📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 32

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

وہ نظریں اس پر مرکوز کیے ہوۓ تھا جو سرخ ساڑھی پہنے اپنی نیند سے بوجھل نیلی آنکھوں اور سرخ ہونٹوں سے آج اسکے سر پر امتحان بنے کھڑی تھی

جبکہ کُبرا خود پر کسی کی تپی ہوئی نظریں محسوس کرتی مڑی جہاں وہ اسکے سامنے ہی دیوار سے ٹیک

لگاۓ اسے نظروں میں اتاڑ رہا تھا کے اسکی نظروں سے سب کی موجودگی میں وہ دل پر سنبھالے سائد پر ہوئی

اس وقت وہ کہیں گھوم ہونا چاہتی تھی جو آج اپنی نظروں سے ہی ہلاک کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اپنا اتنا تیار ہونا اب سنگین غلطی لگ رہا تھا

ارے تسمیر آؤ نا ہمارے ساتھ بیٹھو, تم نے اور کُبرا نے تو ایک تصویر تک ساتھ نہیں لی سلمہ کے کہنے پر وہ

شرارتی نظریں اس پر گاڑھے انہیں کی طرف آیا

ننہیں ہم نے لے لیں تھیں پیکس وہ اسے اپنے قریب آتے

دیکھ فوری سے بولی

ڈالنگ شرما کیوں رہی ہو اتنا؟ ہم نے کب لیں پیکس؟ اب موم کہ رہی ہیں تو بڑوں کی بات کو رد نہیں کرتے تسمیر

اسے چھیڑنے کو بلند آواز میں کہتا اسے ڈارلنگ لفظ سے مزید شرمندہ کر گیا اس کے بعد وہ فوٹوگرافر کو اشارہ کر گیا

برکت روحان اور ان دونوں کا شوٹ ساتھ ہی کیا گیا تھا کے کُبرا اسے کسی کی بھی پروا کیے بغیر خود کے بے حد قریب کھڑا دیکھ سب کے سامنے خجل سی ہوئی جس پر وہ ایک بار پھر اسے قریب کرگیا

( لیکن یہاں شرم نام کی چیز آخر تھی کس میں؟)

سلمہ ان چاڑوں کو ساتھ کھڑا دیکھ کر بے اختیار نظر اتار گئیں آج انکہ فیملی مکمل ہو گئی تھی

اہمم اہمم آج تو کچھ لوگ بلکل ہی بدلے بدلے سے لگ رہے ہیں وہ جو اپنی پکچڑز بنانے میں مصروف تھی جون کی آواز سے پلٹی

ویسے آپ اتنی پیاری اصل میں لگ رہی ہیں یا میری نظروں کا دھوکا ہے؟ وہ ہنوز اسے چھیڑنے لگا

آپ کی نظریں آج بلکل ٹھیک کام کر رہی ہیں صباحت منہ بناۓ بولی جس پر وہ قہقہ لگا گیا

وہ دونوں ہی سفید رنگ کے سوٹ میں ملبوس تھے

تیار رہیں کیوں کہ نیکسٹ باری ہم دونوں ہی کی ہے وہاں بیٹھنے کی وہ آنکھ دبا کر کہتا اسے شرمانے پر مجبور کر گیا

میئری یار ادھر آؤ ! وہ جو صباحت سے باتوں میں مصروف تھا اسے گزرتے دیکھ آواز لگا گیا

جی جناب؟ مریم ابرو چکا گئی

ہم دونوں کی تصویر تو لے دو وہ اسے دیکھتے ہوۓ کہنے لگا کے صباجت حیران سی اسے دیکھنے لگی

مجھے نہیں بنوانی وہ فورن اس سے دو قدم پیچھے ہوئی جب وہ اسکا ہاتھ تھامے اپنے مقابل کر گیا

تم بناؤ! اب کی بار وہ پھر سے میئری سے مخاطب ہوا

مجھے کیا ملے گا؟ وہ مزے سے بولی

دو چماٹ اب بناؤ تصویر اسکے کہنے پر مئیری کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورتی انکی تصویریں بنانے لگی

*******************

کہاں جارہی ہو؟ روحان اسے جاتا دیکھ اسکا ہاتھ تھام گیا

ظاہر ہے سونے جا رہی ہوں برکت اس کے ہاتھ تھامنے پر نظریں سکیڑ کر بولی

مبارک ہو بیگم صاحبہ! جب وہ اسے قریب کھینچے گھمبیر لہجے میں بولا کے برکت کے دل نے اسکی اچانک بدلتی ٹون پر ایک بیٹ مس کی تھی

کیا ہے روحان پیچھے ہوکر بات کرو وہ گھبرا کر کہنے لگی

کیوں جناب اب تو پورا حق رکھتا ہوں میں آپ پر !

اسکی آنکھوں کی چمک بتا رہی تھی وہ آج واقعی دنیا فاتح کر چکا ہے کیوں کہ آج وہ اپنی محبت کو نکاح نامے

پر دستخط کرکے اسے ہمیشہ کے لیے اپنے نام کر چکا تھا بے اختیار وہ اپنی محبت کی پہلی مہر اسکی پیشانی پر چھوڑ گیا

ککیا کر رہے ہو پیچچھے ہو! برکت کو اب صیح معینوں خطرے کا احساس ہوا لان میں اب صرف وہی دونوں ہی

تو تھے اوپر سے اسکی باتوں سے وہ پہلی بار اسکے سامنے لا جواب ہوئی تھی

آئی ڈونٹ نوؤ واۓ بٹ آئی لیوو یو آلوٹ ڈئیر وائفی! محبت پاش لہجے میں کہتا وہ ایک بار پھر اسکی پیشانی پر لب رکھ گیا

جاؤ اب! اسکی حالت سے محفوظ ہوتا وہ ہاتھ چھوڑ گیا کے وہ بھاگنے کے سے انداز میں وہ اندر کی طرف بھاگ گئی

…………………………………….

وہ تقریبا بارہ بجے کے قریب روم میں آئی تھی جان کر یہ ٹائم صباحت اور میئری کے ساتھ گزارا تھا

اسکی نظروں سے تو وہ پوری محفل میں ہی کنفیوز رہی تھی اور اب روم میں تو کم از کم وہ اسکے سونے کے بعد ہی جانا چاہتی تھی اسئلے اب جب روم میں آئی تو سامنا نیم روشنی میں ڈوبے کمرے سے ہوا

اسکا مطلب وہ سو گیا ہے! کُبرا سکون کا سانس بھرے بامشکل ساڑھی سنبھالتی بیڈ کی سائد ٹیبل سے الماری

کی چابی اٹھانے کو جھکی ہی تھی جب وہ اسے جھٹکے سے بیڈ پر کھینچ گیا تھا اس اچانک اتفاد پر وہ خوفذدہ

سی دل پر ہاتھ رکھ گئی کے وہ دونوں ہاتھ اسکے آس پاس بیڈ پر ٹکاۓ چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجاۓ اسے دیکھنے لگا

آپ کبھی کوئی انسانوں والی حرکت کر سکتے ہیں؟ وہ غرائی

تمہیں کیا لگا تھا تم بچ جاؤ گی مجھ سے آج؟ اسکی بات کو نظرانداز کرتے وہ تیوری چڑھاۓ بولا

آپ کیوں کر رہے ہیں میرے ساتھ ایسے؟ یہ غلط ہے! کُبرا روہانسی ہوئی

کوئی غلط نہیں ہے میں پورا حق رکھتا ہوں تم پر اور ویسے بھی آج تو تم نے اپنی شامت خود بلائی ہے سویٹ ہارٹ!

گھمبیر لہجے میں کہتا وہ اس پر ایک گہری سبز نظریں مرکوز کیے اسکی پیشانی پر مہر چھوڑ گیا

کیا طرز مخاطب تھا وہ اسکے لہجے اور لمس سے پرسکون سی سرخ ہوتی نظریں جھکا گئی یہ پہلی بار تھا کے وہ اسکے آگے نظریں جھکا گئی تھی جب وہ

مسکرا کر جھکتا اپنا حق استعمال کیے اسکی آنکھوں پر بھی باری باری مہر چھوڑ گیا جب کے وہ اپنے تیار ہونے پر خود کو لاتعداد بار کوس چکی تھی

تسمممیر! کُبرا اسکی شرٹ کو مضبوطی سے تھامے اپنے ہاتھوں سے اسے منمانیوں سے باز رکھے ہوۓ تھی لیکن وہ

نازک جان اسے کہاں باز رکھ سکتی تھی وہ بے خود سا اسکے لبوں پر جھکا جب دروازہ نوک ہوا تھا

کُبرا کی جان میں جان آئی لیکن ہنوز اسے اسی پوزیشن میں دیکھ کر بامشکل اسے پیچھے کرتی بے ہنگم سانوں کے بیچھ میں بولا پائی

باہر کوئی ہے! بامشکل لفظ ادا ہوۓ تھے

ہونے دو خود ہی تھک کر چلا جاۓ گا وہ ڈھٹائی سے بولا کے وہ سرخ سی چلائی

جائیں!!! دوبارہ ہونے والی دستک سے وہ بدمزہ سا بیڈ سے اٹھا

ایک تو انسان کو جوائنٹ فیملی میں بھی نہیں رہنا چاہیے بالوں کو ہاتھ پھیڑتا وہ دروازے کی جانب بڑھ گیا کے کُبرا اسکی بات پر مسکراہٹ ضبط کر گئی

فرماؤ؟ دروازہ کھولے فریدے کو سامنے دیکھ کر عصاب تن گئے تھے

وہ اماں جان کی طبیت خراب ہو رہی ہے وہ آپ کو بلا رہی ہیں! اسکے چہرے کے تنے تاثرات سے وہ فوری سے بولی

کیوں میں ڈاکٹر ہوں؟ اسکے بےتکے جواب سے فریدے کافی حیران ہوئی

کیا ہوا ہے اماں جان کو؟ سب ٹھیک تو ہے؟ کُبرا اسکے پیچھے آئی

جی پتا نہیں اور انہوں نے ان سے کچھ بات بھی کرنی ہے وہ تسمیر کی جانب اشارہ کر گئی جو اسے فلحان تیوری چڑھاۓ دیکھ رہا تھا فلحان وہی اسکا موڈ خراب کرنے کی وجہ بنی تھی

آپ جائیں یہ آریے ہیں! کُبرا کے کہنے پر فریدے ایک تیز نظر ان دونوں پر ڈالتی نیچھے کی جانب بڑھ گئی

ہاں اماں جان کو ٹائم ہی تو بات کرنی تھی نا مجھ سے مطلب کے اس گھر میں کپلز کا خیال ہی نہیں ہے! وہ منہ

بسورے کہنے لگا اسکی بات پر وہ اسے گھور کر رہے گئی کسی ایک تو اسے لحاظ ہو

ہو جاؤ خوش! دیکھ لوں گا میں تمہیں! مسکراہٹ ضبط کرتے دیکھ وہ مزید تپا تھا

جائیں پہلے اماں جان کو دیکھ لیں!

اسکے جاتے ہی وہ سکون کا.سانس لیتی الماری سے کپڑے نکالے واشروم کی طرف بڑھ گئی اب اسکے آنے سے پہلے وہ سو جانا چاہتی تھی

*******************

انکے روم میں جانے سے پہلے ہی اسکی نظر آغا جان کے کمرے سے آتی روشنی پر گئی

وہ اب تک جاگ رہے تھے؟ کسی خیال کے تہد وہ قدم انکے کمرے کی جانب کر گیا

آپ سوۓ نہیں؟ انہیں کرسی کی پشت سے ٹیک.لگاۓ وہ مخاطب کر گیا کے اس کے اچانک آنے پر وہ محض اس پر ایک نظر ڈال کر واپس منہ پھیڑ گئے

میں جانتا ہوں آپ خفا ہیں مجھ سے لیکن آپ کو بھی مجھے سمجھنا چاہیے! وہ انکی کرسی کے ساتھ ہی دوسری کرسی کھینچ کر لاتا انکا ہاتھ تھام گیا

جس دن وہ لوگ کُبرا کو اٹھا کر لے گئے تھے آپ یقین کریں مجھے لگ رہا تھا کسی نے میرے پاؤں سے زمین اور

سر سے آسمان چھین لیا ہے میں ڈسٹرب تھا اور یہی وجہ تھی کے اس دن میں آپ کی باتیں برداشت نہیں کر سکا! وہ انکا ہاتھ تھامے انہیں دیکھتے ہوۓ بولا

تم شاید بھول.رہے ہو کہ میں نے ہی تمہاری اور اسکی شادی کا فیصلہ کیا تھا ورنہ تم اس کے لیے راضی نہیں تھے آغا جان ابرو اچکاۓ کہنے لگے

یہی وجہ ہے کہ میں اس وقت آپ کے سامنے بیٹھا آپ سے اپنے روایہ کی وضاحت دے رہا ہوں ورنہ آپ جانتے ہیں

مجھے کبھی کسی ناراضگی سے فرق نہیں پڑھا لیکن آپ کی ناراضگی اس کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے تسمیر صاف گوئی کا مظاہرہ کرنے لگا جس پر آغا جان کے چہرے پر ایک اطمینان بخش مسکراہٹ رینگی

اور یہی وجہ تھی کہ میں نے تمہاری اور اسکی شادی کا فیصلہ کیا تھا کیوں کہ تم شروع سے میری طرح شدت پسند رہے ہو جب کسی سے نفرت کی تو شدت سے کی

اور جب محبت کرتے ہو تو وہ شدت سے کرتے ہو میں جانتا تھا ایک تم ہی ہو جو اسے اس دنیا میں مجھ سے بھی زیادہ محبت کر سکتے ہو وہ مسکرا کر ٹہر ٹہر کر بولے

جبکہ وہ تو ایک ہی بات پر اٹک گیا تھا ——–محبت؟ کیا وہ اس سے محبت کرنے لگا تھا؟ خود سے سوچتے وہ سر نفی میں ہلا گیا

جاؤ سو جاؤ میں ٹھیک ہوں اب! آغا جان اسکا کندھا تھپتھپا گئے کے وہ بھی سر ہلاتا اٹھ گیا ویسے بھی اب اماں جان کے پاس جانا تھا جو پتا نہیں اس وقت کیا باتیں کرنے کو بیٹھی تھیں

………………………..

کچھ بھی نہیں ہے بس تھوڑا بی پی لو ہو گیا ہے! وہ انکے ہاتھ سے بی پی اوپریٹر نکال کر کہنے لگا

شکریہ میرا بچہ! وہ اسکے سر پر ہاتھ.رکھے بولیں

تم نے کیا سوچا؟ کُبرا اور اپنے بارے میں؟ کب طلاق دے رہے ہو تسمیر جو اٹھ رہا تھا انکی بات سے قدم منجمد ہوۓ

کیا مطلب ہے اس بات کا؟ دھیلے عصاب فورن تنے

تم.نے شادی سے پہلے کہا تھا کہ تم چھوڑ دو گے اسے تو وہی پوچھ رہی ہوں کن چھوڑ رہے ہو؟ میں چاہتی ہوں تم

جلدی.جلدی یہ کام ختم.کرکے مریم بیٹی سے نکاح کر لو

وہ روانگی میں کہتی اسکے چہرے کے تاثرات نہیں دیکھ پائی

بہتر ہوگا آپ آئندہ اس قسم کی بات مجھ سے نا ہی.کریں اور طلاق کی بات میں نے نہیں آپ نے کی تھی اور جب

وہ میری بیوی نہیں تھی لیکن اب وہ بیوی ہے میری اسئلے آئیدہ اس طرح کی بات سے گریز کریں! وہ کاٹ دار لہجے میں بولا

کیوں اب ارادے بدل گئے ہیں محبت تو نہیں ہو گئی تمہیں اس سے؟ وہ اپنا اشتعال دباۓ ہوۓ تھی

میرے نکاح میں آنے کے بعد وہ میرے لیے واجب المحبت ہے اس سے بھی آپ کا کوئی مطلب نہیں ہے نا چاہتے ہوۓ بھی وہ اپنے کہجے کی تلخی کو کم نہیں کر پایا

تم اب میرے سے اس طرح بات کرو گے؟ وہ آگ بگولہ ہوئیں

شکر کریں آپ کا لحاظ کر رہا ہوں اگر. یہاں آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اب تک اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوتا اور مئیری کا خیال ذہن سے نکال دیں وہ ڈھاراتا وہ تیزی سے باہر نکل گیا کے اماں جان اپنی جگہ کھسیانی ہوئی

بی بی میں نے کہا تھا نا آپ کو پانی اب سر سے اوپر ہو گیا ہے میں تو کہتی ہوں اب بھی وقت ہیں جلدی کریں جو کرنا ہے ورنہ—– فریدے اندر داخل ہوتی انہیں جلانا نا بھولی

وہ روم میں آیا تو نظر اس پر گئی جو بیڈ پر تکیوں کی ٹرین لگاۓ بے خبر سی سو رہی تھی اسکی مصوم سی

حفاظتی تدبیر دیکھ کر تنے عصاب کی جگہ دلفریب مسکراہٹ نے لی تھی اسکے پیشانی سے بال ہٹاتا وہ پیشانی چومتا احتیاط سے سارے تکیے سائد پر کیے کرتا اسے حصار میں لے گیا

اماں جان کی باتوں کو آثر اسکی کربت میں اب زائل ہونے لگا تھا

*****************

ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ نہیں نہیں یہ ممکن نہیں ہے رخسانہ دونوں ہاتھوں سے انکاری تھیں

لیکن ماں اس میں ہرج ہی کیا ہے وہ سوٹ کرتی ہے بھائی کے ساتھ کُبرا انہیں سمجھانے لگی

نہیں اماں جان کبھی نہیں ماننے گی میرے بھائی کو ویسے ہی اس گھر میں آنے کی اجازت نہیں ہے اور اب میں یہ کہ کر اپنی بچی صباحت کا بھی آنا جانا بند کروا دوں؟ وہ کسی صورت ماننے کو تیار نہیں تھی

لیکن ایسا کیوں ہے؟ کیوں ماموں یہاں نہیں آتے؟ کُبرا اب باضد ہوئی جس پر رخسانہ گہری سانس بھر گئیں

جس دن جہانگیر کے والدین کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اس دن گاڑی بھائی نے درائیو کی تھی وہ انکے ساتھ ہی ناران جا رہے تھے

ناران سے کچھ ہی فاصلے پر بھائی گاڑی روک کر ایک دوکان پر اتڑے اسی دوران ایک گاڑی انکی گاڑی سے آلگی اور وہ دونوں ہی زندگی کی بازی ہار گئے

لیکن اماں جان کا ماننا ہے یہ سب بھائی نے ہی پلان کیا تھا وہ تو مجھے اس گھر سے ہی نکلوانے والی تھیں لیکن

تمہارے ہونے کے بعد آغا جان کی تم میں جان آگئی جس کہ وجہ سے تمہاری دادی تم سے بھی اکھڑی اکھڑی رہتی ہیں اور. صباحت کا تو وہ اپنے اکلوتے نواسے کے لیے کبھی نہیں ماننے گی

وہ اسے ساری حقیقت بتانے لگی

تو یہ تو غلط ہے نا ماں اس میں ہم میں سے کسی کا کوئی قصور نہیں ہے ! وہ منہ.لٹکا گئی

لیکن جون کا کیا ہوگا ماں؟ وہ تو بے حد سیرئز ہے صباحت کو لے کر

یہ تم سے اسنے خود نے کہا ہے؟ رخسانہ حیران ہوئی

جی ہاں میں اب آغا جان سے خود بات کروں گی وہ حقمی انداز میں کہتی اٹھ گئی

………………….

کچھ دیر میں کچن کا کام جتم کرکے وہ لاونج میں ہی صوفے پر بیٹھ گئی جب میئری اسکے پاس آئی

کیا کر رہی ہو؟ وہ مسکرا کر پوچھنے لگی

بس کچھ نہیں ابھی فری ہوئی ہوں.تم سناؤ؟ کُبرا ابرو اچکا گئی

سب ٹھیک چلو آؤ تمہیں کل کی پکچڑز دیکھاتی ہوں بظاہر چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ وہ موبائیل اسکے سامنے کر گئی

وہ خوشگوار حیرت سے سکڑین کو دیکھنے لگی جہاں ان دونوں کی کل کی تصویریں تھیں جو جود تو ریڈ ساڑھی میں تھی

لیکن تسمیر اسکے کالے اور نیلے ڈریس سوٹ میں بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے ہاتھ میں بڑے ڈائل والی بڑینڈد واچ پہنے وہ اسکے ساتھ کھڑا تھا بلاشے وہ بے حد ہنڈسم تھا اسکی تصویر کو دیکھتے ہی دل نے ایک بیٹ مس کی تھی

میں آتی ہوں زرا ! مئیری اسے ستائش سے سکڑین پر نظریں مرکوز کرتے دیکھ جل کر اٹھی

وہ جیسے ہی اٹھی کُبرا مزے سے سکرین پر آنے والی تصویریں دیکھنے لگی کے یکدم ہی اسکے تاثرات بدلے

جبکہ مئیری نے دور سے ہی اسکے بدلتے تاثرات پر فاتحانہ مسکراہٹ سے اسے دیکھا

جیسے جیسے وہ (Swip) کرتی جا رہی تھی اسکی حواس کھوتے جا رہے تھے میئری نے جان کر سکیڑین پر

اپنی اور تسمیر کی وہ تصاویر سیٹ کی تھیں جن میں وہ اسکے بے حد قریب کھڑا تھا اتنا قریب تو شاید وہ کُبرا کے ساتھ بھی رہا تھا غصے اور جلن سے اسکی آنکھیں یکدم ہی سرخ ہوئی تھیں

ارے کیا ہوا تم ٹھیک ہو نا؟ وہ اب اسکے پاس آئی جب کُبرا نے فورن سے سکرین کو اوف کرتے موبائیل اسے تھمایا

اس سے پہلے وہ اور کچھ کہتی کُبرا اپنے روم کی طرف بھاگی تھی

آہاں کیا آیڈیٹ کی ہے تم نے مریم! خود کو داد دیتی وہ قہقہ لگا گئی

آخر کار اسکی کوئی کوشش تو کامیاب ہوئی