Shagaf-e-Dil Episode 33
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shagaf-e-Dil by Syeda Shah
کُبرا گھڑی پر ٹکٹکی باندھے اسکے انتظار میں تھی رات کے گیارہ بج چکے تھے اور وہ روم میں نہیں آیا تھا ایسا تو کبھی نہیں ہوا اکثر کُبرا ہی لیٹ ہوتی تھی ورنہ وہ جب بھی گھر آتا تھا اپنے روم سے صرف کھانے کے لیے ہی نکلتا کافی دیر انتظار کرنے کے بعد وہ نیچھے کی جانب قدم بڑھا گئی
وہ ٹی وی لاونج میں بھی نہیں تھا
کسے ڈھونڈ رہی ہیں آپ باجی؟ فریدے اسے دیکھ کر بولی
تسمیر کو دیکھا ہے تم نے؟ نجانے کس خیال کے تحت وہ اس سے پوچھ بیٹھی
جی باجی وہ کچھ دیر پہلے مریم باجی کے کمرے میں گئے تھے ویسے آپ نظر رکھا کریں مجھے آج کل ان دونوں کا انداز مشکوک لگ رہا ہے فریدے اپنا کام بخوبی انجام دے گئی
آپ اپنے کام.سے کام رکھیں تو بہتر ہوگا اپنی طرف سے کہانیاں مت بنایا کریں کُبرا غصے پر قابو رکھے کہنے لگی
آۓ ہاۓ باجی آپ تو غصہ ہو گئیں اور اگر میری بات پر یقین نہیں ہے چلیں خود چل.دیکھ لیں وہ وہی ہیں فریدے اپنے قدم میئری کے روم کی جانب بڑھا گئی
جس پر کُبرا اسکے پیچھے آئی اور دروازہ کھولتے جو منظر اسکے سامنے آیا تھا وہ اسکے لیے نا قابل یقین تھا وہ آدھی شرٹ کے بٹن کھولے میئری کو بالوں سے جکڑے اپنے بے حد قریب کیے کھڑا تھا
اسے دیکھتے ہی وہ دونوں اس طرف متواجہ ہوۓ اسکے چہرے پر آۓ تاثرات سے تسمیر کو خطرے کا احساس ہوا
ہاۓ اؤ ربا یہ کیا ہو رہا ہے اس سے پہلے ہی فریدے چیخی تسمیر نے جھٹکے سے میئری کو خود سے الگ کیا تو وہ روتے ہوۓ کُبرا کے گلے لگی تھی
شکر ہے تم آگئیں—— مججھے بچا لو! وہ روتے ہوۓ اس سے لگی کے تسمیر حیرتذدہ سا معملہ سمجھنے لگا
جھوٹ بول رہی ہے یہ میری شرٹ پر جوس گرا تھا اسئلے میری شرٹ وہ نجانے کیوں صفائی دینے لگا جب فریدے
کی آوازوں سے سب گھر والے یہاں جمع ہوۓ اور یہ منظر سب کے لیے ہی حیرت کے جھٹکے سے کم نا تھا
یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ سلمہ سخت تاثر لیے تسمیر کو دیکھنے لگی جو اب بٹن بند کرنے میں مصروف تھا
کچھ بتانے پسند کرو گے تم؟ علی صاحب ڈھارے
ڈیڈ ایسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ لوگ سمجھ رہے ہیں وہ سپاٹ لہجے میں بولا
ہم کچھ نہیں سمجھ رہے تم ہمیں بتاؤ گے تو ہم سمجھیں گے بتاؤ یہ سب کیا ہو رہا ہے کیا حرکت ہے یہ؟ رخسانہ اپنی بیٹی کا سوچ کر تلخی سے کہنے لگیں تسمیر کو بے ساختہ جون یاد آیا جو یہاں موجود نہیں تھا ایک وہی تھا جو سب جانتا تھا…
اس سے کیا پوچھ رہی ہو تم اس لڑکی سے پوچھو کے یہ کیا کر رہا تھا یہاں؟ بیٹا کھل کر بتاؤ سب؟
اماں جان کے کہنے پر میئری نے فاتحانہ نظروں سے انہیں دیکھا پھر بولنے کو لب کھولے
.آپ کے بیٹے نے…… میئری بولتی کے کُبرا نے اسکی بات بیچ میں ہی اچک گئی
کچھ نہیں آیا جان تسمیر میئری کو منانے آۓ تھے اس سے انکی شرٹ پر جوس گر گیا بس اتنی سی بات کا باتنگڑ بنا دیا ہے فریدے نے!
وہ اسے دیکھے بغیر سلمہ سے مخاطب ہوئی
بیٹا تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے بتاؤ کسی کی فکر مت کرو مجھے کھل کر بتاؤ عباس صاحب اسکے پاس آتے بولے
میں کھل کر ہی بتا رہی ہوں بابا! تسمیر نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے وہ مجھے بتا کر ہی آۓ تھے اور بہتر ہے آپ لوگ فریدے کی باتوں کے بجاۓ میری بات سنیں
مجھے بلکل گوارا نہیں ہے کوئی میرے شوہر پر اس قسم کے الزامات لگا کر انسلٹ کرے
وہ بولی تو اماں جان اور مئیری ہی نہیں بلکہ اسکے اسکے ساتھ تسمیر بھی حیرت سے اسے دیکھنے لگا
چلیں وہ اسکا ہاتھ تھامے روم سے نکل گئی جبکہ گھر کے باقی سب شرمندہ سے ہوۓ
فریدے تم میرے کمرے میں آؤ زرا !
سلمہ اسے وارنگ دے کر میئری کی جانب دیکھنے لگی
معاف کرنا بچے یہ زرا زیادہ ہی سوچتی ہے !وہ فریدے کی روایے کی وجہ سے شرمندہ سہ بولیں جس پر مئیری منہ بنا کر سر اثبات میں ہلا گئی
*******************
کمرے میں آتے ہی کُبرا اس سے جھٹکے سے الگ ہوئی جس پر وہ اسے پیچھے سے حصار میں لے گیا
تھینک یو شکر ہے تمہیں یقین تو ہے مجھ پر! وہ اسے حصار میں لیے محبت پاش لہجے میں بولا
کوئی یقین نہیں ہے مجھے آپ پر چھوڑیں مجھے, نہیں رہنا مجھے آپ کے ساتھ اسے الگ ہوتے ہی وہ چلائی
شش بری بات ہے ایسی باتیں نہیں کرتے اللہ کو بھی ایسی باتیں پسند نہیں ہیں تمہاری نماز قبول نہیں ہوگی
وہ اسکی ناراضگی کو مسنوئی سمجھا تھا
میرا اور میرے اللہ کا معملہ میرا ہے بہتر ہے آپ یا کوئی بھی اس میں نا ہی پڑیں
اچھا اور جو تم نے مجھے نماز پڑھائی تھی وہ کیا؟ تسمیر ابرو اچکاۓ گیا
میں نے کبھی آپ کو نماز نا پڑھنے پر تانہ یا طنز نہیں کیا ہمیشہ آپ کو نصیحت کی ہے آپ نے نماز پڑھنا جب ہی
شروع کی جب آپ کا اپنا دل مطمئن ہوا اور میں کوئی فرشتہ نہیں ہوں جو آنکھوں سے سب دیکھنے کے باواجود چپ رہوں کچھ نا کہوں وہ زہر خندق ہوئی
(ٹھیک ہی تو کہ رہی تھی وہ اگر لوگ اپنا دوسرے لوگوں کو انکا دین سمجھانے کے بجاۓ ایک نظر خود پر ڈال لیں
تو اس ملک کا نظام کیا سے کیا ہوسکتا ہے یہ بات سچ تھی کہ اسنے ہمیشہ تسمیر کو نصیحت کی تھی وہ جیسا تھا,اسنے ایسے ہی قبول کیا تھا لیکن اب…)تسمیر محض سوچ کر رہے گیا
پھر نیچھے کیوں لوگوں کے مجھے سے کچھ نہیں کہا؟ وہ اب سنجیدہ ہوا
مریم کی وجہ سے میں نے دیکھا تھا اسکے چہرے پر تکلیف کے آثار تھے آپ کی وجہ سے وہ بچاری بھی اپنی عزت سے جاتی وہ جس طرح بولی تھی تسمیر اسے دیکھ کر رہے گیا جسے اپنے شوہر سے زیادہ اس لڑکی کی فکر تھی
ایسا کچھ نہیں ہے ادھر آؤ اس سے پہلے وہ اسے تھامتا کُبرا نے بری طرح اسکے ہاتھ جھڑکے تھے
دور رہیں! کیا میں جانتی نہیں آپ کا مزاق میں بھی سچ کہنا کتنی بار آپ نے کہا تھا آپ آج اسکے روم میں سونا
چاہتے ہیں میں ہی بیواقوف تھی جو آپ کی باتوں میں آگئی وہ اس وقت جتنا منفی سوچ سکی تھی اسنے سوچا تھا
جبکہ تسمیر حیرت سے اسے دیکھنے لگا جو اسکی مزاق میں کی گئی بات کو بھی بیچ میں لے آئی تھی
اس سے پہلے کبھی اسے ایسے بے قابو ہوتے نہیں دیکھا تھا کیا تھا جو,اس اسکی آنکھوں میں نہیں تھا نفرت, بے اعتباری, شکوہ,
ایک یکدم ہی میئری کے الفاظ اسکے زہن میں گونجے تھے جنہیں وہ زبان تک لے آیا
تمہیں یقین نہیں مجھ پر؟ تمہیں میرا تمہارے قریب آنا اچھا نہیں لگتا؟
نہیں ہے مجھے یقین آپ پر نہیں اچھا لگتا مجھے آپ جب میرے پاس آتے ہیں تو! وہ چلائی تو تسمیر تنے نقوش سے اسکے جھٹکے سے قریب کر گیا
دور رہیں مجھے ہاتھ بھی مت لگائیے گا پتا نہیں زبردستی کس کس کو…وہ اسکی گرفت میں مچلتی
حقارت سے بولتی جب تسمیر کا ہاتھ اٹھا تھا
جسے وہ ہوا میں ہی مکا بنا کر نیچھے کر گیا
آپ مجھے ماریں گے؟ وہ ایک حیرتذدہ سی بولی
اچھا سوری لسن! وہ لگتار اسکی گرفت سے خود کو نکالنے کی کوشش جاری رکھے ہوۓ تھی
اب حد کر رہی ہو تم! وہ ڈھارا
چھوڑیں مجھے نہیں پسند مجھے آپ کا میرے پاس آنا وہ روتے روتے اسکے چوڑے سینے پر مکے برسا رہی تھی
اب جب تک تم مجھے خود سے سوری نہیں کروں گی میں تمہارے قریب بھی نہیں آؤں گا اسکے چلتے ہاتھوں کو
جکڑ کر وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ڈھارا جبکہ اسکے انداز پر وہ خوفذدہ سی دو قدم پیچھے کو ہوئی
جس پر وہ اسے جھٹکے سے چھوڑتا جنونی سا بیڈ کی سائد ٹیبل پر جھکا اپنی گاڑی کی چابیاں اور گن تھامے وہ ڈھار سے دروازہ بند کیے روم سے نکل گیا کے وہ پیچھے خوفذدہ سی بیٹھتی چلی گئی
لمبے لمبے ڈھگ بڑھتا وہ سیدھا میئری کے روم میں آیا لیکن وہ یہاں نہیں تھی کسی خیال کے تحت وہ اماں
جان کے کمرے کی طرف بڑھا تو وہ اسے دروازے کے پاڑ ہی کھڑی ملی اسکے تنے ہوۓ نقوش دیکھتے ہی وہ حلق تر کر گئی
کل تم مجھے یہاں نظر نا آؤ ورنہ میں تمہاری جان خود اپنے ہاتھوں سے لوں گا! اسکے سر ہر گن رکھے وہ دروازہ بند کیے ڈھارا
تسمیر کیا کر رہے ہو چھوڑوں اسے اماں جان حیرت سے اسے دیکھنے لگیں وہ بد لحاظ تھا یہ وہ جانتی تھی لیکن اس حد تک خطرناک بھی تھا یہ وہ آج دیکھ رہی تھیں
مممیں چلی جاؤں گی تم اسے ہٹاؤ وہ اسے اچھے سے جانتی تھی اسئلے فورن سے خوفذدہ ہوئی
اگر اس وقت کوئی اور ہوتا تو وہ اپنی قبر گھود چکا ہوتا یہ تم سے اتنے سالوں کی دوستی کا احسان ہے جو تم میرے سے بچ گئی ہو آج کے بعد میرا تم سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے سمجھ گئی؟ اسکی گردن دبوچے وہ غرایا
جس پر وہ سانس نا آنے کے باعث سرخ چہرے سے تیزی سے اثبات میں سر ہلا گئی
اور بھی جو لوگ کُبرا کو مجھ سے الگ کرنے کے خواب دیکھ رہے ہو وہ بھی سمجھ جائیں کے میں کسی کا لحاظ نہیں کروں گا اسئلے خود سدھر جائیں ایک نظر سہمی ہوئی اماں جان پر ڈالتا وہ باہر نکل گیا
************************
شہر سے کافی دور پہنچ کر اسنے جھٹکے سے گاڑی روکی
آدھی رات کو سناسان سڑک پر تیز رفتار میں وہ گاڑی چلاتا نجانے کہاں آ نکلا تھا
دل میں اٹھتے ابال وہ با مشکل روکتا سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا گیا. کُبرا آنکھوں کی بے اعتباری اسے کافی اذیت دے گئی تھی
اسے پہلے وہ کبھی اس سے اس طرح مخاطب نہیں ہوئی لیکن آج اسکے لہجے کی تلخی اور آنکھوں میں موجود نفرت اسے بے چین کر دیا تھا
نجانے کتنی ہی سگریٹ وہ سلگا چکا تھا اود کتنی باقی تھیں لیکن سوچوں کا مرکز ہوئی تھی جو اسکے لیے سکون روح تھی اور آج وہ اسے اپنے روائیے سے بے سکون کر گئی تھی
بابا جان ایک بری خبر ہے آختر انکے پاس آکر بولا
کیا؟ گل خان ابرو اچکا گیا
تسمیر خان نے زمین پر ٹاور والے سے کنٹریک کر لیا ہے کب سے انتظام شروع ہو چکے ہیں آپ جانتے ہیں نا کہ
ٹاور والے ایک دفعہ اگر ٹائم بتا دیں تو یہاں سے جب تک ٹاور نہیں ہٹاتے اور اسنے عین بیچ میں یہ کام شروع کروایا ہے تاکہ ہم اس سے زمین لے بھی تو ہمارے کسی کام کی نہیں وہ جیسے جیسے بتا رہا تھا گل.خان بیٹھتا چلا گیا
میں چھوڑوں گا نہیں اس تسمیر خان کو! گل خان ویسے بھی اپنی بہن کا حال دیکھ دیکھ کر وہ اس پر غصہ تھا اور اب یہ کام تو اسکا اپنا ذاتی مسئلہ تھا
بابا ہمارے پاس کوئی ایسا ثبوت نہیں ہے جس سے ہم اسکا ایک بھی کام غلط ثابت کر سکیں وہ افسوس سے بولا
تو کوئی بات نہیں فون ملاؤ ہاشمی کو اور کہو اس سے میر نیازی ہر گولی چلانے کے اور میری زمین پر قبضہ
کرنے پر ایسے ایسے ثبوت تسمیر خان کے خلاف بناۓ پھر دیکھتا ہوں کیسے بچاتا ہے یہ خود کو! وہ حقمی فیصلہ کرتا اسے فون ملانے کو کہ گیا جس ہر آختر سر اثبات میں ہلا کال ملانے لگا
************************
گاڑی ڈرائیور کرتے وہ اسے کال ملا گیا
ہمم! اسکی بھاری آواز اسپیکڑ کر گونجی
کہاں ہو تم؟ جون مصروف انداز میں پوچھنے لگا
گھر نہیں ہوں تو بتا کہا تھا؟ وہ سگریٹ کا دھواں ہوا میں چھوڑ رہا تھا
اچانک ہی ایک کام سے کاغان گیا تھا مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے گھر پر نہیں ہو سکتی اسئلے پوچھا
کہ کہاں ہو بتاؤ میں خود آرہا ہوں وہاں وہ بولا تو تسمیر اسے جگہ کا بتانے لگا
کچھ ہی لمحوں میں وہ اسکے پاس پہنچا تھا
خیریت ہے برو؟ یہ اس ٹائم تمہیں اس سے زیادہ خوف ناک جگہ نہیں ملی تھی؟ وہ ابرو اچکاۓ بولا شاید وہ اب تک گھر نہیں گیا تھا اسئلے اس تماشے سے انجان تھا
ہاں بس ویسے ہی دل کیا تھا خیر تم بتاؤ کیا بات کرنی تھی؟
او ہاں تم نے پھر سے کیا کر دیا ہے؟ گل خان کی زمین پر ٹاور کھڑا کروا دیا؟ وہ آنکھیں سکیڑ کر بولا جس ہر تسمیر نے ازلی بے نیازی سے کندھے اچکاۓ
پہلی بات وہ گل خان کی نہیں میری زمین ہے اور دوسری بات یہ کہ میں اپنی زمین پر کچھ بھی کروا سکتا ہوں اسئلے ڈونٹ وری!
تو کیوں کرتا ہے یار یہ سب؟ ہر جگہ دشمنی مول لینا اچھی بات نہیں ہوتی پہلے ہی اللہ نے کرم کر دیا تو ہم بچے ہیں
تو جانے ہے گل خان کے لیے وہ زمین کتنی امپوڑٹنٹ اس کی وجہ سے وہ تمہاری جان کو بھی نقصان پہچان سکتا ہے جون اسے آگاہ کرنے لگا
مجھے فرق نہیں پڑتا! وہ بے پروائی سے بولا تو جون اسے دیکھ کر رہا گیا
تمہیں نہیں پڑتا تو آیا جان اور کُبرا کو تو پڑتا ہے نا؟ وہ اسے یاد دلانے لگا
نہیں ہے مجھے یقین آپ پر, نہیں اچھا لگتا آپ کا قریب آنا مجھے ! اسکے الفاظ تسمیر کے کانوں میں گونجے
اسے بھی نہیں پڑتا! وہ زیرے لب دھرا گیا جسے جون سن نہیں پایا تھا