📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 16

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

صبح اسکی آنکھ کھولی تو خود کو ایک انجانی جگہ پایا اپنے پاس تکیوں کا ہجوم دیکھ کر ایک لمحہ لگا تھا اسے حالات سمجھنے پر سر پیٹ کر وہ نظریں تسمیر کی جانب کر گئی جو اسکے ساتھ ہی آنکھیں بند کیے لیٹا تھا اسے دیکھتے ہی کُبرا بے اختیار منہ دوسری جانب کر گئی تھی وہ جتنا کھڑوس وہ جاگتے ہوۓ لگتا تھا اتنا ہی مصوم وہ اس وقت وہ اسے سوتے ہوۓ لگا سب سوچیں جھٹکتی وہ واشروم میں بند ہوئی البتہ یہ سب اسکے لیے بلکل مختلف تھا اسکے سوٹ کل ہی تسمیر کی الماری میں سیٹ کر دیے گئے تھے

کچھ دیر بعد وہ فریش سی ڈارک گرین کلڑ کا سوٹ زیب تن کیے گیلے بالوں کو کھلا چھوڑے وہ شیشے کے سامنے آئی نظر سامنے لیٹے تسمیر پر گئی جو ابھی تک نیند کی وادیوں میں گھوم تھا

کچھ ہی دیر میں اسکی أنکھ کھولی تو سامنے نظر سیدھا شیشے کے سامنے کھڑی ایک لڑکی پر گئی تسمیر شاید پہلی بار اسکے بال بنا ڈوپٹے کے دیکھے تھے سیاہ ریشمی بالوں سے اسکی کمر دھکی ہوئی تھی

اب اگر اٹھ ہی گئے ہیں تو فریش ہوکر نیچھے بھی آنے کی زحمت کر لیجیے گا سب انتظار کر رہے ہیں کُبرا اسے گھور کر کہتی اسکے سامنے آئی تھی

اچھا جا رہا ہوں زیادہ بیوی بننے کی کوشش مت کرو تسمیر منہ بسورے کہتا واشروم میں بند ہوا تھا

*******************

بہت جلدی نہیں آنا ہوگیا آپ کا تسمیر صاحب؟ اسے ناشتے کی ٹیبل پر لیٹ آتا دیکھ آغا جان ابرو اچکاۓ بولے

وہ اصل میں آغا جان یہ آپ کی پوتی ہے نا بہت ہی زیادہ ٹائم لیتی ہے تیار ہونے میں میں نے تو کہا تھا اسے کہ پہلے مجھے واشروم جانے دو میں تو دو منٹ میں تیار ہو جاؤں گا لیکن اسنے شوہر کی بات ماننی ہو جب نا خیر میں آپ سے معافی چاہتا ہوں آئندہ میں اسے جلدی اٹھنے کا کہ.دوں گا آئندہ کُبرا کی طرف سے آپ کو کوئی شکایت نہیں ہوگی تسمیر تحمل سے کہتا ساتھ کھڑی کُبرا کو دیکھنے لگا جو منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی جو کتنی دیر سے اسکے منہ پر ہی صاف جھوٹ بول رہا تھا

وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن بیٹا کُبرا تو آدھے گھٹنے سے نیچھے ہے تو پھر آپ کے واشروم میں کون تھا جو آپ کو اندر نہیں آنے دے رہا تھا؟ آغا جان اپنی مسکراہٹ دباۓ بولے جبکہ انکی بات سے تسمیر جھینپ کر رہے گیا وہ تو سمجھ رہا تھا کہ کُبرا ابھی پانچ پہلے ہی نیچھے اتری ہوگی

چلیں چھوڑیں آجاؤ بیٹا ناشتہ کرو اماں جان ٹیبل پر بیٹھے ہر شخص کی دبی ہوئی مسکراہٹ دیکھ کر جل کر بولیں جس پر وہ مسکراتا ہوا انکے ساتھ والی سیٹ سنبھال گیا

نہیں تسمیر تمہاری جگہ اب یہ نہیں بلکہ وہ جبھی علی صاحب نے اسے ٹونکا اور سامنے ہی کُبرا کے ساتھ پڑی ایک خالی چیئڑ کی طرف اشارہ کر گئے

کیا ہو گیا علی؟ اگر آج وہ اپنی دادی کے پاس بیٹھ گیا ہے تو کوئی مسئلہ ہے آپ کو؟ امان جان انہیں گھور کر کہنے لگی

کوئی بات نہیں علی بابا آج میں تسمیر کے ساتھ بیٹھ جاتی ہوں آپ پریشان نا ہو جب کُبرا مسکرا کر اٹھتی تسمیر کے سیدھے طرف والی سیٹ پر بیٹھ گئی

ویسے بھی ساتھ بیٹھنے سے کیا ہوتا ہے اصل جگہ تو دلوں میں ہونی چاہیے جو کہ ان بچوں کے دلوں میں ہے ہی نہیں اماں جان ایک بار پھر تلخی ست بولتی ٹیبل پر بیٹھے ہر شخص کو حیران کر گئی

کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ آعبدہ بیگم آغا جان کی رعب دار آواز گونجی

ہاں تو اور کُبرا اور تسمیر میں زمین آسمان کا فرق ہے اماں جان کُبرا کو دیکھتی حقارت سے بولیں انکی نظریں سے کُبرا کو اپنے اندر کچھ ٹوٹتا محسوس ہوا تھا ایک آنسو ٹوٹ کر اسکے ہاتھ پر گرا جسے تسمیر بخوبی دیکھ چکا تھا

بلکل ٹھیک فرما رہی ہیں اماں جان ہم دونوں ایک دوسرے سے بلکل مختلف ہیں اب کی بار بولنے کی باری تسمیر کی تھی اور اسکی آواز سے کُبرا کا دل چاہا تھا وہ کہیں بھاگ جاۓ وہ بھی سب کے سامنے اسکی تضلیل کرنا چاہتا تھا اور آج اسے وہ موقع مل گیا تھا اماں جان کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ رینگی

اگر کُبرا اچھی ہے تو میں برا ہوں اگر وہ آگے ہے تو میں اس سے پیچھے وہ نیک ہے اور میں بدکار ہوں بے شک میں کُبرا کے قابل نہیں ہوں لیکن وہ مجھے اپنے قابل خود بنا لے گی کیوں کُبرا؟ تسمیر تحمل سے کہتا اسے دیکھنے لگا جو کنفیوز سی اسے دیکھ رہی تھی میں خوش ہوں اور میں آپ سب سے یہی تواقع رکھتا ہوں کہ آئندہ آپ لوگ بھی اس بارے میں بات نا کریں آخر میں وہ اماں جان کو وارن کرتا کہتا پانی کا گلاس منہ سے لگا گیا جب کہ پیچھے بیٹھے ہر شخص کو وہ اپنی باتوں سے مطئمن کر گیا سواۓ کُبرا کے ضرور کوئی نیا پلان تیار کر لیا ہوگا کُبرا سر پیٹ کر خود سے کہتی ناشتے میں مصروف ہو گئی لیکن جو بھی تھا وہ دل ہی دل میں خوش ضرور ہوگی تھی

***********

ولیمے سے فارغ ہوکر وہ سب اب اپنے اپنے روم میں گئے تھے

روحان؟ وہ جو اپنے روم کی طرف بڑھ رہا تھا اسکی آواز سے رکا

ہاں؟

مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے! برکت سنجیدہ سی بولی

ہاں جی بولوں میری روٹھی مینا روحان فورن سے اپنا لفرانہ موڈ اون کرتا بولا

اگر اس ٹون میں بات کرو گے تو نہیں کروں گی میں بات

اچھا سوری ہاں بولو

تم سچ میں شادی کرنا چاہتے ہو مجھ سے؟ برکت ابرو اچکاۓ کہنے لگی

نہیں نقلی گڈا گڈی والی شادی کرنا چاہتا ہوں روحان تپ کر بولا

اوہوہنہ( آئی مین) تم شادی کے بعد مجھے تسمیر بھائی کہ طرح ساتھ دو گے میرا؟ جیسا انھوں نے آج کُبرا کا دیا ہے برکت پرسوچ سی کہنے لگی

تمہاری طبیت اگر واقعی خراب ہے تو بتا دو میں ڈاکٹر کے لے چلتا ہوں روحان پریشان سا بولا

تم میری بات کا جواب دو؟

ہمم پوری کوشش کروں گا لیکن تسمیر بھائی جیسے نہیں کر پاؤں گا ابھی تو انہیں ہماری بلی سے محبت نہیں ہے جب وہ اس کے اوپر بات نہین آنے دیتے بعد میں نجانے کیا کریں گے لیکن ہاں میں تسمیر خان نہیں لیکن روحان خان ضرور ہوں میرا ساتھ دینے کا طریقہ شاید تمہیں بچکانہ لگتا ہوں لیکن ٹرسٹ می میں تمہیں کبھی اکیلا نہیم چھوڑوں گا روحان اسکے قریب ہوتا پر اعتماد سا بولا

اچھا ٹھیک ہے اب جاؤ تم سو جاؤ اسکے قریب آنے پر وہ گھبرا کر بولی

اب نیند ہی کہاں آنی ہے مجھے؟ اہمم اہمم بس بس کھلا کھلم رومینس نہیں کرتے اچھے لوگ روحان جو گھمبیر لہجے میں کہتا اسکے پاس آیا تھا صباحت کی آواز پر چونک کر پیچھے ہوا

نہیں نہیں میں نے کچھ نہیں دیکھا صباحت دونوں ہاتھ آنکھوں پر رکھے مسکرا کو بولی

بس کردو ہر جگہ تو گھس جاتی ہو تم اپنی چیل جیسی نظریں لیے آجاتی ہو روحان منہ بناۓ کہنے لگا

ہاں شاید اللہ نے تم پر نظر رکھنے کا کام مجھے ہی دے دیا ہے صباحت کندھے اچکا گیا

ہاں تو کوئی بات نہیں میرا وقت آنے دو تم پر ایسی نظریں رکھو گا کہ یاد رکھو گی تپ کر کہتا وہ قدم اپنے روم کی جانب بڑھ گیا جبکہ برکت قہقہ لگاۓ صباحت کے ساتھ ٹی وی لونج میں بیٹھتی باتوں مین مصروف ہو گئیں

**********

کیوں کیا تھا وہ؟ کُبرا اسے دیکھتی کہنے لگی

کیا؟ تسمیر موبائیل مصروف سا بولا

صبح ٹیبل پر جب میری بے عزتی کرنے موقع ملا تھا تو کیوں نہیں کی؟ کُبرا نا سمجھی سے کہنے لگی

نہیں یہ بتاؤ کسی طرح سکون ہے تمہیں؟ بے عزتی نا کرو تو مسئلہ کر لو تو مسئلہ تسمیر ابرو اچکا گیا

ہاں ویسے وہ تمہارے لیے نہیں کیا تھا میں نے وہ چھوٹی ماں اور موم کے لیے کیا کیوں کہ وہ بہت پریشانی سے ہمیں دیکھ رہی تھیں اور کہیں نا کہیں تمہارے لیے بھی کیا کیوں کہ میں نہیں چاہتا کل کو جب ہم الگ ہوں ہماری طلاق ہو تو لوگ تم پر باتیں بنائیں اور تم اپنی زندگی شروع ہی نا کر سکو! تسمیر عام سے انداز میں کہتا اسکے پاس شیشے کے سامنے آیا

طلاق؟ کُبرا کو لگا اسنے کچھ غلط سنا ہے

ہاں اماں جان ٹھیک تو کہتی ہیں ہمارے میں زمین آسمان کا فرق ہے اور یاد رکھو کہ زمین اور آسمان چاہیے جتنا عرصہ ساتھ رہیں لیکن کبھی ایک نہیں ہو سکتے تسمیر عام سے انداز میں بولتا کُبرا کو تپا گیا تھا شاید وہ پہلا مرد تھا جو شادی کے پہلے دن ہی طلاق کی بات کر رہا

تھا

ہٹیں آگے سے وہ اسے کچھ بھی کہ بغیر نظر انداز کرتی آگے بڑھی جب اسکی اپنی میک سی میں پاؤں اڑا تھا اس سے پہلے وہ گرتی تسمیر اسے اپنی مضبوط گرفت میں لے چکا تھا

اور دیکھاؤ ناراضگی دیکھا شوہر سے ناراض ہونے کی اللہ نے کیسی سزہ دی ہے تسمیر شرارت سے بولا

چھوڑیں مجھے کُبرا بسورے کہنے لگی

پکا؟ تسمیر اسے ایک جھٹکے سے نیچھے کرتا بولا

نہیننں میرا مطلب ہے مجھے سیدھا کھڑا کریں کُبرا اسکی کالج والی حرکت یاد کیے چلائی ( جب تسمیر نے اسکے ایک کہنے پر اسے نیچھے پھینک دیا تھا)

نا چھوڑوں تو؟ تسمیر اسکی حالت سے محفوظ ہوتا کہنے لگا

پلززز اب کی بار وہ روہانسی ہوئی تھی جس ہر وہ رحم کھاتا اسے جھٹکے سے اوپر کر گیا جبکہ اسکے اچانک ایسے کھینچنے پر وہ کٹی دوڑی کی طرح اسکے سینے سے لگی تھی تم تو بہت تیز نکلی ہاتھ پکڑتے ہی سیدھا گلے لگ گئیں؟ تسمیر ایسے ہی اسکے کان کے قریب سرگوشی کر گیا جب کہ اسکی قربت میں اپنی سانس اٹکتی محسوس ہوئی تھی

اچھی لگ رہی تھیں آج تسمیر گھبیر لہجے میں کہتا اسکی بیٹ مس کروا گیا تھا یہ پہلی بار تھا جب کُبرا کے دل نے بیٹ مس کی تھے

تھینک یو جھٹکے سے اسکی گرفت سے نکلتی وہ لہجہ نارمل رکھے بولتی بیڈ پر آئی

زیادہ جوش مت ہونا مزاق کر رہا تھا میں جب پیچھے سے تسمیر اسکی حالت سے محفوظ ہوتا شرارت سے چلایا تھا