Shagaf-e-Dil Episode 3
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shagaf-e-Dil by Syeda Shah
ہمیشہ کی طرح پورے خان میشن میں صرف ایک کمرہ اب تک روشن تھا جہاں سب سویا کرتے تھے وہ تہجد میں اپنے رب سے باتیں کیا کرتی تھی کچھ دیر میں پیاس کی شدت سے وہ اٹھی نظر ٹیبل پر گئی جہاں جگ خالی پڑا تھا افف اسے بھی ابھی خالی ہونا تھا ایک تو اس ٹائم مجھے ڈر بھی اتنا لگتا ہے خیر میں برداشت کر لوں گی وہ پانی پینے کا ارادہ ختم کرتی جاۓ نماز فولڈ کیے بیڈ پر لیٹ گئی لیکن کچھ ہی دیر میں شدت اور بڑھ گئی تھی اللہ کا نام لے کر وہ روم سے نکلتی کچن کی طرف بڑھ گئی پورا خان میشن اندھیرے میں دبا تھا ہر جگہ لائٹ اتنی مدھم تھی کہ نا ہونے کے برابر قرار دی جاۓ کل سے ماں سے کہوں گی لائٹ جلا کر سویا کریں وہ خوف سے کہتی اپنی دھن میں چلتی اچانک کسی وجود سے ٹکرائی تھی اس سے پہلے وہ چختی میر اسکے منہ پر ہاتھ رکھے اسے چپ رہنے کا اشارہ کر گیا تھا توبہ شرم کریں اتنی رات کو ایسی حالت میں چوڑوں کی طرح کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟ اسے شرٹ لیس دیکھ کر کبرا آنکھوں پر ہاتھ رکھے بولی وہ میں سو رہا تھا اچانک بھوک لگی تو سوچا کچھ کھا لوں یہ تم لوگ اپنے کچن میں کچھ رکھتے نہیں ہو کیا؟ وہ اسے دیکھتا کہنے لگا بلیک کلر کی شرٹ اور ٹراؤزر والا سلیپنگ سوٹ پہنے گلے میں اسٹولڑ لیے بالوں کو پونی میں قید کیے نیند کے باعث نیلی سرخ آنکھیں گلابی گال لیے وہ اس سادگی میں تسمیر کو کوئی چھوٹی پیاری سی بچی لگی تھی “ہاں کیوں کہ یہ ٹائم سب کے سونے کا ہوتا ہے نا کہ کھانے کا خیر پہلے آپ جائیں جاکر شرٹ پہنے تاکہ میں بھی آپ کو کھانا دے سکوں” اسے اس طرح کہنے پر تسمیر حیرت سے کندھے اچکا گیا تھا مارو مجھے مارو پتا نہیں کہاں پھس گیا ہوں میں میر سر جھٹک کر کہتا اپنے روم کی جانب بڑھ گیا
کچھ دیر میں وہ بلیک کلڑ کا بنیان پہنے اسکے پاس لوٹا تھا جو اسکے لیے پاستہ گرم کرکے چاۓ کے ساتھ ایک اور نئی ریسیپی بھی بنا گئی تھی یہ ابھی بنایا ہے تم نے؟ میر حیرت ذدہ سا ان پوٹیٹو بولز کو دیکھتا ہوچھنے لگا نہیں بناۓ تو دو دن پہنے تھے ابھی صرف فراۓ کیے ہیں میں نے سوچا شاید پاستے کے بعد بھی بھوک نا مٹے کبرا کے اس طرح کہنے پر وہ مسکرا گیا تھا بلکل ٹھیک سوچا میری بھوک نا مٹتی کیوں کہ میں کھانے پر واقعی کمپرومائز نہیں کرتا وہ مسکرا کر کہتا کھانے میں مصروف ہو گیا جس پر وہ بھی محض سر کو خم دیتی پانی کا جگ لیے اپنے روم کی جانب بڑھ گئی تھی”اتنی بری بھی نہیں ہے” تسمیر اسے جاتا دیکھ خود سے بولا میر خان بھی سوچ رہے ہونگے کتنی اچھی ہوں نا میں وہ خود کو داد دیتی کمبل منہ تک ڈالے نیند کی وادیوں میں کھو گئی تھی
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ناشتے کی ٹیبل پر ہمیشہ کی طرح سب موجود تھے
”تو تسمیر علی خان کیا سوچا ہے آپ نے آگے کے بارے میں؟“ آغا جان اس سے مخاطب ہوۓ “آغا جان کچھ خاص ارادہ نہیں ہے بس واپس لندن”ابھی وہ بول رہا تھا جب آغا جان نے ہاتھ کے اشارے سے اسے ٹوکا اب آپ لنڈن نہیں جائیں گے! آغا جان کی روعب دار آواز گونجی جس پر سب سہم کر رہ گئے تھے ” ٹھیک تو آپ ہی بتا دیں پھر کہ میں یہاں رہ کر کیا کروں؟” تسمیر اپنا غصہ ضبط کیے بولا(جانتا تھا آغا جان کے سامنے اسکی چلنی بھی نہیں ہے)اس علاقے میں تقریبا دس ہوٹلز ہیں ان میں سے پانچ ہمارے ہیں روحان کے کالج میں ادھے شئرز ہمارے ہیں جبکہ کبرا اور برکت کے کالج میں ستر فیصد شئیرز ہیں ہمارے اور ایک ہوٹل ناران میں بھی ہے ہم چاہتے ہیں انکی زمےداری اب ہمارے ساتھ آپ سنبھال لیں آپ کے بابا اور چاچو نے تو زمینوں اور ایک ایک ہوٹل کا کام سنبھال کر باقی ہم پر ہی چھوڑ دیے ہیں اسکے علاوہ بھی آپ یہاں کہ معاملات میں ہماری مدد کریں یہ جو سوٹ آپ نے پہن رکھا ہے یہی آپ کے تسمیر خان ہونے کی گواہی دے رہا ہے اسی روعب دار شخصیت میں آپ ہمارے پوتے لگیں گے آغا جان اس پر ایک نظر ڈالے ٹھر ٹھر کر بولے جو کالے رنگ کی شلوار کمیز پہنے اوپر کالی ہی شال لیے پاؤں میں کھیڑی ڈالے اپنی چوری جسامت لمبے قد کانوں تک آتے بال میں کسی ودیرے سے کم نہیں لگ رہا تھا کبرا نے ایک ستائشی نظر اس پر ڈالی تھی چلو نیلی بلی جانا نہیں ہے کالج؟ روحان اسے دیکھتا کہنے لگا تم کیوں پوچھ رہے ہو؟ ہم درائیور کے ساتھ جائیں گے برکت اسے گھورتے ہوۓ کہنے لگی نہیں آج سے تم دونوں کو میں ہی ڈراپ کروں گا روحان اسے چڑانے لگا اور وہ کس خوشی میں؟ برکت تپ کر بولی اس خوشی میں کیوں کہ آج سے روحان بھی ہماری یونی میں جاۓ گا اسکے کہنے سے پہلے کبرا مزے سے بولی تھی بہت مزہ آنے والا ہے بھائی روحان اسے تالی مارتا ایکسائٹڈ سا بولا جبکہ انکی دوستی کو دیکھ کر تسمیر صرف آہ بڑھ کر رہ گیا “جون , میری آئی مس یو یار” میر حسرت سے کہتا آگے بڑھ گیا
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
کالج میں انٹر ہوتے ہی روحان لفرانہ انداز میں ادھر ادھر گزرتی لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا
“بعد میں تاڑ لینا پہلے یہ یاد کر لو کہ تم کس کے بیٹے ہو علی خان کے فرزند ہو زرا سبنبھل کر رہو روحان خان” برکت اسکی حرکتوں سے پریشان ہوتی بولی
” ارے یار تم ہمیشہ مرچیں چبا کر کیوں بیٹی رہتی ہو؟ پتا نہیں میری دوست کہاں بھاگ گئی مجھے چھوڑ کر” روحان اسکے مسلسل ٹوکنے سے زچ ہوتا کہنے لگا اپنی کلاس میں چلی گئی ہے وہ_ اسکا ٹیسٹ ہے پہلے ہی لیکچڑ میں اور اب میں بھی جا رہی ہوں سڑتے رہو یہی اکیلے برکت تیش سے کہتی آگے بڑھ گئی ارے لیکن مجھے میری کلاس تو بتا دو روحان پیچھے سے چلایا تھا کبرا کے ساتھ والی ہے برکت اونچی اواز میں پلٹ کر کہنے لگی کبرا کی کلاس ہے کہاں؟ روحان ایک بار پھر چلایا”خود ڈھونڈ لو” وہ اسے تپانے والے انداز میں کہتی اپنی کلاس کی طرف چل دی تم تو بچو زرا مجھ سے اب روتی شکل ہے پوری روحان تپ کر کہتا سامنے کی طرف بڑھا…
کیسا ہوا ٹیسٹ؟ حنا کے پوچھنے پر وہ مسکرا کر سر ہلا گئی یہ تو نمبرز دیکھ کر پتا چلے گا کبرا مسکرا کر بولی بس کر دو ہمیشہ ہی تم ایسے کہتی ہو اور ہمیشہ کی فل لے کر آتی ہو حنا خفگی سے کہنے لگی میں تو بس محنت کرتی ہوں اجر تو اللہ تعالی دیتے ہیں کبرا مصومیت سے کہتی حنا کو مسکرانے پر مجبور کر گئی تھی پورے کالج میں ایک حنا سے ہی اسکی اچھی بنتی تھی افف ہو ایک تو حسین چہرے اوپر سے یہ نازاکت ہم مر ہی نا جائیں کہیں وہ دونوں باتوں میں مصروف تھیں جب سامنے سے آتے لڑکوں نے انہیں مخاطب کیا تھا چلو حنا کبرا انہیں اگنور کرتی آگے کی طرف بڑھی جب ان میں سے ایک لڑکا اسکا راستہ روک گیا لگتا ہے نئے آۓ ہو جانتے نہیں ہو میں کون ہوں؟ کبرا اسے گھور کر کہنے لگی جی بلکل صیح پہنچانا نیا آیا ہوں میں لیکن دوسری بات آپ نے غلط فرمائی میں جانتا ہوں آپ کو آپ یہاں کی سب سے خوب صورت اسٹوڈنٹ ہیں جبھی تو ہم کھینچے چلے آۓ آپ کے پاس لڑکا لفرانہ انداز میں کہتا اسکے قریب ہوا تھا پیچھے ہٹو کبرا چلائی تھی جسے وہ نظرانداز کرتا مزید اسکے قریب ہوا اسکی بدتمیزی پر وہ جھٹکے سے پیچھے ہٹتی لڑکھڑائی اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی کسی مضبوط ہاتھوں نے اسے تھاما تھا ”جب لڑکی کہ دے کہ ہٹ جاؤ تو اسے پریشان نہیں کرتے بچے“ تسمیر کی روعب دار آواز گونجی تھی لو بھئی آگیا ہیرو ابے یار ہٹ جا نا تو کسی اور پر ٹراۓ کر لے یہ تو میری ہی ہے لڑکا مزید ڈھٹائی سے کہتا ایک بار پھر اسکے قریب ہوا لیکن اگلے ہی لمحے تسمیر آگے بڑھتا اسے گریبان سے تھام گیا تھا زبان سنبھال کر بات کر جانتا ہے کون ہے یہ؟ آغا جان کی پوتی ہے اور تو اس وقت جس کے سامنے کھڑا ہے وہ تسمیر علی خان ہے اس کالج کا اونر ہمت کیسے ہوئی تیری ایسی بکواس کرنے کی میر دھاڑا تھا جبکہ اسکی ڈھاڑ سے وہ محض سہم کر رہ گئی تھی آئندہ اسکے آس پاس بھی بھٹکا تو اچھا نہیں ہوگا اسکے منہ پر دو مکے جڑنے کے بعد وہ سرخ انکھیں اس پر گاڑھے اسے جانے کا اشارہ کر گیا ”اور تم کیا تھا یہ سب؟“ اس سے نپٹنے کے بعد وہ اب کبرا کی طرف متوجہ ہوا تھا وہ ہم حنا کے بولنے پر وہ ہاتھ کے اشارے سے اسے روک گیا میں تم سے پوچھ رہا ہوں بتاؤ اب کی بار وہ اسکے قریب ہوتا دھاڑا وہ ممیں کینٹن پپپر جا ررہہی تھی گھبراہٹ کے مارے وہ کپکپاتے ہونٹوں سے بولی” میں یہ نہیں پوچھ رہا کیا کر رہی تھیں یہاں میں یہ پوچھ رہا ہوں اگر میں نا آتا تو کیا کرتی؟ ایسے ہی اسے بدتمیزی کرنے دیتی؟ ویسے تو بہت بن رہی تھیں میرے سامنے اپنے دھنگ ان چیزوں کے لیے بچا کر رکھ لو ایسے ہی کوبرا نام نہیں رکھا ہم نے تمہارہ“ تیش سے کہتا وہ آخر میں اسے تپانے والے انداز میں بولا جس پر وہ نیلی آنکھوں میں تپش لیے اسے گھور کر نظریں حنا کی طرف گھما گئی جو با مشکل اپنا قہقہ روک پائی تھی خیر اس بارے میں ہم گھر پر بات کریں گے اسکی گھوری دیکھ کر وہ سنبھل کر کہنے لگا جس پر وہ سر اثبات میں ہلا گئی ”یہاں سے ہلنا نہیں چاہیے یہ اب“ اسکے سر پر ڈوپٹا ٹھیک کرتا وہ نرمی سے بولا بھائی؟ آپ یہاں؟ تبھی روحان سامنے سے آتا حیرت سے کہنے لگا ہاں میں ویزٹ کرنے آیا تھا شکر ہے آگیا خیر تم بتاؤ کیسا رہا آج کا دن؟ اسے آتا دیکھ وہ مسکرا کر بولا بہت اچھا روحان مزے سے کہنے لگا جس پر وہ اسے داد دیتا آگے بڑھ گیا بیوقوف ہے پوری میری سامنے کیسے شیرنی بن رہی تھی اور اب سانپ سوکھ گیا تھا جاتے جاتے اس پر نظر ڈالتا وہ خود سے بولا اسے خود بھی نہیں پتا تھا کہ اس سے پہلے تو کبھی اسے کسی پر اتنا غصہ نہیں آیا تھا جتنا آج اس لڑکے پر آیا تھا شاید خون کا اثر تھا جو آج اسے اپنے گھر کی عورت پر کسی غیر محرم کی گناہ سخت نا گوار گزری تھی
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
کون تھا یہ ہنڈسم کیا واقعی یہ اونر ہیں ہمارے؟ حنا اسے جاتا دیکھ فورا سے بولی یہ تسمیر خان ہیں علی بابا کے بڑے بیٹے اتنے برے نہیں ہیں ویسے وہ مسکرا کر کہتی آخر میں خود سے بولی تھی کیا مطلب؟ واؤ یار یہ تو بہت ہینڈسم ہیں حنا حسرت سے بولی بس کر دو صرف صورت دیکھ کر کسی کہ خوبصورتی کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کبرا اسے آنکھیں دیکھا کر کہنے لگی پھر بھی یار سوچو اگر تمہاری شادی ہو جاۓ ان سے حنا شرارت سے بولی استغفراللہ کبھی بھی نہیں دنیا میں اگر یہ آخری مرد بھی بچے نا تو جب بھی میں ان سے شادی نہیں کروں گی میری توبہ کبرا کانوں پر ہاتھ لگاۓ خفگی سے بولی اچھا ریلیکس یار میں تو مزاق کر رہی تھی چھوڑو چلو کچھ کھاتے ہیں حنا اسے اپنے ساتھ لگاۓ محبت سے کہتی کنیٹین کی طرف بڑھ گئی تھی….