📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="14253"]
44032 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shagaf-e-Dil Episode 5

Shagaf-e-Dil by Syeda Shah

“جون؟”

وہ جو مسکرا کر ٹیبل تک پہنچی تھی نظر اس پر پڑتے ہی کھل اٹھی تھی ”جی بلکل جہنگیر عرف جون “اسے دیکھتے ہی وہ مسکرا کر ہاتھ بڑھا گیا جسے وہ جھجکتے ہوۓ تھام گئی ”چلو کُبرا بیٹھ جاؤ ناشتہ شروع کرو“ رخسانہ بیگم کے کہنے پر وہ سر اثبات میں ہلاتی جون کے ساتھ والی کرسی سنبھال گئی ”بتایا کیوں نہیں؟“ وہ خفگی سے کہتی اسے دیکھنے لگی ”یار بتانا تھا لیکن تسمیر نے منع کر دیا ویسے ٹھیک ہی کیا اگر میں بتا کر آتا تو تمہارے چہرے پر یہ خوشی کیسے دیکھنے کو ملتی؟“ جون اسکے کان کے قریب سرگوشی کرنے لگا( ”بات دور رہ کر بھی کی جا سکتی ہے“) اسکے کل رات کہے گئے الفاظ تسمیر کے کانوں میں گونجے تھے ”اب تو اسے کچھ نہیں ہو رہا اب تو کوئی اصول یاد نہیں آۓ“انہیں دیکھتا وہ دل ہی دل میں بولا جبکہ جون کے آنے سے کُبرا کی آنکھوں میں آئی چمک بھی اس سے چھپ نہ سکی تھی….

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

”اچھا تو اب اتنے عرصے بعد تمہارے دونوں کزنز فائنلی آ ہی گئے ویسے حیرت کی بات ہے اتنے عرصے میں ایک بار بھی وہ لوگ واپس نہیں آۓ“ صباحت کے پوچھنے پر وہ مسکرا دی ”ہاں علی بابا تو تقریبا ہر سال ہی بلاتے تھے لیکن ان دونوں کو آنے کی فرصت ہی کہاں تھی لیکن اب آۓ ہیں تو واپسی کا تو بھول ہی جائیں“ کُبرا مزے سے کہنے لگی ”ویسے تم کیوں اتنی خوش ہو؟“ صبا جو کب سے اسکی خوشیاں نوٹ کر رہی تھی اب پوچھ بیٹھی ”آج بنتا ہے میرا! خیر جلدی چلو لیکچر شروع ہو گیا ہوگا“ وہ مسکرا کر کہتی آگے بڑھ گئی….

________________________________________

”کہاں تھیں تم؟“ وہ جو کب سے اسے دھونڈ رہا تھا اسے سامنے دیکھ غرایا ”تم سے مطلب؟ “برکت ابرو اچکاۓ کہنے لگی ” میم بلا رہی ہیں“

روحان اسکی بدتمیزی پر صبر کا گھونٹ پیے بولا ”کیوں؟ اب کیا کر دیا تم نے؟“ برکت ایک بار پھر ابرو اچکاۓ بولی ”کیوں تم کیا میری ماں لگتی ہو؟ جو اگر میں کچھ کروں گا تو میم سب سے پہلے تمہیں بلائیں گی“ روحان اسکے سراپے پر ایک نظر ڈالے بولا سفید رنگت کالی آنکھوں والی یہ اچھے قد کی پیاری لڑکی کندھے سے تھوڑا نیچھے تک آتے بالوں کو پونی میں قید کیے اسے گھور رہی تھی ”اب ایسے کیا گھور رہی ہو چلو مجھے تو لگ رہا ہے تمہاری کوئی شکایت ہوگی“ اسکے مسلسل گھورنے پر روحان ایک بار پھر اسے آگ لگا گیا ”ڈونٹ وری میری کوئی شکایت ہوتی تو وہ تمہیں تو بلکل نہ بلاتی سب کو معلوم ہے میرا تم سے کوئی مطلب نہیں ہے“ برکت اعتماد سے کہنے لگی” یہ تو وقت آنے پر ہی پتا چلے گا ہو سکتا ہے ایک دن تمہیں سارے مطلب ہی مجھ سے ہوں اور میں تمہیں گھاس ہی نہ ڈالوں“ روحان عام سے انداز میں کہتا سامنے کی طرف بڑھا جبکہ وہ محض اسکی پشت گھور کر رہ گئی

”مے آئی کم ان میم؟“وہ دونوں مسکرا کر پوچھتے اندر داخل ہوۓ جب نظر سامنے پہلے سے موجود کُبرا اور صباحت پر پڑھی ”جی تو اب سب آگئے ہیں تو میں بات اسٹارٹ کرتی ہوں اصل میں اسٹوڈنٹس تسمیر صاحب چاہتے ہیں کہ ہم ایک پارٹی آرینج کریں تاکہ سب کو معلوم ہو جاۓ کے اب خان گڑھ کالج پورا تسمیر خان صاحب نے خرید لیا ہے“میم مسکرا کر کہنے لگیں” بٹ میم اس میں تو تیس فیصد شئرز گل خان کے تھے“ کُبرا پوچھے بغیر نا رہے سکی” ہاں لیکن اب وہ تیس فیصد بھی تسمیر صاحب نے خرید لیے ہیں البتہ گل خان اس بات کے لیے راضی نہیں تھا لیکن تسمیر صاحب کا کہنا ہے کہ جو چیز انکے پاس ہو اس پر وہ کوئی اور حقدار برداشت نہیں کر سکتے“ میم کندھے اچکاۓ بولی

” ہاں چار دن ہوۓ نہیں ہیں اور ہر چیز پر اپنا حق جما لیا ہے“ کُبرا دل ہی دل میں اسے طنزیا داد دیے بغیر نا رہے سکی ”تو میں چاہتی ہوں پارٹی کی ڈیکوریشن ہمیشہ کی طرح کُبرا دیکھے گی صباحت آپ ہفتے کی پارٹی کے بارے میں جاکر سب کو انفارم کریں گی روحان اور برکت پارٹی میں ہونے والی پرفارمنس کے لیے اسٹوڈنٹس کو سلیکٹ کریں گے اور پھر خود بھی ایک اچھی سی پرفارمنس تیار کریں گے لیکن یاد رہے ایک ایک چیز پرفیکٹ ہو آپ کی مدد کے لیے ٹیچرز بھی ہیں اور تسمیر سر بھی اسئلے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے“میم نرم لہجے میں انہیں سمجھانے لگیں ”تسمیر خان کی مدد میں مر کے بھی نا لوں“ کُبرا سرد آہ بھر کر رہ گئی

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤Φ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

”کیا ضرورت تھی آپ کو گل خان سے پنگا لینے کی؟ “آغا جان پریشان سے کہنے لگے ”میں نے کوئی پنگا نہیں لیا آغا جان میں نے تو بس ان سے انکے شئرز خریدیں ہیں وہ بھی انکی منہ مانگی قیمت پر تسمیر انہیں بتانے لگا“ ”نہیں آپ نے گل خان سے نہیں بلکہ اسکے بیٹے سے شیئرز خریدیں ہیں اور تو اور آپ نے اس سے اسکی زمین تک خرید لی یہ اسکی بیٹے کی کارستانی ہے ورنہ گل خان کبھی آپ کو اپنے حصے کی زمین اور شئرز نہیں دیتا“

آغا جان اسے دیکھتے کہنے لگی ”آغا جان وہ زمین میری تھی میرے نام تھی آپ جانتے ہیں وہ زمین مجھے بچپن سے پسند تھی تو پھر آپ کو وہ زمین پہلے ہی کسی کو نہیں دینی چاہیے تھی برحال اب وہ زمین میری ہے جو کہ میں نے دوگنی قیمت پر اختر خان سے خریدی ہے اب اسے گل خان تو کیا قانون بھی مجھ سے چھین نہیں سکتا“ تسمیر پر اعتماد لہجے میں بولا

” بابا جان ٹھیک کہ رہے ہیں تسمیر ہم گل خان سے دشمنی نہیں کر سکتے گل خان نے اس کالج میں بھی بہت محنت کی تھی اور اس زمین کو بھی اس نے اپنے بیٹوں کی طرح سنبھالہ ہے وہ کسی بھی حال میں تم سے اپنی زمین واپس لینے کی کرے گا کوئی خون خرابا ہو اس سے اچھا یہی ہے کہ آپ خود جاکر اسکی زمین اسے واپس کریں“علی خان اسے سمجھانے لگے

” بلکل ٹھیک کہ رہے ہیں تمہارے بابا “تبھی گل خان کی آواز گونجی تھی” دیکھو بچے تم یہ زمین جتنا جلدی ہو سکے مجھے واپس کر دو یہ زمین مجھے اتنی ہی عزیز ہے جتنی کہ تمہیں تمہاری جان یہ تو ہمارے بیٹے کی بیوقوفی ہے جو ہم آج تم سے ہماری ہی زمین مانگ رہے ہیں لیکن یہ بات تم ذہن میں بیٹھا لو کہ ہم تمہیں ہماری زمین کسی بھی قیمت پرنہیں دیں گے بہتر ہے تم پیچھے ہٹ جاؤ ورنہ انجام کے زمےدار تم خود ہوں گے “

آغا جان سے سلام کے بعد وہ واپس اسکی طرف متوجہ ہوا

”ٹھیک ہے پھر ایسے تو ایسے صحیح کر لو جو کرنا ہے گل خان میں یہ زمین اب کسی قیمت پر تمہیں واپس نہیں کروں گا اور مت بھولو کہ یہ زمین پہلے بھی میری ہی تھی جسے تم نے اپنے جھوٹ سے اپنے قبضے میں کر لیا تھا اور اب بھی شاید میں آغا جان کے کہنے ہر یہ زمین تمہیں واپس کر دیتا لیکن تم سے ایک بہت بڑی غلطی ہو گئی گل خان تم نے خان کے بچے کو دھمکی دی ہے اب دیکھنا یہ خان کا بچا تیری زمین تجھے واپس کس طرح لینے دیتا ہے جاؤ اور جاکر اپنی زمین کے رخصت ہونے کا ماتم مناؤ “تسمیر روعب دار لہجے میں کہتا گل خان کو تیش میں لے آیا تھا” پھر تم بھی تیار ہو جاؤ بچے“ گل خان طنزیا مسکراہٹ لیے کہتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا “تمسیر آپ آج ہی جاکر گل خان کی زمین اسے دیں گے“ آغا جان کا حکم ہوا تھا ”اسکے علاوہ آپ جان بھی مانگیں گے تو دوں گا آغا جان لیکن اب یہ مامعلہ آپ مجھ پر ہی چھوڑ دیں“ وہ آنکھوں میں تپش لیے کہتا جون کو چلنے کا اشارہ کر گیا جو کب سے خاموش کھڑا ہمیشہ کی طرح اسکی ضد دیکھ رہا تھا جانتا تھا تسمیر خان کو اگر کوئی چیز پسند آجاۓ تو وہ ہر قیمت پر اسے اپنا لیا کرتا تھا ”بچپن سے ہی ایسا ہے یہ پردیس جاکر بھی اپنی ضد نہیں بھولا شیر کا بچہ ہے“آغا جان مسکرا کر بولے تھے ”لیکن آغا جان آپ تو کہ رہے تھے“ علی خان کے بولنے سے پہلے ہی آغا جان انہیں چپ رہنے کا اشارہ کر گئے ”بےشک اسکا طریقہ غلط ہے لیکن ارادہ وہی ہے جو میں چاہتا ہوں تمہیں پتا ہے علی خان میں نے تسمیر کو ہی کیوں اپنے ساتھ گاؤں کے معاملات سنبھالنے کو کہا؟ اسئلے کہا کیوں کہ میں جانتا ہوں یہ سب کچھ کر سکتا ہے لیکن اسکی رگوں میرا خون ہے مر جاۓ گا لیکن اپنا یا کسی کا حق نہیں مارے گا“ آغا جان فخر سے کہتے علی صاحب کو مسکرانے پر مجبور کر گئے تھے انہیں ہمیشہ سے اپنے بڑے بیٹے کی فکر رہتی تھی کیوں کہ وہ ہمیشہ سے صرف اپنی ہی کیا کرتا تھا لیکن آج آغا جان نے ان کی فکر کو انکے فخر میں بدل دیا تھا….

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

”چاۓ اور وہ بھی اکیلے اکیلے؟“جون اسکے پاس آتا کہنے لگا ”آپ کی بھی بنا دوں؟“ کبرا مسکرا کر پوچھنے لگی” بلکل ویسے تمہیں ایک بات بتاؤں؟ “جون کہتے ساتھ اسکے کان کے قریب سرگوشی کرنے لگا جبھی تسمیر کچن میں داخل ہوا انہیں اس قدر قریب دیکھ کر اسکی رگیں تنی تھیں ”جون تجھے اماں جان بلا رہی ہیں“کچن کے اندر آتا وہ سخت لہجے میں بولا” اچھا جاتا ہوں تم میری بات یاد رکھنا میں آتا ہوں ابھی“ کبرا کی طرف اشارہ کرتا وہ اسے ہنسنے پر مجبور کر گیا” اوکے“ وہ ہنستے ہوۓ کہتی پھر سے چاۓ بنانے میں مصروف ہو گئی ”بہت ہنسی آرہی ہے تمہیں؟“ وہ اپنا غصہ ضبط کیے بولا ”کیوں میرے ہنسنے پر بھی پابندی ہے کیا؟“ کبرا ابرو اچکاۓ بولی” ہاں کیوں کہ میرے ساتھ تو تم ہر وقت بس لڑتی رہتی ہو“ تسمیر پوچھے بغیر نا رہے سکا ”ہاں کیوں کہ میں بندہ دیکھ کر مزاق کرتی ہوں ہر کسی سے فری نہیں ہوتی میں“ کُبرا ایک ادا سے بولی تھی جب وہ جھٹکے سے اسے اپنے قریب کر گیا مجھے بھی شوق نہیں ہے تم سے بات کرنے کا لیکن ایک بات یاد رکھ لو تم میری اگر اب میں نے تمہیں جون سے اس طرح بات کرتے ہوۓ دیکھا تو میں چھوڑوں گا نہیں تمہیں وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا غرایا کیوں؟ آپ کو کیا مسئلہ ہے کُبرا نیلی آنکھوں میں سرخی لیے بولی کیوں کہ میں نہیں چاہتا جو لڑکی مجھ سے ٹھیک طرح بات نہیں کر سکتی وہ میرے دوست سے اپنی دوستی بڑھاۓ تسمیر عام سے انداز میں کہتا اسکا بازو چھوڑ گیا نیلی آنکھیں ایک بار پھر سبز آنکھوں سے ٹکرائی تھیں عجیب انسان ہے سارہ موڈ خراب کر دیا کُبرا منہ بناۓ کہتی چاۓ کپ میں نکالنے لگی……….