Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80083 Del-I Ask Episode 09
Del-I Ask Episode 09
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
گاڑی کے اندر مکمل خاموشی تھی۔ توران کاسی کی آواز فون پر خاصی بلند تھی، وہ گھبرا رہی تھی، اسی لیے مہرالہ مہرباش صاف سن سکی کہ وہ بچے کا نام “کنان” لے رہی تھی۔
اچانک اسے وہ دن یاد آ گیا جب اسے اپنی حمل کی رپورٹ ملی تھی۔ وہ دوڑتی ہوئی ظہران ممدانی کے سینے سے جا لگی تھی اور خوشی سے بولی تھی،
“ظہران، آپ باپ بننے والے ہیں! ہمارا بچہ ہونے والا ہے!”
اس کی آواز خوشی سے بھری ہوئی تھی۔
“میں نے ہمارے بچے کا نام بھی سوچ لیا ہے۔ اگر بیٹی ہوئی تو کانیہ اور اگر بیٹا ہوا تو کنان۔ آپ کو کیسا لگا؟”
کاش وہ غلط سن رہی ہوتی، مگر ظہران نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر صاف کہا،
“اس کا نام کنان ہے۔”
“کمبخت!” مہرالہ کا ہاتھ فضا میں اٹھ چکا تھا۔ اس نے اسے تھپڑ مارا، مگر وہ ذرا بھی نہ ہلا، جیسے اسے کوئی فرق ہی نہ پڑتا ہو۔
“تم نے ہمارے بچے کے نام پر اس کے بچے کا نام کیسے رکھ دیا؟”
اپنے بچے کا خیال مہرالہ کے ضبط کی آخری حد توڑ گیا۔ آنسو بے قابو ہو کر اس کے گالوں پر بہنے لگے اور وہ پاگلوں کی طرح اس پر ٹوٹ پڑی۔
“تم شیطان ہو! اللہ نے میرا بچہ مجھ سے کیوں چھین لیا؟ تم کیوں نہیں مرے؟”
وہ چیختی رہی اور اس پر وار کرتی رہی۔
“وہ اس نام کا حقدار نہیں ہے!”
ظہران نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اور سہیل نعمانی سے کہا،
“گاڑی کولنگٹن کوو کی طرف موڑ دو۔”
یہ سن کر مہرالہ بپھر گئی۔
“ہم سٹی ہال کے قریب پہنچ چکے ہیں! پہلے طلاق نمٹاؤ، پھر جہاں جانا ہے جاؤ!”
“اس کا بخار کم نہیں ہو رہا۔ مجھے ابھی جانا ہوگا۔”
“میرا باپ اسپتال میں بے ہوش پڑا ہے، بلوں کی وجہ سے مجھے اس کے پاس بھی نہیں جانے دیا جا رہا! کیا تم کہنا چاہتے ہو کہ تمہارے بچے کی جان قیمتی ہے اور میرے باپ کی کوئی حیثیت نہیں؟” مہرالہ اس کے منہ پر چلائی۔
اس کے باپ کا ذکر آتے ہی ظہران کا چہرہ سیاہ پڑ گیا۔
“میرے کنان کا موازنہ اپنے باپ سے کرنے کی جرات مت کرنا!”
غصے میں مہرالہ نے دوبارہ ہاتھ اٹھایا، مگر اس نے اس کی کلائی زور سے پکڑ لی۔
“بس ہو گیا؟” وہ چیخا۔
گاڑی مڑ گئی اور مہرالہ دیکھتی رہ گئی کہ وہ سٹی ہال سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ ظہران نے اسے مضبوطی سے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا تاکہ وہ ہل بھی نہ سکے۔
کبھی وہی بانہیں اس کے لیے سکون ہوا کرتی تھیں، آج وہی اس کے لیے زنجیر بن چکی تھیں۔ وہ پہلے ہی کمزور تھی، اس لیے خود کو آزاد نہ کر سکی۔
بے بسی سے وہ بولی،
“کیا تم توران سے اتنی محبت کرتے ہو؟”
مگر اسی لمحے ظہران چونک گیا۔ اسے احساس ہوا کہ مہرالہ صرف دبلی نہیں ہوئی، بلکہ ہڈیوں کا ڈھانچا بن چکی تھی۔ وہ کاغذ کی طرح پتلی تھی، اس کی ہڈیاں کپڑوں کے پار محسوس ہو رہی تھیں۔
جس عورت کو اس نے کبھی شہزادیوں کی طرح رکھا تھا، وہ آج اتنی کمزور ہو چکی تھی۔ کیا وہ واقعی یہی چاہتا تھا؟
اسی لمحے اس کی بہن زَریہان ممدانی کی لاش کا منظر اس کے ذہن میں ابھرا۔ اس کی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا اور اس نے مہرالہ کی کمر پر گرفت اور سخت کر لی۔
“یقین کرو یا نہ کرو، اگر تم نے مزید شور مچایا تو میں ابھی تمہارے باپ کی سانس کی نلکی نکلوا دوں گا!”
یہ سن کر مہرالہ بالکل خاموش ہو گئی۔ اس کے ہاتھ اس کے کپڑوں کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے اور اس کے آنسو اس کی قمیض بھگو رہے تھے۔ عجیب بات تھی، جو شخص کبھی کہتا تھا کہ وہ اسے کبھی رونے نہیں دے گا، آج وہی اس کے ہر آنسو کی وجہ تھا۔
گاڑی کے اندر گھٹن بھری خاموشی چھا گئی۔ کچھ دیر بعد مہرالہ نے خود کو سنبھالا، اسے خود سے پرے دھکیلا اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
ناک سونستے ہوئے وہ بولی،
“تم اپنے بچے کے پاس جانا چاہتے ہو، جاؤ۔ مگر ہمارا معاہدہ خراب مت کرو۔ مجھے روکنے کی فکر مت کرو، میں ہر حال میں تمہیں طلاق دوں گی۔ مجھے کسی اور کا کچرا سنبھالنے کا شوق نہیں۔”
“کچرا” کا لفظ سن کر ظہران کی پیشانی پر بل پڑ گئے، مگر مہرالہ نے پروا نہ کی۔
“مانتی ہوں کہ میں ماضی میں بیوقوف تھی جو تم سے امید لگائے بیٹھی رہی۔ اب سب دیکھ لیا ہے۔ پکڑے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ پیسے دے دو، قانونی کارروائی بعد میں ہو جائے گی۔ ایک فون پر میں آ جاؤں گی، وعدہ توڑنے کی عادت نہیں ہے مجھے۔”
“اور اگر میں نہ چاہوں تو؟”
مہرالہ نے اس کی سیاہ آنکھوں میں دیکھا۔ ابھی بہائے گئے آنسوؤں نے اس کی آنکھوں کو پہلے سے زیادہ صاف کر دیا تھا۔
ٹھنڈے لہجے میں بولی،
“تو میں گاڑی سے چھلانگ لگا دوں گی۔ اگر اپنے باپ کو نہ بچا سکی تو مر جانا بہتر ہے۔”
تب ظہران نے چیک نکالا اور اس پر رقم لکھی۔
“طلاق کے بعد باقی پانچ ملین بھی ٹرانسفر کر دوں گا۔”
مہرالہ نے طنزیہ ہنسی ہنسی۔
“اتنا ڈر ہے کہ میں طلاق نہیں دوں گی؟ فکر مت کرو، میں ایسے آدمی کے ساتھ رہنے سے پہلے مر جانا پسند کروں گی۔ گاڑی روکو۔”
اس نے چیک جھپٹ لیا، دروازہ بند کیا اور پیچھے مڑے بغیر اتر گئی۔
آخرکار وہ اپنے باپ کی جان بچا سکتی تھی۔
اس نے چیک کیش کروایا، اسپتال جا کر اپنے باپ کے تمام بل ادا کیے، پھر ایک ٹیکسی لی اور اس پتے کی طرف روانہ ہو گئی جو بلال انعام نے دیا تھا۔
یہ ایک پرائیویٹ، مہنگا قبرستان تھا، جہاں صرف امیر اور بے حد دولت مند لوگ دفن ہوتے تھے۔ ظہران کی دادی شاہدخت ممدانی بھی یہیں دفن تھیں۔
مہرالہ نے نیلے پھولوں کا گلدستہ خریدا جو دادی کو بہت پسند تھے۔ کچھ دیر بعد اسے ایک نسبتاً نئی قبر ملی، جس کے گرد آلو بخارے کے درخت تھے، جن پر کلیاں لگی ہوئی تھیں۔ قبر پر نام کندہ تھا:
زَریہان ممدانی
تو یہی تھا اس کا نام۔
مہرالہ نے تصویر کو غور سے دیکھا۔ بچی کا چہرہ معصوم اور آنکھیں ظہران جیسی تھیں۔
وہ نہیں جانتی تھی اس معلومات کا کیا کرے، مگر اس نے تصویر موبائل میں محفوظ کر لی۔ پھر اس نے شاہدخت ممدانی کی قبر پر پھول رکھے۔
قبر کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ کر وہ آہستہ بولی،
“سلام زَریہان… میں مہرالہ ہوں، تمہاری بھابھی… نہیں، اب سابقہ بھابھی۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ تمہارے ساتھ جو ہوا، اس کا اصل مجرم تلاش کروں گی۔”
پھر وہ دادی کی قبر پر گئی، جہاں ان کی مسکراتی تصویر ویسی ہی مہربان لگ رہی تھی۔ اس نے بھنے ہوئے مارشمیلو قبر پر رکھ دیے۔
“دادی، سردی ہے مگر اب آپ نہیں رہیں کہ مجھ سے مارشمیلو چھین لیں۔ سب پھیکے لگتے ہیں۔”
کچھ دیر وہاں بیٹھی رہی، جیسے دادی اب بھی زندہ ہوں۔
“دادی، میں بچہ نہیں بچا سکی، مگر وہ کمبخت ظہران دو بچوں کا باپ بن چکا ہے، فکر مت کریں۔”
وہ ہلکی سی مسکرائی۔
“وہ بدل گیا ہے۔ اگر آپ ہوتیں تو اسے یوں میرے ساتھ کرنے نہ دیتیں۔ میرا وقت بھی کم ہے، میں جلد آپ کے پاس آؤں گی۔ پھر ہم دونوں مل کر اس کی خبر لیں گے۔”
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
“مجھے آپ کی یاد آتی ہے، دادی۔”