📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 25

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

مسلسل بجتے الرام سے اسکی آنکھ کھولی غیر ارادی توڑ پر نظر اپنے ساتھ خالی جگہ پر گئی یعنی وہ جا چکا تھا

لیکن یہ الرام کس کا بج رہا ہے میں نے تو نہیں لگایا

ذہن پر زور دیتی وہ اٹھی کے نظر تسمیر کے موبائیل پر گئی

جو ٹیبل پر پڑا کب سے چیخ رہا تھا گھڑی بھی ابھی صرف صبح کے پانچ بجا رہی تھی

جب وہ بلکونی میں کھڑا نظر آیا اپنی دھند میں کھڑا وہ پر سوچ سا سگریٹ کے کش لگا رہا تھا کے اپنے پیچھے

اسکی موجودگی محسوس کیے وہ پلٹا جہاں وہ تیوری چڑھاۓ اسے دیکھ رہی تھی

اسے دیکھتے ہی آنکھوں میں شرارت لیے وہ اسکے قریب

آتا جھک کر سارہ دھواں اس کے منہ پر پھونک چکا تھا

کے وہ اسکی حرکت پر بامشکل سانس لے پائی

(وہ جو خود اسے گھور کر اس پر رعب چلانے آئی تھی بھول گئی تھی کی خیر سے شرم اور تمیز سے تو اسکی خاصی دشمنی تھی)

کیا بد تمیزی ہے یہ؟

اس اچانک اتفاد کر وہ تیش میں آئی تھی

شرم نہیں آتی شوہر کو بد تمیز کہتے ہوۓ؟ میں نے تو تمہاری ہیلپ کی ہے پوری آنکھیں کھل ہی نہیں رہی تھیں تمہاری سمپل! کندھے اچکا کر کہتا وہ اسے مزید آگ لگا گیا تھا

اللہ بچاۓ مجھے آپ کی ہیلپ سے غصے سے کہتی وہ پلٹی کے وہ اسے کھینچ کر اپنا مقابل کر گیا

تمہیں جیلسی ہو رہی ہے میئری سے؟ اسے لڑکی کو دیکھتا وہ تیوری چڑھاۓ بولا جو قد میں شاید اسکے سینے جتنی ہی آتی تھی

جبکہ اسکی بات سے وہ واقعی سوچ میں پڑھ گئی تھی کے آخر وہ مئیری سے چڑھ کیوں رہی تھی

ممجھے کیوں ہوگی اس سے جیلیسی؟ وہ ابرو اچکا گئی

کیوں کہ میں اب تمہیں اچھا لگتا ہوں وہ شرارت سے کہنے لگا

کبھی نہیں زہر لگتے ہیں مجھے آپ! کے وہ اسکے ہاتھ میں پکڑی سگریٹ دیکھ کر برا سا منہ بناتی روم کی طرف بڑھ گئی

سوچ لو ویسے زہر اور شہد کا کمبینیشن بھی اچھا ہے وہ پیچھے سے اسے چھیڑنا نہیں بھولا تھا

کچھ لمحوں بعد وہ روم میں آیا تو نظر اس پر گئی جو

اب نماز پڑھنے میں مصروف تھی پر نور چہرے پر کچھ پانی کے قطرے اب بھی واضع تھے

آپ نے نہیں پڑھنی؟ یہ شاید پہلی بار تھا کہ وہ اس سے نماز کا کہ رہی تھی

نہیں! تسمیر لفظی جواب دے گیا

کوشش تو کریں بے شک اللہ کے ہاں توبہ کے دروازے ہمیشہ کھولے رہتے ہیں اور گناہ چاہیے انجانے میں ہو یا

جانتے بوجھتے اگر سچے دل سے معافی مانگو تو وہ معاف کر دیتا ہے کُبرا اب اسکے پاس آتی مسکرا کر بولی

نہیں مجھے پڑھنی ویسے بھی مجھے جلدی ہے تم پڑھ رہی ہو نا کافی ہے سختی سے کہتا وہ واشروم میں بند ہو گیا تھا کے وہ سرد آہ بھر کر رہے گئی

(توبہ کے دروازے تو ہر وقت کھلے رہتے ہیں بس ہم انسان ہی دیر کر دیتے ہیں اسکے پاس جانے میں)

************************

خان میشن میں اس وقت بلکل سناٹا سا تھا صبح کے چھ

بج رہے تھے اب وہ اٹھ ہی چکی تھی تو کچن میں کھڑی اس وقت اس شخص کے لیے ناشتہ بنا رہی تھی جس کے کام کرنا اب اس نیلی آنکھوں والی لڑکی کو بھی بے حد پسند تھا لیکن یہ شخص

اسکی سمجھ سے تو باہر ہی تھا افف یا اللہ آپ نے ایک نمونہ ہی دے دیا ہے مجھے کبھی اتنے کھڑوس بن جاتے ہیں

اور کبھی اتنے ہی بے شرم اور بد تمیز! وہ اب صیح معانی میں اس کے بدلتے روپ سے پریشان تھی

توبہ توبہ صبح صبح شوہر کی برائیاں چل رہی ہیں ! روحان کی آواز سے وہ پلٹی

طبیت تو ٹھیک ہے تمہاری؟ اتنی جلدی کیسے اٹھ گئے ہو؟ کُبرا مسکراہٹ دباۓ کہنے لگی

جب تم اتنی صبح اٹھ سکتی ہو تو میں بھی اٹھ سکتا

ہوں باۓ ڈا وے میں جم جا رہا ہوں ایک ادا سے کہتا وہ کُبرا کو قہقہ لگانے پر مجبور کر گیا تھا

ہاہاہا تو اب تمہاری بھی انکل جیسی تونڈ نکل رہی ہے؟

ہاہاہا ویری فنی جم صرف اسمارٹ ہونے کے لیے نہیں ہوتی بوڈی بھی بنانی کے لیے بھی ہوتی ہے روحان دانت پس گیا

جب تسمیر گرے شلوار قمیض کی بازو فولڈ کیے سیدھے ہاتھ کی مضبوط کلائی میں ہمیشہ کی طرح بڑے ڈائل والی بلیک واچ ڈالے گرے ہی ویسٹ کورٹ پہنے اس طرف آرہا تھا

بے شک اسکی گہری سبز آنکھیں اور کانوں سے تھوڑا نیچھے آتے بال اسکی وجاہت کو مزید بڑھاتے تھے

بھائی کے جیسی کول! روحان اسے سامنے سے آتا دیکھ فخر سے بولا البتہ وہ اب بھی کام میں مصروف سی اسے آتا نا دیکھ پائی تھی

ہاں انہیں بھی ساتھ لے جاؤ ویسے ہی اتنے موٹے ہیں

وہ مصروف سی کہتی روحان اور تسمیر دونوں کا منہ کھلوا گئی تھی

جو اتنے آرام سے اسکی اتنی ہمت سے بنائی بوڈی کو موٹا کہ چکی تھی

چھوڑو روحان ویسے بھی بندر کیا جانے ادرک کا سواد! اسکی آواز سے وہ اس طرف متواجہ ہوئی

اسے دیکھتے ہی وہ دل ہی دل میں نظر اتار گئی تھی

آپ خود ہونگے بندر! اسکے سامنے پڑاٹھا رکھتی وہ خاصی تپ کر بولی

آہ بھائی توبہ توبہ زبان چلا رہی ہے آپ سے میں تو کہتا ابھی اسی وقت آپ مجھے حکم دیں میں اسکی زبان ابھی قلم کرکے دیوار میں چنوا دیتا ہوں

کہیں اس نیلی بلی کو دیکھ کر میری والی بھی نا سیکھ جاۓ اسکی تو ویسے بھی دس گز لمبی زبان ہے

روحان کانوں پر ہاتھ لگاتا اس وقت کسی پھوپھو سے کم نہیں لگ رہا تھا

اگلے ہی لمحے کُبرا اسے چٹ رسید کر چکی تھی

اگر اب تم دونوں اپنی یہ پھوپھو خالہ والی حرکتیں بعد

کے لیے ادھاڑ رکھ لیں تو پلزز مجھے ناشتہ مل سکتا ہے؟

تسمیر کے کہنے پر وہ اسے گھورتی ناشتہ اسکے آگے لگانے لگی

تسمیر کو اس سے کام کروانا نجانے کیوں ایک اپنائیت کا احساس دتیا تھا وہ دن بدن اس لڑکی پر ڈپینڈ ہوتا جا رہا تھا

ابھی وہ انہیں سوچوں میں تھا جب اسکے اپنی گردن کے گرد کسی کا حصار محسوس ہوا

مورننگ ہنڈسم! مئیری اسکے گرد حصار باندھے بولی جبکہ اسکی بے باکی پر روحان اور کُبرا دھنگ سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے

مورننگ ! تسمیر کُبرا کی خود پر تپتی نظریں محسوس کیے سٹپٹا اسکے ہاتھ ہٹا گیا

کیا کھا رہے ہو؟ وہ اسکے ساتھ ہی بیٹھ گئی کے کُبرا کے بدلتے تاثرات سے وہ محفوظ ہوا

یہ تو پراٹھے ہی ہیں لو تم بھی کھا کر چیک کرو وہ شرارتی انداز میں کہتا جود نوالہ بنا کر اسکے منہ کے قریب کر گیا

اہمم چلو میں چلتا ہوں روحان اس سچویشن سے پریشان پوتا باہر کی طرف بڑھ گیا تھا

جبکہ کُبرا کا دل چاہا رہا تھا اپنے سامنے موجود آدمی کا سر پھاڑ دے جو اسکا خون جلا کر ہی خوش ہوتا تھا

مجھے کالج جانا ہے! وہ بولی نہیں بلکہ چلائی تھی

یہ اچانک ارادہ کیسے تبدیل ہوگیا تمہارا؟ تسمیر ابرو اچکا گیا

میم کی کال.آئی تھی پہلے میں نے سوچا تھا کہ روحان کے ساتھ جاؤں گی لیکن اب آپ کو اتنا فارغ بیٹھا دیکھ

کر میں کیوں دوسروں کے ساتھ جاؤں؟ وہ ایک لفظ چبا کر کہتی اسے مسکرانے پر مجبور کر گئی

مجھے واقعی جلدی ہے! وہ اب اٹھا کے کُبرا اسکا راستہ روک گئی تھی

میں آرہی ہوں دو منٹ میں! اسے گھور کر کہتی وہ اوپر کی طرف بڑھ گئی

جبکہ مئیری مزے سے ناشتے میں مصروف تھی

*********************

وہ آج اس بلڈنگ کے آگے کھڑی کنفیوز سی تھی کل تو اسے اندر جانے سے پہلے ہی روک دیا گیا تھا

یا اللہ پلزز عزت رکھ لیجیے گا صباحت خود سے کہتی اس ہوٹل کے اندر قدم رکھ گئی

جی میم آپ کو کس سے ملنا ہے؟ ریسیپشن پر موجود لڑکی کے پوچھنے پر وہ کنفیوز سی اس کی طرف گئی

مجھے آپ کے یہاں سے کال آئی تھی اکاؤنٹنٹ کی جوب کے لیے تو وہ ابھی بول رہی تھی جب لڑکی بات اچک گئی تھی

جی جی میم صباحت ولید؟ تھرڈ فلور پر بوس کا روم ہیں آپ جاکر ان سے مل لیں اس کے کہنے پر وہ سر ہلاتی تھڑد فلور کی طرف بڑھ گئی

وہ جو اپنی چیئر پر بیٹھا کسی فائل پر جھکا ہوا تھا دروازہ نوک ہونے پر اسکی طرف متواجہ ہوا

یس!

جانی پہنچانی آواز سے وہ جھکٹے سے چہرہ اٹھا گئی جہاں وہ مسکراہٹ دباۓ اسے دیکھ رہا تھا

آآآآپ؟ حیرت کے پھاڑ تھے جو اس سامنے موجود شخص کو دیکھ کر ٹوٹے تھے

بس بس مسز صباحت اگر اتنی آنکھیں کھولیں گی تو کہیں نیچھے ہی نا گر جائیں جون مسکراہٹ دباۓ کہتا اسے شرمندہ کر گیا

آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ وہ اب بھی حیرت میں ہی تھی

اچھا؟ تو یہ ہوٹل کس کا یہ آپ نہیں جانتی؟ آغا ہوٹلز میں کھڑی ہوکر آپ کو اس کے اونڑ کا نہیں پتا؟ جون ابرو اچکا گیا

کے وہ اب پہلی بار اس ہوٹل کے نام پر غور کر رہی تھی

مجھے کال آئی تھی اکاؤٹینٹ کے لیے وہ کنفیوز سی بولی

جی میں نے ہی کال کی تھی آپ کو اور آپ آج سے

اکاؤٹینٹ نہیں بلکہ میری پرنسل سیکرٹری کے توڑ پر کام کریں گی وہ مسکرا کر بولا جب صباحت بھی مسکرائی تھی

کتنی گھبرا رہی تھی وہ یہاں آتے ہوۓ لیکن اب اس شخص کو اپنا بوس دیکھتے ساری ٹیشن ہوا ہوئی تھی

********************

پورے راستے وہ اسکی خاموشی محسوس کرتا آیا تھا

جب خاموشی کو اسکے مسلسل بجتے فون نے توڑا

ہاں بولو؟ ہمیشہ کی طرح سیدھا مدعے پر آیا

میں بھی تمہیں بتا چکا ہوں شاہ کے میں تمہارے بیٹے کس کیس نہیں کینے والا اور ویسے بھی اب تو وہ سیدھا اندر گیا

سخت تاثر لیے کہتا وہ کُبرا کو خوفذدہ کر گیا

جو مرضی آۓ کرو میر شاہ تسمیر خان کسی کی دھمکی سے نہیں ڈرتا اسکی بات کو ہوا میں اڑاتا وہ کال رکھ گیا

کُبرا خوفذدہ سی اسے دیکھ رہی تھی جب وہ جھٹکے سے گاڑی روک گیا اس سے پہلے وہ کالج دیکھ کر اتڑتی کے تسمیر اسکا ہاتھ تھام چکا تھا

چھوڑیں مجھے! اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دیکھ کر ایک بیٹ تھی جو اسکے دل نے مس کی تھی

خود تو تم مجھے ہاتھ تک پکڑنے نہیں دیتی اور مئیری کے گلے لگنے پر بہت برا لگتا ہے تمہیں؟ وہ شرارت سے گویا ہوا

ہاں تو آپ کی دوست بھی تو آپ کی طرح بے شرم ہی ہے کُبرا منہ بنا گئی جس پر تسمیر کا جاندار قہقہ گونجا تھا

ہنس لیں آپ چھوڑیں مجھے! تپ کر کہتی وہ اپنا اسکی گرفت سے نکلوانے کی ناکام کوشش کرنے لگی

اچھا سنو تو ناراض ہو؟ اسکا منہ بنا دیکھ وہ بامشکل مسکراہٹ ضبط کیے ہوۓ تھا

آپ سے مطلب؟ کونسا فرق پڑھتا ہے آپ کو؟ کُبرا ابرو اچکا گئی.

اب پڑھنے لگا ہے! خمار آلود لہجے میں کہتا وہ اسے سرخ کر گیا

ممجھے جانا ہے دیر ہو رہی ہے!

اچھا لسن آج تمہیں کالج سے میں پیک کروں گا اور چاہیت بزی ہو یا فری ایک کال پر باہر آجانا اوکے؟

اسکے چہرے کے رنگ نظروں میں اتاڑ کر وہ مسکرا کر کہتا اسکا ہاتھ چھوڑ گیا تھا

**************************

موم پلزز نا آپ ایک دفعہ بات کرکے تو دیکھیں روحان انہیں مسلسل منانے کی کوشش.میں تھا

میں کیسے بات کروں اس سے؟ مجھے پتا ہے اسنے صاف انکار کر.دینا ہے ارے ابھی برکت کی عمر کی کیا ہے؟ سلمہ اسکی ایک ہی رٹ سے پریشان ہو گئی تھیں

اچھا تو اختر کی باری اس کی عمر بڑھ گئی تھی؟ وہ ہاتھ باندھے ابرو اچکا گیا

افف یا اللہ روحان تم سمجھتے کیوں نہیں ہو

تو آپ سمجھ جائیں نا پلزز موم آپ جلدی بات کریں چھوٹی ماں سے وہ اب بھی با ضد تھا

اچھا دیکھیں گے وہ اسے ٹالتیں باہر نکل گئیں

اب بھائی ہی کریں گے بات آپ سے سر جھٹک کر وہ پلٹا

جب وہ اسکے پیچھے کھڑی تیوری چڑھاۓ اسے دیکھ رہی تھی

جب آیا جان نہیں مان رہی تو تم کیوں پیچھے پڑے ہو انکے؟

نہیں یار ایسی بات نہیں ہے تمہیں غلط فہمی ہو رہی ہے وہ اسکی آنکھوں میں آنسو تیرتے دیکھ فوری سے بولا کے وہ اسکی سنے بغیر ہی اپنے روم کی طرف بھاگ گئی تھی

*******************

کہاں رہے گئے ہیں؟ کالج سے چھوٹی ہوۓ اسے پندرہ منٹ گزر چکے تھے اور ان صاحب کا آنے کا نام نہیں تھا اب اسکا انتظار کرتے کرتے وہ کالج سے باہر آئی تھی

فون کرنے کو وہ سائد پر ہوئی جب ایک بلیک رنگ کی پراڈو اسکے سامنے رکی

میم مجھے تسمیر سر نے بھیجا ہے آپ کو لینے کے لیے اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتی سامنے موجود شخص بہت صفائی سے اسے گاڑی کے اندر کر گیا تھا

روحان کی کال دیکھتے ہی وہ اس طرف متواجہ ہوا

ہاں بولو! فائل میں مصروف سا کہتا وہ فائل پر جھکا سا تھا

یار بھائی آپ اور کُبرا کب گھر آرہے ہیں؟ مجھے ضروری بات کرنی ہے آپ سے روحاں پریشان سا بولا

کیوں کُبرا کہاں گئی ہے؟ وہ کام میں مصروفیت کی وجہ دے اسے تو بھول ہی چکا تھا

کیا مطلب کہاں ہے؟ آپ کے ساتھ کالج نہیں گئی؟ روحان نا سمجھی سے کہنے لگا جب وہ یاد کرتے سر پر ہاتھ مار گیا تھا

یار میں بعد میں بات کرتا ہوں ورنہ وہ.جنگلی بلی مجھے آج کچا چبا جاۓ گی

گھڑی پر نظر ڈالی جو ڈھائی بجا رہی تھی وہ آدھا گھٹنہ لیٹ تھا فون رکھتا وہ تیزی سے گاڑی کی طرف بڑھا

آنا کی ماری نے کال تک نہیں کی پتا نہیں کہاں سے اتنی

آنا لے کر آئی ہے یہ لڑکی اسکا گھورتا ہوا چہرہ تصور میں لاتا وہ اپنی کلاس کے لیے ریڈی ہو چکا تھا

کچھ ہی دیر میں وہ کالج کے آگے کھڑا اسے مسلسل کالز کر رہا تھا

افف یہ لڑکی کہاں بھی تھا کال پہلی رنگ پر اٹھا لینا لب بھینج پر کہتا وہ اب کالج کے گیٹ پر موجود گاڈر کے پاس آیا تھا

اسلام و علیکم سر! گاڈر نے فوری سلام کیا تھا

وعلیکم السلام اندر سے زرا کُبرا کو بلا کر آؤ وہ فون پر مصروف سا بولا

لیکن سر وہ تو آدھے گھنٹے پہلے ہی چلی گئی ہیں فاڈر کے کہنے پر وہ ٹھنکا

کس کے ساتھ گئی ہے؟ تسمیر آنکھیں سکیڑے پوچھنے لگا

یہ تو نہیں پتا سر لیکن وہ میرے سامنے ہی نکلی تھیں

نہیں تم اندر جاکر پوچھوں تمہیں شاید غلط فہمی ہوئی ہے وہ اب بھی عام سے انداز میں بولا جس پر گاڈر سر

ہلاتا اندر کی طرف بڑھا

نہیں سر وہ اندر نہیں ہیں گاڈر کے کہنے پر وہ اب صیح معانی میم چونکا تھا

ڈو منٹ بعد ہی وہ فون نکال کر روحان کو ملا گیا

کُبرا گھر آئی ہے؟ ڈائریکٹ مرعے پر آیا

نہیں بھائی ابھی تک تو نہیں سب خیرت؟ وہ ابھی بول ہی رہا تھا جب تسمیر کال رکھتا اب کُبرا کا نمبر ڈائل کرنے لگا

جو اب آوف جا رہا تھا حلق خشک کرتا وہ تیز تیز قدم لیے کالج کے اندر بڑھا

جہاں اب ایکا دکا ہی اسٹوڈنٹس تھے

”تسمیر خان میں تجھے وہاں سے ماروں گا جہاں سے تو نے سوچا بھی نہیں ہوگا گل خان کے الفاظ اسکے ذہن میں گونجنے لگے “

سر نفی میں ہلاتا وہ دیوانوں کی طرح ایک ایک کلاس چیک کر رہا تھا لیکن وہ کہیں نہیں تھی

تسمیر خان کو اب صیح معانی میں اپنی جان ہوا ہوتی محسوس ہوئی تھی