📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 4

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

رات کے کھانے کے بعد سب اپنے اپنے روم میں جا چکے تھے سواۓ روحان,برکت اور کُبرا کے جو ٹی وی لونج میں بیٹھے میچ دیکھنے میں مصروف تھے یار کچھ کھانے کو ہی لے آؤ روحان نظریں ٹی وی پر مرکوز کیے بولا خود ہل لو نا برکت اسے دیکھتی کہنے لگی ارے میں جا رہی ہوں جوس بنانے اور پوپ کورن تو میں نے پہلے ہی اؤون میں رکھ دیے تھے تم لوگ بیٹھو میں لے کر آتی ہوں اس سے پہلے یہ دونوں شروع ہوتے کُبرا مسکرا کر کہتی کچن کی طرف بڑھ گئی ہاں کیا کہ رہی تھیں تم؟ میں خود ہل لوں؟ یہ لو ہل لیا کُبرا کے جاتے ہی روحان اسکے قریب ہوتا شرارت سے کہنے لگا دور رہا کرو تم مجھ سے یہ لاڈ نا کبرا کے ساتھ ہی کیا کرو برکت اس سے دور ہوتی تیش سے بولی یار تم کیوں ہر وقت لڑتی کیوں ہو؟ چلو چھوڑو یار سیٹنگ تو کروا دو روحان اسے دیکھتا شرارتی انداز میں بولا اسی وجہ سے یہی وجہ ہے کہ تم مجھے زہر لگتے ہو برکت اسے کشن مار کر کہتی اوپر کی طرف بھاگی تھی لو غصہ تو ایسے ہو رہی ہے جیسے خود کا میری دلہن بننے کا ارادہ ہو روحان حیرت سے کہتا سر جھٹکتا واپس میچ کی طرف متواجہ ہو گیا…

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

”میرا بھی بنانا جوس“ وہ جو جوس بنانے میں مصروف تھی اسکے اچانک نازل ہونے پر سہم کر رہے گئی لیکن بولی کچھ نہیں”ویسے کوبرا تم کوکنگ تو اچھی کر لیتی ہو“ اسکا جواب نا پا کر وہ ایک بار پھر اسے تپا گیا تھا ”اگر آپ نے ایک بار اور مجھے کُبرا کی جگہ کوبرا بولا تو“

”تو کیا؟ کیا کرو گی؟ “اسکے تپنے پر میر اسے مزید تپانے والے انداز میں کہنے لگا ”میں یہ جوس آپ کے منہ پر پھینک دوں گی“وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے کہتی ایک بار پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئی یہ غصہ اوروں کے لیے بچا کر رکھو جہاں اسکا کام ہو آئندہ میں تمہیں کسی لڑکے سے ڈرتے ہوۓ نا دیکھوں! تسمیر اسکے کان کے قریب سرگوشی کرتا اپنا جوس کا گلاس اٹھاۓ باہر نکل آیا جبکہ اسکے قریب آنے سے اس میں سے اٹھتی خوشبو سے کُبرا کو اپنا سانس رکتا محسوس ہوا تھا بے شرم انسان نہیں مطلب دور کھڑے ہوکر بات نہیں ہو سکتی؟ وہ خود سے کہتی گلاس ٹرے میں رکھے ٹی-وی لونج کی طرف بڑھ گئی…

شکر ہے تم آگئی ہو جوس نکالنے گئی تھیں یا بنانے؟ اسکے آتے ہی روحان خفگی سے بولا ارے ارے کیا ہو گیا بھائی؟ جوس ختم ہو گیا تھا اسئلے بنانے میں دیر لگ گئی تم کیوں مرچیں چباۓ بیٹھے ہو؟ کُبرا ایک نظر سامنے صوفے پر بیٹھے میر پر ڈالتی روحان سے مخاطب ہوئی”ہاں کیوں کہ مجھے اکیلے بیٹھ کر میچ دیکھنا بلکل پسند نہیں ہے ایک وہ بہن ہے تمہاری ہر وقت بس ناراض چڑیا بنی رہتی ہے ہر بات پر تو روتی شکلوں کی طرح غائب ہو جاتی ہے کسی دن نا مرے گی یہ میرے ہاتھوں“ روحان تیش سے کہتا اسکے ہاتھ سے ٹرے لے گیا

” بلکل بھائی ایسا ہی ہے کچھ لڑکیاں ہوتی ہی ایسی ہیں کہ بس دل کرتا ہے اسی وقت کچا چبا جائیں“ اب کی بار بولنے کی باری تسمیر کی تھی

” کیا ہو گیا ہے؟ اگر اتنی ہی بری لگتی ہیں لڑکیاں تو مت چپکا کرو نا ان سے دور رہے کر ہی بات کیا کرو نا“ وہ دونوں اپنی بھراس نکالتے کُبرا کو مزید تپا گئے تھے

“میں نے تمہاری بات نہیں کی“ روحان اسے دیکھتا کہنے لگا

”اور میں نے بھی تمہاری بہن کی بات نہیں کی“ تسمیر اسکی حالت انجواۓ کرتا ذومعانی انداز میں بولا

”اور حان؟ جاؤ جاکر برکت کو منا کر لاؤ دیکھ رہی ہوں میں لوگوں کی صحبت میں بیٹھ بیٹھ کر تم بھی انہی کہ جیسے ہوتے جا رہے ہو “اسکی بات کو نظرانداز کیے وہ تسمیر کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی کہنے لگی

”جا رہا ہوں“ اپنے زیادہ بول جانے کے خیال سے وہ شرمندہ سا برکت کے روم کی جانب گیا تھا اسکا غصہ ایسا ہی تھا دو منٹ کے لیے آتا اور پھر جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا تھا

یہاں تو بہت شیرنی بنی پھیڑتی ہو کالج میں دیکھا تھا خود کو؟ بھیگی بلی بن گئی تھیں اسکے جاتے ہی تسمیر ایک بار پھر کُبرا سے مخاطب ہوا تھا نہیں آپ کو مسئلہ کیا ہے؟ مجھے تپاۓ بغیر سکون نہیں ملتا آپ کو؟ کُبرا اسے دیکھتی اکتا کر بولی ”نہیں“ جس پر وہ ڈھٹائی سے گردن نفی میں ہلا گیا ٹھیک ہے پھر خود بیٹھیں دیکھیں میچ غصے سے کہتی وہ قدم آگے کی جانب بڑھا گئی جب اگلے ہی لمحے وہ جھٹکے سے اسکا ہاتھ تھام گیا شرم تو نہیں آتی اپنے سے اتنے بڑے کزن سے زبان چلا رہی ہو؟ وہ اسے زچ کرتا مسکرا کر بولا پہلی بات اپنے بڑے ہونے کا ثبوت پہلے آپ دیں اسکے بعد میں بھی بڑا سمجھو گی آپ کو اور دوسری بات یہاں کہ کچھ اصول ہیں اور ہمارے یہاں ایسے ہی کسی کا ہاتھ نہیں پکڑ لیتے وہ اسکی مضبوط گرفت سے اپنا ہاتھ نکالتی آنکھیں چھوٹی کیے بولی بہتر ہوگا اپنے یہ اصول خود تک ہی رکھو مجھ سے زیادہ الجھو گی تو ہاتھ پکڑنے کے ساتھ ساتھ اٹھا کر باہر پھینک آؤ گا ویسے بھی ایک ہاتھ کی بھی نہیں ہو میرے اس پر ایک نظر ڈالتا وہ چہرے پر شرارت سجاۓ بولا جیسے وارن کر رہا ہو اس سے پہلے وہ کچھ کہتی تسمیر کا فون بجا تھا جسے وہ فورن آٹینڈ کرتا باہر کی جانب بڑھ گیا ”لوفر نا ہوں تو“

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

”تم آرہی ہو یا اٹھا کر لے چلوں؟“ اسے کافی دیر منانے کے بعد وہ اب اکتا کر بولا تھا” تمہیں کیا مسئلہ ہے؟ میری مرضی میں آؤں یا نہیں برکت منہ بسور کر کہتی پھر سے کمبل منہ تک لے گئی“

” ویسے میری سمجھ یہ نہیں آرہا کہ میں تمہیں منا کیوں رہا ہوں“؟ روحان کچھ سوچتے ہوۓ کہنے لگا ”ہاں تو یہ بات تمہیں پتا ہونی چاہیے“ “ برکت اسکے انداز پھر مسکراۓ بغیر نا رہے سکی” مجھے تو کُبرا نے کہا تھا جبکہ اسے تو پتا بھی نہیں بات کیا ہوئی ہے پتا تو مجھے بھی نہیں ہے میں پھر بھی پندرہ منٹ سے تمہیں منا رہا ہوں اور ایک تم ہو جو بیوئیوں کی طرح نخرے ہی دیکھاۓ جا رہی ہو دیکھو برکت اب تم نے ماننا ہے تو مان جاؤ ورنہ میں جا رہا ہوں تمہارے چکر میں میچ کہاں سے کہاں نکل گیا ہوگا“روحان اب سنجیدہ لہجے میں بولا تھا جس پر وہ محض منہ بسور کر اٹھتی ٹی وی لونج کی طرف بڑھ گئی روتی شکل! اسے جاتا دیکھ وہ ایک بار پھر اسے چڑھا گیا تھا

.¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

صبح فجر کی نماز کے فورن بعد ہی وہ آئر پورٹ کے لیے نکل گیا تھا اوہ میرے یار ویلکم بیک! اسے اتنے دن بعد دیکھ کر وہ جوش سے اسے گلے لگا گیا اوہ مین کیا خوبصورت نظراہ ہے دیکھ زرا جون آس پاس دیکھتا کہنے لگا چل گھر چل سب انتظار کر رہے ہیں خاص توڑ پر اماں جان تسمیر کے بتانے پر جون کے چہرے پر پرسکون مسکراہٹ بکھر سی گئی تھی کتنے سالوں بعد وہ ان سے ملنے جا رہا تھا

_________________________________________

ہمیشہ کی طرح ناشتے کی ٹیبل پر آج بھی سب موجود تھے سواۓ کبرا کے کُبرا کے کبرا اور تسمیر کہاں ہیں؟ وہ آغا جان کُبرا بس آتی ہوگی لیکن تسمیر نجانے کہاں گیا ہے آغا جان کے پوچھنے پر رخسانہ بیگم پریشان سی بولیں جب پیچھے سے اسکی آواز گونجی اسلام و علیکم ایوری ون وہ.خوشی سے کہتا جون کو اندر آنے کا اشارہ کر گیا جبکہ اسے دیکھتے ہی خان میشن کے ہر شخص کے چہرے پر خوشگوار حیرت رینگی تھی اسے دیکھتے ہی اماں جان کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی آخر وہ انکا اکلوتا نواسہ تھا جون انکی بیٹی حالہ کا بیٹا تھا حالہ کی ڈیتھ کے بعد وہ انکے پاس ہی رہنے لگا اماں جان نے اسے اپنے بیٹوں کی طرح چاہا تھا جبکہ آغا جان نے کُبرارا کو اپنی پوتی کی جگہ بیٹی مان لیا تھا انکی اکلوتی بیٹی کے بعد کُبرا ہی انکے خاندان کی دوسری بیٹی تھی اسی وجہ سے کبرا آغا جان کو اپنی جان سے بھی زیادہ غزیز تھی باری باری کرکے وہ سب سے ملتا وہ اماں جان کے ساتھ والی کرسی سنبھال گیا چلیں اب سب ناشتہ شروع کیجیے برکت آجائیں آجا کر کُبرا کو بلا کر لائیں میں اسلام و علیکم! برکت کے اٹھنے سے پہلے ہی وہ سامنے سے آتی دیکھائی دی ناچاہتے ہوۓ بھی میر کی نظر اسی طرف موڑی جہنیں وہ اگلے ہی لمحے جون کی طرف کر گیا جو یک ٹک کُبرا کو دیکھنے میں مصروف تھا جبکہ نجانے کیوں یہ منظر تسمیر کو سخت ناگوار گزرا تھا…..