📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 23

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

گھر ہہنچتے ہی وہ سیدھا اپنے روم کی طرف بھاگی تھی ارے تم لوگ اتنی جلدی آگئے؟سلمہ انہیں آتا دیکھ فوری سے بولیں

نہیں موم میں تو ابھی جاؤں گا آوفس دراصل کُبرا کی طبیت کچھ ٹھیک نہیں ہے اسی لیے اسے لے آیا وہ اسے جاتا دیکھنے لگا جو گاڑی میں بھی پورے راستے بلکل خاموش رہی تھی

کیا ہوا ہے سب خیریت ہے نا؟ سکمہ اب حقیقی توڑ پر پریشان ہوئی تھیں ورنہ کُبرا ان سے ملے بغیر کبھی ایسے اوپر نہیں جاتی تھی

جی موم سب ٹھیک ہے بس موسم کی وجہ سے ہے میں جاکر دیکھتا ہوں انہیں مطئمن کرتا وہ اسکے پیچھے آیا تھا

کیا ہو گیا ہے تمہیں ایسے ناراض بلبل کیوں بنی ہوئی ہو؟

کمرے میں آتے ہی وہ اسے دیکھ کر بولا جو ڈریسنگ کے پاس کھڑی اپنا حجاب کھول چکی تھی

اسے آتا دیکھ وہ فورن سے پشت پر بکھیرے بال ایسے ہی چھوڑے اس پر جھپٹی تھی

کیا کہ رہا تھا وہ؟ میرے سے شادی آپ نے مجھے چھوڑنے کے لیے کی ہے؟ وہ اسکا کولڑ پکڑے غرائی

دیکھو ساری باتیں ٹھیک ہے لیکن یہاں کی اجازت میں کسی کو نہیں دیتا نرمی سے اسکے ہاتھ کولڑ سے ہٹاتے وہ آنکھیں سکیڑ کر کہنے لگا

میری بات کا جواب دیں؟ وہ ہنوز اپنی بات پر آڑہی تھی

ہاں تو اس میں کونسی نئی بات ہے؟ میں تمہیں پہلے دن سے ہی کہتا آیا ہوں یہ بات افیکٹ یہ وجہ تو تھی کہ میں… وہ بولتے بولتے رکا تھا

میں کیا؟ کُبرا ابرو اچکا گئی

یہی وجہ تھی کہ میں تم پر حق رکھنے کے باواجود تم سے دور رہا ویسے یہ بتاؤ کہ تمہیں کہیں مجھ سے محبت وغیرہ تو نہیں ہو گئی جو آج کچھ زیادہ ہی فرق پڑھ رہا ہے تسمیر مسکراہٹ دباۓ صاف گوئی کا مظاہرہ کر گیا تھا

اوکے فائن بہت خوب وہ جو غصے سے باہر کی طرف بڑھی تھی اسکے اچانک کھینچنے سے ششدر رہے گئی تھی

پہلے اگر سوچا بھی تھا تو آج جو تم نے اپنی یہ جو شیرنی والی سائد دیکھائی ہے تو سوچ رہا ہوں پلان چینج کر لوں اسے کمر سے جکڑے وہ اسکے چہرے پر آئی شرارتی لٹوں کو پیچھے کرتا گھمبیر لہجے میں بولا

چچھوڑے مجھے وہ اسکی گرفت میں مچلی سی تھی

چھوڑنے کے لیے نہیں تھاما تمہیں! خمار آلود لہجے میں کہتا وہ بے خود سا ہوا کہ یک دم اسکا فون چیخا تھا

گہری سانس بھرے وہ پیچھے ہوتا کال آٹینڈ کر گیا

ہمم بولو اس پر گہری نظریں مرکوز کیے تھا

بے شرم آدمی! وہ اسے لقب سے نوازتی اسکی قربت کے باعث سرخ سی ہوتی اب ریشمی بال باندھنے لگی تھی

کے وہ اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ آنکھیں سکیڑ کر اپنی آنکھوں میں اتاڑتے دوسری جانب عمر سے مخاطب ہوا

کیا بکواس کرنے آیا ہے وہ اب؟ وہ ڈھارا تھا کے کُبرا اسکی بدلتی ٹون سے سہم کر رہے گئی

میں آرہا ہوں! وہ سخت تیور لیے لمبے لمبے ڈھگ بڑھتا باہر جاتا جب وہ اسکا بازو مضبوطی سے تھام گئی

ککہاں جا رہا ہیں؟ وہ خوفذدہ سی بولی

کہیں نہیں آوفس جا رہا ہوں اب جانے دیں گی آپ؟ وہ اہنے بازوں کی طرف اشارہ کرتا بولا جو اب بھی بازوں تھامے ہوۓ تھی

کُبرا یار چھوڑو مجھے دیر ہو رہی ہے وہ اب اسے سر پر ڈوپٹا رکھے کچھ پڑھتے ہوۓ اکتا کر بولا کے وہ اسے آنکھیں دیکھا گئی

اب جاؤ؟ اسکی پھونکے ختم ہونے کے بعد وہ اب ابرو اچکا گیا جس پر وہ سر کو خم دے گئی تھی

*****************

وہ آوفس میں بیٹھا وہ کچھ دیر پہلے والا واقعہ سوچ رہا تھا

یہ سب کیا بکواس ہے؟ وہ اس سب کو اپنے سامنے دیکھ چلایا تھا

سر وہ یہ سب دے کر آپ کے آنے سے پہلے ہی رفو چکڑ ہو گیا عمر اسکے سامنے ایک پیکٹ رکھ گیا جس میں ایک نوٹ اور چین تھی

یہ چین وہ دیکھتے ہی ہہچان گیا تھا کہ یہ روحان کی چین تھی جو اسنے ہی لنڈن دے آکر اسے گفٹ میں دی تھی

نوٹ پڑھتے ہی اسکی سرخ آنکھوں میں یک دم سرخی آئی تھی

جس پر صاف لکھا تھا

”یہ جو اب تم ثبوت اپنے موبائیل پر دیکھو گے تو شاید تمہیں یقین نا آۓ لیکن یہ چین تمہیں ثبوت کے توڑ پر دے رہا ہوں اور اگر پھر بھی میری بات پر یقین نا آۓ تو خود اپنے بھائی سے پوچھ لینا! “

مے آئی کم ان سر؟ اسکی آواز سے وہ حال میں لوٹا

یس وہ فائل پر مصروف سا بولا

سر یہ آپ کا فون میں نے چارج کر دیا ہے یہ لیجیے لڑکی اسے سامنے فون رکھ گئی جو کافی دیر سے بند ہونے کے باعث تسمیر وہ ثبوت بھی فلحال نہیں دیکھ پایا تھا

لگتا ہے آڈوکیٹ صاجب بزی ہیں! وہ جو موبائیل کھولنے لگا تھا,اسکی آواز سے چونکا

اندر کس نے آنے دیا؟ وہ آنکھیں سکیڑ گیا

اچھا؟ جون ابرو اچکا کر اسے چٹ رسید کر گیا تھا

کن سوچوں میں گھم ہے میرا دوست؟ جون مسکرا کر بولا

کہیں نہیں بس کچھ ٹیشن ہیں تسمیر اسکے سامنے اپنے دل کو ہمیشہ کھول کے رکھ دیا کرتا تھا

کس بات کی ٹینشن؟ میری بہن تنگ تو نہیں کر رہی؟ وہ ہنوز مسکرا رہا تھا

نہیں یار اصل میں جس دن گل خان نے مجھ پر حملہ کیا اس دن میرے ساتھ کُبرا بھی تھی میں نے اسے یہ کہ کر

ٹال دیا کہ وہ محض ایک دراؤہ تھا لیکن مجھے یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ ان تک یہ خبر پہنچی کیسے کہ میں کس ٹائم ناران کے لیے نکلا ہوں

اور دوسری بات یہ کہ کُبرا سے شادی سے پہلے میں نے تجھے بتایا تھا کہ اماں جان نے مجھ سے کہا تھا کہ میں فلحال شادی کر لوں لیکن پھر اگر مجھے جب بھی وہ پسند نا آۓ تو میں اسے چھوڑ دوں یہ بات صرف مجھے یا اماں جان کو پتا تھی

تو یہ بات آج اس اسٹوڈنٹ نے مجھ سے کیوں کی؟

اور پھر انعم میم کے مطابق گل خان نے اس لڑکے ریحان کا ری آیدمیشن کروایا تھا

سب کچھ ہیر پھر کر گل خان پر اٹک رہا ہے

اسکا مطلب ہے کہ ہمارے اپنے گھر میں سے کوئی ہے جو گل خان کے ساتھ ہے کافی سوچوں کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا تھا

واہ مجھے میرے دوست سے یہی امید تھی بہت اچھے کیا اسٹوری بنائی ہے

ایک ہی دن میں خاصا وکیلوں والا دماغ ہو گیا ہے میرے یار

جون اسکی بات کو اب بھی مزاو سمجھا تھا جب تسمیر اسے گردن دے ڈبوچ گیا

تو میری بات کو سیریس کیوں نہیں لے رہا؟ تسمیر غرایا

ہاں تو اور کیا کروں؟ یہ کوئی فلم نہیں بلکہ حقیقی زندگی ہے میرے دوست اور گل خان صرف تجھے ڈرا ہی رہا ہے ورنہ اسکی ہمت ہے آغا جان کے سامنے کچھ کہ سکے؟ ریلیکس مین

خیر میں نے تمہارے لیے ایک سرپرائز تیار رکھا یے مسکرا کر کہتا آخر میں وہ آیکسائٹڈ سا بولا

کیا؟ تسمیر ابرو اچکا گیا

بس ویٹ آئنڈ واچ مین!

چل میں چلتا ہوں ابھی زرا ماسٹر جی سے ملنا ہے اسے ایسے ہی تشویش میں چھوڑ کر وہ آنکھ مارتا باہر نکل گیا

سب ہی عجیب ہے یہاں تسمیر کندھے اچکا کر کہتا موبائیل اون کر گیا

*****************

کیا کر رہے ہو اسکے پاس آتی وہ مسکرا کر بولی جو ٹو لاونج میں بیٹھا جانے موبائیل میں کیا کر رہا تھا

تمہیں یاد !اسے اتنے دنوں خود سے مخاطب ہونے پر وہ مسکرا گیا

خیر تو ہے میری یاد کیوں آگئی تمہیں؟ سچ سچ بتاؤ کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں کُبرا اب مدعے پر آئی

کچھ نہیں تمہیں ایسا کیوں لگا؟ روحان ابرو اچکا گیا

کیوں کہ روحان خان کو میں نے کبھی ایسے اکیلے موبائیل میں بیٹھے نہیں دیکھا تمہیں تم سے زیادہ اچھے سے جانتی ہوں بتاؤ کیا مسئلہ ہے؟

اسکے کہنے پر روحان کا دل چاہا تھا اپنی پریشانی ہمیشہ کی طرح اپنی اس دوست کو بتا دے جو ہمیشہ اسکی غلطیاں اپنے اوپر لے جاتی تھی لیکن اب حالات اور رشتے شاید بدل گئے تھے

ایسا کچھ نہیں ہے نیلی بلی تم سنا وہ ابھی بول ہی رہا تھا جب سامنے سے آتے وجود پر نظر پڑی

جو سرخ آنکھیں لیے لمبے لمبے ڈھگ بڑھتا اسکی طرف ہی آرہا تھا

بات کرنی ہے مجھے تم سے! وہ سختی سے گویا ہوا

بھائی ابھی تو میں بابا کے پاس … اسکے بولنے سے پہلے ہی وہ بات اچک گیا

رائٹ ناؤ! وہ ڈھارا تھا روحان حلق تڑ کر گیا کُبرا جو خود اسے پہلی بار اتنے غصے میں دیکھ رہی تھی نا سمجھی سے انہیں دیکھنے لگی

چلو جو اب اسکا ہاتھ تھامے روحان کے ہی روم کی طرف بڑھ گیا تھا

کیا ہوا بھائی آپ اتنا غصہ کیوں ہو رہے ہیں روحان اب بھی نا سمجھی سے بولا

تمہیں نہیں پتا؟ یہ کیا ہے؟ وہ اب اسکے سامنے ویڈیو کیے چلایا

ججھوٹ ہے یہ سبب روحان خوفذدہ سا بولا کے چٹاخ کی آواز سے تسمیر کا ہاتھ اٹھا تھا

اگر تم نے یہی سب کرنا تو پہلے بتا دیتے کیوں برکت کو بھی تم نے لٹکایا ہوا ہے مجھے تم سر ہرگز یہ امید نہیں تھی

میں جیسا بھی ہوں آج تک کبھی میں نے کُبرا کو کوئی غلط امید نہیں دلوائی کبھی اس سے جھوٹ نہیں بولا

ہمیشہ میں نے اپنا آپ سب کے سامنے کھلی کتاب کی طرح رکھا

اور تم کیا کر رہے ہو؟ سب سے یہاں تک کہ مجھ سے بھی جھوٹ بولا تم نے؟ تسمیر آپے سے باہر ہوا تھا

مممجھے معافف کر دیں بھائی لیکن ممیرا یقین کریں ایسا نہیں ہے جیسا آپ سوچ رہے ہیں میں سیریس ہوں برکت کو لے کر وہ جو اسکے پاؤں میں جھکنے لگا تھا تسمیر نے جھٹکے سے اسے اپنے مقابل کیا

کیا مطلب ہے تم نے اس کے ساتھ بزدستی کی تھی؟

ننہیں بھائی ایسا کچھ نہیں ہے آپ میری بات سنیں تو صیح پلزز وہ اسے منت بھرے لہجے میں کہتا بیڈ کی طرف بیٹھنے کا اشارہ کر گیا

بولو اسکی حالت دیکھ کر وہ اب نرمی سے بولا

میں اس آختر کی بڑتھ ڈے پر گیا تھا وہاں وہ لڑکی بھی موجود تھی میں نہیں جانتا بھائی اسنے میری ڈرنک میں کیا ملایا تھا

میں نے جب ڈرنک لی تو میرا سر گھومنے لگا جب وہ مجھے تھام کر اپنے روم میں لے جانے لگی جبھی کسی نے یہ ویڈیو بنائی ہوگی

میں قسم کھاتا ہوں بھائی میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا میں وہاں سے بہت مشکل سے نکلا آپ میرا یقین کریں

اسنے مجھ سے کہا کہ وہ میری یہ ویڈیو آغا جان کو دیکھا دے گا میں ڈر گیا تھا کہ آغا جان نے تو مجھے اس سے دوستی ختم کرنے کا کہا تھا

بھائی لیکن یقین کریں میں نے شراب تک نہیں پی تھی اسکے اعتراف پر وہ مسکرایا

تم پی کر تو دیکھاتے میں جان نا لے لیتا تمہاری جو برائی مجھ میں ہیں وہ میں تم میں ہرگز برداشت نہیں کروں گا

جان ہو تم میری! اور ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے بھائی مرا نہیں ہے تمہارہ دیکھ لے سب کو

مسکرا کر کہتا وہ اسے گلے سے لگا گیا

تھینک یو بھائی روحان آنکھوں میں نمی لیے بولا

یقین کرو اگر اس میں تمہاری اتنی سی بھی غلطی ہوتی تو میں تمیں ایک کی جگہ دس لگاتا وہ اسے ایسے ہی ساتھ لگے دیکھ اسکی کمر تھپتھپا گیا

اؤے تمہیں مجھ میں سے کہیں برکت والی فیلنگز تو نہیں آرہیں؟ اسے ہنوز اپنے ساتھ لگے دیکھ وہ اب مسکراہٹ دباۓ بولا

جس پر وہ شرمندہ سا پیچھے ہوا

بھائی آپ اسے ہلکا مت لیجیے گا وہ بغیرت انسان کچھ بھی کر سکتا روحان اسے وارن کر گیا تھا

ہمم ہلکا تو میں لے بھی نہیں رہا اسے خیر اب تم ہلکے ہو جاؤ اور اپنی اور برکت کی شادی کی تیاریاں کرو وہ اسے آنکھ مار کر کہتا قدم اپنے روم کی جانب بڑھا گیا

****************

وہ روم میں آیا تو اسے نماز پڑھتے دیکھ اپنا ٹراؤزر لیے واشروم کی طرف بڑھ گیا

کُبرا جو نماز میں اتنی مگن تھی کہ اسکی موجودگی کا احساس کر ہی نہیں پائی اب واشروم سے پانی کی آواز سے اسکے آنے کا پتا چلا تھا

کچھ لمحوں بعد وہ فریش سا باہر آیا جو اب جاۓ نماز لپیٹ چکی تھی

کچھ کھانے وانے کا انتظام ہے بیوی یا ایسے ہی سو جاؤں میں؟وہ ابرو اچکاۓ بولا کے وہ اسکی آواز سے پلٹی جو آج پھر شرٹ لیس کھڑا الماری سے اپنی کوئی مہرون شرٹ نکال کر پہن رہا تھا

یہ شرٹ کیا باتھروم سے پہنے سے پھٹ جاتی ہے؟ وہ کڑھتی بولی

نہیں پھٹتی تو نہیں ہے میں تو صرف تمہاری وجہ سے ہی باہر آکر پہنتا ہوں وہ مسکراہٹ دباۓ بولا

میری وجہ سے کیوں؟ وہ ابرو اچکا گئی

کیوں کہ تمہیں مجھے شرٹ لیس دیکھنا پسند جو ہے مسکراہٹ دباۓ کہتا وہ اسے تپا گیا تھا

استغفار توبہ توبہ کُبرا وہ اسکے الزام سے دنگ رہے گئی

ارے کوئی بات نہیں شرماؤ نہیں ہم دونوں ہی تو ہیں یہاں میں کسی کو نہیں بتاؤں گا آنکھ دبا کر کہتا وہ خاصا ڈھیٹ ثابت ہوا تھا

اونہو بے شرم آدمی! وہ جھرجھرلی لے گئی

فضول میں بدنام کر رہی ہو تم مجھ مصوم کو ابھی تو میں نے کوئی بے شرمی کی بھی نہیں وہ چہرے پر بھرپور مصومیت سجاۓ کہنے لگا

اچھا تو اس سے زیادہ کیا بے شرمی کریں گے آپ؟ کُبرا گھور کر بولی

اسکے کہنے کی دیر تھی کے وہ اسے جھٹکے سے دیوار سے لگاۓ دونوں ہاتھ ارد گرد ٹکا گیا

کر کے دیکھاؤں؟ انداز خاصا ذو معانی تھا

مممیں ممجھے کھھانا لگانا ہے اسکی بات کا مطلب سمجھتی وہ با مشکل بول پائی

کھانا تو پھر کبھی کھا لیں گے بیگم پہلے آپ کی غلط فہمیاں تو دور کر دوں میں تسمیر شرارتی انداز میں کہتا اسے غصے اور شرم سے سرخ کر گیا تھا

ممجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہے آپ خاصے بے شرم آدمی واقعہ ہوۓ ہیں وہ روہانسی ہوئی کے تسمیر اسکی حالت پر بامشکل اپنا قہقہ روکے ہوۓ تھا

یہ میرے قریب آتے ہی تمہارے اندر کی یہ جانسے کی رانی کس دیوار میں قید ہو جاتی ہے؟ وہ مسکراہٹ دبانے کو لب دانتوں تلے دباۓ بولا جس پر وہ منہ پھیر گئی

میری جان کا عزاب بنتی جا رہی ہو تم ! وہ اسے کان کے قریب خمار آلود میں لہجے میں کہتا وہ اسکی جان ہوا کر گیا تھا

کُبرا کو اسکے لب اپنے کان کی لو سے لگتے محسوس ہوۓ

مممجھے جججانا ہے ممیر! اسکی قربت میں وہ دل تھام کر رہے گئی تھی

میر؟ ساوند گڈ وہ بے جزبات سے بھرپور لہجے میں کہتا جھکا کے وہ دونوں ہاتھوں سے اسے پیچھے کرتی

ممممیں کھاننا لگاتی ہوں اسکی گرفت ڈھیلی پڑھتے ہی وہ سرخ سی باہر کی جانب بھاگی تھی

ظالم بیوی! جبکہ وہ پیچھے گہری سانس کھینچ کر لب دانتوں تلے دبا گیا

********************

کھانے کی ٹیبل پر بیٹھا وہ گہری نظریں اس پر گاڑھے ہوۓ تھا جو مصروف سی اسکی نظروں کی تاب نا لاتے جلدی جلدی کھانا ٹیبل پر رکھ رہی تھی

کیونکہ وہ آج گھر لیٹ آیا تھا جس کی وجہ سے اس وقت ٹیبل پر صرف وہی دونوں تھے

تم نہیں کھاؤ گی؟ وہ اسے جاتا دیکھ ہاتھ تھام گیا تھا

نہیں میں کھا چکا ! اسکی نظروں سے وہ کنفیوز سی جھوٹ بول گئی

شرم تو نہیں آئی تمہیں شوہر کے بغیر کھانا کھاتے ہوۓ کبھی دیکھا ہے اسٹار پلس کی ہیروئن کو کیسے پوری پوری رات دروازے دے لگی بیٹھی رہتی ہیں

اسکے کہنے پر کُبرا نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا جو سنجیدہ سا تھا

نہیں مجھے کیوں شرم آنی ساری شرم تو خیر سے اللہ نے آپ میں بھر دی ہے نا اور دوسری بات اب تو مجھے یقین آ ہی گیا ہے یہ اسٹار پلس کے درامے دیکھ دیکھ کر ہی نا آپ میں اتنی شرم باقی ہے وہ کونسا چپ رہنے والوں مین سے تھی

استغفار میں کیوں دیکھوں گا وہ جھرجھرلی لے گیا

ہاۓ ہنڈسم! وہ کچھ کہتی کے انجانی آواز سے اس جانب متواجہ ہوئی

تم؟ تسمیر اسے دیکھتا خوشگوار حیرت لیے بولا

سرپرائز! وہ مسکرا کر کہتی اسکے گلے لگی تھی کے کُبرا حیرت سے اس لڑکی کو دیکھنے لگی جو بلیک کلڑ کی پینٹ پر وائٹ شورٹ شرٹ کندھے سے تھوڑا نیچھے تک آتے بالوں میں اسکے اتنے قریب کھڑی تھی (اتنی بے باکی تو اسنے بھی کبھی نہیں دیکھائی تھی)

لوکنگ گڈ تسمیر اسے دیکھتا کمنٹ پاس کر گیا

تم بھی ہمیشہ کی طرح ہنڈسم لگ رہے ہو وہ اسکے شرٹ کی سلواٹیں درست کرنے لگی

کیسا لگا ہمارا سرپرائز جون اب اسکا سامان گاڈر سے ساتھ لے کر آتا ان سے مخاطب ہوا

بہت اعلی

تسمیر کو اسکی دپہر والی بات مزاق لگی تھی

یہ کون؟ وہ اب کُبرا کی طرف متواجہ ہوئی جو ان کے بیچ میں کھڑی اب تک ناسمجھی سے انہیں دیکھ رہی تھی

یہ؟ ہمم وہ اسے دیکھتے سوچنے لگا جسے پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو جس پر کُبرا نے نیلی آنکھوں سے اسے گھورا تھا

میٹ ماۓ وائف کُبرا تسمیر خان!

اور کُبرا یہ میئری وہ اسکی گھوری سے مسکرا کر اسکا ہاتھ تھامے بولا جبکہ وہ میئری نام سنتے ہی دانت پیس گئی

واٹ؟ تم نے شادی کر لی؟ وہ حیران سی بولی جس پر تسمیر کندھے اچکا گیا

یو.. بولتے بولتے رک کر وہ لمبی سانس کھینچ گئی

کُبرا میئری کو روم دیکھاؤ اسکا جون کی آواز سے وہ اسکی طرف متواجہ ہوئی

آئیں آپ کو گیسٹ روم دیکھاؤ وہ گیسٹ روم پر خاصا زور دیے بولی جو کہ تسمیر نے بجوبی نوٹ کیا تھا

آؤ میئری وہ اسے اشارہ کر گیا

کسی چیز کی ضرورت ہو تو کُبرا کو کہ دینا میری بیوی بہت خیال رکھنے والی ہے وہ شرارت سے کہتا میئری کو تپا گیا تھا

جب مجھے کچھ چاہیے ہوگا میں بتا دوں گی میں جانتی ہوں تم سب پٹھان ہی مہمانواز ہوتے ہو وہ دانت پیس کر بولی

مجھے نیند آرہی ہے میں چلتی ہوں آپ کو کچھ چاہیے ہو تو میرا روم یہی اوپر ہی ہے آپ مجھے آرام سے کہ سکتی ہیں جو بھی آپ کو چاہیے ہو کُبرا مرموتن مسکرا کر کہنے لگی

مجھے اب کیا چاہیے ہوگا تم سے وہ بے خود سی بولی کے کُبرا اسکا اشارہ بخوبی سمجھتے قدم باہر کی طرف بڑھا گئی

بہت بہن جی ٹائپ ہے تمہاری وائفی میئری اسے مسکراتا دیکھ کُبرا کے سر پر ٹکے ڈوپٹے پر چوٹ کرتی تیش سے بولی

جسے تم بہن جی ٹائپ کہ رہی ہو ہماری زبان میں اسے پریسیش کہتے ہیں اسکی آنکھوں میں اٹھنے والی چمک سے وہ دل میں اٹھنے والا وابال با مشکل روک پائی تھی