📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 22

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

گلاس وال سے ٹکراتی روشنی سے وہ کمسمائی تھی

جب دروازہ زور سے نوک ہوا یک دم وہ سٹپٹائی نظر اب اسکی سائد پر گئی جو شاید اس سے پہلے ہی روم سے جا چکا تھا

کچھ زیادہ ہی سونے لگ گئی ہو تم کُبرا عباس خان خود سے کہتی وہ دروازہ کھول گئی

جہاں وہ بلیک پینٹ کورٹ میں کھڑا تیوری چڑھاۓ اسے دیکھ رہا تھا

اسکی نظروں سے پریشان ہوتی پیچھے ہوئی تھی جس پر وہ فورن اندر داخل ہوۓ دروازہ لوک کر گیا

اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو تب بھی تم ایسی حالت میں ہوتی؟ وہ اس پر گہری نظریں گاڑے بولا جبکہ وہ اسکی بات سے پوری طرح ہوش میں آئی تھی نظر اب اپنے بیڈ سے آدھا نیچھے جھولتے ڈوپٹے پر گی

مطلب وہ کب سے بغیر ڈوپٹے کے تھی؟ اپنی حرکت پر سرخ ہوتی وہ بھاگ کر ڈوپٹا سنبھالنے لگی

جبکہ وہ اسکی غیر ہوتی حالت سے محض مسکرا دیا تھا وہ پہلی بار اسکے سامنے ایسے آئی تھی سو کر اٹھنے کے باعث نیلی آنکھیں میں سرخی سی تھی ریشمی بال اب کمر پر بکھیر چکے تھے

مجھے تو تم ویسے بھی اچھی لگ رہی تھیں وہ اسے ڈوپٹا اوڑھے دیکھ شرارت آمیز لہجے میں بولتا اسکے قریب ہوا کے اسکے اس طرح قریب آنے پر وہ خجل سی ہوتی دیوار ہے ساتھ لگی

ایک بات بتاؤں؟ وہ اسکے کان کے قریب گھمیر سی سرگوشی کرنے لگا اسکی قربت میں وہ محض دل تھام کر رہے گئی

اس حولیے میں تم خاصی چڑیل لگ رہی ہو قسم سے اسکے کان کے قریب سرگوشی کرتا وہ زوردار قہقہ لگا گیا تھا

آپ خود خونگے چڑیلا بد تمیز کہیں کے

اسکی باتوں سے وہ مزید غصے اور شرم سے سرخ ہوتی واشروم میں بند ہو گئی تھی پیچھے وہ اپنا قہقہ ضبط کرنے کی کوشش میں لال ہو چکا تھا جو مزہ اس لڑکی جو ستانے میں تھا وہ کہیں اور کہاں ملنا تھا جبکہ وہ اس شخص کے بدلتے روپ سے پریشان ہی تو جایا کرتی تھی جو پل میں تولہ اور پل میں ماشا ہوتا تھا

****************

رات کے تقریبا بارہ بجے ہی وہ لوگ واپسی کے لیے نکل گئے تھے

منہ کیوں پھلاۓ بیٹھی ہو؟مسلسل اسکی خاموشی محسوس کیے وہ آخر بول ہی بیٹھا تھا ورنہ وہ چپ رہنے والوں میں سے ہرگز نہیں تھی

آپ کے ساتھ آئندہ کبھی کہیں نہیں آؤں گی

انداز کافی روھٹنے کا سا تھا

اب کیا کر دیا میں نے؟ تسمیر کو اب واقعی حیرت ہوئی تھی وہ پتا کن کن باتوں پر ناراض ہو جایا کرتی تھی

دو دن کے لیے کون جاتا ہے ناران کہیں گھومے بھی نہیں مطلب کے کنجوسی کی حد ہو گئی ہے میں نے تو کہا بھی تھا میں اپنا کارایہ خود دے دیتی وہ کھڑکی سے باہر دیکھ کر کہتی اسے منہ کھلوا چکی تھی

اسکی باتوں پر وہ خاصا حیران تھا جو ابھی اسے آدھے گھنٹے کا لپکچر دے کر آیا تھا کہ کل سے اسنے جوائنگ دینی ہے جس کی وجہ سے وہ فلحال یہاں نہیں رک سکتے تھے اور وہ اسے کنجوسی کا ٹیگ پہنا گئی تھی

وہ کچھ کہتے کے اچانک اسکے تاثرات دیکھ کر چونکا

وہ وہ جون وغیرہ کی گاڑی کہاں گئی؟ ہم ان سے پیچے رہے گئے ہیں آپ کو کہا بھی تھا گاڑی انکے ساتھ رکھیے گا آپ کو میری باتیں سمجھ کیوں نہیں آتی؟ اس رات کا واقعہ یاد کیے وہ یک دم کھبرائی تھی

ریلیکس وہ ہمارے آگے نہیں پیچھے ہیں اور تمہیں اس دن میں نے کہا تھا نا کہ میرے ہوتے ہوۓ تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ اسکا ہاتھ تھامے نرمی سے بولا جب نظر پیچھے سے آتی انکی گاڑی پر پڑھتے ہی وہ پرسکون سی شیٹ کے پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند گئی تھی

********************

اور سناؤ بیٹا کیسا رہا سفر رات کو دیر سے پہنچنے کے باعث وہ صبح ناشتے سے پہلے سلمہ اور رخسانہ بیگم کے پاس بیٹھی باتوں میں مصروف تھی پہلے تو وہ اسے صبح صبح کچن میں دیکھ کر حیران تھیں پھر اسے تسمیر کے لیے خود ناشتہ بناۓ دیکھ کچھ پرسکون ہوئی تھیں

یونی نہیں جانا تم نے؟ سلمہ بیگم کے کہنے پر وہ سر اثبات میں ہلا گئی

جانا ہے بس ریڈی ہونے ہی جا رہی ہوں!

دو دن بعد اپنے بیڈ پر وہ پرسکون سا سویا تھا غیر ارادی توڑ پر ہاتھ اب اپنے ساتھ پڑے تکیوں پر گیا جن کے برابر میں جگہ خالی محسوس ہوئی

کہاں چلی گئی ہے یہ صبح صبح؟ اب پوری آنکھیں کھولے وہ خود اٹھا گیا تھا

وہ روم میں آئی وہ اسے کمرے میں موجود نا پاکر واشروم کی طرف دیکھنے لگی جہاں سے پانی کی آواز سے وہ جان گئی تھی وہ واشروم میں ہے

آج کل وہ اسے زیادہ ہی تنگ کرنے لگا تھا وہ سوچ پر الماری کی طرف بڑھ گئی

کچھ لمحوں بعد وہ اپنے وکیلوں والے سوٹ کی ڈریس پینٹ پر بغیر شرٹ کے باہر نکلا

جہاں وہ الماری میں منہ دیے نجانے کیا ڈھوند رہی تھی شرارت سے بھری آنکھیں لیے وہ اسکی طرف بڑھا

اپنے پیچھے سے اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں سے تھوڑا اوپر

دیکھتی وہ موڑی تھی کے وہ اسکے عین پیچھے شرٹ

لیس کھڑا تھا اسے ایسے دیکھتی وہ بری طرح سٹپٹائی

جو اس پر نظر ڈالے بغیر ہی اسکی ساری ساری

حرکتیں نوٹ کر رہا تھا مسکراہٹ بری طرح ضبط کیے وہ اسکے اوپر سے ہاتھ کیے الماری میں کچھ ڈھوند رہا تھا

کے کُبرا اسے اپنے نزدیک دیکھ کر دانت پیس کر اسے دیکھ رہی تھی جو کافی دیر اسی پوزیشن میں کھڑا اسکی جان سولی پر لٹکاۓ ہوۓ تھا جب وہ الماری سے کچھ بھی لیے بغیر مسکراہٹ دباۓ پیچھے ہوا اسکی حرکت پر وہ کڑتی جلدی سے الماری سے اپنا اسٹولڑ لیے پیر پٹکتی شیشے کے سامنے آئی

شرم نام کی چیز ہی نہیں ہے یہاں بے شرم آدمی!

وہ اس پر نظر ڈالے بغیر سرخ چہرے سے بولی جو اب اسے سامنے کھڑا شرٹ پہن رہا تھا اسکی غیر ہوتی حالت پر مسکراہٹ دبانے کے چکڑ میں منہ نیچھے جھکا گیا تھا

اس سے کوئی امید بھی نہیں تھی کہ اسے ایسے مسکراتے دیکھ اسکا پھاڑ دیتی

کہیں جا رہی ہو؟ وہ اب مسکراہٹ ضبط کیے اسے حجاب کرتا دیکھ رہا تھا

آپ کو اتنا مزہ کیوں آتا ہے مجھے تنگ کرکے؟ ویسے تو آپ ہر وقت کھڑوس بنے رہتے ہیں لیکن میرے سامنے آتے ہی آپ کے اندر موجود شیطان جاگ جاتا ہے وہ اسکی گہری نظریں خود پر محسوس کیے لڑاکا عورتوں کی طرح دونوں ہاتھ کمر پر باندھے آج اس سے دو دو ہاتھ کرنے کو تیار تھی

شکر مناؤ کہ بس چھیڑتا ہی ہوں حق تو اس سے کہیں زیادہ کا رکھتا ہوں وہ اسے ڈریسنگ سے لگاۓ اب دونوں ہاتھ ڈریسنگ کے کنارے پر ٹکاۓ بولا

ممجھے یونی ججانا ہے للیٹ ہو جاؤں گی وہ کہاں اسکی ان حرکتوں کے سامنے مزید ٹکنے والی تھی

بس؟ ختم ہو گئی ساری ایکڑی؟ ہونہوں ڈر پوک! نفی میں سر ہلاتا کان کی لو مسلے اسکی بدلتی ٹون پر بامشکل قہقے کا گلہ گھونٹتا اسے آگ لگا گیا تھا

بے شرم آدمی! اسے دھکا دیتی وہ اب سیدھا باہر کی طرف بھاگی تھی

پاگل لڑکی وہ سر جھٹک کر خود پر ایک آخری تنقیدی نظر ڈالنے لگا

.اہمم اہممم اتنے ہنڈسم وکیل کونسا کیس لڑنے جا رہے ہیں کہیں ایسا نا ہو وہ آپ پر ہی کیس کر دیں کے اتنے ہنڈسم مین یہاں کی کورٹ میں آلاؤڈ نہیں ہیں روحان اسے دیکھتے ہی شوق لہجے میں کہنے لگا

بہت شکریہ اس لڑکیوں والی تعریف کا گھور کر کہتا وہ ناشتے میں مصروف ہو گیا

یہ ہمارہ کک کیا چینج ہو گیا ہے؟ پہلا نوالہ لیتے ہی وہ سلمہ بیگم سے مخاطب ہوا تھا

ہمارا نہیں صرف آپ کا وہ مسکرا کر کہتی ساتھ بیٹھی کُبرا کی طرف اشارہ کر گئیں جو کب سے اسکی صبح والی حرکتوں پر منہ پھلاۓ بیٹھی تھی

ہمم جبھی میں کہوں زائقہ کچھ اپنا اپنا سا لگ رہا ہے تسمیر اسکے کان کے قریب سرگوشی کرنا نہیں بھولا تھا

زہر نا ملا دوں اپنے اپنے اس زائقے میں؟

ظالم بیوی! شرارت سے کہتا وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا

************************

بلاؤ اپنے سائیں کو یا میں جاؤں؟ وہ کب سے اسکے انتظار میں بیٹھا اب اس لڑکی سے مخاطب ہوا جو اسکے عین سامنے بیٹھی اسے عجیب نظروں سے دیکھتی سخت ناگوار گزر رہی تھی

ارے آؤ آؤ آج تو بڑے بڑے لوگوں نے ہماری حویلی میں قدم کھڑا ہے

مدعے پر آؤ سیدھا روحان اسے وارن کر گیا تھا

ارے اتنی بھی کیا جلدی ہے سرکار کچھ کھائیں گے یا پائیں گے ہمارے پاس سب چیزیں موجود ہیں وہ خباست سے کہنے لگا جبکہ روحان کو اسکا اشارہ سمجھ آگیا تھا

کیا چاہتے ہو تم آختر خان؟

ہاں یہ ہوئی نا بات چلو سنو تو بات کچھ ایسی ہے کہ تم اپنے بھائی سے کہوں کہ ہماری زمین واپس کر دے نہیں تو….. وہ بات بیچ میں ہی آچک گیا تھا

نہیں تو کیا؟ روحان غرایا

نہیں تو میں یہ ویڈیو تمہارے بھائی کو دیکھا دوں گا اور. سوچوں تمہارے دادا کو جب پتا چلے گا کہ انکا پوتا یہ حرکتیں کرتا پھیڑ رہا ہے

تو وہ کیا سوچے گا؟ بتاؤ؟. آختر نے سامنے بیٹھے اس شخص کے چہرے پر خوف واضع محسوس کیا تھا

ممیں ہرگز بھائی سے نہیں کہوں گا کہ وہ اپنی زمین تمہیں دیں پھر چاہیے تم جو بھی کر لو وہ موبائیل کی سکرین کو دیکھنے لگا

جہاں وہ (روحان) کسی لڑکی کے ساتھ نشے میں دھت سا ایک روم کی طرف جا رہا تھا

اچھا تو تم ایسے نہیں مانوں گے؟ دیکھ روحان خان اپنے بھائی سے جتنی جلدی ہو سکے مجھے میری زمین دلوا کر دے نہیں تو میں …… بولتے بولتے وہ رکا روحان کو اسکی آنکھوں میں یک دم خباست سی نظر آئی

نہیں تو کیا؟ وہ اسے چپ لگانے پر پوچھنے لگا

کتنی بہنیں ہیں تیری؟ وہ کچھ وفقے کے بعد بولا

روحان کو لگا کسی نے اس سے پیروں کے نیچھے سے زمین نکال دی دو

اسکی بہنیں نہیں ہے بوس ان میں سے ایک شخص کہنے لگا کے اسکے کہنے سے روحان کو کچھ سکون محسوس ہوا

ہاں لیکن ایک کزن ہے جس کو یہ بہنوں سے بھی زیادہ کرتا ہے اب تو وہ اسکی بھابھی ہے

وہ کیسے بول گیا تھا کہ اختر خان اسکا دوست رہے چکا ہے وہ کیسے اسے یا اسکے گھر والوں کو نہیں جانتا ہوگا

تو پھر اپنی بھابھی کا سنا کیسی ہے وہ ابھی بول ہی رہا تھا جب ایک زور دار منہ روحان نے اسکے جبڑے پر رسید کیا تھا

بکواس بند میں جان لے لوں گا تیری وہ اسکی دکھتی رگ دبا گیا تھا جب بھی کوئی بات بہنوں پر آتی تھی اسکے سامنے ہمیشہ کُبرا کا چہرہ لہڑا جاتا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت دفعہ غلط کاموں سے خود کو روک لیتا تھا

”ہاہاہا اگر تو چاہتا ہے کہ میں تیری اس بھابھی کو کچھ کروں تو جا اپنے بھائی سے کہ کے میری زمین مجھے واپس دے دے“

خبردار جو اب اپنی اس غلیظ زبان سے اسکا نام بھی لیا ہو میرے بھائی کو پتا چلا تو کاٹ کر رکھ دے گا تجھے وہ اسکا کولڑ جھٹکے دے چھوڑتا باہر کی طرف تیز تیز قدم بڑھا گیا

بہت ہواؤں میں اچھل رہے ہیں یہ سائیں ساتھ بیٹھی لڑکی حیران سے بولی

کوئی بات نہیں مجھے بھی پر کاٹنے آتے ہی ہیں وہ ہنکار کر رہے گیا تھا

******************

آپ کیوں آرہے ہیں؟ وہ اسے بھی ساتھ اتڑتا دیکھ ابرو اچکا گئی

اچھا تھوڑی لگتا ہے میری بیوی شادی کے بعد پہلی بار کالج جاۓ اور میں اسے دروازے پر ہی چھوڑ دوں تسمیر مسکرا کر بولا

سیدھا جواب مل سکتا ہے؟ وہ اکتائی تھی

ہاں تو ظاہر ہے مجھے اپنا ہی کوئی کام ہوگا جبھی جا رہا ہوں میں نے سوچا ایک بار یہاں سے ہو لوں پھر پتا نہیں موقع ملے نا ملے وہ سنجیدہ سا کہنے لگا

اپنا کام کیجیے گا اور فورن نکل جانا کسی سے فضول میں لڑنے کی ضرورت نہیں ہے پیچھلی بار کا واقعہ یاد کرتی وہ اسے سمجھنے لگی

ہمم! اسکے محض سر ہلانے کُبرا کو اندازہ ہو گیا تھا وہ اسکی سن کہاں رہا تھا

کالج میں انٹر ہوتے ہی وہ لڑکی کے نظروں کا مرکز بنا تھا

کُبرا جو خود بھی مہرون سوٹ پر مہرون ہی حجاب کیے تھی اپنی خوب صورتی سے وہ بھی کسی سے کم نہیں تھی

لیکن پھر بھی لڑکیوں کو اسے ایک ٹک دیکھتے وہ برا سا منہ بنا کر رہے گئی

میں اپنی ڈیٹ شیٹ لینے جا رہی ہوں جب تک آپ یہاں مجھے کوئی ہنگامہ نہیں چاہیے وہ جاتے جاتے اسے وارن کرنے وہ موری اب اپنی طرف اسکی تواجہ نا پا کر وہ اسے بازوں پر اپنے ناخن خاصے گاڑھ گئی تھی

سن رہے ہیں؟

آہ جی بے بی آپ ہی کی سن رہا ہوں نہیں کرتا لڑائی اب آپ جائیں کہیں ایسا نا ہوں میں اپنا ریٹرن ریونج یہیں لے لوں وہ دانت پیس کر کہتا اسے اپنے شرٹ پر مضبوطی سے گڑھے ناخنوں کی طرف اشارہ کر گیا کے اسکے جمعلے اے وہ اس گھبمیر صورتحال میں بھی خود سے دھواں نکلتا محسوس کر رہی تھی

اؤۓ ہوۓ دیکھو تو صیح آج کون آیا ہے ریحان جو کل سے ہی کالج پھر سے آنا اسٹارٹ ہوا تھا اسے دیکھتے ہی بدلے آگ بھرکنے لگی تھی

تم ابھی تک یہاں کیا کر رہے ہو؟ تسمیر اسکے جعملے کسنے پر با مشکل اپنا ہاتھ روکے ڈھارا

اوہ ہو سر آپ تو غصہ ہی ہو گئے ایسے کہاں ہے آپ کی وہ چڑیا لے کر نہیں آۓ اسے؟

بکواس بند ایک لفظ اور نہیں ورنہ میں وہ حشر کروں گا کہ تم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا تسمیر اسے انگلی کے اشارے سے وارن کر گیا

اگر کُبرا کی بات اسنے نا سنی ہوتی تو وہ اب تک اسکا منہ توڑ چکا ہوتا

ہاں ہاں یہ سب ایکڑی تو آپ کی میرے تک ہی چلتی ہے نا سر جی اپنی بیوی سے تو آپ تھپ وہ ابھی بول ہی رہا تک چٹاخ کی آواز سے تسمیر اسکی طرف متواجہ ہوا وہ اسکے آگے کھڑی ریحان پر ہاتھ اٹھا چکی تھی

اب ایک لفظ اور نہیں سنوں گی میں اپنے شوہر کے خلاف ہاں مارا تھا

میں نے اس دن انہیں تھپڑ کیوں کہ جب میں انہیں جانتی نہیں تھی لیکن اب میں جان گئی ہوں انہیں بھی اور تمہیں بھی اس دن انکو تھپڑ تو میں نے غلط فہمی میں مارا تھا

لیکن آج تمہارے لیے سبق ضروری تھا جو میں نے پورے ہوش میں تمہیں دیا ہے یہ جیسے بھی ہیں تم سے بہت بہتر ہیں غلطی نا ہونے کے باواجود وہ مجھ سے کچھ کہ بغیر میری دوست کے مجرم کو پولیس کے حوالے پر گئے جانتے ہو کیوں؟ کیوں کہ یہ آغا جان کا خون ہیں عورتوں کی عزت کرنا جانتے ہیں

وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتی آخر میں اسکا ہاتھ تھام گئی تسمیر جو پہلے ہی اسکی باتوں دے ششدر تھا اب اپنے ہاتھ پر اسکی گرفت محسوس کیے حیران رہے گیا تھا

یہ صرف کھیل رہا ہے تمہارے ساتھ پوچھوں اس سے اسنے تم سے شادی بھی تمہیں چھوڑنے کے لیے کی ہے یہ تباہ کر دے گا تمہیں وہ ہنسا تھا

کیا ہو رہا ہے یہاں؟ انکے کچھ کہنے سے پہلے ہی میم رش دیکھتی اس طرف آئی تھیں

یہ اسٹوڈنٹ یہاں کیا کر رہا ہے؟ میں نے آپ سے کہا تھا نا اسے خارج کر دیں تو اتنی لا پراؤئی کیسے بڑت سکتے ہیں؟ وہ انکی طرف منہ کیے اب سختی سے گویا ہوا

سوری سر وہ اسکا ری آیدمیشن گل خان صاحب نے کروایا تھا اسئلے میں نے انہیں پرمیشن دے دی وہ مغزز ہی عورت گھبرا کر بولیں

میں اسے پھر یہاں نا دیکھوں وہ انہیں وارن کرتا کُبرا کا ہاتھ تھامے باہر کی طرف قدم بڑھا گیا

اس وقت وہاں موجود ہر شخص انہیں محبت اور حسرت دے دیکھ رہا تھا سواۓ اس شخص کے

قسم کھا کر کہتا ہوں تم دونوں کے اسی غرور کو توڑوں گا وہ اپنے اندر کی آگ میں سلگ کر کہتا میم کے آوفس کی طرف بڑھا

آج تو مجھے یقین ہوگیا ہے کہ تم نیلی نہیں بلکہ جنگلی بلی ہو اسے دیکھ کر اپنے ہاتھ آگے کیے وہ شرارت سے کہنے لگا جہاں اب اسکے ناخنوں کے نشان واضع تھے

جبکہ وہ منہ بسور کر اب گاڑی میں بیٹھ گئی تھی

جو بھی تھا وہ اسے ہمیشہ اپنے الگ ہی روپ سے حیران کر دیا کرتی تھی