Shagaf-e-Dil Episode 31
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Shagaf-e-Dil by Syeda Shah
صبح اسکی آنکھ کھولی تو خود کو ہٹوز صوفے پر ہی لیٹا دیکھ وہ جان سے کڑھی تھی
نظر اب اس پر گئی جو فریش سا شیشے کے سامنے کھڑا اس سے بے پروا سا اپنے بال بنا رہا تھا
میری واچ کہاں ہے؟ ایک تو مجھے اس کمرے میں کچھ ملتا ہی نہیں ہے اب
اسے اٹھتا دیکھ وہ سختی سے بال بناتے ہوۓ ہی بولا جس پر کُبرا سر جھٹک کر اٹھتی اسکے عین سامنے ہی
پڑی ہوئی واچ اسکے آگے کرتی باقی کی بھی ساری اسکی ضرورت کی چیزیں اسکے آگے ہی ڈریسر پر رکھے
وہ واشروم کی طرف بڑھ گئی کے وہ پیچھے لب بھینجے اپنی چیزیں سمیٹنے لگا
(ان دونوں میں کُبرا نے اسکی غیر موجودگی میں الماری کی سیٹنگ اپنی مرضی سے کر دی تھی جس کے باعث اکثر ہی اسکی چیزیں اسے نہیں ملتی تھیں)
ناشتے کی ٹیبل آۓ بنا ہی وہ باہر کا رخ کر گیا جب سلمہ نے اسے روکا
تسمیر بیٹا آج زرا کُبرا کو شوپنگ پر لے جانا اسنے کل بھی کچھ نہیں خریدہ…
آپ ساتھ لے جائیں موم ویسے بھی کل بھی کونسا میرے ساتھ گئی تھی؟ وہ طنزیا لہجے میں بولا
لیکن میں تو آج مصروف ہوں بیٹا سارے کام دیکھنے ہیں اور تم بھی جلدی آجانا پھر ساتھ کُبرا کو بھی لے جانا وہ مصروف سی کہنے لگیں
روحان کے یا کسی کے ساتھ چلی جاۓ میں بزی ہوں سپاٹ انداز میں کہتا وہ باہر کی طرف قدم بڑھا گیا کے وہ اسکا طنز سمجھ کر لب بھینجے رہے گئی
ناشتہ تو کرتے جاؤ؟ وہ حیران سی اسے جاتا دیکھ بولیں
آوفس میں کر لوں گا لیٹ ہوں میں! یہ پہلی بار تھا کہ وہ ناشتہ کیے بغیر ہی نکل گیا تھا ورنہ تسمیر خان کھانے پر ہرگز کمپرومائز نہیں کر سکتا تھا
***********************
کس نے یہ حال کیا ہے تمہارہ؟ گل خان اسے بے سد سا بیڈ پر پڑے دیکھ بولا
تسس ممیر خان! میر با مشکل کہ پایا
تم نے کیا کیا تھا اس کی بیوی کے ساتھ؟ گل خان اس پر جھپنٹا
کے وہ تو اس بات پر سراسمیگی کی کیفیت میں تھا اسے کیسے پتا
ککچچھ نہیں ککیا اسنے کچچھ کرنے ہی کب دیا وہ درد سے کراہیا
ہاں خرم کچھ معلوم ہوا؟ گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ ڈرائیونگ میں مصروف سا بولا
نہیں سر موبائیل اوف ہے اور سم بھی شاید اسنے توڑ دی ہے نمبر ٹریس نہیں ہو رہا!
ٹھیک ہے لیکن پھر بھی جیسے ہی کچھ پتا چلے مجھے بتانا
سر سب خیریت یے نا؟ آپ احتیاط تو کر رہے ہیں ؟ دوسری طرف سے اب خرم کی پریشان سی آواز گونجی
ہاں سب ٹھیک ہے میں بعد میں بات کرتا ہوں.تم سے! کُبرا کا چہرہ ایک بار پھر اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا تھا
جو احتیاط تو دور اسے بتانا تک گوارا نہیں کرتی
اس پر آیا گیا غصہ کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا
*********************
تمہیں کیا ہوا ہے کیوں اداس بلبل بنی ہوئی ہو؟ صباحت اسکے پاس لان میں بیٹھتی پوچھنے لگی
کچھ نہیں تم سناؤ کیا سوچا؟ خود کو نارمل رکھتے اس سے پوچھا تھا
اچھا بچؤ؟ اب مجھ سے بھی چھپائیں گی آپ؟ جلدی سے بتاؤ کیا چل رہا ہے یہاں پر؟ صباحت اسکے ماتھے پر انگلی رکھے پوچھنے لگی
جس پر وہ اسے کل کا سارہ واقعہ بتا گئی
ہمم غلطی تو میری دوست تمہاری ہی ہے! وہ ساری سچویشن سمجھ کر بولی
ہاں معلوم ہے سوری بھی کی تھی لیکن رہیں تو ضدی انسان ہی نا کُبرا دانت پیس کر کہنے لگی
وہ ایسا ہی ہے! اب جب اسکا موڈ ہوگا جب ہی وہ ٹھیک ہوگا ورنہ تمہاری ایسے ہی جان اٹکا کر رکھے گا اسکا غصہ
جھاگ کی طرح نہیں ہے جو فورن آیا اور ختم ہو گیا بلکہ جب اسے غصہ آتا ہے تو وہ پھر کسی کو نہیں بخشتا
میئری کی آواز سے دونوں نے چونک کر اسے دیکھا تھا
کیوں کہ وہ اسکی نیچڑ سے اچھے سے واقف تھی اسئلے
پر اعتماد لہجے میں بولی نجانے کیوں کُبرا کے دل میں ایک حسرت سی جاگی تھی اتنے مہنیوں میں وہ اسے
ابھی تک ٹھیک سے جان نہیں پائی تھی جتنا مریم اسے جانتی تھی
کُبرا مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے! وہ لان میں پڑی کرسی پر انکے ساتھ ہی بیٹھ گئی
میں چاۓ لے آکر آتی ہوں برکت پتا نہیں کہاں رہے گئی صباحت انکے بیچ سے اٹھتی بولی
لسن کُبرا آئی ایم رئیلی سوری مجھے میں نے تم پر جو طنز کیے مجھے معاف کر دو مجھے بس تم سے جیلیسی
ہوگئی تھی تم جانتی ہو تسمیر اور میں تقریبا پانچ سال سے ساتھ تھے مجھے کبھی اسے شیئر کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی
سوری! میں وعدہ کرتی ہوں اب سے وہ صرف میرا اچھا دوست ہی ہے وہ.چہرے پر مصومیت سجاۓ بولی
جس پر کُبرا نرم پڑتے دل.سے مسکرا دی جو بھی تھا وہ اس.لڑکی کو اس وقت مجبور ہی محسوس کر رہی تھی
اصل غلطی تو تسمیر کی تھی جس نے اتنا عرصہ اسے دھکے میں رکھا اپنی مرضی کے نیتجے نکالتی وہ اسے گلے لگا گئی
کوئی بات نہیں ویسے بھی ہم لوگ اپنے مہمانوں سے زیاسہ دیر ناراض نہیں رہتے !
اسکے کہنے پر میئری کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ رینگی تھی
جب صباحت برکت کے ساتھ چاۓ اور مختلف لوازمات سے بھری ٹرے لیے یہاں آئیں
اہمم اہمم اکیلے اکیلے کھاۓ جا رہا ہے؟ روحان ٹرے سے بسکٹ اچکتا بولا
تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ برکت منہ چھپاؤ فورن کُبرا اسکے سر ہوئی
ارے ارے نیلی بلی تم نے کب سے پاڑٹی بدل لی؟ روحان حیرتذدہ سا برکت کو دیکھنے لگا جو بہن کی بات پر فورن علم کرتی ڈوپٹا کو پورے منہ پر لیٹ گئی تھی
پارٹی کوئی نہیں بدلی بس تم اب اسے کل ہی دیکھوں گے اور تم بھی وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے لڑاکا عورتوں کی
طرح بولی جبکہ کوئی دور سے اس پر نظریں مرکوز کیے اسے اپنے دل میں اتار رہا تھا
بھائی دیکھ رہے ہیں کیسے اپنی بہن کی سائد پر ہو گئی ہے میری اکلوتی بھابھی! وہ جو کب گاڑی سے ٹیک لگاۓ
اسے ہی نظروں میں اتار رہا تھا روحان کے کہنے پر کُبرا کی تواجہ پاتے ہی سٹپٹایا
چھوڑوں یہ تم یہ بتاؤ کے شادی کا گفٹ کیا چاہیے؟ وہ اسے نظرانداز کرتا روحان سے مخاطب ہوا
ایک نیؤ بھابھی! روحان نے دانتوں کی بھرپور نمائش جس پر کُبرا نے اسے ایک زوردار چٹ رسید کی
یہ تو میرا گفٹ ہوا تم اپنا بتاؤ؟ وہ اسے تپانے کو اب بھی اس پر سے نظر ہٹاۓ بولا صبح والا غصہ اب زرا ٹھنڈا ہوا تھا
بعد میں سکون سے بتا دینا اسے پرسوچ دیکھ کر وہ. لمبے لمبے ڈھگ بڑھتا سیڑھیاں عبور کرنے لگا کے کُبرا محض اسکی پشت گھور کر رہے گئی
ضدی انسان! اسے ایک اور لقب سے نوازتی وہ ان سے باتوں میں مصروف ہو گئی
****************
آج بھی ڈنر کے دوران وہ خاموشی سے کھانا کھاتے اپنے روم میں چلا گیا
اسکے غصے کے خیال سے وہ آج روم میں جانے کا ارادہ ترک کر گئی
بھابی کہاں جا رہی ہیں یہ سوٹ دیکھیں رخسانہ انہیں اٹھتا دیکھ بولیں
ارے تسمیر کی کوفی بنانے جا رہی ہوں اس ٹائم لیتا ہے نا وہ مسکرا کر اٹھی کے ان کی بات سے ساتھ بیٹھی کُبرا کو ڈھیروں شرمندہ نے گھیرا تھا
میں بنا دیتی ہوں آئیا جان! وہ فوری سے اٹھی
نہیں نہیں بیٹھ جاؤ بیٹا ویسے ہی جب سے تمہاری شادی ہوئی ہے تسمیر کے سارے کام تم خود ہی کرتی ہو آج
میری باری ہے میں بنا دیتی ہوں تم لے جانا وہ محبت پاش لہجے میں کہتی چکن کی طرف بڑھ گئیں
یہ لو بیٹا یہ دے آؤ اسے کچھ دیر بعد وہ ایک کپ اسکی طرف بڑھاتی بولیں
جی! مجبور ہامی بھرتے وہ اپنے روم کے باہر کھڑی اس کھڑوس کا سامنا کرنے کی ہمت کر رہی تھی
اندر آتے ہی نظر اس پر گئی جو ریڈ کلر کی سنڈو شرٹ میں صوفے پر بیٹھا لیپ ٹوپ میں بزی تھا
اسکی موجودگی وہ محسوس کرکے بھی انجان بنا رہا جب وہ کوفی کا مگ اسکے آگے پٹخ کر رکھ گئی
خود کو نظرانداز ہوتا دیکھ وہ صیح معنیوں میں تپی تھی
اچھی نہیں ہے! کوفی کا گھونٹ لیتے ہی وہ اسے مزید تپانے کو بولا
ٹھیک ہے میں آپ کا پیغام آیا جان کو پہنچا دوں گی کہ ان کی بنائی ہوئی کوفی ان کے بیٹے کو پسند نہیں آئی
اپنی مسکراہٹ ضبط کیے کہتی وہ روم سے نکل گئی کے وہ پیچھے لب بھینج کر رہے گیا اسکے کپ لانے سے وہ
یہی اندازہ لگا سکا تھا کہ یہ اسنے ہی بنائی ہوگی
رات کے تقریبا بارہ بج چکے تھے اور وہ روم میں آنے کا نام نہیں لے رہی تھی
نا آؤ میں بھی نہیں مناؤں گا تمہیں! سر جھٹک کر کہتا وہ کمفرٹر منہ تک اوڑھ گیا
***************
یہ لو برکت یہ لگاؤ! اسکے پاس آتی وہ پتا نہیں صبح سے کتنے نقصے استعمال کروا چکی تھی
بس کرو کُبرا میرا منہ ہی چھیل دو گی تم تو کیا دیسی آنٹیوں کی طرح صبح سے کچھ نا کچھ لے کر آجاتی ہو
وہ اکتا کر بولی
ارے یہ روپ لاتا ہے کل تک ایسے لائٹے ماروں گی تم وہ محض اسے چھیڑنے کو بولی
نو نہیں چاہیے مجھے کچھ بھی اور اب تم بھی روم میں جاؤ اپنے تسمیر بھائی ویٹ کر رہے ہونگے شرارت سے
کہتی وہ اسکے تاثرات دیکھنے لگی جو پل میں سرخ ہوئی تھی
آج میں یہی سوؤں گی تم لوگوں کے پاس دل کی کیفیت پر قابو کرتی وہ منہ بناۓ بولی
کیوں تم ہماری شامت بلوانا چاہتی ہو؟ جاؤ ورنہ وہ یہی آجائیں گے صباحت نے اب اسے گھورا
مجھے نہیں جانا تو نہیں جانا دیکھتی کیا کرتے ہیں! وہ اونچی آواز میں کہتی دروازے کی طرف پشت کیے بیٹھی تھی
روم میں چلو! جب اسکی بھاری آواز سے وہ دل تھام کر رہے گئی
میں نہیں آرہی ہمت کرکے ہنوز منہ بناۓ بولی
آرہی ہو یا اٹھا کر لے چلوں؟ سرد لہجے میں کہتا,وہ اس سمیت برکت اور صباحت کا بھی منہ کھلوا گیا
آرہی ہو؟ اوکے فائن اب کی بار اسے بولنے کا موقع دئیے بغیر کسی کے پروا کیے وہ اسے بازوں میں بھرے اپنے
روم کی جانب بڑھ گیا کے وہ اس اچانک اتفاد پر شرم سے سرخ ہوتی اسی کے سینے میں منہ چھپا گئی
ہاؤ کیوٹ انکے روم سے نکلتے ہی برکت صباحت سے مخاطب ہوئی جس پر وہ مسکرا کر سر اثبات میں ہلا گئی
کیا بدتمیزی تھی یہ؟ روم میں آتے ہی غصے سے کہتی وہ اسے دیکھنے لگی وہ کچھ بھی کہے بغیر بیڈ پر اپنہ جگہ کی طرف بڑھ گیا
بے شرم آدمی! اسکی پشت پر دو تین مکے.مارتی وہ پیر پٹخ کر تکیے سیٹ کرتی اپنی کمبل اوڑھ گئی
***************
نکاح کا انتظام خان میشن کے لان میں ہی رکھا گیا تھا
سفید رنگ کے پھولوں سے سارہ سیٹ اپ کیا تھا اسٹیج کے پیچھے کی دیوار سفید اور لال رنگ کے پھولوں سے ہی سجایا گیا تھا
جبکہ اسکے آگے ڈانس ٹرانسپیرنٹ فلور کے نیچھے سفید ہی پھول جھانک رہے تھے
یہ یہاں پر رکھ دو جون جو کسی سے گفتگو میں مصروف تھا اسے دیکھ کر ٹنکا
کچھ چاہیے تھا؟ اسے دیکھ کر مسکرا کر پوچھا
جی وہ برکت اور مجھے پالڑ جانا ہے اور تسمیر بھائی کہ کر گئے ہیں کہ کسی بھی ڈرائیور کی بجاۓ گھر کے ہی
کسی افراد کے ساتھ ہی جائیں روحان تو جا نہیں سکتا تو آپ وہ بول رہی تھی کے وہ بیچ میں ہی اچک گیا
میں چلتا ہوں آپ وہ مسکرا کر بولا
میں نے جو اس دن پوچھا تھا آپ سے اسکے بارے میں کیا خیال ہے؟ اسے جاتا دیکھ وہ اسکا ہاتھ تھام گیا
مممیں مجھے رخسانہ پھوپھو بلا رہی ہیں اسکے ہاتھ پکڑنے پر وہ گھبرا کر رہے گئی
میری بات کا جواب نہیں دیا آپ نے؟ وہ ہنوز اسکا ہاتھ تھامے اسکے قریب ہوا
ممجھے بلا رہی ہیں اس سے ہاتھ چھوڑواتے وہ سیدھا اندر کی طرف بھاگی تھی
اس خاموشی کو میں ہاں سمجھوں پھر؟ اب کی بار وہ پیچھے سے ہی شرارت سے چلایا کے وہ سرخ سی برکت کے روم کی طرف بڑھ گئی
اؤۓ ہوۓ یہ تم کیوں لال گلابی ہو رہی ہو؟ روحان جو سامنے سے آرہا تھا اسے سرخ ہوتا دیکھ چھیڑنا نہیں بھولا
تتتمہیں کیا ہے جاؤ جاکر تیار ہو وہ سیدھی ہوئی
مجھے بھی وہی مسئلہ ہے جو تمہیں میری باری ہوتا تھا کہا تھا نا میرا بھی ٹائم آۓ گا فل نظر رکھوں گا تم پر
اپنی دونوں انگلیوں سے دو آنکھیں بنا کر کہتا وہ باہر نکل گیا
ہونہوں بندر!
…………………………
ڈرائیونگ کرتے وہ مسلسل بجتے فون سے اس جانب متواجہ ہوا
جی ڈیڈ! سڑک پر نظرین مرکوز کیے وہ فون پر متواجہ ہوا
کب تک تشریف لے آئیں گے آپ؟ آج کے دن بھی تمہیں آوفس جانے کی پڑی تھی؟ وہ مسنوئی غصے سے بولے
بس راستے میں ہوں آرہا ہوں خان صاحب اور سارے انتظام کرکے ہی آرہا ہوں وہ مسکرا کر کہنے لگا
جلدی پہنچوں ماں ناراض ہے تمہاری وہ مسکراہٹ ضبظ کیے سامنے منہ بناۓ.سلمہ اور کُبرا کو بیٹھا دیکھ بولے
منا لوں گا آپ کی بیگم کو ویسے بھی وہ آپ سے زیادہ.مجھ سے ہی پیار کرتی ہیں شرارت سے کہتا وہ کال رکھ گیا
یو… کبھی نہیں سدھرے گا تمہارا بیٹا وہ فون کی سکرین کو دیکھ کر سر جھٹک کر رہے گئے
جاؤ کُبرا اسکے کپڑے نکال دو پھر آتے ہی غصہ نا کرے سلمہ اب اس سے.مخاطب ہوئیں
جی ! وہ محض سر ہلا گئی صبح اسکے اٹھنے سے پہلے ہی وہ گھر سے نکل گیا تھا
تسمیر روم میں آیا تو غیر ارادی توڑ پر نظریں اسے ڈھونڈ رہی تھیں بے رخی دیکھا کر وہ اب تھک گیا تھا جب نظر سامنے ہی کاوچ پر رکھے اپنے کپڑوں پر گئی
دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ وہ کپڑے اٹھاۓ واشروم کی طرف بڑھ گیا
تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی؟ رخسانہ اسے ابھی بھی کاموں میں مصروف دیکھ کر پوچھنے لگیں
جی جا رہی ہوں موم! وہ.جو کب سے اسکا سامنا نا کرنے کو ادھر ادھر ٹہل رہی تھیں انکی.بات سے دانت پیس کر
روم میں داخل ہوئی سد شکر کے وہ یہاں موجود نہیں تھا واشروم سے آتی پانی کے آواز سے وہ جان گئی کے وہ ابھی تک واشروم میں ہے
جلدی سے اپنی ساڑھی اٹھاۓ چینجنگ روم میں چلی گئی
کچھ ہی لمحوں میں وہ ریڈ سلک کی ساڑھی پہنے جو سلمہ بیگم کی بھرپور فرمائش پر اسنے پہنی تھی
اسکے آنے سے پہلے ہی وہ تیار ہوکر نکلا چاہتی تھی جو دو دن سے اس سے بر رخی اپناۓ اسکی جان ہلکان کر چکا تھا
لمبے ریشمی بالوں کو پشت پر بکھیرے وہ اب شیشے کے سامنے آتی میک اپ کے نام پر ہلکا سا فاؤنڈیشن لگاۓ نیلی آنکھوں پر گہری سایہ دار پلکوں کو مسکارے سے
لبریز کرتی گلابی سے میک اپ پر ساڑھی کے رنگ کی ڈارک رہڈ لپ اسٹک لگاۓ ہاتھوں میں چوڑیاں ڈالنے لگی
جب تسمیر واشروم سے باہر آیا اپنی تیاریوں میں مصروف وہ اسکی موجودگی محسوس ہی نہیں کر پائی
جبکہ وہ جو اپنی دھن باہر نکل رہا تھا نظر اس پر پڑتے ہی دل فل.اسپیڈ میں ڈھرکا تھا وہ اعتراف کر چکا تھا
کہ وہ آج ہر ہتھیار سے اسے شکشت دینے کو تیار تھی
جان لینے کے ارادے ہیں جناب؟ اگلے ہی لمحے وہ اسے
پیچھے سے حصار میں لیے اس پر اپنا قبضہ جما چکا تھا
کے اسکے اچانک نازل ہونے پر وہ دل تھام کر رہے گئی
ممجھے بات نہیں کرنی! کُبرا دل کی بے ترتیب ہوتی ڈھرکنوں کو قابو کیے منہ پھیر گئی
سوری! اسکے کان کی لو لبوں سے چومتا وہ گھمبیر لہجے میں بولا کے کُبرا کو اپنا سانس اٹکتا محسوس ہوا
ہمم لیٹ ہیں! اپنے آئررنگز اٹھاۓ وہ بظاہر خود کو مضبوط رکھے ہوۓ تھی
مے آئی؟ اسکے ہاتھ سے جھمکے لیتا وہ خود ڈالنے لگا
“یو میک می کریزی رائٹ ناؤ“ اسکی کان کے قرین سرگوشی کی تھی
ممیر پلزز ممجھے جانا وہ بولتی کے وہ اسے مضبوطی سے کمر سے جکڑے اپنے قریب کر گیا
ناراض تو میں تھا.تم سے تو مناؤ مجھے! اسکے چہرے پر نظریں مرکوز کیے وہ چہرے پر آۓ بالوں کو پیچھے کرنے لگا
مین نے سوری کی تھی آپ کے ہی نخرے ختم نہیں ہو رہے تھے دو دن سے میری جان ہلک وہ جو اپنی ٹون میں بول
رہی تھی ادھے الفاظ تو منہ مین ہی رہے گئے جب وہ اپنی شدت بھری مہر اس پر چھوڑ گیا
سوری کرو ورنہ میری سزائیں تم.برداشت نہیں کر پاؤ گی اسکا سرخ ہوتا چہرہ نظروں میں اتاڑے وہ ضدی انداز میں بولا
سسسوری آئندہ نہیں ہوگا وہ فوری سے گہرے گہرے سانس لیے کہنے لگی جس پر گہری سبز آنکھیں مسکرائی
چلیں اب؟ اسکی پیشانی پر شدت سے لب رکھے وہ اپجہ چوڑی کلائی اسکے آگے پھیلا گیا
جس پر وہ فورن اپنا نازک ہاتھ رکھ گئی( اسکا کیا بھروسہ کے ارادہ بدل ہی نا دے)
لان میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر آتے وہ سب کی نظروں کا مرکز بنے تھے کُبرا تو چہرہ جھکاۓ ہوۓ تھی
بھائی آج میرا دن تھا روحان اسے چھیڑتے ہوۓ بولا جو کالے رنگ کے پینٹ کورٹ میں اپنے خوبصورت رنگ اور
گہری سبز آنکھوں پر وجہیہ شخصیت سے بے حد ہنڈسم لگ رہا تھا
خود وہ سفید رنگ کی شیروانی میں کسی سے کم.نہیں لگ رہا تھا
یہ تم برکت کو دینا وہ ایک فائل کُبرا کے آگے کر گیا جس پر وہ محض سر ہلاتی برکت کے پاس گئی جو سفید رنگ کی کامدار فراک پہنے دلہن بنی بے حد پیاری لگ رہی تھی
اور اسکے ساتھ ہی صباحت گولڈن اور وائٹ کامدار سوٹ پہنے اپنی سانوالی رنگت میں بھی کسی کو بھی مات دے سکتی تھی
کُبرا دل ہی دل میں ان دونوں کی نظر اتار گئی جو اسے بے حد عزیز تھیں
یہ لو تمہارہ گفٹ تسمیر اسے ایک چابی پکڑا گیا جسے وہ نا سمجھی سے دیکھنے لگا
اسپورٹ کار ہی ہے وہ اسکی مزاق میں کی گئی بات کو واقعی ہی سرئز لے گیا تھا
نا کریں بھائی؟ سچی؟ تھینک یو سو مچ وہ ایک بار.پھر اس کے گلے لگ گیا
جبکہ برکت کو اسنے ایک فلیٹ گفٹ کیا تھا جو برکت کے ہی نام پر بھی تھا
نکاح ہوتے ہی گھر کے مرد اس جانب آگئے تھے
ڈیم لائٹ میں ان ڈانس کا آغاز ہوا تھا
”تم ہی ہو اب تم ہی ہو“ حال میں گونجنے والے گانے سے وہ اب کپل کی صورت میں ہی ڈانس کر رہے تھے
آؤ کُبرا جو اب بیٹھے کے لیے بڑھی تھی وہ اسکا ہاتھ تھام گیا
نو میر پلزز وہ روہانسی ہوئی جب وہ اسکی سنے بغیر اسے کمر سے جکڑے ہلکے ہلکے اسٹیپ لینے لگا تھا