📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 39

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

آج نجانے کتنے ہی دنوں بعد وہ اپنے اور اسکے ملحقہ روم میں آئی تھی

وار ڈروب کھولی جہاں اپنے اپنے سوٹ کے ساتھ ساتھ اسکی بہت سی شرٹ ہینگ تھیں بے اختیار وہ اسکی شرٹ کو خود کے قریب کیے اسے محسوس کرنے لگی….. اس وقت وہ یہ بھی بھول گئی تھی کے وہ اس سے ناراض تھی….. اس سے خفا تھی, اس سے بے رخی اپناۓ ہوۓ تھی

شرٹ رکھتے ہوۓ نظر ایک چابی پر گئی جو شاید وار ڈروب کے اندر ہی موجود لمبی سی ڈراز کی تھی کچھ سوچتے ہوۓ وہ اسے بھی کھول گئی اس ڈراز کے تین خانے تھے جس میں سے ایک میں اسکے سارے پرفیوم اور ٹائی

تھیں, دوسری میں اسکی ڈھیروں واچ, تیسرے میں اس کے جوتے تھے جو اتنی نفاصت سے رکھے تھے کے وہ

ستائشی انداز میں اسے دیکھتی رہے گئی ڈراز بند کرکے وہ پلٹتی کے کسی نے اسے اپنے حصار میں لیے تھا

میری موجودگی میں تو دور بھاگتی ہو اب میری شرٹ کو خود سے لگاۓ کھڑی ہو… ناٹ فیئر سوئٹ ہارٹ! وہ اسکے کان کے قریب سرگوشی کرتا اسی ڈھرکنیں تیز کروا گیا

آگئے آپ؟ کُبرا روہانسی سی بولی

تمہارے پاس ہی ہوں….. اسکی بات سے وہ پلٹی تو وہ یہاں موجود نہیں تھا صرف اسکی امیجینیشن تھی جو وہ اسے کافی بار خود کے قریب محسوس کر چکی تھی

ہر جگہ اس کی محسوس ہو رہی تھی وہ اسے اپنی عادت ہی اتنی ڈال گیا تھا چاہیے جتنی بھی ناراضگی ہو, نفرت

ہو, غصہ ہو, وہ اسے کبھی اپنے کمرے سے نکلنے نہیں

دیتا تھا اور اب کتنے ہی دنوں سے وہ خود اس سے دور

تھا

سر جھٹک کر وہ واشروم کی طرف بڑھی کچھ ہی لمحوں میں فریش سی نیند کی گولی لے کر وہ کمفرٹر

منہ تک اوڑھے لیٹ گئی آج کتنے ہی دنوں بعد وہ یہاں سے سو رہی تھی اس کے بغیر تو یہاں سونا بھی محال ہی لگتا تھا

*********************

علی آپ کو ہم نے کارڈ تیار کروانے کو کہا ہو گئے؟ ناشتے کی ٹیبل پر آغا جان سب کے مخاطب ہوۓ

لیکن آغا جان ان تک بھائی نہیں آئیں… روحان مدھم آواز میں بولا کے اسکے ذکر سے کُبرا کا چلتا ہاتھ تھما تھا

آپ سے جتنا کہا گیا ہے آپ اتنا کریں تسمیر بھی آجاۓ گا!

آخر وہ ہے کہاں دو مہینے ہونے ہو آۓ ہیں اور اس کی کوئی خیر خبر ہی نہیں ہے… ان کے کہنے پر علی صاحب بھڑکے تھے

پتا نہیں کیسا ہوگا میرا بچہ ٹھیک ہے بھی یا نہیں… سلمہ روہانسی ہوئی تو کُبرا آنسو پیتی ان کو حوصلہ دینے لگی

ٹھیک ہے وہ جہاں بھی ہے آپ لوگ پریشان نا ہوں! آغا جان عام سے انداز میں کہتے اٹھ گئے

آپ جانتے ہیں وہ کہاں ہیں؟ کُبرا حیرتذدہ سی بولی

یہی سمجھ لو….!!! آغا جان اسے تسلی آمیز انداز میں کہتے آگے بڑھ گئے

ارے سلمہ تم نے بہو کو کچھ بتایا نہیں؟ ابھی سال بھی نہیں ہوا شادی کو اور یہ ایسے سادہ سے حلیے میں پھیڑتی رہتی ہے…. پھوپھو کے نئے انشاف پر وہ محض انہیں دیکھ کر رہے

نہیں پھوپھو یہ تیار ہی رہتی ہے سب اب زرا تسمیر نہیں ہے نا تو اسئلے بوجھی بوجھی سی ہے! سلمہ مسکرا کر بولیں تو بے اسے بے اختیار وہ یاد آیا تھا

”ڈرالنگ اپنی خیر چاہتی ہو تو آئندہ میرے سامنے یہ لپ اسٹک لگا کر مت آنا یار کنٹرول نہیں ہوتا نا“ اس سے الفاظ کانوں میں گونجے جس سے ایک شرمیلی مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر رینگی تھی

ویسے ہے تو بہت خوبصورت تمہاری بہو… تسمیر کو بھی دیکھے ہوۓ عرصہ ہو گیا نجانے کیسے ہوگا بچپن میں تو بے حد شرارتی تھا وہ کانوں پر ہاتھ لگاۓ بولیں

نہیں اب تو بہت سنجیدہ ہوگیا ہے مسکراہٹ کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے ہمیں تو رخسانہ کے کہنے پر وہ بامشکل ان کے لفظوں سنبھلی

کبھی روم میں آکر دیکھیں سب پتا لگ جاۓ گا کتنے سنجیدہ اور کتنے ہی سلجھے ہوۓ ہیں وہ خود سے کہتی کُبرا کچن کی طرف بڑھ گئی اسے خود بھی احساس نہیں تھا کے وہ اسے کتنا ہی مس کر چکی ہے

*************************

مبارک ہو سر بہت بہت! خرم اسکے گلے لگے مبارک باد پیش کرنے لگا

اب میں جا سکتا ہوں کیا؟ وہ سیدھا مدعے پر آیا

نہیں سر آپ میری ماننیں تو ابھی نا جائیں کچھ دن یہی رک جائیں ورنہ کچھ بھی ہو سکتا ہے!

ایسا کچھ نہیں ہوگا…… تم میرے نکلنے کا بندوبست کرو

تسمیر ڈھٹائی سے کہتا شیشے میں خود کا معائنہ کرنے لگا (اسے اب سب کے سامنے اس شخص کو بے نقاب تھا)

ان دنوں میں اسکی بیئرڈ قدرے بڑھ گئی تھی بال بھی اب کانوں سے نیچھے تک ہی آرہے تھے سبز آنکھوں میں نیند کے باعث زرا سی سرخی تھی

رات کے رقریبا گیارہ بجے وہ خرم کے ایک ڈرائیور ہمرا بلیک گاڑی میں بیٹھا اپنے علاقے کی طرف روانہ تھا یہ ٹائم انہوں نے با حفاظت گھر پہنچنے کے لیے رکھا تھا ابھی وہ کچھ ہی آگے آۓ تھے جب کسی نے ان کی گاڑی پد فائر کیے تھے

شٹ سر خرم نے سر کہا تھا نا آپ سے کہا تھا ابھی نکلنا آپ کے لیے سیوو نہیں ہے! ڈرائیور یک دم ہی اسٹرینگ سنبھالے بولا

روکو یہی کار….!!! تسمیر کے کہنے پر اسنے ایک نظر اس پر ڈالی جو مزاق میں تو بلکل نہیں لگ رہا تھا

بٹ سر… آئی سڈ روکو! اسکی ڈھار سے بریک لگا گیا جس پر تسمیر فوری سے باہر نکلتا سامنے موجود گاڑی کے ٹائر پر فائرنگ کرتا ان کی طرف بڑھا

گاڑی کے موجود بندہ جو اس کے گاڑی سے نکلنے پر حیرتذدہ ہوا اس حملے کے لیے تیار نہیں تھا اسٹرینگ پر قابو نا پاکر وہ درخت سے ٹکرایا اس سے پہلے وہ سنبھلتا تسمیر اسکے سر پر تھا

بتا کس نے بھیجا ہے تجھے؟ اسکے نڈہال وجود کو گریبان سے تھامے ایک زوردار تھپڑ اسکے چہرے پر رسید کیا

جس پر اس آدمی کی گردن ایک طرف کو لٹکی سی تھی

بتا…!! وہ اس پر مزید جھنپٹتا جب کسی نے پیچھے اسے کندھے پر چھڑی یا چاقو سے وار کیا تھا

آہ! تسمیر کے کرہانے سے ڈرائیور بھاگتے ہوۓ اس آدمی کو نکلنے سے پہلے ہی اپنی گرفت میں لے گیا

سر آپ بیٹھیں کار میں پلززز…بہت خون بہے رہا ہے….خرم سر پہنچ رہے ہیں یہاں… اسکے کہتے ہی خرم کی گاڑی ان کے سامنے رکی تھی اور وہ تیزی سے ان کی طرف بڑھا

کہا تھا نا آپ کو خطرہ ہے آپ کے لیے… وہ خفگی سے تسمیر کی وائٹ شرٹ پر بہتے خون کو دیکھنے لگا

پوچھوں اس سے کس کے کہنے پر میرے پیچھے ہیں یہ؟ مجھے ایک نام سننا ہے اور وہ بھی اسی بندے کا جس نے اصل میں یہ سب کروایا ہے… تسمیر ڈھارا

آپ جائیں میں خود دیکھ لوں گا انہیں….. سب پتا کروا لوں گا سر آپ.پلززز جائیں یہ آپ کی بنڈش کروا دے گا اور یہ دو بوڈی گاڑد اب آپ کے ساتھ ہی جائیں گے… اسے کہتے ہی وہ دو حولداروں کو اشارہ کر گیا جو ان دونوں مجرموں کو ہتھکڑی پہنا گئے

آگر آپ میری بات مان لیتے تو یہ سب نا ہوتا! اسے گاڑی میں بیٹھاۓ خرم اپنی تھوڑی دیر پہلے گاڑد کو ساتھ بھیجنے والی بات پر روشنی ڈال گیا جس پر اس نے صاف انکار کر دیا تھا

خیر ہے بس رک گیا ہے اب خون…تم بھی دھیان سے جانا! اسکا کندھا تھپتھپا کر وہ ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کر گیا

………………….

اب تو تم بیوی ہو میری! اسکے الفاظ زہن میں گونجے

افف روحان آخر کیا مسئلہ ہے تمہیں؟ ہر وقت ہی پہچھا پکڑے رکھتے ہو! برکت اسکے بار بار آنے والے خیال سے اکتاہٹ سے بولی جیسے جیسے شادی کے دن قریب آرہے تھے وہ اس کے بارے میں زیادہ ہی سوچنے لگی تھی

پیاس کی شدت بڑھنے ہر وہ ایک نظر گھڑی ہر ڈال کر روم سے کچن کی جانب بڑھی گھڑی اس وقت رات کے ایک بجا رہی تھی

اس ٹائم خوبصورت لڑکیاں باہر نہیں نکلتی برا ہوتا ہے بیٹے! اسکی آواز پھر سے کانوں میں گونجی

کیا مسئلہ ہے اب تو تم آواز بھی آرہی ہے غصے سے کہتی وہ پلٹی جب نظر روحان پر گئی جو دونوں ہاتھ باندھے اسے ہی دیکھنے میں مصروف تھا

تتم تمہیں چھین نہیں ہے؟ نیند نہیں آتی ہر جگہ میرے پیچھے پہنچ جاتے ہو؟

نیند چرائی میری کس نے اوہ صنم؟….تو نے…!! اس کی طرف اشارہ کیے وہ اپنی بے سری آواز میں گانے لگا

کہاں جا رہی ہو رکو تو صیح! اسے جاتا دیکھ وہ اسکا ہاتھ تھامے اپنے قریب کر گیا

مجھے نیند آرہی ہے سونا ہے…

ہاں تو چلی جانا میں کب منع کیا ہے؟ وہ گھمبیر لہجے میں کہتا اسکی جان ہوا کر رہا تھا

تو میں نے تم سے پوچھا بھی نہیں ہے جانے کا اب ہٹو جلدی… ہمت کرکے وہ اسے پیچھے کر گئی کے وہ ایک بار پھر اسے اپنے حصار میں لے گیا

کیا مسئلہ ہے چھوڑوں! اسکی گرفت میں برکت اب کنفیوز ہی ہو جایا کرتی تھی

پیار سے کہو تو جانے دوں گا… محبت پاش لہجے میں کہتا وہ اسکے گال پر بوسہ دے گیا اس سے پہلے وہ مزید بڑھتا باہر سے کسی کے آنے کی آہٹ سے وہ فوری اس سے دور ہوا

کیا کر رہے ہو تم دونوں یہاں؟ کُبرا مسکراہٹ چھپاۓ انکے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہوئی

ککچھ نہیں میں تو بسس پانی پینے آئی تھی یہ ہر جگہ ٹپک جاتا ہے وہ سارہ ملبہ اس پر گرا چکی تھی

میں نہیں یہ نیلی بلی ہر جگہ ٹپک جاتی ہے اس ٹائم کونسا کام تھا جو تمہیں آ پڑا تھا؟ منہ بناۓ کہتا وہ باہر نکل گیا

کیا ہوا طبیت ٹھیک نہیں لگ رہی تمہاری؟ برکت اب اس کی طرف متواجہ ہوئی

ہاں بس سر میں درد ہو رہا ہے پانی اور ٹیبلٹ ہی لینے آئی ہوں تمہارے پاس اگر نیند کی ہے تو دے دو ایک! پانی جگ میں نکالے میں وہ مصروف سی بولی

ہاں میں دے دیتی ہوں….

روم میں آتے ہی وہ روز کی طرح ٹیبلٹ لیے اپنے بستر پر لیٹ گئی اسکی غیر موجودگی میں ان دو مہنیوں میں وہ

اکثر ہی نیند کی گولی لے کر ہی سوتی تھی ورنہ نیند تو اس کی جیسے اس کے ساتھ ہی چلی گئی تھی

لیٹتے وقت بھی وہ اسی کا کمفرٹر اوڑھ گئی تھی

****************

رات کا نجانے کونسا پہر تھا جب اسے اپنی گردن پر کسی کا سنسناتا ہوا ہاتھ محسوس ہوا نیند میں ہی وہ خوفذدہ

ہوئی لیکن اگلے ہی احساس پر سارہ خوف زائل ہوا تھا اس لمس کو وہ کیسے بھول سکتی تھی یہ ہی تو وہ

حصار تھا جو اسے اب اکثر ہی محسوس ہوتا تھا تسمیر جو کچھ ہی دیر پہلے یہاں پہنچا تھا اسے اپنے ہی روم

میں دیکھ کر انجانی سے خوشی سے اسکے بیڈ پر لیٹے وجود کو اپنے حصار میں لے گیا کتنے ہی عرصے بعد وہ اسے محسوس کر رہا تھا

اسکے ہلنے پر کہنی اسکے اطراف میں ٹکاۓ اب نظریں اسکے ہر نقوش پر جمی تھیں کے اسکی اگلی حرکت پر

تسمیر کی مسکراہٹ گہری ہوئی جب وہ اسے اپنے اوپر جھکا محسوس کیے اسکے چہرے کے ہر نقوش کو بند

آنکھوں سے ہاتھوں کی انگلیوں کے پور سے ٹچ کر رہی تھی آیا یقین کرنا چا رہی ہو کے وہ اصل میں ہے بھی یا یہ بھی صرف اسکا خیال ہی ہے

ککہاں تھے آپ؟ گہری نیند میں ہونے کے باعث وہ ٹوٹے لفظوں میں بولی اگر اس وقت وہ آنکھیں کھول اسکی آنکھوں میں جھانکتی تو اسے کیا کچھ نظر نہ آتا…

تکلیف……

کرب……

شدت…..

ہجر کی وہ سختیاں جو شاید کُبرا سے زیادہ اس کے لیے تکلیف دہ تھیں

تھک گیا ہوں… خمار آلود لہجے میں کہتا وہ اسکی شفاف گردن پر لب رکھ گیا اسکی کربت میں وہ نیند میں ہی کسمسائی تھی جس پر تسمیر کو یقین ہو گیا تھا

کے وہ واقعی نیند میں ہے کیوں کے اگر اس وقت وہ ہوش میں ہوتی تو ضرور اسکا سر پھاڑ دیتی….

ساری سوچیں مٹاۓ وہ خود کو سیراب کرتا اپنی ساری تھکن اس میں اترا دینا چاہتا تھا اپنی گردن پر جابجا اسکا لمس محسوس کیے وہ اب مزاحمت کرنا شروع ہوئی

ممممیر…. نیند سے بوجھل آواز میں اسے پکارنے پر تسمیر نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا جو اب بھی آنکھیں بند ہی کیے ہوۓ تھی

جھک کر اسکی پیشانی پر بوسہ دیتا اسکے چہرے کے ہر نقوش کو وہ عقیدت سے چومتا اب اسکے لبوں ہر جھکا اس وقت وہ اس سے دو مہنیوں پہلے کیا گیا عہد بھی بھول چکا تھا

کافی لمحے خود کو سیراب کرنے کے بعد مزید فاصلہ تہے کرنے سے خود کو باز رکھے وہ بامشکل پیچھے ہٹتا اسے خود میں. بھینج گیا جس سے کندھے پر موجود تازہ زخم میں درد کی ٹیس اٹھی تھی جسے فلحال وہ فراموش کر گیا

……………………………….

صبح اٹھنے پر وہ اب بھی خود اسکے لمس کو محسوس کر رہی تھی لاشعوری تور پر نظر اس کی جگہ پر گئی وہ روزانہ کی طرح خالی تھی

سر جھٹک کر وہ واشروم میں کی طرف گئی

خرم کی بار بار آنے والی کالز سے وہ با مشکل آنکھیں کھول پایا نجانے کتنے ہی دنوں بعد وہ اتنے سکون سے سویا تھا یہ سکون بھی شاید اس کے پہلو میں ہونے والی اس لڑکی کے باعث تھا اسکی پیشانی پر بوسہ دیے وہ فون اٹھاۓ باہر لان میں آگیا

ہاں بولو…

سر وہ منہ نہیں کھول رہے ہیں میں نے ہر طرح سے ٹارچر کر لیا ہے….خرم اسے آگاہ کرنے لگا

ہمم ٹھیک ہے پھر تم اسے زرا اموشنل طریقے سے ٹارچر کر کے دیکھو اس پر لازمی منہ کھولے گا…. وہ پرسوچ سا بولا

مطلب سر؟ خرم اب بھی اسکی بات سمجھ نہیں پایا

فیملی کا پتا کرو اس کا اور پھر پوچھوں اگر پھر بھی نا بتاۓ تو پھر میں خود دیکھوں گا…. بالوں میں ہاتھ پھیڑے وہ کال رکھ گیا

کمرے میں آکر سامنا خالی کمرے سے ہوا واشروم کی لائٹ اون ہوۓ دیکھ کر سگریٹ پینے کی غرض سے بلکنی کی طرف گیا

کچھ لمحوں میں کائی گرین کلڑ کی لمبی سی قمیز اور ٹراؤز پہنے وہ گیلے بالوں میں باہر نکلتی شیشے کے سامنے

آئی بال بناتے ہوۓ نظر اپنے پیچھے سے نظر آنے والے موجود پر جاتے ہی دل نے ایک بیٹ مس کی تھی ہاتھ لمحے بھر کو تھما جس پر وہ مسکرا کر سر جھٹک گئی

تسمیر اس کے بدلتے تاثرات سے آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھنے لگا

کیا ہو گیا ہے ڈارلنگ؟ یقین نہیں ہو رہا ہے کیا؟ اس کے قریب آکر وہ گھمبیر لہجے میں بولا

ہاں ہاں آگیا ہے یقین اتنے دنوں سے آ ہی رہا ہے! سر جھٹک کر وہ باہر نکلتی جب تسمیر اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لے گیا

تسمیر میرا بچہ…. کب آۓ؟ سلمہ بیگم گاڈر سے اسکے آنے کی خبر سنتے ہی فورن سے اوپر آئی تھیں ان کی آواز پر وہ اسکا ہاتھ چھوڑ گیا کے کُبرا نے اسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھا

یہ آآاپ کو بھی نظر آرہے ہیں آیا جان؟ اتنے دنوں سے اسے صرف اپنے خیالوں میں ہی دیکھنے سے وہ اب یقین نہیں کر پا رہی تھی

ہاں بیٹا یہ بھی پوچھنے والی بات ہے؟ تسمیر کو گلے لگاۓ وہ محبت سے اس کی پیشانی چوم گئیں جب کے وہ اسکے تاثرات سے محفوظ ہوکر گہری نظریں اس پر گاڑھے ہوۓ تھا

آآآپ ککب آۓ؟ ڈھرکن یکدم تیز ہوئی (تو کیا وہ رات کو اس کے پاس ہی تھا؟)

بس ابھی آیا ہوں….ہوش میں آجاؤ اگر ابھی تک یقین نہیں آیا تو اپنے طریقے سے کرواؤں؟ اسکے کان کے قریب سرگوشی کرتا وہ اسے سلگا گیا

چلو دونوں جلدی نیچھے آجاؤ ہم انتظار کر رہے ہیں سلمہ محبت سے کہتی باہر نکل گئیں کے انکے جاتے ہی وہ قدموں کے بل گھوم کر اسکی طرف پلٹا

مجھے تو لگا تھا تم مجھے دیکھتے ہی سر پھاڑ دو گی میرا… لیکن تمہارے چہرے ہی سرخیاں تو مجھے بہکنے ہر مجبور کر رہی ہیں ڈرالنگ ذومعانی انداز میں کہتا اسکی طرف بڑھا

ممجھے ناشتہ بنانا ہے اسے پیچھے کرتی وہ تیزی سے روم سے باہر نکلی دل تھا جو ساری دیواریں توڑ کر آنے کو تھا کتنے عرصے بعد ہ سچ میں اس کے سامنے تھا