Shagaf-e-Dil Episode 28
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shagaf-e-Dil by Syeda Shah
لحموں بعد وہ فریش سی باہر آئی جب نظر بیڈ پر آرے تڑچے لیٹے وجود پر جاتے ہی وہ قدم اس جانب بڑھا گئی
بیڈ سے لٹکے اسکا ہاتھ کو سیدھا کرتی نظریں اب چہرے پر گئیں جہاں تھکن کے اثار واضع تھے دروازے پر دستک سے وہ ہوش میں آتی اس پر کمفرٹر ٹھیک کرکے دروازے کی جانب بڑھ گئی
تم ٹھیک ہو نا؟ روحان اسکے ساتھ چلتا فکرمندی سے بولا
ہمم ٹھیک ہوں! کُبرا محض سر ہلا گئی
بھائی کہاں ہیں؟
سو رہے ہیں تھکے ہوۓ لگ رہے تھے!
ہاں تو تھکنا تو تھا ہی تم نے اتنا بھاگیا ہے میرے بھائی کو اپنے پیچھے روحان شرارت سے کہنے لگا
ہاہاہا ویری فنی وہ منہ بسور کر بولی ابھی تک اسکی سکون والی بات کا,آثر زائل نہیں ہوا تھا
ویسے ایک بات ہے میں نے اس سے پہلے بھائی کو کبھی اس حالت میں نہیں دیکھا یقین کرو میرا قصور نا ہوتے ہوۓ بھی مجھے خوف آرہا تھا روحان شرارت سے کہتا اسے چونکنے پر مجبور کر گیا
مطلب؟کُبرا ابرو اچکا گئی
(“He cried for you”)
روحان لفظی جمعلہ کہتا اسے تاثرات دیکھنے لگا جو بے یقینی سے پوری آنکھیں کھول چکی تھی
بعد میں خوش ہو جانا پہلے یہ دوائی لے لو اسے سرخ سا ہوتا دیکھ وہ آنکھ دباۓ بولا
ایسے کیسے پہلے میری جان کچھ کھا تو لے سلمہ محبت سے اسے اپنے ساتھ بیٹھاۓ کہنے لگیں
نہیں آیا جان مجھے بھوک نہیں ہے کُبرا منہ بسور گئی
کچھ کھانا تو پڑے گا نا میں خود اپنے ہاتھوں سے کھلاؤں گی اپنی بیٹی کو جانتی ہو کل سے ہماری کیسے جان
نکلی ہوئی تھی سلمہ اسے اپنے ساتھ لگائیں نم آنکھوں سے بولیں
بلکل ٹھیک کہ رہی ہیں بھابھی ہمیں تو اگلہ سانس لینا بھی مشکل لگ رہا تھا اللہ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ
تم صیح سلامت ہمارے سامنے ہو رخسانہ بھی کھانے کی ٹرے لائیں مسکرا کر کہنے لگیں
چلو اب کھاؤ سلمہ کے کہنے پر رخسانہ نے مطئمن نظروں سے انہیں دیکھا ہے شکر ہے اللہ نے میری بیٹی کو آپ جیسی ساس دی ہے بھابھی رخسانہ محبت پاش لہجے میں بولی کے روحان انکی بات بیچ میں ہی اچک گیا
ہاں تو دوسری بیٹی کے بارے میں بھی کچھ سوچیں نا وہ سوتیلی وہ ڈھٹائی سے کہتا سلمہ کا منہ کھلوا گیا
تو تم دعا کرو نا بہن کے لیے! اب کی بار منہ کھولنے کی باری روحان کہ تھی کے کُبرا کا جاندار قہقہ گونجا تھا
جبکہ سیڑھیوں سے اتڑتا جون پیٹ پر ہاتھ رکھے ہنستا چلا گیا
چھوٹی ماں توبہ کریں فورن سے پہلے توبہ کریں وہ دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے سر نفی میں ہلاۓ بولا
ایسا بھی کیا کہ دیا میں نے؟ رخسانہ اب جھنپی سی تھیں
ہاں بھئی بتاؤ ماں کو کیا غلط کہا ہے ایسا؟ جون انہیں خود سے لگاۓ شرارتی انداز میں بولا کے روحان لب بھینجے اسے چٹ لگا گیا
کچھ نہیں رخسانہ آپ ادھر آئیں چھوڑیں اسے یہ تو ہے ہی نمونہ سلمہ بات کو سنبھالتی اپنی مسکراہٹ دباۓ بولیں
**************************
کیوں رکھا ہوا ہے مجھے یہاں؟ میں چھوڑوں گا نہیں تم لوگوں کو میر چلایا
شکر کر ابھی تک تجھے صرف رکھا ہی ہوا ہے جب تسمیر سر یہاں آئیں گے تو یہاں صرف تیری چیخیں ہی گونجنی ہے خرم کرسی پر بیٹھے تلخی سے بولا
آنے دو دیکھ لوں گا میں اس وکیل کو بھی میر نڈہال سا کہنے لگا
میں تجھے دیکھنے کے قابل چھوڑوں گا جب نا! اسکی آواز سے خرم اس جانب متواجہ ہوا جو لمبے لمبے ڈھگ
بھرتا کالے رنگ کی قمیز اور شلوار اپنی مردانہ وجاہت سے ہاتھ میں پسٹل تانے اس وقت اپنی سبز آنکھوں میں
سرخی لیے کسی کو بھی خوفذدہ کر سکتا تھا سر! خرم یک دم سیدھا ہوا جبکہ اسکی آواز سے ہی لوہے کی
پنجرے نما جیل میں باندھے میر شاہ کو اپنی جان ہوا ہوتی محسوس ہوئی
کھولو اسے!اور تم جاؤ باہر تسمیر غرایا جس پر خرم تیزی سے لوک کھول کھولتا باہر کی طرف بھاگ لپکا
دور رہو مجھ سے میر خوفذدہ سا کہنے لگا کے تسمیر زخمی شیر کی طرح اس پر جھنپٹا تھا
ہمت کیسے ہوئی تیری اسے بھی ایسے ہی درد ہوا تھا نا اسکے جبڑے پر مکا مارا تھا جس سے وہ بری طرح کراہیا
.
جنگلی انسان چھوڑ مجھے میر درد سے کراہتا چلایا
آواز نیچھے! تسمیر چلایا
ہاہاہا مزہ آرہا ہے تسمیر خان درد میں ہے ویسے ایک بات ماننی پڑے گی خوبصورت بہت ہے وہ حسینہ کیا خوب نیلی آنکھیں ہیں واللہ
خباست سے قہقہ لگاۓ وہ اسے مزید تیش دلا دیا ایک جھٹکے سے تسمیر نے اسکی پیشانی پر گن رکھی تھی
اور اگلے ہی لمحے اپنے کی گئی حرکت سے وہ باہر کھڑے خرم کو بھی ششدر کر گیا
اسکی آنکھ پر مکا مارتا وہ اسکی ٹانگ پر فائر کر گیا
سر سر چھوڑیں وہ مر جاۓ گا خرم گھبرایا سا اسے قابو کرنے لگا
انہیں پاؤں سے اسکا ہاتھ زخمی کیا ہے نا ہمت کیسے ہوئی میری تسمیر خان کی بیوی پر تو نے نظر تک کیسے
ڈالی میں جان سے مار دوں گا بے قابو سا ہوکر وہ جنونی سا اسے اپنی بیوی پر ہونے والے ہر ظلم کا بدلہ لے رہا تھا
سر چھوڑ دیں بس وہ مر جاۓ گا اسکی حالت دیکھیں خرم با مشکل اسے میر سے الگ کر پایا
اس پر وہ وہ چیزیں ڈالو جس سے یہ کم از کم دس سال تو اپنے بیٹے کے پاس ہی گزارے جب تک اس جیسے لوگ
آزاد ہیں ہماری عوتیں ایسے ہی محفوظ نہیں ہیں اور اس ریحان کو بھی انہی کے ساتھ ہی سرال کی ہوا کھلاؤ!
تیش سے کہتا وہ باہر نکل گیا
************************
تم بات کیوں نہیں کر رہی مجھ سے؟ روحان اسکے پاس ٹیرس پر آتا بولا کے وہ جھٹکے سے. جھولے سے اٹھی
دور رہا کرو تم مجھ سے روحان برکت بدمزہ سی ہوئی
یار میں منا لو گا موم کو تم کیوں ایسے بیھیو کر رہی ہو؟ وہ اسے اپنے ساتھ بیٹھاۓ نرمی سے بولا
تم پہلے جاکر آیا جان کو مناؤ نہیں تو میرے سے بات بھی مت کیا کرو برکت صاف گوئی سے کہنے لگی
تمہاری نظر میں میری اور میری مجبت کی کوئی ویلیؤ ہے بھی یا نہیں؟ وہ یکدم چلایا کے برکت اسکی تیز آواز سے سہم کر رہے گئی
میں بتا رہا ہوں برکت مجھ سے عزت سے بات کیا کرو میں پاگل نہیں ہوں جو پورے دن سب گھر والوں سے
تمہارے لیے لڑوں اور تم یہاں مجھ سے ایسے بات کرتی ہو جیسے میری کوئی اہمیت ہی نہیں ہے اگر تم ایسے ہی
کرتی رہی تو تم سے پہلے میں یہاں اپنی بارات لے کر آؤں گا اسے وارن کرتا وہ باہر نکل گیا
اسے کیا ہوگیا ہے؟تسمیر بھائی کی روح آگئی ہے اس میں بھی خود سے کہتی وہ منہ بنا گئی
*********************
طبیت کسی ہے آپ کی؟ مئیری جو جون کے ساتھ کھڑی باتیں کرنے میں مصروف تھی
اسے آتا دیکھ بزدستی کا مسکرائی
ٹھیک ہوں اللہ کا شکر ہے! کُبرا تحمل سے کہنے لگی
جون مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے وہ اب اس سے مخاطب ہوئی
میئری اسکا اشارہ سمجھ کر خود دوسری جانب قدم بڑھا گئی
کیا سوچا تم نے؟کُبرا ابرو گئی
کس معاملے میں؟ جون نا سمجھی سے کہنے لگا
صباحت کے بارے میں کیا خیالات ہیں آپ کے مجھے بتائیں تاکہ میں ماں سے بات کروں کُبرا مسکرا کر بولی
میرے خیالات تو عروج پر ہیں بس آپکی دوست کی راۓ تو جان لوں پہلے جون پرمسرور سا کہنے لگا
“تو پھر بات کریں تاکہ گھر میں کوئی رونق لگے“
پہلے تم اپنا ہاتھ تو جوڑ لو پھر ہی رونق کا سوچنا
اسکے کہنے پر جون شرارت سے بولا
کچھ چاہیے تھا آپ کو؟ جون اسے کچن میں بےچین نظروں سے ادھر ادھر دیکھتا پوچھنے لگا
جی مجھے چاۓ بنانی ہے صباحت گھبرائی سے بولی
تو بنائیں بلکہ میری بھی ساتھ بنائیں میں ہیلپ کرتا ہوں
جون اسکے ساتھ چیزیں سیٹ کرنے لگا کے وہ اسکی موجودگی میں گھبرائی سی چاۓ بنانے لگی
ہوٹل کب سے جوائن کرنا ہے آپ نے؟ جون ابرو اچکاۓ بولا
کُبرا کی ہریشانی میں نہیں آسکی تھی انشاءاللہ کل سے آؤں گی …
ہممم! جون محض سر اثبات میں ہلا گیا
صباحت مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ! کچھ لمحوں بعد اسکی سنجیدہ سی آواز گونجی
جی؟ وہ کنفیوز سی بولی
لیسن مجھے زیادہ باتیں بنانا نہیں آتیں سمپل یہ کہ
آئی رئیلی لائک یو شادی کرنا چاہتا ہوں آپ سے میں
چاہتا ہوں آپ اس بارے میں سوچ سمجھ کر مجھے بتائیں آپ کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہاں یا نا آپ مجھے کھل
کے بتائیے گا میری طرف سے کوئی بزدستی نہیں ہاں بس یہ یاد رکھیے گا کہ شادی آپ کی مجھ سے ہی ہوگی
پرپوز کم وران زیادہ کرتا وہ کچن سے نکل گیا جبکہ صباحت وہی اپنا دل تھام کر رہے گئی تھی
*******************
تسمیر بھائی کب تک آئیں گے؟ صباحت اسکا ہاتھ تھامے بیڈ پر بیٹھاۓ بولی نظریں اب گھڑی پر گئیں جو دس بجا
رہی تھیں
“He cried for you”
صباحت کے جاتے ہی وہ روحان کے الفاظ یاد کرنے لگی
دل عجیب ہی رفتار پر ڈھرکا تھا مسکرا کر اٹھتی وہ واشروم میں بند ہو گئی
کچھ لمحوں میں وضو کرتی وہ باہر آۓ جاۓ نماز بیچھا گئی
تسمیر؟ مئیری اسے تھکا تھکا سا گاڑی سے نکلتا دیکھ اس جانب قدم بڑھا گئی
ہممم! گاڑی سے چیزیں نکلاتا وہ مصروف سا بولا
تم یہاں بھی ڈرنک کرتے ہو؟ اسکی آنکھوں سے وہ پہچان گئی تھی
کیا کام ہے میئری؟ مدعے پر آؤ! وہ اکتایا
تم مجھے یہاں ٹائم ہی نہیں دے رہے وہ روہانسی ہوتی اس وقت اسکے بے حد قریب کھڑی اسکے بٹن سے کھیلتی بولی
کل لے جاؤں گا تمہیں اب پلزز جگہ دوگی؟ اسکے ہاتھ جھٹکتا وہ لمبے کمبے ڈھگ بڑھ گیا
وہ روم میں آیا تو نظر اس پر گئی جو جاۓ نماز سمیت رہی تھی
(ویسے ایک بات ماننی پڑے گی خوبصورت بہت ہے وہ حسینہ کیا خوب نیلی آنکھیں ہیں واللہ) اسے دیکھتے ہی
میر نیازی کے الفاظ اسے ذہن میں گونجے
طبیت کیسی ہے تمہاری؟ خود پر ضبط کیے وہ اسکے
قریب آتا بولا
ٹھیک ہے! ایک لفظی جواب دیتی وہ اسکی حالت کو دیکھ کر وہ سمجھ چکی تھی کہ وہ آج پھر ڈرنک تھا
کھانا کھایا؟ اسے دور جاتا دیکھ وہ قمر سے جکڑ کر اسے قریب کر گیا
جی! اسکی وجود سے اٹھتی مردانہ پرفیوم کی خوشبو سے وہ کنفیوز ہوئی
حساب لے آیا ہوں تمہارا ! خمار آلود لہجے میں کہتا وہ اسکی جان ہوا کر گیا
ممممیں نے مممنع کیا تھا نا آپ کو پھر کیوں
شششش فلحال مجھے سکون چاہیے مل سکتا ہے؟ کہتے ساتھ ہی وہ اسکی پیشانی پر لب رکھے اسکی پیشانی سے اپنی پیشانی ٹکڑا گیا
سوری!اسکے کان کے قریب گھمبیر لہجے میں بولا تھا
کس لیے؟ کُبرا دل پر قابو کیے نا سمجھی سے ابرو اچکا گئی
میں نے وعدہ کیا تھا تم سے حفاظت کروں گا تمہاری لیکن میں نہیں کر سکا ٹوٹے ہوۓ انداز میں کہتا وہ کُبرا کو ششدر کر گیا
ایسا کچھ نہیں ہے میں ٹھیک ہوں کُبرا تسلی آمیز انداز میں بولا
لیکن میں ٹھیک نہیں ہوں تسمیر خان جسے یہ تک گوارا نہیں ہے اسکی بیوی کو کوئی بے حجاب بھی دیکھے اس
شخص کی غلیظ باتیں میرے ذہن میں گونج رہی ہیں کُبرا
میرا بس نہیں چل رہا کہ میں اسے جان سے مار دوں سر پر ہاتھ رکھے وہ چیختا صوفے پر ڈھے سا گیا جبکہ اسکا
ٹوٹا لہجے کُبرا کو مزید تکلیف دے رہا تھا
تسمیر! ادھر دیکھیں مجھے ہمت کرکے وہ اسکے سامنے ہی بیٹھتی اسکا ہاتھ تھامے بولی جو کرب سے میچی آنکھیں اب اس پر مرکوز کر گیا
کچھ نہیں ہوا مجھے کہنے دیں اسے جو کہ رہا ہے میں آپ کے پاس ہوں نا آپ کو شکر کرنا چاہیے نا کہ اس انسان
کی باتوں میں آکر اس طرح کے کام کرنا وہ آپ کو بے سکون کرنا چاہتا تھا اور آپ اسکا مقصد پورا کر رہے ہیں
اسکا ہاتھ تھامے وہ محبت سے بولی
میری بات سمجھ رہے ہیں نا آپ؟ وہ اب ابرو اچکا گئی
کے وہ سر اثبات میں ہلا گیا
کُبرا محض مسکرا دی (کبھی کبھی وہ اسے بلکل کوئی چھوٹا سا بچہ لگتا تھا جو خاموشی سے اسکی بات سن لیا کرتا تھا)
لیکن اپنی اگلی حرکت سے وہ ثابت کر گیا تھا کہ ہے تو وہ وہی بےشرم آدمی
اسے اپنی طرف کھینچ کر وہ اسکی پیشانی پر لب رکھ گیا
مممجھے سونا ہے اسکی گرفت سے نکلتی وہ فوری سے اٹھتی بیڈ پر بیٹھی تھی
تو پھر اگر آپ اجازت. دیں تو میں آج میئری کے پاس چلا جاؤں وہ بیچاری کب سے ٹائم مانگ رہی ہے میرا شرارت سے کہتا وہ اسے ہمیشہ کی طرح سلگا گیا
جاکر دیکھیں اپنے اسی ٹوٹے ہوۓ ہاتھ سے ٹانگیں توڑوں گی آپ کی!
غصے سے کہتی وہ کمبل منہ تک تان گئی کے اسکی بدلتی ٹون پر تسمیر کا جاندار قہقہ گونجا تھا
ظالم بیوی! سر جھٹک کر اسے لقب سے نوازا تھا جو اپنی بات سے اسے کافی حد تک مطئمن کر گئی تھی