Shagaf-e-Dil by Syeda Shah | Romantic Urdu Novel | Family Drama & Slow-Burn Chemistry NovelM80046 Shagaf-e-Dil Episode 45 (Last Episode Part 1)
Shagaf-e-Dil Episode 45 (Last Episode Part 1)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shagaf-e-Dil by Syeda Shah
تسمیر کی حالت بگڑتی جا رہی تھی مونیٹر پر لکیر سیدھی ہوتی جا رہی تھی لیکن اگلے ہی لمحے ڈاکٹر کے کئی بار پمپ کرنے پر اسکی ڈھرکن میں ہلکا سا اتعارش پیدا ہوا
انہوں نے جلدی سے شاک ریڈی کیے پہلا جھٹکتا لگتے ہی وہ اوپر کو اچھلا پھر نیچھے ہوا اسکے ساتھ ساتھ کُبرا کا دل بھی ڈوب کر ابھرا تھا جتنی آیتیں جنتی صورتیں اسے یاد تھیں اسنے سب کا حصار اس پر باندھا تھا
اس سے پہلے بھی وہ اسے ایک نظر دیکھنے کے بعد سجدے میں ہی پڑی رہے گئی تھی دوسرا جھٹکا لگا تو وہ مزید اوپر کو ہوکر نیچھے ہوا ایک سسکاری کُبرا کے دل سے نکلی تھی تیسرے شاک پر اسکے لکیر کچھ اوپر نیچھے ہوئی لیکن پھر سیدھی ہونے پر کُبرا کے رونے میں بھی شدت آئی تھی
بلا آخر مزید کچھ جھٹکوں سے ڈاکٹرز نے مشکل سے اسکی ڈھرکنوں کو سیٹل کیا
ان کی ہارٹ بیٹ بلکل ٹھیک نہیں ہے لیکن بہتر ہے ہم.اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں باقی آپ سب بھی دعا کریں.. اللہ کرم کریں گے ہم بھی وقتو فوقتا چیک کرتے رہیں گے….!!! ڈاکٹر کہتے ہوۓ آگے بڑھ گئے
پوری رات آغا جان سمیت خان میشن کے ہر شخص کے لیے ازیت ناک گزری تھی فجر کی اذان کے بعد بلا آخر اسکی کنڈیشن کچھ سنبھلی تھی
ڈاکٹر کیسا ہے میرا بچہ؟ سلمہ نماز پڑھنے کے بعد اس پر ورد کرتی اب ڈاکٹر سے مخاطب ہوۓ
ہی از فائن ناؤ… مکمن ہے کے کچھ دیر میں ہوش آجائیں ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ پیشنٹ خود بھی ہمارا ساتھ دے رہا ہے ورنہ عموما کیسس میں پینشٹ خود امید چھوڑ جاتے ہیں…. باقی سب اللہ کے ہاتھ میں ہے! ڈاکٹر کے کہنے پر سب نے سکون کا سانس لیا
•••••••••••••••••••••••
تمہارا دماغ درست تھا یا نہیں؟ اسکے ہوش میں آتے ہی علی بھڑک اٹھے
علی صاحب آرام سے اللہ نے میرے بچے کو زندگی دے دی یہ کم ہے کیا؟ جو آپ.لوگ اسکا خون جلا رہے ہیں… سلمہ ان سب کو تسمیر کو ڈانٹتا دیکھ روہانسہ ہوئیں.
ہاں تو اسے بھی تو پتا چلے کے خون کا جلنا کیا ہوتا ہے ہمارا خون بھی تو اسنے اتنا جلایا ہے… جون اسکے سر پر تھا جبکہ وہ سب سے بے نیاز اپنی اس دشمن جان کی تلاش میں تھا جس نے اسکے ہوش میں آنے کے بعد اپنی شکل ہی نہیں دیکھائی تھی
آپ لوگ رش کم کر دیں پیشنٹ کو رسٹ کی ضرورت ہے صرف ایک ہی بندہ رک سکتا ہے… نرس کے تیسری بار بولنے پر وہ سب اٹھے..
موم… کُبرا کہاں… ہے؟
سلمہ اسکا ماتھا چوم کر باہر جانے لگیں جب وہ ان سے بولا انستھیزیا کے زیرے اثر آواز بامشکل ہی نکلی تھی
پتا نہیں بیٹا یہی تھی لیکن تمہارے ہوش میں آنے کا سننے کے بعد نجانے کہاں غائب ہوئی ہے میں بھیجتی ہوں اسے…
کُبرا بیٹا جاؤ شوہر کے پاس جاؤ..بیٹا وہ انتظار کر رہا ہے! سلمہ اسکا کندھا تھپتھپاتی ہوئی بولیں
سلمہ کے کہنے پر وہ بھاری بھاری قدموں سے اسکے پاس آئی اور سامنے کا منظر اسکے لیے سب کہ نسبت زیادہ تکلیف دہ تھا وہ بے سد سا تھا تکلیف اسکے چہرے پر صاف واضع تھی جسے چھپانے کی وہ ناکام کوشش کر رہا تھا
روحان مجھے ٹیک لگانی ہے! اسے آتا دیکھ وہ سامنے صوفے پر بیٹھے روحان سے مخاطب ہوا جو اسکی آواز سنتے ہی اسے تکیے کے سہارے تھوڑا اونچا کر گیا
ناراض ہو؟ وہ اسکا ہاتھ تھامے بولا
چٹاخ….. جب وہ اپنی اگلی حرکت سے تسمیر کو سن کر چکی تھی
وہ بے یقینی سے گال پر ہاتھ رکھے اسے دیکھنے لگا اسکی آنکھوں میں سرخی چھائی تھی
کیا بدتمیزی ہے یہ؟ تھپڑ زور کا نہیں تھا لیکن اسے کُبرا سے کسی ہگ یا کس کی امید تھی جس پر اسنے الٹا ہی کام کرتے ہوۓ اسے ایک تھپڑ جڑ دیا تھا
یہ بد تمیزی ہے؟ اور جو آپ کرتے ہیں؟ وہ کیا ہے؟
ایک بار ہی مار دیں نا مجھے… اسے ٹکروں میں کیوں مار رہے ہیں؟ کہا تھا نا ایک آنچ بھی آئی تو کبھی معاف نہیں کروں گی پھر بھی لڑے اس سے…بہت شوق ہے آپ کو شیر بننے کا؟ دوسروں کو مارنے کا تو ایسا کریں سب سے پہلے مجھے ہی مار دیں
وہ روتے ہوۓ اتنی زور سے چلائی کے تسمیر بازو پر چوٹ لگنے کے باعث کانوں میں انگلیاں بھی نہیں گھوسا پایا تھا غصے سے کہتی وہ باہر نکل گئی تھی
یہ بھی ٹھیک ہے… چوٹ بھی مجھے لگی ہے… مار بھی مجھے رہی ہے پھر رو بھی خود رہی ہے..!!! خود سے کہتا وہ آنکھیں موند گیا اس بار اسکے تھپڑ میں خود کے لیے محبت اور فکر دیکھ کر وہ چپ لگا گیا تھا
اسے یقین تھا وہ کچھ ہی لمحوں میں واپس لوٹے گی اور ایسا ہی ہوا وہ اگلے ہی لمحے وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی واپس آئی
Come here!
تسمیر آنکھیں موندے ہی اسکی موجودگی محسوس کیے خمار آلود لہجے میں بولا
Come here sweetheart!
میرے پاس آؤ!
اسکی آواز کیا تھا جو وہ ہر بار کٹی دور کی طرح اسکی طرف کھینچی چلی جاتی تھی
آستہ آستہ قدم بڑھاتی وہ اسکے بلکل قریب آئی جب تسمیر اسکا ہاتھ تھامے اپنے حصار میں لے گیا کے اسکا حصار پاتے ہی وہ اسکے سینے میں چہرہ چھپاۓ مضبوطی سے اسکی شرٹ کو بھینج گئی کے وہ بھی اسکے گرد بازو حائل کر گیا
کچھ ہی پلوں میں اسکی دبی دبی ہجکیوں سے تسمیر کو اپنی شرٹ بھیگتی محسوس ہوئی
سسوری…. ہجکیوں کے بیچ ہی وہ چہرہ اٹھاۓ اسے دیکھتے ہوۓ بولی
اٹس اوکے! بس اب رونا بند کرو اپنا… اسکے بالوں کو نرمی سے بوسہ دیتا وہ سکون اندر تک اترتا محسوس کر رہا تھا
I hate you tasmeer khan
But i dont wont to lose you at any cost!
اسکی کی پیشانی پر لب رکھے وہ ہجکیوں سمت بولی
(I love you too!)
تسمیر شرارت سے کہتا آنکھیں موند گیا کے وہ مسکرا کر اسکے بال سنوارنے لگی
اگر مجھے پتا ہوتا کے مجھے پر اتنی نظر کرم ہو سکتی ہے تو میں یہ گولیاں پہلے کھا لیتا…
اسکی بات پر کُبرا کا چلتا ہاتھ روکا اور اگلے ہی لمحے تسمیر کے بال اسکی مٹھیوں میں تھے
آہ ظالم بیوی! کراہتے ہوۓ وہ انستھیزیا کے باعث نیند میں جانے لگا اب کی باری وہ اسکی دونوں آنکھوں پر باری باری جھکی( انہی سبز آنکھوں کی تو وہ اسیر تھی) محبت سے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتی وہ اسکی پیشانی سے ہی اپنا ماتھا ٹکا گئی
*********************
ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟ صباجت اسکی نظریں خود جمی ہوۓ دیکھتی گھبرا کر بولی
یہی کے میری بیوی کی ان صاحب سے جان چھوٹ گئی ہو تو کچھ ٹائم مجھے بھی مل جاۓ جون اسکی گود میں موجود ایک بلی کے بچے کو دیکھتا ٹوک گیا
ان کی شادی کو دو ہفتے گزر گئے تھے انکے لاکھ منع کرنے کے باواجود تسمیر نے ہوسٹپل سے گھر آتے ہی انکا ولیمہ جو یہ لوگ کینسل کر چکے تھے تسمیر کی ضد کے باعث پہلے ہفتے میں ہی ولیمہ کر دیا گیا تھا
صباحت نے خفگی بھری نظر اس پر ڈالی
اتنا کیوٹ ہے یہ.. آپ بلاوجہ چیڑتے ہیں اس سے.. وہ روٹھے سے انداز میں بولی
ہاں تو یہ کہا کا انصاف ہے؟ آپ کو شوہر کو ٹائم دینا چاہیے نا کے اس کو خون زرا خفا خفا سا بولا..
صباحت نے پہلی بار اسے خفا ہوتے دیکھا تھا
اچھا سوری… آئیندہ آپ کے آنے کے بعد سارہ ٹائم آپ کا ہوگا بس مجھے وہ کیوٹ بہت لگتا ہے اسئلے دل ہی نہیں کرتا چھوڑنے کو….
تو مجھے بھی تو آپ کیوٹ ہی لگتی ہیں جناب…اب میں کیا کروں؟ اسے اپنے حصار میں لیے وہ محبت سے کہنے لگا
کچھ نا کریں سو جائیں…ٹائم دیکھا ہے.. صباحت اسے گھور کر کہتی خود وہ اٹھ کھڑی ہوئی جب جون نے اسے کھینچا
ککیا کر رہے ہیں؟ صباحت سٹپٹائی
بہت کچھ… ذومعانی انداز میں کہتا وہ اسکی پیشانی پر بوسہ دے گیا
*****************
افف اللہ شرم نام کی چیز ہے آپ کے اندر؟ کُبرا اسے شرٹ لس ہی باہر آتا دیکھ فوری آنکھوں پر ہاتھ رکھ گئی
نہیں! ویسے دیکھو تو صیح اسئلے ہی اتنی بوڈی نہیں بنائی ہے میں نے کے تم آنکھیں ہی بند کر لو… وہ اسکے ہاتھ آنکھوں پر سے ہٹا گیا
ہاں تو میرے لیے بھی تو نہیں بنائی نا جب لڑکیاں تاڑتی ہوتی ہونگی تو خود کو بھی مزہ ہی آتا ہوگا!
ہاں تو نہیں آنا چاہیے؟ بیوی تو نظر تک نہیں ڈالتی… اسکے قریب ہوتا وہ اسکے بالوں سے کھیلتا بولا ہے وہ اسکا ہاتھ جھٹک گئی
لڑنا ہے؟ تسمیر اسکے چہرے کا بغور جائزہ لیتا کہنے لگا
وہ اس سے لڑنے کے موڈ میں بیٹھی تھی اسکے منع کرنے کے باواجود تسمیر آج دو ہفتوں بعد آوفس گیا تھا اسکا کہنا تھا کے ایسے تو اسنے مزید بیمار ہو جانا ہے کہ کر وہ جلدی آنے کا گیا تھا جبکہ لوٹ اب رات کے گیارہ بجے رہا تھا
ہٹیں آپ! وہ اسے پیچھے دھیکلتی آگے بڑھی جبکہ اسکے بازوو پر زور دینے سے تسمیر کے بازو میں ٹیس سی اٹھی جسے وہ دبا گیا لیکن پھر بھی کُبرا اسے محسوس کر گئی تھی
اور جائیں آوفس… ڈاکٹر نے اون منتھ کا رسٹ بتایا تھا لیکن یہاں خیال ہے کسے؟ غصے سے کہتی وہ ساری شرم سائد پر رکھے اسے ایسے ہی صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرتی پٹی کھولے خود سے کریم لگانے لگی
لسن! تم جانتی ہو میرے لیے ایسے گھر میں بیٹھے رہنا مشکل ہے… میں خود بھی جبھی ریکوڑ کر سکوں گا جب میرا دھیان اپنے کاموں میں الجھے گا اور اب خود تو کافی حد تک ٹھیک بھی ہو گیا ہوں … وہ اسکے ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھامے سمجھانے لگا
(وہ خود بھی یہ جانتی تھی کے گھر رہنے سے تسمیر ان دنوں کچھ چڑچڑا بھی ہو گیا تھا لیکن ایک چیز تھی جو اسنے اتنے دنوں میں نوٹ کی تھی تسمیر اب اس سے بھی زیادہ پابندی سے نماز ادا کیا کرتا تھا زندگی اور موت کی جنگ میں اسنے یہ ضرور سوچا تھا کے اگر وہ اسی حالت میں مر گیا تو کیا وہ اس جہان میں اپنے رب کو اپنی کوئی ایک اچھائی بھی گنواء پاۓ گا؟ کیا وہ اپنی اس نیک بیوی سے مل پاۓ گا؟ اگر انسان ہر دن ہی یہی سوچ کر گزارنے لگے کے اگر یہ دن اسکی حیات کا آخری ہوا تو کیا اسکے عمال اس قابل ہیں کے وہ اس جہاں میں سکون سے رہے سکے؟ )
اسکی بات پر وہ اثبات میں سر ہلاتی اٹھ کر کبڈد کے پاس گئی تسمیر اسے اپنے لیے شرٹ دیکھتا لب دانتوں تلے دباۓ گہری نظریں لیے اسکے بلکل پیچھے کھڑا وہ جو شرٹ نکال رہی تھی اسے اپنے بلکل پیچھے کھڑا دیکھ سٹپٹائی
پیچھے ہوں!
نا ہوں تو؟؟ وہ ڈھٹائی سے کندھے اچکا گیا
پلزز تسمیر یہ شرٹ پہنے اور سو جائیں میں اس وقت بحث کے موڈ میں نہیں ہوں….!!! اسے شرٹ تھماۓ وہ اکتا کر کہنے لگی
تو میں نے کب کہا ہے کہ میں بحث کے موڈ میں ہوں؟
اسکے کان کے قریب سرگوشی کرتا اسکی جان ہوا کر گیا
کُبرا اسکے موڈ کو بھانپتی تیزی سے نکلنے لگی جب وہ اسے جھٹکے سے قریب کرتا اسکی کمر جکڑ گیا
کدھر؟ اسکی پیشانی پر لب رکھے وہ گھمبیر لہجے میں بولا
مممجھے نیند آرہی ہے….!! اس کی ٹون یکدم ہی بدلی جس پر تسمیر کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
سو جانا میں نے روکا ہے؟
ممیر… اسے پیچھے کرتی وہ آگے بڑھتی ہے وہ اسے مزید قریب کرتا اسکے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ اسکے لبوں پر جھکا
کتنی بار ہے سوئٹ ہارٹ جتنا دور جاؤں گی اتنا ہی مجھے اکساؤ گی… ذومعانی انداز میں کہتا اسے گہری گہری سانس بڑھتے دیکھ بے نیازی سے بولا کے وہ سرخ سی محض اسے گھور کر رہے گئی
بے شرم! غصے سے کہتی وہ بیڈ پر لیٹتی کمفرٹر خود پر تان گئی
آج تو میں تمہیں ٹھیک سے بےشرمی کے سارے مطلب سمجھاؤ گا.. اسکا کمفرٹر نیچھے کرتا وہ اسکی صراحی گردن پر لب رکھے وہ اس پر جھکتا چلا گیا تھا کے کُبرا اسکی جسارتوں پر پر اب اسی میں ہی سمیٹی سی تھی…..
*******************
سر مبارک ہو گڈ نیوز ہے! خرم کی فون پر مسرور سی آواز گونجی
بسم اللہ کرو پھر! آوفس میں کچھ کیس دیکھتے ہوۓ وہ مصروف سا بولا
آختر خان کو لمبی جیل ہو گئی ہے مجھے امید ہے اب گل خان بھی اس سے عبرت حاصل کر چکا ہوگا….
گڈ… اسکے چہرے پر مسکراہٹ رینگی آستہ آستہ سب کام سلجھتے جا رہے تھے
کیا ہوا بچے؟ سلمہ اسے تیسری بار واشروم سے چہرہ تھپتھپاتے ہوۓ نکلتا دیکھتی پریشانی سے گویا ہوئی
پتا نہیں آیا جان آج زیادہ ڈاؤن ہوئی ہے طبیت! ومینٹگ ہو رہی ہے! وہ نڈہال سے بولی
کب سے ہے یہ حالت؟ سلمہ اور رخسانہ کے چہرے پر ایک الگ ہی چمک آئی تھی
ہفتہ تو ہو گیا ہے… لیکن آج زیادہ عجیب ہے! انکے خیالات سے انجان وہ کنفیوز سی بتانے لگی
کچھ دیر میں اپنی آیا جان اور ماں کا انکشاف درست ہونے پر وہ گلابی سی سب سے مبارک باد وصول کر رہی تھا
سلمہ بیگم تو اسکے صدقے دیتی ہی نہیں رک رہی تھی آخر ان کے گھر میں برکت کے بعد اب کوئی کھلونا آرہا تھا
اور ایک وہ تھا جو ابھی تک گھر ہی نہیں آیا تھا اسکا خیال آتے ہی وہ دھواں دھواں ہوئی
اہمم اہمم مبارک ہو بھئی ترقی کر رہی ہیں آپ! صباحت اور برکت کے کہنے پر وہ شرمندہ سی ہوئی
تھینک یو! ان کے گلے لگتی محبت سے بولی وہ جود اس وقت اپنے اندر کی یہ عجیب سی خوشی کو سمجھ نہیں پا رہی تھی
ڈنر پر سب ہی موجود تھے وہ بھی ابھی ہی گھر پہنچا تھا آغا جان کے کہنے پر فریش ہونے کا ارادہ ترک کرتا وہ سیدھا ٹیبل پر ہی اسکے ساتھ ہی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا
جبکہ اسکے آنے سے کُبرا کے دل نے اسپیڈ پکڑی تھی
ٹھیک سے کھاؤ! اسے ہمیشہ کی طرح چن چن کر کہتے ہوۓ وہ سختی سے تمبہیہ کر گیا
کانگریچولیشن بھائی! روحان کی آواز سے کُبرا دل تھام کر رہے گئی جب کے تسمیر نے نا سمجھی سے اسے دیکھا
کس بات کی؟
یہی کے…میرا پیٹ بھر گیا اسکے بولنے سے پہلے ہی وہ بیچ میں بات اچکتی اوپر کی طرف بھاگی
یہ مجھ سے بچ جاۓ گی اب؟ اسکے نا کھانے کی عادت سے اسے سخت چڑ تھی جو وہ ہمیشہ ہی کرتی تھی
بیٹا کچھ مت کہنا اسے! اس کنڈیشن میں ہو جاتا ہے… سلمہ کی بات پر اسے مزید تشویش ہوئی
کیا مطلب کس کنڈیشن میں؟
اوہو بھائی سمجھ جائیں نا..ترقی کر لی ہے آپ نے… میں چاچو اور آپ بابا بننے والے ہیں…!!! روحان اتنی تیزی سے بولا کے تسمیر کو با مشکل ہی اسکی بات سمجھ آتی
ہاں تو اس میں کیا نئی بات…
ایک منٹ کیا کہا ہے؟ بولتے بولتے اسے بریک لگی تھی
جس پر علی نے اسکا کندھا تھپتھپایا
نو وے! مطلب سیریسلی؟ امید تو نہیں تھی مجھ اس سے یہ آخر کے الفاظ اسنے زیر لب ڈھراۓ تھے
کمرے میں آتی ہی اسکا سامنا خالی کمرے سے ہوا کچھ سوچتے ہوۓ وہ بلکنی میں گیا جہاں وہ ریلنگ پر لٹکی اس سے چھپنے کی کوششوں میں تھی
مجھ سے چھپ رہی ہو؟ اب کیا فائدہ چھپنے کا؟ ذومعانی انداز میں کہتا وہ اسے پیچھے سے ہی حصار میں لے گیا
تسمیر پلزز…. وہ کہاں اسی معینی خیر باتوں کو سہ سکتی تھی
کُبرا پلززز… وہ اسی انداز میں کہتا اسے جھیپنے پر مجبور کر گیا
ویسے تمہیں سب سے پہلے مجھے بتانا چاہیے تھا..اسکے کندھے پر توڈی ٹکاۓ وہ محبت پاش لہجے میں بولا
اب پتا لگ گیا نا آپ کو… اسکے چہرے کے رنگ آج تسمیر کو انوکھے ہی لگے تھے
My dear love, gather all your strength to handle another version of me!
Thank you so much ♡
“I love you..!”
اسے سیدھا کیے محبت اور شرارت سے کہتا وہ اسکی پیشانی پر بوسہ دے کر اسکے چہرے کے رنگ نظروں میں اتاڑنے لگا
اسے اطراف پر وہ آنکھوں میں نمی اتارتی اسکے سینے میں چھپی سی تھی