📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 35

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

وہ اسے گھور کر اٹھنے لگی جب تسمیر نے اسکا ہاتھ تھاما

ویسے کوئی بہت بڑی آٹینشن سیکڑ ہو تم جان کر طبیت خراب کی ہے نا اپنی؟ تاکہ شوہر کو ظالم ثابت کر سکو؟ وہ اس پر گہری نظریں جماۓ بولا

مجھے کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں جان گئی ہوں آپ کیسے ہیں ! وہ جس انداز میں بولی تھی تسمیر کی رگیں ایک دم تنی

شرافت سے کھانا کھالو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا!

آپ سے برا کوئی ہے بھی نہیں! وہ اسی کے انداز میں بولی

ٹھیک ہے پھر میں بتاتا ہوں کتنی برا ہوں میں اسکا ہاتھ تھامے وہ زبردستی اپنے ساتھ گھاسیٹتا باہر لے کر آیا

جبکہ سلمہ بیگم تو اپنا ماتھا پیٹ کر رہے گئی

پتا نہیں کیا کھایا تھا میں نے تمہاری باری میں تسمیر؟ وہ اسے زبردستی کرتے دیکھ تپ کر بولیں

ہری مرچیں وہ بھی مسئلہ لگا کر آہاں کیا ٹیسٹ ہوگا موم! روحان کی آواز سے وہ ایک بار پھر سر پیٹ گئیں دونوں بیٹے ہی اسپیشل پیس تھے انکے

چھوڑو اسے کیا تنگ کر رہے ہو؟ سلمہ اب کُبرا کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر بولیں

یہ کھانا کیوں نہیں کھاتی ہے ٹھیک سے؟ تپ رہی ہے بخار میں آپ لوگوں سے اتنا نہیں ہوا کہ مجھے پہلے ہی بتا

دیتے ! وہ رعب سے اسکا ہاتھ سختی سے تھامے ہوۓ تھا جو بار بار اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش میں اب تھک سی گئی تھی

کُبرا بیٹے صیح تو کہ رہا ہے وہ ٹھیک سے کھایا کرو نا کل کو پھر مشکل ہوگی تمہیں! سلمہ اسے سمجھانے لگی تو وہ پل بھر میں سرخ ہوئی تھی

ارے اتنا سرخ کیوں ہو رہی ہو؟ طبیت ٹھیک ہے نا؟ وہ جیسے ہی بولیں تسمیر اسی طرف متواجہ ہوا جبکہ وہ اسکی تواجہ پاتے ہی سٹپٹائی

تسمیر اسکی سرخی کا مطلب سمجھتے ہوۓ مسکراہٹ دبا گیا

وہ شاید بخار— سے کو رہا ہو. وہ گھبرا کر بولی

ہاں سر پر چڑھ گیا ہے بخار! تسمیر کے کہنے پر اس طرح جھینپی جیسے چوری پکڑی گئی ہو

کھاؤ! اسے ٹیبل پر بیٹھاۓ وہ خود ایک نوالہ اسکے آگے کر گیا جس پر وہ منہ موڑ گئی اگلے ہی لمحے تسمیر نے اسکا چہرہ تھام کر ٹھوسنے کے انداز میں نوالہ اسے کھلایا تھا

اسکی حرکت کر وہ کڑھتی خود سے نوالے لینے لگی ساتھ ساتھ ادر گرد کا جائزہ بھی لیا تھا شکر تھا کہ سلمہ بیگم اس وقت کچن میں تھی

اسی دوران سب ہی گھر والے ڈنر کے لیے آگئے تھے کتنے دنوں بعد وہ سب کے ساتھ بیٹھ کر دنڑ کر رہا تھا

آپ لوگ آج یا کل چلے جائیں ولید کے گھر! آغا جان کی آواز پر اماں جان نے جھٹکے سے سر اٹھایا

کیوں اس کے گھر کیوں؟ وپ کافی دنوں سے گھر میں ہونے والی سرگوشیاں محسوس تو کر رہی تھیں لیکن وجہ نہیں جانتی تھی

ہم جہانگیر کے سلسلے میں صباحت کے رشتے کے لیے..رخسانہ بولتی کے اماں جان نے بیچ میں ہی اسے ٹونکا

کبھی نہیں تم کس حق سے یہ بات کر سکتی ہو؟ وہ زہر خندق ہوئیں

اماں جان وہ ہمارہ بھی بیٹا ہے رخسانہ کو انکی بات پسند نہیں آئی تھی

کوئی تمہارہ بیٹا نہیں ہے وہ میری ہالہ کا بیٹا ہے جسے تمہارے بھائی نے مار دیا…ان کے کہنے پر کُبرا نے کرب سے آنکھیں مچی تھیں جو کے اسکے ساتھ بیٹھے شخص کو بلکل گوارا نہیں تھا

بس کر دیں آپ.لوگ کیوں بحث کر رہے ہیں چلے جائیے گا رشتہ لے کر بلکہ اماں جان کو ساتھ لے کر جائیں کیوں

اماں جان؟ اسکے کہنے پر آعبدہ بیگم نے نظریں اٹھا کر

اسے دیکھا اسکی آنکھوں میں کوئہ تاثر نا ہونے باواجود

بھی وہ انہیں دھمکی ہی لگی تھی جیسے وہ کہنا چا رہا ہو بتا دوں پھر وہی سب جو آپ کرتی آئی ہیں

ٹھیک ہے جو مرضی آۓ کرو! انکے کہنے پر کُبرا سر اٹھا کر ایک نظر تسمیر کو دیکھا جو بے نیازی سے اب کھانے میں مصروف تھا

.آعبدہ بیگم کو معلوم تھا اگر وہ آغا جان کو کچھ بتاتا تو انہوں نے دو سیکنڈ میں پہلے ہی طرح اپنی لاڈلی کے لیے گھر سے باہر نکل دینا تھا اپنی بے بسی پر اس وقت وہ صرف صبر ہی کر سکتی تھیں

******************

کچھ دیر میں وہ کھانے کے بعد آگے پیچھے روم میں داخل ہوۓ

روم اسنے ساری لائٹ اون کی تھیں تسمیر اسکی حرکتوں کا لب بھینجے ملاحظہ کرنے لگا جانتا تھا وہ محض اسے ٹیس کرنا چاہتی ہے

ساری لائٹ اون کرنے کے بعد اساری کتابیں بیڈ پر پھیلاتی وہ خود بھی بیڈ کے کنارے پر ٹک گئی

جگہ دو مجھے! وہ اسکے سامنے دونوں ہاتھ باندھے کھڑا بھاری آواز میں بولا

جگہ نہیں ہے یہاں مجھے پڑھنا ہے! وہ مصروف سے انداز میں کتابیں دیکھنے لگی

تو میں کیا کروں؟ تسمیر تیوری چڑھاۓ بولا

اگر کچھ کر سکتے ہیں تو کوئی حل دھوند لیں میں یہاں سے جگہ نہیں چھوڑنے والی! وہ اب ضدی انداز میں اسے دیکھنے لگی

کر تو میں بہت کچھ سکتا ہوں! تیوری چڑھاۓ کہتا وہ ساتھ ہی وہ اس پر جھکا کُبرا بے اختیار آنکھیں میچ گئی

اسکی بند ہوئی آنکھیں دیکھ کر وہ مسکراہٹ دباۓ اسکے عین پیچھے سے اپنا تکیہ ہٹا کر ایک نوٹ اٹھا گیا

استغفراللہ کیا کیا سوچنے لگی ہو تم! اسکے کان میں گھمبیر سرگوشی کرتا وہ مسکراہٹ دبانے کو اپنا نیچلا لب دانتوں تلے دبا گیا کے وہ اسکی حرکت پر غصے اور جھینپ سے لمحوں میں سرخ ہوئی

ممیں نے کچھ غلط نہیں سوچا! جھینپ کے مارے وہ چلائی

میں نے کب کہا کہ تم نے کچھ غلط سوچا ہے؟ عام سے انداز میں کہتا وہ اسے مزید سلگا گیا

یو… بولتے بولتے وہ رکی جب وہ اسکے آگے ایک چٹ لہرا گیا

رول نمبر سلپ ہے تمہاری!

دیں مجھے! کُبرا اسکے سامنے آئی تھی

پہلے یہ ترتیب ٹھیک کرو پھر لے لینا تمہاری ہی ہے! اسکے کہنے پر وہ اس پر ایک نظر ڈالتی چیزیں سمیٹنے لگی

(وہ کیسے بھول گئی کہ ضد اور ریٹرن ریونج کے مامعلے میں اس سے کافی آگے تھا)

وہ آدھی چیزیں اسکی سائد سے ہٹا گئی تو وہ بھی محفوظ سا اپنی جگہ پر لیٹتا اسے سلپ پکڑا گیا جس پر کُبرا اسکی پشت کو گھورتی پھر سے سر کتابوں میں دے گئی

****************

وہ بر دستک پر انکے آنے کی امید پر دروازے کی جانب دیکھ رہی تھی لیکن ہر بار ولید صاحب کے ہی کچھ جان پہچان والے ہوتے

جہانگیر نے جھوٹ بولا مجھ سے؟ کیا انہیں یہ بات مزاق میں کرنے والی لگتی ہے؟ خود سے سوچتی وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ ہوۓ تھی

جب اسکا فون اچانک ہی چیخا سکرین پر ”جہانگیر خان“ کا نام جگمگایا تو وہ سائلنٹ پر کر گئی پھر ایک خیال کے

تحد کال آنسر کی کے کہیں آوفس کا کام نا ہو

اسلام و علیکم! جون کی پر مسرور آواز گونجی

وعلیکم السلام! صباحت سپاٹ لہجے میں بولی

کیا بات وہی پھر گھر میں؟ وہ خود سے ہی پوچھنے لگا تھا

آپ کو مزاق کرنے کے لیے اور کوئی بات نہیں ملی تھی مجھے آپ سے بلکل اس بیواقوفی کی امید نہیں تھی! صباحت اسکی ڈھٹائی پر مزید غصہ ہوئی

کونسا مزاق میں سمجھا نہیں؟

یہی کہ آج پھوپھو وغیرہ یہاں آرہے ہیں!

ہاں تو نہیں آۓ کیا؟ وہ نا سمجھی سے بولا گھر میں تو اسنے آج ہی جانے کو کہا تھا

نہیں یہاں کوئی نہیں آیا آپ کہاں ہیں جو آپ کو یہ تک نہیں پتا؟ صباحت حیرتذدہ ہوئی

میں تو بس ابھی ہی گھر کے لیے نکلا ہوں گھر جاکر پوچھتا ہوں! کہتے ساتھ ہی وہ فون رکھ گیا

……………………….

صبح وہ نیچھے آئی تو ہلچل سی مچی تھی

کہیں جانے کی تیاری ہے ؟ یا کوئی آرہا ہے؟ کُبرا حیرانگی سے پوچھنے لگی

ہاں آج ایک تو ہمیں کسی شادی میں جانا ہے اور پھر ولید کے گھر بھی جانا ہے تم بھی تیاری کر لو ورنہ جون نے تمہیں بھی سنانی ہے! رخسانہ اس سے مخاطب ہوئیں

نہیں موم میرا تو پرسوں پیپر ہے میں نہیں جا سکتی! وہ انکے ساتھ نپٹاتی کہنے لگی

لیکن اکیلی کیسے رہوں گی؟ تسمیر بھی آج کل دیر سے آتا ہے رخسانہ پریشانی سے بولیں

کیوں اماں جان بھی جا رہی ہیں کیا؟ کُبرا کو اچنبہا ہوا

ہاں لیکن وہ ولید کے نہیں جائیں گی بلکہ وہ حسین بھائی کے رکیں گی تو ہم واپسی پر انہیں لے لیں گے رخسانہ بیگم کے کہنے پر وہ سر ہلا گئی

کوئی بات نہیں ماں میں چھوٹی بچی تھوڑی ہوں میں اکیلی رک جاؤں گی

نہیں پھر تم ایسا کرو مینا کو یہاں روک لو آج اور مین تسمیر کو کہ دوں گی وہ جلدی آجاۓ گا سلمہ بیگم اسکے میڈ کا کہنے لگی تو وہ مسکرا دی

چلیں ٹھیک ہے!

سب کے جانے کے بعد وہ مینا کے ساتھ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی تھی

باجی ایک بات کہوں؟ مینا کچھ دیر بعد تہمید باندھے لگی

ہمم بولو وہ کتابوں میں مصروف سی بولی

اگر آپ کو برا نا لگے تو آج یہ ساتھ والے رنگ میں ایک بچہ کس کا میں یہاں سے جانے کے بعد خیال رکھتی ہوں

آپ کہیں تو میں اسے یہاں لے آؤ؟ ورنہ میرے پیسے کٹ جائیں گے مینا بولی تو کُبرا نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی تھی

ٹھیک ہے لے آؤ بس شور مت کرنا وہ اسے وارن کر گئی

کچھ ہی لمحوں میں وہ ایک خوب صورت سے بچے کو لے کر آیا آئی تھی

یہ تو کتنا پیارا ہے ہے نا کُبرا اسے گود میں اٹھاۓ کھیلنی لگی وہ ایک سال کا تھا اور بلا شے بہت پیارا تھا

تبھی لین لائن پر کال آئی اور مینا تابعداری سے فون اٹھا گئی جیسے جیسے وہ فون سنتی جا رہی تھی اسکے تاثرات بدلتے جا رہے تھے

کُبرا بغور اسے دیکھنے لگی جب وہ زور زور سے رونا شروع ہو گئی

کیا ہوا ہے مینا؟

ببباجی میرے شوہر کی طبیت بہت بگڑ گئی ہے ممجھے اجازت دیں مجھے جانا ہوگا! وہ روتے ہوۓ التجاء کرنے لگی

ٹھیک ہے تم جاؤ اسے میں سنبھال لوں گا بے فکر رہو وہ اسے تسلی دینی لگی جب وہ سر ہلاتی باہر نکلنے لگی تو کُبرا نے اسے روک کر کچھ پیسے پکڑاۓ تھے

شکریہ باجی اللہ آپ کو سدا سہاگن رکھے اسکے دعا دینے پر کُبرا بے ساختہ آمین کہ گئی

**********************

موسم آج کافی بگڑا سا معلوم ہو.رہا تھا

سلمہ کی کال کے بعد وہ آج گھر جلدی جانے کا ارادہ رکھتا تھا

ابھی وہ کنسٹریکشن سائد پر رکھا سارے انتظام دیکھ رہا تھا جلدی جانے کے شکر میں اسے مزید ٹائم.لگ گیا تھا

شام کے ساتھ بج رہے تھے جب اچانک سے زوروں کی باراش شروع ہوئی

اوہ شٹ! تسمیر جنجھلایا

سر آپ گاڑی میں بیٹھ جائیں عمر اسکے پاس ایک چھتری.لاۓ اسے گاڑی میں بیٹھا گیا

اب اسے جلد از جلد گھر پہنچنا تھا

باہر گرجتے بادلوں سے وہ یکدم ہی خوفذدہ ہوئی تھی بچے کو وہ ابھی ہی سلا کر اسکے کوٹ میں لیٹا چکی تھی

ریلیکس کُبرا کچھ نہیں ہوگا خود کو تسلی دیتی وہ بولی کے اچانک ہی لائٹ گئی اور پورے جان میشن میں اندھیرا چھایا تھا

گھر میں اکیلے ہونے کے باعث وہ لمحوں کو خوفذدہ ہوئی

موبائیل دھوند کر اسنے ٹارچ اون کی تو وہ نا ہونے کے برابر ہی روشنی کر پائی تھی

خان بابا؟ درائیور بابا؟ وہ خوفذدہ سی چلائی لیکن جواب میں صرف خاموشی کا سامنا ہوا تھا

کوئی ہے؟ خان بابا؟ وہ پھر سے چلائی آغا جان سمیت گھر کے سبھی افراد شادی پر گئے تھے برکت کو سلمہ اپنی چھوٹی بہو کی حیثیت سے لے کر گئی تھیں

اگر کُبرا کے ایگزیم نا ہوتے وہ اسے بھی ضرور ساتھ لے جاتیں

کوئی ہے؟ وہ اب رونے کا شغل جاری کر چکی تھی

گھر پہنچتے ہی وہ گاڑی پورچ میں کھڑی کرتا اندر کی طرف آیا لائٹ بند ہونے کی وجہ سے پہلے تو وہ حیرتذدہ ہوا یہ شاید پہلی بار تھا جب یہاں لائٹ گئی تھی جس کی وجہ سے جرنیٹر کم ہی یوز کیا جاتا

یک دم ہی اسے کُبرا کا خیال آیا اور وہ بھاگنے کے سے انتظار میں اندر داخل.ہوا

باہر سے زیادہ اندھیرا اندر کی طرف تھا

کُبرا؟ وہ موبائیل کی لائٹ اون کرتے بولا

کُبرا؟ اب کی بار تسمیر چلایا وہ جو ڈری سہمی سی بیٹھتی تھی اسکی آواز سنتے ہی بھاگتے ہوۓ اس طرف آئی

کُبرا کہاں ہو یار؟ وہ بولتا جب وہ بھاگتے ہوۓ اسکے گلے سے لگتی اسے ششدر کر گئی

( اپنی باری کچھ بھی کر سکتی ہے یہ؟) تسمیر محض سوچ سکا تھا

کہاں تھے آپ؟ آپ کو آیا جان نے کہا بھی تھا کہ جلدی آئیے گا کوئی احساس ہے؟ اسے گلے سے لگی وہ اسکی

شرٹ زور سی مٹھیوں میں بھینجے روہانسی ہوئی

میں جلدی آرہا تھا بس ایک کام آگیا تھا ششش اب تو آگیا ہوں نا چھپ ہو جاؤ! وہ ایسے ہی ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے ایک ہاتھ سے لائٹ پکڑے ہوۓ تھا

کام ہی تو کرنا آیا ہے آپ کو میرا کوئی احساس نہیں ہے پورے گھر میں اکیلی تھی میں…

لیکن مجھے تو موم نے بتایا تھا میڈ ہے تمہارے پاس؟ تسمیر حیران ہوا

وہ چلی گئی اسے کام تھا کُبرا ہنوز اسے پکڑے ہوۓ تھی

اہمم دیکھو اب تم میرا صبر آزما رہی ہو ڈارلنگ! ہٹ جاؤ ورنہ مجھ سے کنٹرول نہیں ہوگا! اسکے کان کے قریب

سرگوشی کی تو وہ فورن ہوش میں آتی جھٹکے سے اس

سے الگ ہوئی کتنے ہی دن بعد وہ اپنی پرانی ٹون پر آیا تھا

وہ ممیں ڈر____ وہ شرمندہ سی جواز بنانے لگی کے بچے کی رونے کہ آواز سے وہ اس طرف متواجہ ہوا

کہیں یہ تمہاری کسی چڑیل دوست کا بچہ تو نہیں ہے؟ تسمیر چونکا

جی نہیں یہ مینا کسی کے گھر کام کرتی ہے انکا بے بی ہے وہ جلدی سے اس بچے کے پاس پہنچتی اسے گوڈ میں اٹھا گئی

تو یہ تمہارے پاس کیا کر رہا ہے؟ اتنا شوق تھا تو مجھے کہتی؟ وہ ذومعانی انداز میں کہتا اندھیرے کے باواجود اسے سرخ کر گیا

لمبی کہانی ہے بعد میں بتاؤں گی پہلے آپ یہ لائٹ کا انتظام کریں وہ اسے گھورتے ہوۓ بولی تو تسمیر سر ہلاتا باہر کی جانب بڑھ گیا کے وہ پھر سے اسکا بازو تھام گئی

کہاں جا رہا ہیں؟

سوئٹ ہارٹ جرنیٹر دیکھنے جا رہا ہوں تم کہتی ہو تو نہیں جاتا ویسے مجھے تو یہ محول زیادہ اچھا لگ رہا ہے

وہ شرارت سے بولا

ننہیں جائیں آپ چیک کر لیں لیکن جلدی آئیے گا فلحال وہ اس حالت میں نہیں تھی کے اس سے لڑتی

اوکے میں آیا کہتے ساتھ ہی وہ باہر نکل گیا

کچھ ہی منٹوں میں ڈرائیور بابا بھی لوٹ آۓ تھے تسمیر نے انہیں سنائی تو وہ معذرت کرنے لگے لائٹ اون ہوتے ہی کُبرا سانس بحال کر گئی

لیکن اب دوسری ٹینشن گلے پڑھ گئی تھی بچہ اب رونا شروع ہو گیا تھا

بس بس بے بی چھپ ہو جاؤ اسے گود میں اٹھاۓ وہ باری باری اسکا گال چوم کر بولی

کبھی مجھ سے تو تم نے ایسے بات نہیں کی؟ تسمیر تیوری چڑھاۓ کہتا اسکا منہ کھلوا گیا

(یعنی وہ ایک چھوٹے سے بچے سے بھی جیلس ہو رہا ہے؟) وہ سر جھٹک کر رہے گئی