Shagaf-e-Dil Episode 18
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shagaf-e-Dil by Syeda Shah
دیکھوں خان تم میرا علاقے کے سب سے بڑے دادا کا بیٹا ہے آغا جان کو ہم اپنا باپ کی مانتا ہے بہتر ہے تم اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر لو نہیں تو بعد تمہارے ہمارے حلات خراب ہوۓ تو اسکے زمےدار صرف تم ہونگے گل خان اسکے سامنے کھڑا نرم لہجے میں کہنے لگا
تم بھی سن لو گل خان یہ تسمیر خان ہوں آغا جان کا شیر پوتا میں کسی قیمت پر تمہیں یہ زمین نہیں دوں گا اسکے لیے پھر تم چاہیے پولیس میں جاؤ یا عدالت میں لیکن میں اپنی بات سے پھیرنے والا نہیں ہوں تسمیر پر اعتماد لہجے میں بولا
ٹھیک ہے پھر جیسے تمہاری مرضی ہم کو تمہیں بس ایک بار وارن کرنا تھا ہم اب پر تم سے ڈٹ کر جنگ کرنا لازمی ہو گیا ہے تم شاید بھول رہے ہو تسمیر خان خان اگر نفرت کرنے پر آۓ تو پھر اپنے گھر کے بندوں کو بھی نہیں چھوڑتا … گل خان دھمکی آمیز لہجے میں کہتا اسکے قریب آیا
بلکل ایسا ہی ہے گل خان لیکن مجھے لگتا ہے تم بھی شاید بھول گئے ہو کہ میں بھی ایک خان ہوں تم سے تمہاری ٹکر کی ہی دشمنی نبھاؤں گا مزہ آۓ گا تم سے لڑنے تسمیر ستائشی انداز میں بولا
ہاہاہا اتنی ہواؤں میں مت اڑوں بچے میں گل خان ہوں تمہیں تمہاری کمزوریوں سے ماروں گا تم نا صرف یہ زمین مجھ سے چھینی ہے بلکل میرے اتنے عرصے کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے گل خان چلایا
ایسے بولوں نا کہ میں نے تمہارے اتنے عرصے کی بغیرتی کو روک دیا ہے تمہیں کیا لگتا ہے مجھے معلوم نہیں کہ تم یہاں ایک ہوٹل بنوانا چاہتے تھے جہاں تم مصوم لڑکیوں کو قیدی بنا کر لانا چاہتے تھے اور اس ہوٹل میں تم ہر برے کام کے لیے لوگوں سے دبل اور حرام کا پیسہ کمانا چاہتے تھے تسمیر مطئن سا کہتا سامنے کھڑے شخص کے پیروں کے نیچھے سے زمین نکال رہا تھا اور جہاں تک رہی کمزوریوں کی بات تسمیر خان اتنا ہلکا نہیں ہے کہ اپنی کوئی کمزوری رکھے اور اگر اسکی کوئی کمزوری ہو بھی تو آج تک کوئی اسے جان نہیں سکھا ہے
تمم بکواس کر رہے ہو اور تمہیں کیا لگتا ہے مجھے نہیں معلوم تمہاری ایک عدد بیوی بھی ہے تو کیا تم اسے قربان کر سکتے ہو اپنی اس زمین کے لیے؟ ابھی وہ بول ہی رہا تھا جب تسمیر جھٹکے سے اٹھتا بندوق سیدھا اسکی پیشانی پر رکھ گیا
زبان سنبھال لو گل خان نہیں تو تیری اسی زبان کو کاٹ کر علاقے کے کتوں کے آگے ڈال دوں گا تسمیر سبز آنکھوں میں سرخی لیے چلایا جب کہ گل خان کو اس وقت اکیلے ہونے کے باعث اپنی جان جاتی محسوس ہوئی
نہیں تسمیر بابا چھوڑ دیں اسے جانے دیں جب ایک آدھیڑ عمر شخص جسکا نام بھی عمرخانی تھا اسے دونوں ہاتھوں سے تھامتا بولا
ہٹیں عمر صاحب میں جان سے مار دوں گا اسے تسمیر ڈھارا
نہیں بابا یہ ابھی معافی.مانگ لے گا آپ سے لیکن آپ جانے دیں آغا جان آپ کو اس حرکت کے لیے کبھی معاف نہیں کریں گے عمر اسے یاد دھانی کروانے لگا
ممممیں معافففیی چاہتا ہوں گل خان فورن سے بولا جس پر تسمیر ایک زوردار جھٹکے سے اسے چھوڑتا لمبے لمبے ڈھگ بڑھاتا آگے کی طرگ بڑھ گیا جبکہ پیچھے گل خان چہرے پر خباسی مسکراہٹ سجاۓ اسے جاتا دیکھنے لگا (جو انجانے میں اسے اپنی کمزوری سے آگاہ کر گیا تھا ہاں تسمیر خان کی عزت اسکی سب سے بڑی کمزوری تھی اور اب شاید کُبرا تسمیر خان بھی اب اسکی عزت بن چکی تھی)
**********************
وہ صبح سے ہی کچن میں گھسی کھیر بنانے کی تیاری کر رہی تھی کچھ کچھ دیر میں وہ رخسانہ بیگم اور سلمہ بیگم حدایت لینے کو باہر کی طرف جاتی کیوں کہ اماں جان نے سب کو کچن میں جانے سے منع کر دیا تھا سواۓ فریدے کے جو کب سے اسکے کچن سے نکلنے کا انتظار کر رہی تھی قسمت بھی شاید آج اس پر مہربان تھی کُبرا جیسے چینی کا پوچھنے کچن سے نکلی فریدے نے موقعی کو غنیمت جانا تھا اور جلدی سے نمک کا ڈبا اس میں الٹ دیا
فریدے آپا آپ بھی چھک لیں نا آپ کو زیادہ اندازہ ہوگا تبھی کُبرا واپس آکر ان سے مخاطب ہوئی
نہیں بیٹا مجھے تو شگر ہے میں میٹھا کہاں کھا سکتی ہوں ویسے بھی تم نے بنائی تو ہے ضرور مزے کی ہوگی فریدے مسکرا کر بولی جس پر وہ بھی محض مسکرا دی کام مکمل ہونے پر وہ تھکی ہاری سی روم میں داخل ہوئی صبح کے بعد وہ اب روم میں آئی تھی لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر اسکی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں
وہ روم کا حشر نشر کر کے گیا تھا ہر جگہ اسکے کپڑے بکھیرے تھے بیڈ کی چادر فرش پر جھول رہی تھی ڈرسینگ ٹیبل پر رکھی چیزیں ایک دوسرے پر گری ہوئی تھیں
آہ تسمیر آہ غصے میں چلاتی وہ آرام کا ارادہ تبدیل کرتی کام میں مصروف ہو گئی
***********
کھانے کی ٹیبل پر سب اسکی کھیر کے منتظر تھے اماں جان اپنے پلان کے کامیاب ہونے کی خوشی کی منتظر تھیں جب وہ کھیر لے کر ٹیبل پر آئی
سب سے پہلے مجازی خدا کو کھلادو ثواب ملے گا روحان شرارت سے بولا جس پر وہ اسے گھور کر رہے گئی
آغا جان کے بعد وہ سب سے پہلے کھیر تسمیر کی پلیٹ میں ڈال گئی اسکے بعد باری باری سب کی پلیٹ میں ڈالتی وہ تسمیر کے ساتھ والی سیٹ سنبھال گئی
چلیں اب کھا کر دیکھتے ہیں کہ اب زندہ بچنے والے ہیں یا نہیں روحان ہنوز شرارتی انداز میں کہ.رہا تھا
کم.از کم تمہارے منہ سے تو اچھی ہی بنائی ہوگی میری بہن نے جون اسے چٹ لگاتا کہنے لگا جس پر سب کا جاندار قہقہ گونجا
ہممم ماشااللہ ماشااللہ کھیر تو بہت اچھی بنائی ہے ہماری بیٹی نے آغا جان کی پر مسرور آواز گونجی اسکے بعد باری باری سب نے ہی اسکی تعریف کی تھی جس پر اماں جان کا چہرہ پیکھا پڑا حیرت سے کھیر کا نوالہ لیا جو واقعی میں بے حد مزے دار تھی
اچھی بنی ہے! اماں جان محض اتنا ہی کہ پائی
سب کی تعریف سن کر کُبرا نے ایک فتحانہ نظر تسمیر پر ڈالی
*********
سرخ انگارہ ہوتی آنکھیں لیے وہ خان میشن میں داخل ہوا جب نظر سامنے ہی کچن میں کام کرتی کُبرا پر گئی سبز سوٹ میں بالوں کو جوڑے میں قید کیے وہ مصروف سی چیزیں سمیٹ رہی تھی اس کو دیکھتے ہی وہ نے اختیار نظریں دوسری جانب کر گیا وہ اس وقت مصروف سی سیدھا اسکے دل میں اتڑ رہی تھی
بنا لیا تم نے زہر؟ روم میں جانے کا ارادہ ترک کرکے اسکے قدم خود بخود کچن کی جانب بڑھے
میں نے تو کھیر ہی بنائی ہے ہاں التبہ جو جود زہریلے ہوں انہیں زہر لگ سکتا ہے کُبرا اسکے روم والی حرکت پر جلی ٹکی بولی
تم تو چکاؤ گی نہیں میں خود ہی چکھ لیتا ہوں تسمیر عام سے انداز میں کہتا چمچ منہ میں رکھ گیا
تم تو واقعی زہر بنایا ہے تسمیر حیرتذدہ سا بولا
اب اگر آپ نے ایک بار اور یہ بات کی تو اچھا نہیں ہوگا کُبرا اسے گھور کر کہتی اسے قریب ہوئی
یقین کرو مزاق نہیں کر رہا بہت. زہر بنی ہے یہ لو چکھو وہ مصومیت سے بولتا چمچ اسکے منہ کے آگے کر گیا جسے وہ اسے گھور کر چکھ گئی
یہ نمک کس نے ڈالا؟ کھیر چکھتے ہی وہ پریشان سی کہنے لگی
ہاں تمہاری طرح تمہاری کوئی چڑیل دوست آئی ہوگی اسنے ڈال دیا ہوگا تسمیر جل کر بولا
مممیں کیا کروں ساری محنت ضایع ہوگئی اماں جان بہت سنائے گی مجھے کُبرا روتے ہوۓ سر تھام گئی جب تسمیر کی نظر اسکے أنسؤوں پر گئی تھی
رو کیوں رہی ہو؟ میں ہوں نا ابھی سب ٹھیک ہو جاۓ گا آؤ ادھر تسمیر اسکے بازوں تھامے محبت سے بولا جب کُبرا نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا جس پر وہ مسکرا کر اسکے آنکھوں سے ٹوٹنے والا موتی اپنی انگلی کے پور سے صاف کر گیا(وہ خود بھی نہیں جانتا تھا اسے کُبرا کی آنکھوں میں یہ آنسو اتنے برے کیوں لگ رہے تھے)
کچھ دیر پہلے گزارے لمحے اس کی آنکھوں میں گونجے
تسمیر نے تو کچھ بولا ہی نہیں کہ کیسی بنی ہے؟ سلمہ بیگم اسے خفگی سے دیکھتی بولیں
بہت اچھی بنی ہے بس زرا نمک تھوڑا تیز ہے تسمیر کندھے اچکا کر کہنے لگا جس پر ایک بار پھر سب کا قہقہ بلند ہوا
کھیر میں نمک نہیں ہوتا بیٹا رخسانہ بیگم محبت سے بولیں
جی بلکل چھوٹی ماں لیکن کچھ لوگ کھیر میں بھی ڈال ہی دیتے ہیں نمک تسمیر عام سے انداز میں کہنے لگا جب کہ اسکے انداز سے فریدے کو اپنی جان ہوا ہوتی محسوس ہوئی
آؤے ہوۓ بھائی تو آج کل بڑے مزاقی ہو گئے ہیں روحان اسے کندھا مارے بولا جب وہ اسے گھوری سے نوازتا کھانے میں مصروف ہو گیا
***************************
رات کے تقریبا دس بجے وہ کمرے مین داخل ہوا تھا کُبرا اس سے پہلے آچکی تھی روم میں داخل ہوتے ہی ایک فتحانہ مسکراہٹ اسکے لبوں پر رینگی تھی
تو اسکا مطلب ہے مسز کوبرا آج پورے دن کام کرتی رہی ہے وہ مزے سے کہتا واشروم کی طرف قدم بڑھا گیا
لیکن سامنے کا منظر اسکے لیے نا قابل یقین تھا مسکراہٹ کی جگہ چہرے پر ایک سختی نے لی
یہ سب کیا ہے؟ وہ ڈھارا
کیا ہوا ہے اتنا شور کیوں کر رہے ہیں؟ کُبرا اپنی مسکراہٹ دباۓ ناسمجھی سے بولی
یہ سب کیا ہے کس نے کیا ہے؟ تسمیر اپنی الماری کی طرف اشارہ کر گیا جہاں اسکا آج صبح پھیلایا ہوا سارہ گند اسکی اپنی الماری کے آگے سجا ہوا تھا
وہی ہے جو آپ نے صبح پھیلایا تھا اب دو منٹ سے پہلے پہلے صاف کریں یہ مجھے یہ کمرہ گندہ نہیں چاہیے کُبرا کندھے اچکا کر کہتی آگے بڑھ گئی جب تسمیر نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے اپنی طرف کھینچا
شرم نہیں آتی تمہیں؟ میں اتنا تھک کر آیا ہوں تم اپنے شوہر کا ایک کام بھی نہیں کرسکتی؟ تسمیر آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھنے لگا
کرتی ضرور کرتی اگر آپ اپنے یہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا ہوتا آئندہ اتنا فالتو دماغ چلانے سے پہلے یہ سوچ لیجیے گا کہ سامنے کُبرا تسمیر خان ہے بولتے بولتے اسے اندازہ بھی نہیں ہوا وہ اسکا نام اپنے نام سے جوڑ گئی تھی ایک شرارتی مسکراہٹ تسمیر کے چہرے پر رینگی
کیا؟( آئی مین) کُبرا عباس خان سمجھے؟ اب کی بار وہ اسکی نظروں سے کنفیوز ہوتی جھینپ کر بولی
میں نے کچھ کہا؟ تسمیر ہنوز ذومعانی انداز میں بولتا اسکے مزید قریب ہوا
ہاں تو ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں میں نے کچھ غلط نہیں کہا اب جائیں وہ شرارتی نظروں سے دیکھتا اسے مزید کنفیوز کر گیا تھا
تم جانے ہی کب دیتی ہو؟ میں تو جا رہا تھا فریش ہونے لیکن تم نے یہ سب پھیلا کر مجھے روک لیا تسمیر اسکے چہرے پر آئی کچھ شرارتی لٹوں کو پیچھے کر کرتا گھمبیر لہجے میں بولا
مییں کر دوں گیی صاف آپ جائیں فریش ہو جائیں کُبرا اسے پیچھے کرگئی
ہاں تو یہ بات تم پہلے بھی کہ.سکتی تھیں نا فضول میں اپنی جان ہلکان کی تسمیر اپنا پلان کامیاب ہونے پر اسکی حالت سے محفوظ ہوتا سیدھا واشروم کی طرف بھاگا تھا
لفر کہیں کے آہ کُبرا آہ کیا ضرورت تھی. کنفیوز ہونے کی خود کو کوستی وہ کپڑے سمیٹنے لگی تھی.