Shagaf-e-Dil Episode 6
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shagaf-e-Dil by Syeda Shah
میں نے آپ کو منع بھی کیا تھا بابا پھر آپ کو وہاں نہیں جانا چاہیے تھا اختر چلایا تھا تو تم کیا چاہتے تھے ہم اپنی زمین ایسے ہی اسے لے جانے دیں؟ گل خان اسے دیکھتے کہنے لگا بابا بابا بابا میں نے کتنی بار بتایا ہے آپ کو یہ سب ہمیں خود واپس مل جاۓ گا آپ ایک بار آغا خان کی پوتی مانگ کر تو دیکھیں ایک بار میری اس سے شادی ہو جاۓ تو بس سب کچھ ہمارا ہوگا سب مطلب سب اختر آنکھوں میں لالچ لیے بولا لیکن آغا ہمیں اپنی پوتی کبھی نہیں دے گا میں نے سنا ہے عباس خان کی بڑی بیٹی آغا کی جان ہے گل خان سوچتے ہوۓ بولا تو پھر چھوٹی بیٹی مانگوں بلکہ میں تو کہتا ہوں آپ پہلے بڑی کی بات کرو اگر وہ منع کریں تو.کہ دیں نا کہ ہم تو آپ کے گھر سے خالی نہیں جائیں گے بڑی نہیں چھوٹی صیح اختر مزے سے کہنے لگا جب گل.خان نے اسے زوردار چٹ لگائی گدھوں جیسی باتیں مت کرو آغا خان تمہیں جان سے مار دے گا یہ بھوت اتاڑ دو اپنے سر سے اور جاکر سو جاؤ گل خان اسے گھور کر بولا تھا…
***********
تم کیا کر رہی ہوں یہاں؟ تسمیر اسے ٹیرس پر اکیلا کھڑا دیکھ گھورتے ہوۓ بولا کیوں؟ کیا یہ جگہ بھی خرید لی ہے آپ نے؟ جو اب یہاں کھڑے ہونے پر بھی ٹیکس ہے کبرا تپ کر کہنے لگی کیا ہوا ہے تمہیں؟ مرچیں کیوں چبا رہی ہو اتنی؟ اس بار لڑنے کی بجاۓ وہ اسکا مکمل جائزہ لیتا بولا کچھ نہیں جون کا انتظار کر رہی ہوں اتنی دیر ہو گئی ہے وہ کہ کے گئے تھے ابھی آجاؤ گا کبرا منہ بناۓ بنا کر بولی جس پر تسمیر کی کچھ دیر پہلے والی نرمی غائب ہوئی کیوں؟ ایسا کیا کام ہے تمہیں اس سے؟ میر ابرو اچکا گیا آئسکریم کھانے جانا تھا ہم نے اور وہ پتا نہیں کہاں جاکر بیٹھ گئے ہیں اتنے عرصے بعد تو کہیں جانے کا پروگرام بنا تھا ہمارا کبرا منہ پھولاۓ کہنے لگی تو ٹھیک ہے وہ نہیں ہے تو میں لے چلتا ہوں وہ سپاٹ لہجے میں کہنے لگا آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟ کہیں بخار وغیرہ تو نہیں ہو گیا ہے؟ کبرا کو اب واقعی ٹینشن ہوئی تھی ہاں کیوں؟ تسمیر نا سمجھی سے بولا مطلب کہ یہ اتنے اچھے بننے کا بھوت کیسے سوار ہو گیا آپ پر اچانک؟ کبرا ہنوز حیرتذدہ سی بولی مجھ پر بھوت سوار ہو یا نا ہو لیکن ایک بات مجھے سمجھ آگئی ہے اور وہ یہ کہ تمہیں عزت بلکل بھی راز نہیں ہے اب اگر آنا ہو تو آجانا نہیں تو میں خالی برکت کو لے کر جا رہا ہوں آئسکریم کھلانے اسے سناتا وہ نیچے کی طرف قدم بڑھا گیا ہٹلر کہیں کے وہ منہ بناۓ کہتی اسکے پیچھے آئی تھی
کسی شادی پر جا رہی ہو کیا؟
روحان اسے تیار شیار دیکھ کر بولا تسمیر بھائی ہمیں آئسکریم کھلانے لے جا رہے ہیں برکت مزے سے بولی
واٹ ایک منٹ بھائی کو کیا ہو گیا؟ طبیعت تو ٹھیک ہے ان کی؟ روحان پھٹی پھٹی آنکھوں سے کہنے لگا زیادہ اؤور آیکٹنگ مت کرو میر بھائی جیسے بھی ہیں تم سے بہت اچھے ہیں برکت شرارت سے بولی ہاں تمہارہ کیا ہے تمہیں تو بس کوئی دو چیزیں کھلا دے بس پھر تم اسکی تعریف کرتے ہی نہیں تھکتی روحان تپ کر بولا چلو اب ہٹو شاباش راستہ دو وہ ایک ادا سے کہتی سر پر اچھے سے ڈوپٹا سیٹ کیے آگے بڑھ گئی روتی اؤے ناراض بلبل پوری خود مت کھانا کچھ میرے لیے بھی لے آنا روحان پیچھے سے چلایا تھا جس پر وہ اسے منہ چڑھاۓ باہر کی طرف بھاگ گئی
*********
وہ جو کب سے انکا گھر دھونڈ رہا تھا بلا آخر ایک دروازے کے آگے رکا ڈرتے ڈرتے آخر دروازہ پر دستک دی گئی تھی جس اگلے ہی لمحے کھول دیا گیا کون؟ وہ دروازے کے پیچھے سے بولی جی مجھے ماسٹر ولید سے ملنا تھا وہ دروازے کے پیچھے سی کہنے لگا آپ کی تعریف؟ جی میں جہنگیر خان ہوں آغا خان کا نواسہ! جون جھجھکتے ہوۓ بولا ٹھیک ہے میں بابا کو بلاتی ہوں ارے بیٹا کون ہے؟ جبھی ولید صاحب کی آواز گونجی تھی بابا کوئی جہنگیر خان ہیں آپ سے ملنا چاہتے ہیں صاحب عام سے انداز میں کہنے لگی کیا کہا؟ جہنگیر؟ ارے تو بیٹا بلاؤ فورا اندر بلاؤ آجاؤ جہنگیر بیٹا آجاؤ باہر کیوں کھڑے ہو؟ ولید صاحب خوشی سے کہنے لگی جبکہ صباحت کو یاد نا تھا اس نے آخری بار انہیں کب اس طرح خوش ہوتے دیکھا تھا آجائیں جب وہ اسے آنے کا اشارہ کر گئی ولید صاحب کے ملنے کے بعد وہ انہی کے ساتھ بیٹھ گیا صباء بیٹا چاۓ لے آؤ بھئی ماسٹر صاحب محبت سے بولے جب وہ سامنے سے آتی دیکھائی دی
بھوری آنکھیں تیکھے نقوش گندومی رنگت درمیانہ قد گھنگریالے بالوں والی یہ لڑکی سیلقے سے سر پر ڈوپٹا لیے چاۓ اسکے سامنے رکھ گئی وہ اسے ایک نظر دیکھتا نظریں پھر سے ماسٹر صاحب پر مرکوز کر گیا ابھی تک ڈرنا نہیں چھوڑا تم نے؟ ولید صاحب اسے دیکھ کر محبت سے بولے آپ کی اکیڈمی کا سب سے نالائق بچہ تھا میں اس وقت تو قدر نہیں تھی لیکن اب پتا چلتا ہے کہ ایک اچھے استاد کی انسان کو کس قدر ضرورت ہوتی ہے جہنگیر مسکرا کر بولا ہاں یہ تو سب سے نالائق مگر زندہ دل بچے تھے تم میں آج بھی سوچتا ہوں کتنا تنگ کیا کرتے تھے اور ہمیشہ میری مار سے بچ بھی جایا کرتے تھے ولید صاحب قہقہ لگاۓ بولے جس پر وہ مسکرا کر سر اثبات میں ہلا گیا
***********
کہا رہ گئی وہ؟ تسمیر اپنا غصہ کنٹرول کیے کہنے لگا آتی ہوگی بس وہ ہمیشہ ہی اتنا لیٹ ہو جاتی ہے برکت پیچھے کی کھڑکی سے جھانکتی کہنے لگی اب اگر وہ دو منٹ سے پہلے نہیں آئی تو میں گاڑی اسٹارٹ کر دوں گا میر غصے سے بولا تبھی وہ سامنے سے آتی دیکھائی دی کالے رنگ کا سوٹ پہنے سر پر کالا ہی خوبصورت سا ڈوپٹا سیٹ کیے وہ اپنی سفید گلابی رنگت اور نیلی آنکھوں میں غضب ڈھا رہی تھی اسے دیکھ کر ایک لمحے کو وہ ٹھٹکا تھا وہ اتنی دیر لگانا ضروری تھی؟ اس سے نظر ہٹاۓ وہ سختی سے بولا چلیں کبرا منہ بناۓ کہتی پیچھے کا دروازہ کھول گئی درائیور نہیں ہوں میں تبھی اسکی گرج دار آواز گونجی تھی جس پر وہ منہ پھولا کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی غصہ تو ایسے کر رہے ہیں جیسے ہم نے منتیں کی ہوں ساتھ چلنے کی وہ ہنوز منہ پھولاۓ کہنے لگی کچھ کہا تم نے؟ تسمیر ابرو اچکاۓ بولا میری اتنی مجال میں آپ کی شان میں کچھ کہوں؟ کُبرا ابرو اچکاۓ طنزیا بولی جس پر وہ محض گردن کو جھٹکا دے گیا
***********
تھینک یو سو مچ تسمیر بھائی بہت مزہ آیا آج برکت کار سے اترتی مسکرا کر بولی برکت روحان کی آئسکریم اٹھا لی نا تم نے؟ کُبرا باہر نکلتی کہنے لگی ہاں بس جاکر دیتی ہوں کہیں پگھل ہی نا جاۓ برکت مزے سے کہتی اندر کی طرف بھاگی تھی پاگل ہے یہ بھی وہ اپنی دھند میں کہتی اوپر کی طرف قدم بڑھا گئی جب وہ جھٹکے سے اسکا ہاتھ تھام گیا تم نے تھینک یو نہیں بولنا؟ میر اسکا ہاتھ تھامے اس پر نظریں مرکوز کیے بولا ہاتھ پکڑے بغیر بھی بات ہو سکتی ہے کُبرا اسے گھورتے ہوۓ کہنے لگی کیوں؟ میرا ہاتھ پکڑنا تو بہت برا لگتا ہے تمہیں ویسے چاہیے جون ہی کیوں نا ہو وہ ہاتھ پکڑ سکتا ہے؟ وہ جھٹکے سے اسکے قریب ہوتا سخت سے گویا ہوا اسکے اچانک قریب آنے سے وہ دیوار کا سہارہ لے گئی کُبرا کو لگا تھا اب اگر مزید وہ اسکے قریب آیا تو وہ اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو پاۓ گی مممیں کسی کو بھی اجازت نہیں دیتی میرا ہاتھ پکڑنے کی یا میرے ایسے قریب آنے کی آپ دور رہ کر بات کریں ورنہ آپ کے ساتھ اچھا نہیں ہوگا وہ اپنے لہجہ کی لڑکھڑاہٹ چھپاۓ سخت لہجے میں بولی جس پر وہ مزید اسے قریب کر گیا جیسے کہنا چاہتا ہوں کہ اسے اسکی دھمکی سے کوئی فرق نہیں پڑھتا پلیزز اسکے مزید قریب آنے پر وہ منت بھرے لہجے میں بولی جس پر مسکرا کر پیچھے ہٹا تھا ایسے رہا کرو مجھے ایسے ہی بات ماننے والی لڑکیاں پسند ہے تسمیر مسکرا کر کہنے لگا اور میں بھی آپ کو ہزار بار بتا چکی ہوں آپ کو کیسی لڑکیاں پسند ہیں یا میں آپ کو کتنی نا پسند ہوں مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا باۓ دا وے تھینک یو وہ عام سے انداز میں کہتی اوپر کی جانب قدم بڑھا گئی کس لیے؟ اسکے تھینکس کہنے پر تسمیر نا سمجھی سے بولا تھینک یو یہ بتانے کے لیے کہ آئندہ آپ کے ساتھ کہیں بھی نا جایا جاۓ کُبرا منہ بناۓ بولی ”ناشکری کہیں کی“جبکہ اسکی بات سے وہ محض سرد آہ بھرے کہتا اپنے روم کی جانب بڑھ گیا…….