Shagaf-e-Dil Episode 43
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shagaf-e-Dil by Syeda Shah
صبح اسکی آنکھ کھولی تو خود کو اس کے حصار میں پاتے ہی شرمیلی سی مسکراہٹ نے ہونٹوں کا احاطہ کیا چہرہ اٹھا کر وہ اب اسکے چہرے کے حسین نقوش پر غور کرنے لگی وہ نیند میں بھی بے حد مطمئن اور رسکون لگ رہا تھا پھر کچھ خیال آنے پر احتیاط سے اسکی گرفت سے نکل کر اٹھتی کے تسمیر نے ایک جھٹکے سے اسے اپنے اوپر کھینچا تھا
گڈ مورننگ! اسے کھینچ کر اپنے ساتھ کرتا وہ اسکی پیشانی پر بوسہ دے گیا
مجھے جانا ہے ہٹیں… آنکھوں کی تپش سے پزل ہوتی وہ اب دونوں ہاتھ اسکے سینے پر رکھے اسے خود سے دور رکھے ہوئی تھی
چلی جانا….ابھی مجھے ٹائم دو.. وہ کی گردن پر جھکے وہ بوجھل سے لہجے میں کہنے لگا کُبرا اسے رات والے موڈ میں واپس آتا دیکھ اب رو دینے کو تھی
ہٹیں تسمیر آپ مجھے کیوں اتنا تنگ کرتے ہیں…
اسکی آواز پر تسمیر نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا جو کسی بھی لمحے رو دینے کو تھی اس کی حالت کو دیکھ کو وہ بامشکل اپنی ہنسی کو روک پایا تھا
اوہ.. تو آج جنگلی بلی بھیگی بلی بن گئی ہے؟ شرارت سے کہتا وہ اب بار پھر اسکے گال پر لب رکھ گیا کے اسکی جسارتوں پر وہ اپنے ہاتھوں میں ہی منہ چھپا گئی
اب کیا فائدہ چھپانے کا؟ ذومعانی انداز میں وہ اسکے باتھوں پر باری باری بوسہ دیتا اسکے چہرے سے پاتھ ہٹا گیا
ااآپ ککو آوفس ننہیں جانا؟؟ اسے صرف ایک یہی راۓ فرار کا راستہ دیکھائی دے رہا تھا جسے وہ اگلے لمحے بند بھی کر گیا
نہیں آج میں آوف لے رہا ہوں..آج میں اپنی بیوی کو اچھے سے ٹائم دوں گا…
ککوئی ضرورت نہیں ہے مجھے ٹائم دینے کی آپ جائیں آوفس ویسے بھی آپ ہی کل کہ رہے تھے کے ایک ضروری کیس ہے .. اس کے یاد دلانے پر وہ خاصا بدمزہ ہوکر اسکی صراحی گردن پر شدت بھرا لمس چھوڑتا اٹھ کھڑا ہوا
اٹھ جاؤ اب تم بھی.. فریش ہوکر آرہا ہوں!!! اسے پھر سے بستر میں گھستا دیکھ وہ تہمبیہ کرنے لگا
اٹھ رہی ہوں آپ…شرٹ تو پہنیں… اسے شرٹ کے بغیر ہی وارڈروب تک جاتا دیکھ وہ ٹوک گئی
ہاں تم دو نا میری شرٹ چلو شاباش دو میری شرٹ واپس….
اس کی آنکھوں میں شرارت کے فوارے پھوٹتے دیکھ وہ ایک نظر خود پر ڈالتی دھواں دھواں ہوئی تھی وہ کب سے اسکی ٹی شرٹ میں تھی اسے اندازہ کیوں نہیں ہوا؟
انتہاء کے بے شرم آدمی ہیں آپ… غصے اور شرم سے لال ہوتی وہ تیزی سے کمفرٹر میں گھوسی
کے وہ اسکے اتنے دنوں بعد دوبارہ سے نوازے گئے لقب پر گہری مسکراہٹ لیے واشروم کی طرف بڑھ گیا
******************
آج بارات تھی جس کی وجہ سے خان میشن میں کل کی نسبت زیادہ مہمانداری اور ہلچل تھی
برکت اور صباحت کو تیار کرنے آج بھی لڑکیاں گھر ہی آئی تھیں
سلمہ بیگم محبت پاش نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں اور دنوں کی نسبت آج انکی بڑی بہو انہیں کچھ نکھری نکھری سی لگی تھی
آج وہ عام دنوں کی نسبت مہرون کلڑ کے سوٹ میں ملبوس ہونٹوں پر ہلکی سی پنک لپ اسٹک لگاۓ عام سے حولیے میں بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی
تسمیر روم میں آیا تو اسے نکھری سی وادڈروب سے اپنے اور اسکے کپڑے باہر نکالتی نظر آئی
وہ بنا آواز کیے دبے پاؤں اس کے عین پیچھے کھڑا ہوا کے کُبرا جیسے ہی پلٹی اسکی چیخ کا گلہ وہ اپنا ہاتھ اسکے منہ پر رکھ کر گھونٹ گیا وہ کسی جن کی طرح ہی اچانک نمودار ہوا تھا
ششرم نہیں آتی آپ کو؟ جان نکل گئی میری! غصے سے کہتی وہ اسے گھورنے لگی جو اپنا قہقہ روکنے کے چکر میں اپنی سبز آنکھوں کے ڈورے تک لال کر چکا تھا
اچھا نا سوری!! اسے جاتا دیکھ کو اسکی نازک کلائی تھام کر اپنے قریب کر گیا کے اسکے انداز پر وہ دل تھام کر رہے گئی
کیا پہن رہی ہو آج؟ اس کے چہرے پر آتی لٹوں کو انگلیوں کے پور سے کان کے پیچھے اڑستا وہ گھمبیر لہجے میں بولا جس پر وہ اپنے سامنے لٹکے سوٹ کی طرف اشارہ کر گئی
(جو لال رنگ کا خوبصورت سا آنر اپڑ تھا یہ ڈریس بھی اسکے لیے تسمیر ہی لایا تھا)
ابھی وہ دونوں ایسے ہی باتوں میں مگن تھے جب کسی نے انکا دروازہ نوک کیا تھا
میم میں اندر آجاؤ؟ آپ کا میک اوؤر کرنا ہے… اسکی آواز سے کُبرا نے سکھ کا سانس لیا
آجاؤ…!! اس سے فاصلہ قائم کرتی وہ باہر کھڑی لڑکی سے مخاطب ہوئی جو اجازت ملتے ہی اپنا سامان لیے اندر داخل ہوئی تسمیر بدمزہ ہوکر صوفے پر ڈھے گیا تھا
میم آپ پلزز پہلے ڈریس چینج کر آئیں کل بھی مشکل ہو گئی تھی لڑکی کے کہنے پر وہ اپنا سوٹ لیے واشروم کی
طرف بڑھ گئی کچھ لمحوں بعد وہ سرخ جوڑے میں کسی پری کی طرح اسکے سامنے آئی تسمیر کی نظر اس پر گئی اور کئی لمحوں کے لیے ٹھر سی گئی
آپ باہر جائیں…!!! اس کی گہری نظروں سے پزل ہوتی وہ اب اکتا کر بولی
کیوں؟ تسمیر ابرو اچکا گیا
کیوں کہ یہ کہ رہی ہے آپ کی موجودگی میں اس سے کام نہیں ہوگا! وہ سارہ ملبہ سامنے کھڑی لڑکی پر ڈال گئی
نہیں میم… میں نے کب کہا؟ مجھے کوئی ایشؤ نہیں ہے… وہ لڑکی سر کو خم دیتی کہنے لگی جس پر کُبرا نے اسے گھورا کے اسکی حرکت پر تسمیر کے چہرے پر مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
(مسکراہٹ تو آج کل اس کے لبوں سے جدا ہوتی ہی کہاں تھی جو وہ اپنی حرکتوں سے مزید گہری کر دیا کرتی تھی)
سوئٹ ہارٹ شرافت سے تیار ہو جاؤ نہیں تو پھر میں خود اپنے طریقے سے تمہارہ میک اؤور کروں گا… اسکی بے باکی میں کی گئی بات پر اس لڑکی کی موجودگی میں اس کے گال تمتما اٹھے…
کچھ دیر میں ریڈ سمپل آنر ٹراؤز پر سرخ کام دار لونگ آپر پہنے پاؤں میں سرخ ہیل پہنے اپنے خوبصورت ہاتھوں میں ریڈ کڑے ڈالے لائٹ سے میک اپ میں کانوں میں ہیوی جھمکے پہنے وہ آج قیامت ڈھا رہی تھی تسمیر کچھ دیر پہلے ہی چینج کرکے بلکنی میں جاکر اپنی پہلی محبت کے ساتھ مصروف تھا وہ سہج سہج قدم بڑھے اسکے پیچھے آئی
آگر آپ ریڈی ہیں تو چلیں؟ وہ اسکی پشت کو دیکھتی اپنا ڈوپٹا درست کرتی بولی کے وہ ایک گہرہ کش لیتا موڑ کر دھواں اسکے چہرے پر چھوڑ گیا
اہ آپ کو شرم نہیں آتی ہے؟ اتنے بدتمیز کیوں ہیں آپ؟
وہ سلگ کر رہے گئی
تمہارے ساتھ بدتمیزی کرتے ہوۓ مزہ آتا ہے مجھے!! شرارت سے کہتا وہ اسے کمر سے جکڑ گیا
پیچھے ہٹیں….میرے سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے!!
ڈارلنگ اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں منانے والا ہوں تو یہ غلط فہمی ہے…خمار آلود لہجے میں کہتا وہ اسکے لبوں پر جھکتا کُبرا اس سے جھٹکے سے الگ ہوئی
ننیچھے آیا ججان بلا رہی ہیں روحان کی رسم کرنی ہے میں نے! وہ ہیل پر مشکل سے خود کو سنبھالے اس سے دور ہوئی
چلو…ویسے بھی بکری کب تک خیر مناۓ گی؟ ذومعانی انداز میں کہتا وہ کمرے میں آتا شیشے میں ایک نظر خود پر ڈال گیا
وہ مہرون رنگ کا کڑتا پجامے پر مہرون ہی وسٹ کورٹ پہنے دائیں ہاتھ میں واچ ڈالے بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے پاؤں میں مہرون لوفر پہنے ہوۓ تھا خود پر تنقیدی نظر ڈالتا باہر نکلنے لگا جب کُبرا نے اسکا بازو تھاما جس پر اسنے ابرو اچکاۓ اسکی طرف دیکھا جو اپنی ہائی ہیل کی طرف اشارہ کر گئی
پہنی کیوں ہے پھر جب سنبھالی نہیں جاتی؟ اسے سر تا پاؤں دیکھتا وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگا
اگر نا پہنتی پھر میں چھوٹی لگتی نا! وہ مصومیت سے کہتی اس وقت سیدھا تسمیر کے دل میں اتر رہی تھی
ہاں اب تو جیسے میرے برابر آگئی ہو نا تسمیر مسکراہٹ اسے دیکھتا بولا وہ ہائی ہیل پہنے کے باواجود مشکل سے اسکے کندھے تک ہی آرہی تھی جس پر وہ منہ پھلاۓ اسکا بازو مضبوطی سے تھام گئی
کیوں آپ کو کیا لمبی دائنیں پسند ہیں کیا؟ اسکے ساتھ ساتھ سیڑھیاں اترتی وہ پہلی بار اسکی پسند پوچھ رہی تھی تسمیر نے گردن موڑ کر اسے دیکھا وہ سنجیدہ تھی
نہیں مجھے میری چڑیل پسند ہے پھر چاہیے وہ نیلی آنکھوں والی بکری ہی کیوں نا ہو…. اپنے لب دانتوں تلے دباۓ وہ چہرے پر سنجیدگی لاۓ بولا
یہ بکری کس کو کہا ہے آپ نے؟ کُبرا ہتھے سے اکھڑی تھی
تم نے غور نہیں کیا میں نے چڑیل بھی کہا ہے تو تم مانتی ہو کہ تم واقعی چڑیل ہو؟ اب کی بار وہ اسے مزید سلگا گیا
میں سر پھاڑ دوں گی آپ کا…. اپنے الفاظ واپس لیں نہیں تو…. کہتے ساتھ ہی وہ اسکے تھامے مضبوط بازو پر اپنے ناخن گاڑھ گئی
آہ ظالم بیوی… چلو میں الفاظ واپس لیتا ہوں تم میری پیاری سی چڑیل پلس کیوٹ سی بطخ ہو…
میں منہ توڑ دوں گی آپ کا…. خفگی سے کہتی اسکا ہاتھ بازو چھوڑ گئی جس پر وہ فورن سے واپس اپنا بازو پر اسکی گرفت بزدستی مضبوط کر گیا
مزاق کر رہا ہوں… جان ہو میری!! جیسی ہو پرفیٹ ہو! اسکا پھلا ہوا منہ دیکھ وہ اسے ساتھ لگا گیا جس پر اسکے گال فوری گلابی ہوۓ
بس اللہ مجھے اس جھوٹ پر معاف کر دے..!! وہ کہاں باز آنے والوں میں سے تھا
تسسمممیر!!!! اب کی بار وہ بری طرح اس پر جھنپٹی
نو سوئٹ ہارٹ! ابھی سب ہیں!! ذومعانی انداز میں وہ آنکھ مار کر کہتا اسے سرخ کر گیا
ماشااللہ بہت پیارے لگ رہے ہو دونوں…سلمہ کی آواز سے وہ دونوں ان کی طرف متواجہ ہوۓ
******************
روحان سفید رنگ کی شیروانی پہنی اپنی ہلکی براؤن بئرڈ اور ہلکے براؤن بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے سر پر مہرون کی کولا پہنے ایک ہاتھ میں واچ ڈالے پاؤں میں مہرون ہی کھیڑی پہنے بلکل تیار کھڑا تھا
اللہ میرے بیٹے کو نظریں بد سے بچاۓ سلمہ محبت پاش انداز میں بولیں
چلو کُبرا روحان کو سرمہ لگاؤ.. رخسانہ کے کہنے پر روحان بری طرح پیچھے کو اچھلا
نہیں چھوٹی ماں… میں کوجی لگوں گا… وہ گردن میں نفی میں ہلانے لگا
ہاں جیسے پہلے تو بڑے حور پڑا ہے نا یہ! تسمیر نے اسے چھیڑا جس پر وہ منہ بنا گیا
روحان کچھ نہیں ہوگا یہ پوری آنکھوں پر تھوڑی لگاۓ گا بس آنکھوں کے کنارے پر لگا دے گی پتا نہیں بھی چلے گا…. سلمہ کے کہنے پر کُبرا شرارتی مسکراہٹ لیے اسکی طرف بڑھی
اسکی آنکھوں کے کنارے پر ہلکا سا سرمہ لگا کر وہ اب دونوں ہاتھ آگے پھیلا گئی
کیا؟ روحان ابرو اچکا گیا
میرا نیگ… دونوں ہاتھ اسکے آگے پھیلاۓ وہ پورے حق سے بولی کے تسمیر نے آنکھوں میں دھیروں محبت لیے اسے دیکھا
کیوں اتنے سے کام کے بھی تم پیسے لو گی؟ روحان کو حیرت کا جٹکا لگا
روحان شرافت سے دو اسے بھابھی کے حوالے سے اسکا نیگ بنتا ہے سلمہ کے ڈپٹنے پر وہ اپنا والٹ نکالتا اسکے ہاتھ میں پانچ ہزار کا نوٹ پکڑا گیا
ابھی تو بھابھی کے حوالے سے لیے ہیں بہن والے سارے نیگ لینا باقی ہیں اسے وارن کرتی وہ اب برکت کے روم کی طرف جہاں وہ دونوں دلہن بنی بیٹھی تھیں
اندر آتے ہی اس کی سب سے پہلے نظر صباحت پر گئی جو کوپڑ کلر کے خوبصورت لہنگے اور کڑتی پر سرخ کامدار ڈوپٹا گھونگھٹ کی طرح اوڑھے برائیدل میک اپ اور جیولڑی میں اپنی گندمی رنگت میں بھی بے حد حسین لگ رہی تھی
جبکہ اسکے برعکس برکت سرخ لہنے اور چولی پر سرخ ہی کامداد لہنگا پہنے برائیڈل میک اپ اور برائیڈل جیولڑی پہنے وہ گورے رنگ والی لڑکی بہت. پیاری لگ رہی تھی
اہمم اہمم تم دونوں کی تو شکلیں ہی بدل گئی ہیں کُبرا انہیں شرارت سے گلے لگاۓ محبت سے بولی
لیکن تم ویسے ہی خوبصورت لگ رہی ہو برکت کے کہنے پر صباحت بھی سر اثبات میں ہلا گئی
تو صباحت ڈئیر آج سے نند بن گئی ہوں میں آپ کی اسئلے زرا بچ کے رہیے گا اسے شرارتی انداز میں کہنے لگی کے اگلے ہی لمحے صباحت نے اسکے سر پر ایک چٹ رسید کی تھی
تم صرف برکت کی جیٹھانی بنو مجھے بعد میں دیکھنا اب ان دونوں کا رخ برکت کی طرف ہوا تھا
*********************
ہال میں پہنچتے ہی سب کے پہلے روحان سلمہ علی اور تسمیر کے ساتھ آتا اسٹیج سنبھال گیا اسکے بعد برکت کو عباس صاحب رخسانہ اور کُبر اسکے ساتھ بیٹھایا تھا
ربا میرے میں تو گڑ کھا کے مر جاواں.. اسکے ساتھ ہی بیٹھتے ہی وہ اپنی بے سری آواز میں گانے لگا کے برکت کانوں پر ہاتھ رکھے گلابی سی ہوتی اسے گھور گئی
کچھ دیر بعد جون تسمیر رخسانہ اور عباس کے ساتھ نیوی بیلو شیروانی پہنے کسی شہزادے کی طرح چلتے ہوۓ اسٹیج پر آیا اب اسے صرف اس کا انتظار تھا جسے وہ کتنے ہی بار اپنے خواب میں اپنی دلہن بنے دیکھ چکا تھا
جب ہال کی لائٹ اوف ہوئی اور وہ سامنے سے ایک مخصوص روشنی میں سلمہ اور علی کُبرا اور ولید صاحب کے ساتھ آتی دیکھائی دی اس روشنی میں چلتے ہوۓ آتی وہ جون کو اپنے دل کی گہرائیوں میں اترتی محسوس ہوئی اسٹیج کے قریب آتے ہی جون نے ہاتھ پھیلا کر اسکا ہاتھ تھامے اپنے ساتھ اسٹیج پر کھینچا
بیگم صاحبہ آج تو آپ بجلیاں گرا رہی ہیں.. اسکے کان کے قریب سرگوشی کرتا وہ اسکی جھکی نظروں کو مزید جھکا گیا
اسکے بعد دودھ پلائی کی رسم بھی کُبرا نے دونوں سائد سے خود کی تھی آج تو بہت امیر ہو گئی ہوں میں.. تسمیر کے پاس آتی وہ اپنے ہاتھ میں موجود پانچ پانچ ہزار کے نوٹ اسکے آگے لہرا گئی
کے تسمیر اسکی حرکت پر مسکراتا ہوا سر جھٹک گیا
رات کے تقریبا گیارہ بجے وہ لوگ گھر پہنچے تھے
چلیں بھائی صباحت کو اٹھائیں گود میں… کُبرا کی انوکھی بات پر صباحت نے گھبرا کر اسے دیکھا
جو حکم بہن… جون انتہاء مصومیت چہرے ہر سجاۓ لمحہ ضائع کیے بغیر صباحت کو اپنے بازؤں میں بھر گیا
اوۓ ہوۓ روحان اور کُبرا کی ہوٹنگ پر وہ شرماتی اسکے سینے میں ہی منہ چھپا گئی
کہاں؟ پہلے نیگ تو دیں؟؟؟ جون اندر بڑھتا کے کُبرا اور برکت نے اسکا راستہ روکا افف تم یہ لو! اب کی بار وہ پورا کا پورا والٹ ہی انہیں پکڑا گیا
چلو بچوں اب جاؤ اپنے اپنے روم میں… سلمہ کی آواز پر جون اپنے روم کی جانب قدم بڑھا گیا
ہاں یہ.لو.تمہیں بولنے کی زحمت کرنے کی ضرورت نہیں… اور میں نہیں اٹھا رہا اسے… ویسے بھی بہت بھاری ہے یہ… روحان اسکے ہاتھ میں والٹ پکڑاتا آخر میں برکت کو تپا گیا
کہاں جناب؟ سب کو ساری رسمیں بتا دی ہیں کہو تو میں بھی اٹھا کے چلوں؟ تسمیر اسے جاتا دیکھ اسکا راستہ روک گیا
جی نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے یہ نیک فریزہ آپ بہت بار انجام دے چکے ہیں اب ایسے ہی چلیں! وہ اسے گھور کر آنکھیں دیکھا گئی جب کے تسمیر اسکی ان سنی کرتا جھٹکے سے اسے بازؤں میں بھر گیا
آہ تسسمیر چھوڑیں مجھے… کسی نے دیکھ لیا تو؟ کُبرا
یکدم ہی گھبرائی تھی وہ.اسکی سنتا ہی کب تھا
تم نے ہی نیک فریزا بولا ہے تو ایسے نیک کام کرنے میں دیر نہیں کرتا…. بے نیازی سے کہتا وہ اسے ایسے ہی اٹھاۓ سیڑھیاں عبور کرنے لگا
بے شرم! سرخ سی اسکی شرٹ میں منہ چھپاۓ وہ دو تین مکے اسکے سینے پر جڑ ہی چکی تھی
****************
اسے روم میں لاکر چھوڑتا وہ کسی.کام سے باہر نکل گیا تھا
تقریبا آدھے گھنٹے بعد روم میں واپس آیا اور نظر اس پر.گئی جو دلہن بنی پلکیں جھکاۓ بیٹھی تھی
جون چھوٹے چھوٹے قدم بڑھتا اس کے پاس آیا کے صباحت اسکے آتے ہی دل تھام گئی اسکا دل جیسے سوکھے پتے کی مانند لرز رہا تھا
وہ اسکے قریب آتا سائد ٹیبل سے ایک سرخ رنگ کی دبی میں سے وائٹ لوگڈ کا برسلیٹ جس پر چھوٹے چھوٹے ہیرے جگمگا رہے تھے دبی سے نکلتا نرمی سے اسکے ہاتھوں کی زینت کرتا اس پر لب رکھ گیا اسکا لمس پاتے ہی صباحت کے گال شرم سے تمتما اٹھے تھے
تھینک یو! اپنا برسلیٹ دیکھتی وہ بامشکل بولی
شکریہ میری لائف میں آنے کا مسز صباحت جہانگیر! خمار.آلود لہجے میں کہتا وہ اس کی پیشانی پر اپنی.محبت کی پہلی مہر چھوڑ گیا
ججہانگیر آپ کو کیا ہو گیا ہے آج؟ آپ چینج لگ رہے ہیں! اسکی بڑھتی جسارتوں پر وہ مارے شرم کے بے حال سی ہوکر بولی جس پر جون کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی
کیوں؟ حق رکھتا ہوں میں آپ پر لیکن اگر آپ کو نہیں پسند تو… وہ اٹھتا کے صباحت اسکا ہاتھ تھام گئی
ممیرا وہ مطلب نہیں تھا آپ ناراض تو مت ہوں! وہ روہانسی سی ہوئی
ناراض کیوں ہوگا میں جناب آپ سے؟ محبت سے کہتا وہ اسے مزید قریب کر گیا اب کی بار وہ اسی میں ہی سمتی سی تھی
جس وہ گہری مسکراہٹ لیے اس پر جھکتا چلا گیا
ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟ برکت پہلی بار اسکے اس طرح دیکھنے پر پزل ہورہی تھی
تمہیں! اسکے گلے میں اپنا دیا ہوا لوکٹ دیکھ کر وہ محبت اس پر لب رکھ گیا کے اسکی حرکت پر برکت اچھلی تھی
ککیا بدتمیزی ہے یہ؟ اسے لمس پر وہ بے ترتیب ہوتی سانسوں سے بولی
اسکے نکاح میں آنے کے بعد وہ اکثر ہی اس طرح جسارتیں کر.جاتا تھا
اب خود کو تیار کر لو بے بی کیوں کے اب اس طرح بدتمیزیاں میں زور ہی کروں گا ذومعانی انداز میں کہتا وہ اسکے مزید قریب ہوتا لیپ اوف کر گیا
*****************
وہ چینج کرکے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتی دن والے ہی مہرون سوٹ میں باہر آئی تو تسمیر سامنے ہی بیڈ پر نیم دراز ہوا سگریٹ لبوں سے لگاۓ ہوۓ تھا ہمت کرکے آگے بڑھتی وہ اسکے ہاتھوں سے سگریٹ کھینچ کر ڈسٹ بین میں پھینک گئی
کے تسمیر اسکی ہمت پر عش عش کر اٹھا
یہ اتنی کیوں پیتے ہیں آپ؟ وہ اسے گھورتے ہوۓ کہنے لگی
جس پر تسمیر اسے جھٹکے سے کھینچتا اپنے حصار میں لے گیا
کیوں کے وہ میری پہلی محبت ہے نا… اس سے بے وفائی نہیں کر سکتا تھا…. کُبرا نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا وہ سنجیدہ تھا
آپ تو کہتے ہیں آپ کو مجھ سے بھی محبت ہے؟ وہ اب اسکے سینے پر سر رکھے کچھ سوچتے ہوۓ بولی
ہاں لیکن پہلی محبت تو سگریٹ ہی ہے! وہ اب اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتا آنکھیں موندیں کہنے لگا
اسکی بات کو نظرانداز کرتی وہ پرسوچ سی اسے مخاطب کر گئی
تسمیر؟
جی..! آہ اسکے لہجے میں چھلکتی محبت سے وہ دل تھام گئی
وہ… آپ کو میرے سے اصل والی محبت ہے کیا؟ ہمت کرکے وہ آخر پوچھ ہی بیٹھی تھی
نہیں چائنہ والی ہے..! آنکھیں موندے ہی عام سے انداز میں کہتا وہ اسے سلگا گیا
کوئی جواب ٹھیک سے دے سکتے ہیں؟ اسکی بند آنکھوں کو دیکھتی وہ تیش سے بولی
جی جان اصلی والی ہی ہے..!!
جب وہ اپنی آنکھیں کھول لیا اسکی سبز آنکھوں کے سرخ ڈورے اور اسکے خمار آلود لہجے میں کہے گئے لفظوں سے کُبرا کے دل نے بیٹ مس کی تھی وہ شاید
کسی اور ہی موڈ میں تھا جبھی اسے ایسے لقب سے نواز رہا تھا ورنہ تسمیر خان سے سیدھی بات کی تواقعہ تو وہ کبھی کر ہی نہیں سکتی تھی
تو پھر آپ سگریٹ پینا چھوڑ دیں یہ اتنا نقصان دیتی ہے…. وہ اسے خود پر جھکتا دیکھ بات بدل گئی
فلحال تو تم ہی میرے لیے فائدہ مند ہو…. ذومعانی انداز میں بولتا وہ.اسکے لبوں پر جھکا کے کُبرا اس اچانک حملے پر سانس روک گئی
کچھ لمحے خود کو سیراب کرتا وہ اسے دیکھنے لگا جو سرخ سی گہری گہری سانسیں لینے میں مصروف تھی
مجھے آپ سے بات کرنی ہے اسے مزید بڑھتا دیکھ وہ پوری قوت سے اسکے سینے پر دونوں ہاتھ جماۓ اسے دور کیے ہوۓ تھی
آپ دو مہینے تک کہاں تھے؟ کافی دنوں سے دل میں آنے والے سوال کو آخر کو باہر نکال ہی گئی تھی جبکہ تسمیر اپنی بیوی کے اچانک.کرنے والے سوال سے سوچ میں پڑ گیا
کام سے گیا تھا بتایا تو تھا… وہ اس سے نظریں چرائیں بتانے لگا
جھوٹ..آپ مجھے سچ سچ بتائیں آپ کہاں تھے… اور.آپ نے میر جان کا کیا؟ اسکے سوال پر تسمیر نے چہرہ گھوما کر اسے دیکھا
کککیا مطلب؟ کچھ نہیں کیا میں نے میر خان کے ساتھ! پہلی بار اسکی زبان کنک ہوئی تھی اگر وہ جان جاتی کے اسنے میر خان کے ساتھ کیا کیا تھا تو وہ ضرور خوفذدہ ہو جاتی
آپ مجھے بتائیں..آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا کے آپ نے صرف اسکی ٹانگ پر گولی چلائی ہے ہے نا؟ وہ اب باضد تھی
سوئٹ ہارٹ ایسا کچھ نہیں ہے…تم کیا اس ٹائم میری انکوائری کرنے بیٹھ گئی ہو؟ وہ بات بدلتا بولا
مجھے آپ صیح سلامت چاہیے ہیں! میں بتا رہی ہوں اگر آپ کو اتنی سی بھی انچ آئی تو میں کبھی معاف نہیں کروں گی آپ کو…. وہ اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی ( شاید اسکے دل نے آنے والے حالات کی کچھ خبر اسے سنائی تھی)
اہمم بہت فکر نہیں ہو رہی ہے آپ کو میری؟ وہ.ایک بار پھر بات بدل گیا
آپ میری بات کو سیرئز… باقی الفاظ کو منہ میں ہی رہے گئے. جب وہ بے خود سا ہوتا ایک بار پھر اسکے لبوں پر جھکے اس پر اپنا قبضہ جما گیا.