📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 2

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

“پورے خان مینشن میں ہل چل سی مچی تھی ماں یہ اتنا شور کیوں ہے اور یہ ملازم کیوں ادھر سے ادھر بھاگ رہے ہیں” کبرا حیران سی بولی

ارے تمہیں نہیں پتا؟ تسمیر بھائی آرہے ہیں لندن سے” برکت ایکسائٹمنٹ سے کہنےلگی” کون تسمیر؟” کبرا کا پوچھنا برکت کے لیے حیرت کے جھٹکے سے کم نا تھا “تسمیر بھائی کا نہیں پتا تمہیں؟ بھول گئی ہو؟ علی بابا کے بڑے بیٹے جو لندن گئے تھے پڑھنے کے لیے” برکت اسے یاد دلانے کیلیے بولی “اچھا تو سیدھا بولو نا روحان کے بڑے بھائی جس کے بارے میں وہ ہر وقت ہی بولتا رہتا ہے ویسے میں نے تو انہیں آخری بار جب دیکھا تھا

جب میں(6th) کلاس تھی اب پتا نہیں کیسے ہوں گے وہ” کبرا کچھ سوچتے ہوئے بولی “سنا ہے بہت ہینڈسم ہیں ہوں گے کوئی مغرور سے پلے بواۓ ٹائپ “برکت کے کہنے پر کبرا اسے ایک چٹ لگا گئی “

وہ آغا خان کے پوتے ہیں جانتے ہیں کہ کتنی عزت ہے آغا جان کی اسئلے ملک چاہیے کوئی بھی ہو وہ اپنی روایت نہیں بھولیں گے مجھے پورا یقین ہے” __”بلکل ٹھیک کہ رہی ہے کبرا ہمارے بچے جہاں بھی رہیں اپنی تہزیب نہیں بھول سکتے “سلمہ بیگم مسکرا کر کہنے لگی جی آیا جان برکت جھینپ کر بولی” اچھا چلو دونوں بہنیں تیار ہو جاؤ تسمیر کے آنے کی خوشی میں ہم نے پورے علاقے کی دعوت رکھی ہے تم لوگ بھی جلدی سے تیار ہو جاؤ” سلمہ بیگم محبت سے کہتی آگے بڑھ گئیں…..

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

پورا خان مینشن خوبصورتی سے سجایا گیا تھا آخر انکے گھر کا بڑا بیٹا سات سال بعد واپس آرہا تھا کبرا لائٹ پنک کلر کا نفیس کام والا پلازو پر لائٹ پینک ہی لمبی قمیز پہنے سر پر نیٹ کے ڈوپٹے کو سلیقے سے سجاۓ میک اپ کے نام پر نیلی آنکھوں پر مسکارا ہونٹوں پر دارک پنک کلڑ کی لپ اسٹک لگائی تھی بلاشے وہ سادگی میں بھی حسین لگتی تھی “کبرا تمہیں آیا جان بلا رہی ہیں”برکت اندر آتی کہنے لگی” ہاں جا رہی ہوں” وہ مسکرا کر کہتی باہر لان کی طرف بڑھی جب دوسری طرف سے آتی آوازوں نے اسکا دھیان اپنی طرف کھینچا تھا “یہ آوازیں کہاں سے آرہی ہیں؟” کچھ سوچتے ہوۓ وہ اس طرح آئی جہاں وہ کھڑا ڈرائیور کو سنا رہا تھا “ایک بات سمجھ نہیں آرہی؟” میر تیش سے کہتا اس پر ہاتھ اٹھا گیا اس سے پہلے وہ مارتا کسی نے اسکا ہاتھ تھاما تھا “ہمت کیسے ہوئی اس ڈرائیور صاحب سے ایسے بات کرنے کی” کبرا اسکا ہاتھ تھامے اسے گھورتے ہوۓ بولی نیلی آنکھوں والی یہ نازک سی لڑکی تسمیر کو کچھ جانی پہچانی لگی تھی “کچھ پوچھ رہی ہوں میں آپ سے” وہ اسکا ہاتھ جھٹکتی چہرے پر بلا کی سختی لیے کہنے لگی “اوہ ہیلو کون ہو تم؟ اسی کی کوئی سگی ہوگی تمہارہ بھی انتظام کرواتا ہوں میں “میر اس پر ایک نظر ڈالتا آگے بڑھ گیا “بدتمیز جاہل پتا نہیں کون ہے اسکا تو انتظام میں کرواتی ہوں آج “کبرا غصے سے کہتی ڈرائیور صاحب کو بیٹھنے کا اشارہ کر گئی

“ارے کبرا کہاں تھی؟ تم ملی ہو تسمیر سے؟” اسے آتا دیکھ رخسانہ بیگم مسکرا کر بولیں “آگئے وہ؟” کبرا حیرت سے گویا ہوئی” ہاں نا آؤ میں ملواتی ہوں تسمیر بیٹا یہ میری بیٹی ہے کبرا” ان کے کہنے پر تسمیر پلٹا تھا گہری سبز آنکھیں کانوں تک آتے کالے سیاہ بال بڑھی ہوئی بیئرڈ صاف رنگت لمبا قد چوڑی جسامت وہ دیکھنے واقعی قابلے تعریف تھا گہری سبز آنکھیں نیلی آنکھوں سے ٹکرائی تھیں تم؟ کبرا ابرو اچکاۓ حیرت سے بولی تم؟ یہ بیٹی ہے آپ کی؟ تسمیر رخسانہ بیگم کو دیکھتا حیرت سے بولا “ہاں بھول گئے یہ کبرا ہے” رخسانہ بیگم محبت سے کہنے لگی اس سے بدتمیز لڑکی نہیں ملی تھی آپ کو بیٹی بنانے کے لیے؟ تسمیر اسے دیکھتا سرگوشی نما انداز میں بولا “اللہ معاف کریں یہ ہے تسمیر؟ اتنا بدتمیز شخص؟” حد ہو گئی ہے وہ منہ بناۓ کہتی کچن کی طرف بڑھ گئی کیا ہوا منہ کیوں لٹکا ہوا ہے نیلی بلی روحان اسے منہ پھلاۓ دیکھ ابرو اچکاۓ بولا تمہارہ یہ بھائی بلکل مختلف ہے تم سے کبرا اسے دیکھتی کہنے لگی بس کر دو اب تم بھی سب کی طرح ان کے قصیدے شروع مت کر دینا کوئی مختلف نہیں ہوں میں میری بھی انکی طرح سبز آنکھیں ہیں بس زرا ہندسم نہیں ہوں ان کی طرح لیکن یہ.مت بھولوں کے پورے خاندان میں صرف میری تمہاری آغا جان اور بھائی کی ہی آنکھیں کالڑد ہیں پورے علاقے میں سب مجھے چھوٹے سائیں بلاتے ہیں روحان منہ لٹکاۓ کہنے لگا ارے ارے بولتے ہی چلے جا رہے ہو میں صورت نہیں سیرت کی بات کر رہی تھی تم کتنے اچھے ہو نا سویٹ تمیزدار اور ایک یہ تمہارہ بھائی منہ پھٹ بدتمیز بد لحاظ لوفر وہ روحان کو دیکھے بغیر نون اسٹوپ بولی رہی تھی جب اچانک اسکی نظر روحان پر گئی جو چہرے پر خوف سجاۓ اسے چپ رہنا کا اشارہ کرتا تیزی سے باہر کی طرف بھاگا تھا جبکہ اسکے جاتے ہی کبرا خطرہ کو بھانپتی پلٹی تھی جہاں وہ دونوں ہاتھ باندھے چہرے پر سختی سجاۓ اسے دیکھ رہا تھا ٹھیک ایسے ہی خیال میرے بھی ہیں تمہارے بارے میں سمجھی تم درائیور کی سگی وہ اسکے قریب ہوتا سختی سے بولا “میرا نام کُبرا عباس خان ہے بہتر ہوگا آپ بھی مجھے میرے نام سے ہی پکاریں” وہ خود کو سنبھالتی رعب دار لہجے میں بولی جبکہ دل اسکے اچانک نازل ہونے سے لرز کر رہ گیا تھا “کُبرا؟ یہ کیسا نام ہے کوبرا ہاں ویسے کوبرا🐍 نام زیادہ سوٹ کرتا تم پر” تسمیر اسے تپانے والے انداز میں کہنے لگا اچھا کیا ایسا ہے؟ تو پھر آپ کو بھی شکر منانا چاہیے کہ آپ کا نام ت سے شروع ہوتا ہے اگر ک سے شروع ہوتا تو— وہ ابھی بول رہی تھی جب وہ جھٹکے سے اسے قریب کر گیا تھا کیا مطلب ہے تمہارہ؟ تم مجھے کتا کہ رہی ہو؟( عربی میں کتمیر (کتا)کو کہتے ہیں) آئندہ کے بعد زبان سنبھال کر بات کرنا مجھ سے مت بھولو کہ میں تسمیر علی خان ہوں تمہارہ حاشر نشر بھی کر سکتا ہوں وہ اسے دیکھتا لہجے میں بلا کی سختی لیے کہنے لگا “میرا ہاتھ” وہ نیلی آنکھوں میں نمی لیے کرائی یقینا اب تم سمجھ گئی ہونگی! اسکے چہرے پر ایک نظر دالے وہ اب زرا نرم لہجے میں کہنے لگا وہ جو کب سے فرار کا رشتہ تلاش کر رہی تھی اسکے نرم پڑتے ہی جھٹکے سے اسکی گرفت سے نکلتی باہر کی طرف بھاگی تھی

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

“کیا ہوا بھائی؟” روحان اسے پریشان کھڑا دیکھ پوچھنے لگا ؟”کچھ نہیں تم سناؤ کیا حال ہیں؟ کر کیا رہے ہو آج کل؟”وہ ہوش میں آتا مسکرا کر بولا “میں ٹھیک سیکنڈ ائیر کے فائنل کی تیاری کر رہا ہوں آپ کو آئدیا نہیں ہے بھائی جان کتنی سختی ہے ہمارے یہاں پڑھائی پر وہ ہے نا نیلی بلی ہمیشہ آگے نکل جاتی ہے مجھ سے” روحان منہ بناۓ کہنے لگا “کون نیلی بلی؟ “تسمیر ابرو اچکاۓ بولا “ارے کُبرا نیلی آنکھیں ہیں نا اسکی” روحان ستائشی انداز میں بتانے لگا “اتنی بھی کوئی خاص نہیں ہے” تسمیر عام سے انداز میں بولا “خیر ایسی بات نہیں ہے خوبصورت تو وہ بہت ہے اور آپ آہستہ بولیں آغا جان کی فیورٹ ہے سب کی لاڈلی ہے گھر میں کوئی بھی کچھ نہیں کہتا اسے” روحان اسے بتانے لگا “ہاں خیر خوبصورت تو ہے پھر شاید اپنی زبان کی وجہ سے مار کھا جاتی ہے” تسمیر کچھ سوچتے ہوۓ بولا “نہیں بھائی اسے پہنچاننے میں غلطی کر رہے ہیں کبرا ایک بہت اچھی لڑکی ہے سلجی ہوئی بس آپ جیسے لوگ اسے پسند نہیں آتے آئی میں آپ تھوڑے الگ ہیں اسلئے وہ الجھی ہوگی آپ سے” اسکی گھوری دیکھ کر وہ فورا بات پلٹ گیا تھا ہممم “ٹھیک ہے چلو اب جاؤ سو جاؤ مجھے اتنی باتیں پسند نہیں ہیں”وہ پھر سے اپنے پسنددیدہ موڈ میں آتا بولا حد ہے عجیب ہیں آپ روحان منہ بناۓ کہتا پلٹ گیا “اتنا غصہ نہیں کرنا چاہیے تھا مجھے” وہ اسکی سرخ نم ہوتی آنکھیں کو یاد کرتا پیشانی مسلتا کہنے لگا

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

کھانا لگ چکا تھا ہمیشہ کی طرح بس ٹبیل پر بیٹھے آغا جان کے آتے ہی سب کھانے میں مصروف ہو گئے ہماری کبرا کہاں ہے آج؟ آغا جان کھانے کا نوالہ لیتے بولے وہ اسکا.موڈ نہیں ہے آغا جان برکت انہیں بتانے لگی جبکہ اسکی بات سے تسمیر کے کان کھڑے ہوۓ تھے کیوں؟ کس وجہ سے؟ بلا کر لائیں اسے ہم ضرور وہ وجہ جاننا چاہیں گے جس سے ہماری بچی کا دل دکھا ہو آغا جان کے کہنے پر برکت اسکے روم میں آئی جہاں وہ منہ لٹکاۓ کھڑکی میں بیٹھی کچھ سوچ رہی تھی اسکے روم میں ہمیشہ ہی فیری لائٹ اون رہتی تھیں نیلی بلی تمہارہ بلاوا آیا ہے برکت اسے دیکھتی کہنے لگی مجھے نہیں آنا کبرا منہ لٹکاۓ بولی آغا جان بلا رہے ہیں برکت مسکرا کر کہنے لگی “میں نہیں جا رہی وہاں وہ بھی ہونگے “کبرا منہ بناۓ بولی “کون؟” وہی تسمیر خان صاحب بدتمیز بد تہزیب انسان برکت کے پوچھنے پر کبرا ایک بار پھر منہ بناۓ بولی اللہ اللہ نیلی بلی آہستہ بولو اگر سن لیا میر بھائی نے تو جان نکال دیں گے برکت اسے چپ کروانے لگی ہاں تو سن لیں میں ڈرتی نہیں ہوں آغا جان سے ایسی مار پٹواؤں گی کہ یاد رکھے گے بتا دینا انہیں وہ روتے ہوۓ بولی تو آجاؤ تمہارے سامنے ہی مار کھا لیتا ہوں برکت سے کہنے سے پہلے اسکی آواز گونجی تھی ارے تسمیر بھائی آپ یہاں؟ برکت اسے آتا دیکھ گھبرا کر بولی ہاں تم.تو آکر بھول ہی گئیں تو اسئلے آغا جان نے مجھے بھیج دیا اب تم جاؤ میں لے کر آتا ہوں دادا کی پوتی کو میر مسکرا کر کہتا اسکے قریب آیا تھا جبکہ اسکے آتے ہی وہ منہ پھیڑ گئی منہ کیوں بنا ہوا ہے تمہارہ؟ ہاں مانتا ہوں کہ میں نے بہت غصہ کیا تھا لیکن غلطی تمہاری بھی تھی کتنا بڑا ہوں میں تم سے تقریبا نو سال تو ہوں گا اور تم اتنی زبان چلا رہی تھی اور مجھے ایسی زبان چلانے والی لڑکیاں زہر لگتی ہیں میر اسکے معصوم چہرے پر نظر ڈالے نرم لہجے میں بولا مجھے بھی ایسے لڑکے زہر لگتے ہیں جو بڑوں سے بدتمیزی کریں لڑکیوں پر اپنے مضبوط ہونے کا روعب ڈالیں وہ ہنوز منہ بناۓ کہنے لگی افف خیر میں تم سے کہ بھی نہیں رہا کہ تم مجھے شہد سمجھو بلکہ تمہارے لیے مجھے زہر سمجھنا ہی اچھا ہے ویسے بھی مجھے اپنے بارے میں کسی کے خیالوں سے کوئی فرق نہیں پڑھتا میں صرف اتنا چاہتا ہوں تم میری وجہ سے کھانا پینا مت چھوڑو نیچے آغا جان انتظار کر رہے ہیں وہ اسے دیکھتا عام سے انداز میں بولا میں آپ کی وجہ سے کھانا پر نہیں آئی ہاں بس مجھے ایسے رویے کی عادت نہیں ہے خیر یہ بات آپ بھی اپنے زہن سے نکال دیں کہ میں آپ کی وجہ سے اپ سیٹ ہوں مجھے آپ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے وہ نرم لہجے میں کہتی باہر نکل گئی تھی عجیب ہے یہ بھی میر اسے جاتا دیکھ مسکراتا ہوا خود سے بولا تھا…..