📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 36

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

وہ جب سے آیا تھا کُبرا اس بچے کے ساتھ ہی مصروف تھی اسکی وجہ سے وہ روم میں جانے کے نجاۓ ٹی لاونج کے صوفے پر ہی لیٹنے کے سے انداز میں بیٹھا موبائیل میں مصروف ہو گیا

اسے پکڑے میں اسکا فیڈر بناتی ہوں! وہ اب اسکے سر پر تھی اسکی بات پر تسمیر نے موبائیل پر سے نظر ہٹا کر ایک نظر اسے دیکھا پھر واپس سکڑین کی جانب متواجہ ہو گیا

میں آپ سے مخاطب ہوں مسٹر تسمیر علی خان! اسکے نظرانداز کرنے پر وہ تپی

اوہ تو آپ کو یاد تھا میں بہت خوشی ہوئی مجھے سن کر! وہ الٹا طنز کر گیا

اسے پکڑ لیں اسے بھوک لگ رہی ہے میں فیڈر بنا لوں!

وہ ہنوز موبائیل میں مصروف تھا کے کُبرا نے جھٹکے سے اس کا موبائیل چھینا وہ محض مٹھیاں بھینج کر رہے گیا

مجھے پکڑنا نہیں آتا! وہ اب مدعے پر آیا

کُبرا کو بے اختیار اس مغرور شہزادے کے انداز پر پیار آیا تھا جسے وہ فورن جھٹک گئی

یہ لیں میں بتاتی ہوں کیسے پکڑنا ہے! اسے بچے کو پکڑاتی وہ ایک نظر ڈال کر کچن کی جانب بڑھ گئی اسکی باسکٹ بھی وہ ساتھ ہی لے گئی

کچن میں آکر وہ اپنے ہی اندازے سے فیڈر بھر رہی تھی اس سے پہلے یہ کام تو شاید اسنے کبھی کیا ہی نہیں تھا

کچھ ہی لمحوں میں وہ ایک ٹرے میں تسمیر کے لیے کھانا گرم کرکے سیٹ کرتی باہر نکلی جب تسمیر کی جنھجھلائی ہوئی آواز کانوں سے ٹکرائی

کیا ہے کونسی چابی بھری ہے تم نے ٹک کر نہیں بیٹھ سکتے؟ وہ بچے پر ایسے غصہ نکال رہا تھا جیسے وہ اسکا ہم عمر ہو

ٹرے اسکے سامنے رکھتی وہ گھور کر اس سے بچے کو لے گئی تھی جس سے ایک منٹ بھی یہ مصوم جان سنبھالی نہیں جا رہی تھی

کیا فائدہ ایسے موٹاپے کا کہ انسان سے ایک بچہ ہی نا سنبھلے؟ وہ اب اسے کھانے میں مصروف دیکھ بولی کے وہ ایک بار پھر اپنی بوڈی کی انسلٹ ہونے پر جی جان سے کڑھا

پہلی بات بہت محبت سے یہ بوڈی منٹین رکھی ہے میں نے لڑکیاں مرتی ہیں جسے تم موٹاپا کہ رہی ہو! اور دوسری بات تمہیں لگتا ہے میں اسے سنبھال نہیں سکتا؟

مجھے یقین ہے آپ نہیں سنبھال سکتے وہ چیلنجنگ انداز میں بولی تو تسمیر اسے رکنے کا اشارہ کر گیا

کھانے سے انصاف کرتا اپنے روم کی جانب بڑھ گیا کچھ ہی لمحوں میں وہ کالے بنیان اور ٹراؤزر میں فریش سا وہ

واپس آیا تو کُبرا مسلسل بچے کو چپ کروانے کی سعی میں ہلکان تھی جو چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا

ششش بےبی کیا ہو گیا؟ وہ اسکی پیشانی پر بوسہ دیتی تھپتھپا رہی تھی

کبھی ایسی نظریں کرم آپ نے ہم پر تو نہیں کی؟ دور سے آتا وہ اس سے مخاطب ہوا

اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتی بچہ پھر سے رونے کا شغل جاری کر گیا

اسے واپس بھیج دو نا؟ وہ اکتایا

مجھے نہیں پتا یہ کس کا بچہ ہے اور آپ اگر مدد نہیں کرسکتے تو بولیں بھی مت ! اپنا سارہ غصہ وہ اس پر نکلانا چاہتی تھی

دیکھاؤ مجھے! اب کی بار وہ زرا نرم پڑا

چھوڑ دیں گر جاۓ گا! اسکی سنے بغیر ہی تسمیر اسے تھام گیا جو اسکی گود میں آتی ہی خاموشی سے اسے دیکھنے لگا کے کُبرا کا منہ کھلا کا کھلا رہے گیا

یہ کیسے چپ ہوا ہے؟ کیا کیا ہے آپ نے اسکے ساتھ؟ وہ حیران سی اسے دیکھنے لگی

کچھ نہیں بس اتنا ہنڈسم بندہ زندگی میں شاید پہلی بار دیکھ رہا ہے میں ہوں ہی اتنا ہنڈسم! تسمیر ازلی بے نیازی سے بولا

زیادہ خوش فہمیاں نہیں ہیں آپ کو؟ کُبرا بد مزہ ہوئی

کیوں تمہیں میں ہنڈسم نہیں لگتا؟ اسکے کہنے پر وہ اسے دیکھنے لگی کھڑے نقوش کا حامل چہرہ اور سبز گہری آنکھیں سے بلیک ٹریک سوٹ میں ملبوس ماتھے پر

بکھڑے بالوں سے وہ مزید پرکشش لگ رہا تھا (بلاشے وہ اتنا ہنڈسم تھا کہ کبھی کبھی اسے ہی کومپلیکس ہونے

لگتا لیکن یہ بات بتا کر اسے سر پر نہیں چڑھانا تھا ویسے بھی وہ کسی بھی معاملے میں اس سے کم نہیں تھی)

وہ مظاہر بچے کو دیکھ رہا تھا لیکن نظریں اس پر جمی تھیں

لڑکیاں مرتی ہیں تمہارے شوہر پر! اسکی طرف سے کوئی جواب نا پا کر وہ مزید تپانے لگا

ہاں وہ تو میں خوب جانتی ہوں! وہ اس طرح بولی کے تسمیر کی پیشانی پر ان گنت بل نمودار ہوۓ

مزید کچھ کہے بغیر وہ منہ دوسری طرف پھیڑ گیا کے وہ وہ آرام سے ٹیبل پر رکھی ٹرۓ اٹھاۓ کچن کی طرف چلی گئی اسکے جاتے ہی تسمیر نے سر جھٹکا تھا

یہ لڑکی اسکے صبر کا امتحان لینے پر تلی تھی خود سے سوچتے ہوۓ وہ سگریٹ کے کش لینے لگا

کوفی پینی ہے؟ وہ برتن دھو کر باہر آتی پوچھنے لگی جب اسکے تیسری سگریٹ نکالنے ہر ناگوارا سے اسے دیکھا

آؤ بے بی آپ میرے پاس آجاؤ اسموکنگ کرنے والے کے ساتھ نہیں بیٹھتی یہ لوگ بہت ڈینجرز ہوتے ہیں وہ

ناگواری سے بولی تو تسمیر اسے آنکھیں چھوٹی کرکے دیکھنے لگا جب کے اسکی بات پر وہ بچہ ایسے کھلکھلایا تھا جیسے بات سمجھ آگئی ہو

کُبرا بے اختیار اسے بوسہ دینے کو لب کھولے جب تسمیر اپنا گال اسکے آگے کر گیا

اس کا اصل حقدار میں ہوں! وہ اسکے حیرتذدہ تاثرات دیکھ کر بے نیازی سے بولا

آئی ول کِل یو! لمحے میں وہ سر تا پاؤں تک سرخ ہوتی چلائی

میں منتظر ہوں! ٹھنڈے لہجے میں کہتا وہ بچے سمیت ہی صوفے پر ڈھے گیا

.دیں اسے مجھے! وہ اب بچے کو لینے لگی جس پر وہ اپنی مضبوط گرفت جما چکا تھا

بلکہ نہیں تم پہلے جاکر کوفی بناؤ پھر ہی ملے گا اور میرے سامنے زیادہ اسکی کیئر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اسے پھینک دوں گا میں اب!

وہ صیح معینوں میں اب جل بھن رہا تھا مطلب ابھی تو کسی اور کی اولاد تھی اگر اسکی اپنی ہو گئی تو اسکی کیا ویلو رہے جاۓ گی؟ وہ محض سوچ سکا کے کُبرا اسے دیکھ کر رہے گئی

ہونہوں جل ککڑے کہیں کے! اسے لقب سے نوازتی وہ کچن کہ جانب بڑھ گئی

******************

ولید صاحب سے ابھی تک اسنے ہر بات پوشیدہ ہی رکھی تھی

انہیں شک نا ہو اسئلے اسنے اتنا کچھ تیار بھی نہیں کیا خود بھی وہ بے بی پنک کلڑ کے سوٹ میں گھنریالے بالوں کو پشت پر بکھیرے ہالف کیچڑ میں باندھے ہوۓ تھی

میک اپ کے بن پر براؤن آنکھوں میں کاجل ڈالے وہ بے حد پیاری لگ رہی تھی

بیٹا؟ مجھے زرا چاۓ بنا دو! ولید صاحب کے مخاطب کرنے پر وہ سر اثبات میں ہلاتی کچن کی طرف بڑھی کے دروازہ نوک ہوا

میں دیکھتا ہوں نجانے اس وقت کون ہوگا؟ ولید صاحب پریشان سے کہتے دروازے کی طرف چلے گئے کے صباحت دل تھام کر رہے گئی

دروازہ کھولتے ہی انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہوا تھا

اسلام و علیکم بھائی! رخسانہ نظریں جھکاۓ بولیں

تتم یہاں؟

کیوں ہم. ہیں آسکتے ماموں؟ برکت کے کہنے پر وہ مزید حیران ہوۓ

اندر آنے کو نہیں کہیں گے آپ؟ رخسانہ نے پر امید نظروں سے دیکھنے لگی تو وہ راستہ چھوڑ گئے

آئیں آئیں بھابھی آپ کی آئیں نا وہ چہکتے ہوۓ کہنے لگے

آج کتنے ہی عرصے بعد وہ سب سے مل.رہے تھے آنکھوں میں خود نا خود ہی نمی تیرنے لگی تھی

رخسانہ نے شرمندگی سے انکے گلے لگایا تھا

صباحت چاۓ اب سب کے لیے لے آئی تھی

بیٹا تمہیں تمیز نہیں ہے نظریں جھکاؤ اپنی شاباش!

روحان اسے چھیڑنے لگا تو وہ آنکھیں مزید بڑی کرکے اسے گھور گئی

بھائی آج میں آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنے آئی ہوں یوں کہیں کے کچھ مانگنے آئی ہوں وہ بات کا آغاز کر گئی صباحت اور برکت اب کچن میں تھیں اسے اس وقت کُبرا کی بھی کمی محسوس ہوئی تھی لیکن ان دونوں کے ہی پیپر پرسوں سے ہی اسٹارٹ تھے وہ سمجھ سکتی تھی

ہاں کہو؟

میں جہانگیر کے لیے اپنی بیٹی صباحت کو چاہتی ہوں وہ مدعے پر آئی

ولید صاحب سوچ میں پڑھ گئے

پلزز بھائی منع مت کرئیگا صباحت ہماری اپنی بچیوں جیسے ہے سلمہ پر امید سی بولیں

بلکل بہن ایسا ہی ہے لیکن اسکے ابھی پیپر ہونے ہیں وہ اپنی پریشانی بتانے لگے یہ تو وہ جانتے تھے جہانگیر انکی بیٹی کو خوش ہی رکھے گا اور پھر جا تو وہ انکی بہن کے ہی گھر رہی تھی

تو ماسٹر جی ہم کونسا ابھی تاریخ مانگ رہیں ہیں ہمارے بھی ایگریمز ہیں اسکے بعد ہی شادی ہوگی روحان کے ان کی مشکل آسان کی تو وہ کھل اٹھے صباحت نے اس سے پہلے انہیں کبھی اتنا خوش نہیں دیکھا تھا

اسکے بعد وہ سب باتوں میں مصروف ہوگئے لیکن صباحت بامشکل اپنے دل کی حالت کو چھپا پائی

*******************

کچھ ہی دیر میں کوفی کے دو مگ لیے باہر آئی تو نظر اس پر گئی وہ صوفے پر آدھا لٹکا ہوا شاید سو گیا تھا بے بی بھی اسکے ساتھ ہی کورٹ میں لیٹا تھا

کتنا کیئرنگ تھا وہ! اسے دیکھتے ہی دل نے ایک بیٹ مس کی تھی پورے دن بعد وہ اب تھک کر آیا تھا اور اسکی وجہ سے روم تک میں نہیں گیا تھا اور اب نیند میں بھی اس بچے کے کورٹ کو ایک ہاتھ سے پکڑے ہوۓ تھا

نظر لگانے کا ادارہ ہے کیا؟ کُبرا کو لگا کسی نے اسکی چوری پکڑ لی ہو وہ کب آنکھیں کھول گیا اسے محسوس ہی نہیں ہوا

استغفراللہ میں نے کیوں نظر لگانی؟ وہ جھرجھرلی لے گئی

یہ کب جاۓ گا واپس؟ تسمیر اب بچے کی طرف اشارہ کرنے لگا جبھی وہ ملازمہ اندر داخل ہوئی

معاف کیجیے گا باجی آپ کا اتنا وقت لیا امان بابا کو اب دے دیں اسکی والدہ بھی پریشان ہو رہی ہیں میں تو اپنے بندے کی پریشانی میں سب ہی بھول گئی تھی مینا تہمید باندھے لگی

تسمیر کی موجودگی میں گھر کے سب ہی ملازم زرا ڈرتے ہی تھے اسے کب کس بات پر غصہ آجاۓ. یہ کوئی نہیں جانتا تھا

شکر ہے خیال آگیا تمہیں یہ لو لے جاؤ اسے! تسمیر نے سپاٹ لہجے میں کہا تو وہ تابعداری سے سر ہلاتی کُبرا سے مل کر واپسی کی راہ پکڑ گئی

اسکے جاتے ہی وہ بھی اپنے روم کی جانب بڑھ گیا

******************

روم کی بلکونی میں آکر وہ سگریٹ سلگانے میں مصروف تھا اسے کمرے میں آۓ پندرہ منٹ ہو چکے تھے لیکن وہ اب تک نہیں آئی کہاں وہ اتنا ڈر رہی تھی اور اب کہاں وہ اب آنے کا نام نہیں تھا کچھ سوچتے ہوۓ وہ کمرے سے باہر نکل آیا

لائٹ آچکی تھی اسئلے کچھ دیر اکیلے گزارنے کے لیے وہ ٹیرس پر آئی تھی

(ہم دونوں کا دکھ ایک ہی ہے ہم.نے جس سے محبت کی اس نے ہم.دونوں کو ہی دھوکا دیا ) میئری کے الفاظ کسی سیسے کی طرح اسکے کانوں میں گونج رہے تھے

کیوں کیا آپ نے میرے ساتھ ایسا؟ آپ آخر ایسے کیوں ہیں؟ وہ آنسو دل میں اتاڑنے لگی

جب بھی وہ اسکے ساتھ ہوتا تھا اسکا دل بغاوت پر اتڑ جاتا تھا لیکن وہ پھر سے اس پر یقین کرکے اپنا دل بری طرح توڑوا نہیں سکتی تھی اس بار تو شاید ایکٹرکشن تھی اسئلے اسے زیادہ تکلیف نہیں ہوئی تھی یا شاید وہ خود کو باز رکھے ہوۓ تھی لیکن اگلی بار وہ خود کو اس مشکل میں بلکل نہیں ڈالے گی

خود سے سوچتی وہ اسکی حرکت پر کھانسی سے بحال ہوتی ہوش میں آئی جو اسکے عین سامنے سگریٹ کا گہرہ کش لگاۓ دھواں اسکے منہ پر چھوڑ چکا تھا

بنا لیے میرے خلاف سارے منصوبے یا ابھی رہتے ہیں؟ وہ اسکے چہرے پر نظریں مرکوز کیے بولا

کیا بدتمیزی ہے یہ؟ گہرے گہرے سانس لیتی وہ اب چلائی

روم میں چلو مجھے نیند آرہی ہے!

تو میں کیا کروں؟ سو جائیں جاکر! وہ اسی کے انداز میں بگڑے تاثرات لیے بولی

یہاں اکیلی کیا کرو گی؟ روم میں چلو بعد میں تم آؤں گی مین دسٹرب ہونگا! وہ اسکے روائیے پر خود کے غصے کو بامشکل قابو کیے تھا

تو ٹھیک ہے آپ سو جائیں میں آج وہاں نہیں جاؤں گی! کُبرا جیسے لڑنے کے موڈ میں تھی

لڑنا ہے؟ وہ عام سے انداز میں اسے مزید سلگا گیا

مجھے کچھ نہیں کرنا آپ کے ساتھ تو لڑنا بھی نہیں ہے مجھے ہٹیں! ہنکار بھرتے ہی وہ پلٹی جب تسمیر اسے اپنی کھینچتا ریلینگ سے نیچھے آدھا نیچھے لٹکا گیا

اس اچانک اتفاد پر وہ اسکی شرٹ کو مضبوطی سے تھامے چہرہ دوسری جانب موڑ گئی جس کے وہ سامنے کھڑے وجود کے غصے کو مزید ہوا دے گئی

مجھ سے تمیز سے بات کیا کرو! جس لہجے میں آج کل بات کر رہی ہو نا اس کا حق میں کسی کو نہیں دیتا

صرف تمہارہ ہی یہ لہجہ برداشت کر رہا ہوں لیکن میں آئندہ یہ برداشت نہیں کروں گا اسئلے بہتر ہے خود سدھر جاؤ

وہ اسکے کان کے قریب غرایا

آخری بار بتا رہا ہوں آئندہ نہیں بتاؤں گا میرا میئری سے ایسا کوئی تعلق نہیں ہے!

جھوٹ بول رہے ہیں آپ! میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے! وہ اب لہجے کو نارمل کر گئی تھی تسمیر کا پارا زرا نیچھے آیا تھا کم.از کم وہ اسکی کوئی بات تو مان رہی تھی

تمہیں یقین نہیں ہے مجھ پر؟ نجانے کیوں وہ جاننے کے باواجود پوچھ بیٹھا شاید وہ جواب میں ہاں کہ دے لیکن اسکی اگلی بات پر اسکا پارہ پھر سے اوپر آیا

نہیں! نہیں ہے مجھے آپ پر یقین چھوڑیں مجھے میں گر جاؤں گی! اسکی شرٹ کو مضبوطی سے تھامے ہوۓ تھی

ٹھیک ہے جب یقین ہے تو مروں پھر! وہ اس پر اپنی گرفت دھیلی کر گیا

آہ ممیر پلزز میں گر جاؤں گی وہ روہانسی ہوئی

نہیں ہے نا تمہیں مجھ پر یقین تو ایسے ہی رہو میں نہیں کروں گا اب تمہاری مدد! (کُبرا کا دل چاہا اسکا سر پھاڑ دے جو خود اسے مصیبت میں ڈال کر اب ایسے مدد سے انکار کر رہا تھا جیسے وہ خود نیچھے لٹکی ہو)

مجھے ایک بار اوپر کریں میں جان سے مار دوں گی آپ کو! اب کی بار اسکی بات سے تسمیر کے تنے ہوۓ نقوش ڈھیلے پڑے لب خودبخود گہری مسکراہٹ ڈھلے تھے

اچھا مثلا کیسے؟ وہ ابرو اچکا گیا

مجھے اوپر تو کریں پھر بتاتی ہوں! اسکے کہتے ہی تسمیر نے اسے جھٹکے سے اوپر کھینچا تھا جس وہ خونخار نظروں سے جنگلی بلی کی طرح اس پر جھنپٹی تھی

اسکے حملے کو ناکام بناتا وہ اسکا ہاتھ تھامے گھسیٹنے کے سے انداز میں نیچھے کی طرف بڑھا

یہ حملے تم روم میں جاکر اچھے سے کرنا تاکہ مجھے بھی اچھا لگے وہ ذومعانی انداز میں کہتا اسے کمرے میں لے آیا

چھوڑیں مجھے وہ اب اس پر اپنے نازخنوں سے حملہ کر رہی تھی جس پر تسمیر کراہ کر بیڈ پر بیٹھے خرم کی بھیجی ہوئی کچھ ڈٹیلز دیکھنے لگا

آئی ہیٹ یو! نفرت ہے مجھے آپ سے !

لیکن مجھے تو تم سے محبت ہے سوئٹ ہارٹ! وہ موبائیل میں مصروف عام سے انداز میں بولا

کے کُبرا اسکے جواب پر بامشکل سنبھلی تھی کتنے ہی عام انداز میں وہ اتنی بڑی بات کر چکا تھا یا شاید اظہارے محبت کر گیا تھا؟ وہ سمجھ نہیں پائی تھی

اسے نظرانداز کرتی وہ پیر پٹخ کر واشروم کی طرف بڑھ گئی

************************

کیا بنا کب ہو رہی ہے پھر شادی؟ کُبرا ناشتے ہی ٹیبل پر آتی مسکرا کر پوچھنے لگی

ابھی کچھ نہیں پتا بھائی نے کچھ وقت مانگا ہے! رخسانہ اسے بتانے لگی جبکہ انکی بات سے جون کے کان کھڑے ہوۓ

کیا مطلب؟ کہیں وہ انکار نا کر دیں! اسنے فورا” اپنا خدشہ ظاہر کیا

اگر وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے تو ضرور انکار ہی ہوگا تسمیر سامنے سے آتا اسے چھیڑ گیا

جی نہیں اگر اتنے سالوں سے دیکھنے کے بعد ہم بے نے سوچے سمجھتے ہوۓ کُبرا تمہیں دے دی تو وہ بھی دے ہی دیں گے جون نے اس کا جواب بجوبی دیا تھا

کُبرا اسے نظرانداز کرتی کھانے میں مصروف سی جون کی بات پر مسکرا دی

یہ تو تم اپنی بہن سے پوچھوں کیا کیا خوبیاں ہیں میری؟ وہ اسکے ساتھ ہی اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھتا شرارت سے بولا جس پر کُبرا نے اسے خونخار نظروں سے گھورا

ناشتہ کرتے ہی وہ اپنے روم کی جانب بڑھ گیا آج اسے دیر سے جانا تھا

بیٹا تمہارہ پیپر نہیں ہے کیا؟ سلمہ کچھ دیر بعد اسے ایسے ہی کچن میں کچھ کام سمیٹتے دیکھ بولیں

جی ہے آیا جان! وہ مصروف سی کہنے لگی

تو کس کے ساتھ جاؤں گی بیٹا؟ تسمیر گھر پر ہی ہے کیا؟

نہیں مجھے روحان چھوڑ آۓ گا!

لیکن روحان تو کب کا آوفس چلا گیا ڈرائیور بابا کے ساتھ تسمیر تمہیں جانے نہیں دے گا تم ایسا کرو اسے ہی فون کرکے بلا لو ….. انھوں نے مشہورہ دیا

لیکن تسمیر تو ابھی تک آوفس گیا ہی نہیں بھابھی وہ تو ابھی اوپر ہے رخسانہ کے بتانے پر وہ بے اختیار آنکھیں میچ گئی( کب سے وہ چا رہی تھی کے تسمیر آوفس چلا جاۓ تو وہ روم میں جاکر اپنا سامان بھی اٹھاۓ)

بیٹا کن سوچوں میں چلی گئیں؟ جاؤ پھر لیٹ ہو جاؤ گی سلمہ کے کہنے پر وہ سر ہلاتی اپنے روم میں آئی

جہاں وہ بیڈ پر بیٹھا موبائیل پر نظریں مرکوز کیے ہوۓ تھا

چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتی وہ اسکے سرہانے کھڑی ہوئی

مظاہر وہ اسے نظرانداز کرتا رہا لیکن اسکی موجودگی وہ پہلے ہی محسوس کر گیا تھا

مجھے کالج جانا ہے!

تو جاؤ کس نے روکا؟

وہ ازلی بے نیازی سے بولا اس کے انداز کرنے پر کُبرا صبر کا گھونٹ لے گئی اس وقت صرف تسمیر ہی تھا جو اسے کالج لے جا سکتا تھا

آپ چھوڑ آئیں! اس کے اس مصوم انداز پر تسمیر نے ایک نظر اس پر ڈالی

چلو! وہ اسی وجہ سے ہی تو اب تک گھر بیٹھا تھا لیکن اسے تنگ کیے بغیر اسے سکون کا ملنا تھا

پورے راستے وہ وقفے وقفے سے اسے چھیڑ رہا تھا جس پر وہ ضبط کیے ہوۓ تھی

کالج کے سامنے گاڑی روکتے ہی وہ سکون کا سانس لے گئی اس سے پہلے وہ اتڑتی جب اسکی آواز سے وہ اس طرف متواجہ ہوئی

پے کرو! جس انداز میں وہ بولا کُبرا کا دل چاہا اسکا سر پھاڑ دے مطلب وہ اب اس سے رنٹ بھی لے گا؟

جلدی کرو میں لیٹ ہوں!

کتنے؟ وہ ابرو اچکا گئی کے تسمیر انگلی اپنے گال پر رکھ گیا

کبھی بھی نہیں! اسکی بات کا مطلب سمجھتی وہ گیٹ کھولنے لگی جو وہ لاک کر گیا

کیا مسئلہ ہے آپ کو میں لیٹ ہوں! پلزز کھول دیں؟ وہ روہانسی ہوئی

.

پے کرو اور جاؤ! تسمیر ضدی انداز میں بولا

مجھے آپ کے ساتھ آنا ہی نہیں چاہیے تھا میرے پیپر والے دن بھی مجھے تنگ کر رہے ہیں اسکی بات سے وہ مزید رہانسی ہوئی تھی

اچھا جاؤ گھر آکر پوچھوں گا میں تم سے! ہتھیار ڈالتا وہ اس لاک کھول گیا کے کُبرا موقعے کو غنیمت جاتی باہر لپکی جب وہ ایک بار پھر اسکی کلائی تھام گیا

بس فیل ہوکر میری ناک مت کٹوانہ باقی گڈ لک! شرارتی انداز میں کہتا وہ باہر دیکھنے لگا

اسکے بعد اس کے کالج اندر داخل ہونے تک تسمیر کی نظروں نے اسکا تعاقب کیا تھا جب تک وہ نظروں سے

اونجھل نہیں ہوئی وہ وہی سے اسے دیکھتا پھر خود بھی گاڑی زن سے اپنے آوفس کی جانب بڑھا گیا

کون چھوڑنے آیا تھا؟ صباحت اس سے ملنے کے بعد پوچھنے لگی

ہے نا ایک بر شرم, ڈھیٹ, ہنڈسم آدمی! کُبرا زیرے لب دھرا گئی

یہ جانے بغیر کے وہ اب اسکی ہر حرکتیں, شرارتیں, غصے کو شدت سے یاد کرکے اس کی ایک جھلک کو ترسنے والی تھی.