہیں ہوتا ہے ہوتا ہے تم سمجھو ہم میں سے کسی نے نہیں دیکھا تم سمجھو ہم نے تمہاری بےعزتی دیکھی ہی نہیں روحان اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے دلاسہ دیتا بولا
میں تمہارہ منہ توڑ دوں گی روحان کے بچے کُبرا چلائی
اچھا سوری تم غصہ مت ہو ایسے تو سب کو پتا لگ جاۓ گا کہ تمہاری بہت بری والی ہو گئی ہے روحان قہقہ لگاۓ کہتا اسے مزید تپا گیا تھا
آہ اس بار وہ اپنا غصہ قابو کرتی باہر کی طرف تیز تیز قدم بڑھا گئی أؤے رکو سوری یار پکی والی سوری روحان اسکے پیچھے بھاگا تھا جب کہ پیچھے کھڑا تسمیر مطئمن سا اسے جاتا دیکھنے لگا
(کھڑوس انسان) کُبرا جاتے جاتے ایک نظر اس پر ڈالتی اسے لقب سے نوازتی باہر کی طرف بڑھ گئی تھی……..
****************
وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ آختر خان چلایا تھا
اب بھگتو تم ہی کہتے تھے نا کہ آغا خان کی پوتی کو گھر لاکر تم اپنی زمین کے ساتھ ساتھ اسکے حصے کی زمین کے بھی مالک ہو جاؤ گے؟ اب زمین بھی ہاتھوں سے گئی اور لڑکی بھی گل خان کی رعبدار آواز گونجی
صرف لڑکی ہاتھ سے گئی ہے بابا زمین نہیں!
اچھا اور وہ کیسے؟ گل خان اسے گھورتے ہوۓ بولا
میں کسی بھی قیمت پر اس سے زمین واپس لے کر رہوں گا چاہیے اسکے لیے مجھے کسی بھی حد تک کیوں نا جانا پڑے آختر خان آنکھوں میں سرخی لیے ایک ایک لفظ چبا کر کہنے لگا
جب انکا خاص آدمی کسی کو لے کر اندر داخل ہوا تھا
صاحب یہ آپ سے ملنا چاہتا ہے کہتا ہے آپ کا اور اسکا دشمن ایک ہی ہے اور یہ آپ کی مدد کر سکتا ہے
کون ہو تم؟ گل خان اس لڑکے کو دیکھتے ہوۓ بولا جو جنونی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
ریحان نام ہے میرا ریحان پاشا! ریحان اس کے پاس آتا اسے سارہ واقعہ بیان کر گیا تھا
اچھا تو تم چاہتے ہو جیسے اسنے تمہیں پورے کالج سامنے مارا ہے ویسے ہی تم اس سے بدلہ لینا چاہتے ہو؟ گل خان کچھ سوچتے ہوۓ کہنے لگا
بدلہ بھی اور کُبرا بھی! ریحان جنونی سا بولا جس پر گل خان نے حیرت سے اسے دیکھا تھا
وہ لڑکی کیوں چاہیے تمہیں؟ گل جان بھنویں سکیڑ کر بولا
اصل فصاد کی جڑ وہی تو ہے بہت برا لگتا ہے نا تسمیر خان کو جب کوئی اس حسینہ پر غلط نگاہ ڈالتا ہے میں اسے ایسا سبق سیکھاؤں گا جس سے اسکی حسینہ پر کوئی نظر ہی ڈالنا پسند نہیں کرے گا اور اس سے تمہارہ فائدہ بھی ہوگا گل خان جب اسکی کمزوری میرے پاس ہوگی تو وہ کچھ بھی کرے گا تمہارے نام زمین بھی! ریحان پراعتماد لہجے میں کہتا گل خان کو اپنی طرف قائل کر گیا تھا
ٹھیک ہے پھر ملاؤ ہاتھ! گل خان اسکا ہاتھ تھامتا خباست سے ہنسا تھا….