📱 Download the mobile app free

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-I Ask Episode 22

آخر ایسا کیوں ہو گیا تھا؟
مہرالہ دو سال پہلے کی اس بے فکری والی زندگی میں واپس جانا چاہتی تھی۔

“میں یہیں ہوں… میں یہیں ہوں…”
وہ مسلسل دہراتا رہا۔

مہرالہ جانتی تھی کہ اس کی یہ نرمی چند لمحوں کی مہمان ہے، اور اسے خود کو اس سے دور رکھنا چاہیے۔ مگر اس کے باوجود، وہ اس کی اس بچی کھچی گرمائش کو تھامے رکھنا چاہتی تھی۔

اگر وہ اب بھی ویسا ہی ہوتا، تو زندگی کتنی خوبصورت ہوتی۔

جب صبح کے وقت ظہران کی آنکھ کھلی، تو بغیر آنکھیں کھولے ہی اسے کسی کے وجود کا احساس ہوا۔ اتنی شراب پینے کے باوجود اسے یقین تھا کہ اس سے کچھ نہیں ہوا ہوگا۔ اس کی برداشت زیادہ تھی اور خود پر قابو بھی مضبوط۔

وہ آنکھیں کھولنے سے گھبرا رہا تھا۔ سر میں شدید درد تھا اور پچھلی رات کی کوئی یاد نہیں تھی۔ خود کو ذہنی طور پر تیار کر کے اس نے آخرکار آنکھیں کھول دیں۔

مہرالہ کو اپنی بانہوں میں دیکھ کر اس نے سکھ کا سانس لیا۔ مگر فوراً ہی موجودہ حالات یاد آ گئے، اور وہ اسے خود سے پرے دھکیلنے ہی والا تھا کہ اس کی نظر مہرالہ کے چہرے پر ٹھہر گئی۔

کتنا عرصہ ہو گیا تھا اسے یوں خاموشی سے دیکھے؟

بغیر میک اپ کے اس کی سفید، برف جیسی جلد چمک رہی تھی۔ مگر وہ حد سے زیادہ پیلی تھی… جیسے جان ہی نہ رہی ہو۔

وہ اس کے بازو پر سمٹی ہوئی سو رہی تھی۔ پہلے اس کا وجود اس سے لپٹا ہوتا تھا، مگر اب اس کا جسم دفاعی انداز میں بند تھا۔

ظہران کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ آئی۔ یہ انداز اس بات کی گواہی تھا کہ وہ اب اس پر بھروسا نہیں کرتی۔
اسی لمحے اس کے دل میں ایک عجیب سی آگ بھڑک اٹھی، اور اس نے جھٹکے سے اپنا بازو کھینچ لیا۔

مہرالہ فوراً آنکھیں کھول بیٹھی۔ ماحول کو سمجھنے میں اسے لمحہ لگا۔ اس کی آنکھوں میں ایک معصوم سی الجھن تھی، جیسے کسی بلی کے بچے کی۔

مگر جیسے ہی اس کی نظر ظہران پر پڑی، اس کا تاثر بدل گیا۔
“تم نشے میں تھے… اور تم نے مجھے چھوا تھا۔”

یوں ایک لمحے میں وہ قربت بکھر گئی۔

سخت لہجے میں ظہران بولا،
“میں جانتا ہوں۔ اگر میں ہوش میں ہوتا، تو تمہیں چھوتا بھی نہیں۔”

وہ کپڑے اٹھا کر باتھ روم کی طرف چلا گیا۔ مہرالہ نے جلدی سے بستر پر بکھرے اپنے بال سمیٹ لیے۔

غصے میں قمیض کے بٹن بند کرتے ہوئے ظہران کو پچھتاوا ہوا کہ اس نے وضاحت کیوں دی۔ آخر وہ اب بھی میاں بیوی تھے۔

اسی دوران اس کے بازو پر بالوں کے کئی تار آئے۔ ایک دو ہوتے تو توجہ نہ دیتا، مگر اس کے اندازے کے مطابق کم از کم بیس تار تھے۔

جب مہرالہ کے بال لمبے تھے تو وہ اکثر بال جھڑنے کی شکایت کرتی تھی۔ کبھی ہنستے ہوئے کہتی،
“اگر میں گنجی ہو گئی تو کیا تم سنیاسی بن جاؤ گے؟”

ظہران کی آنکھوں میں ایک جھماکا سا ہوا۔
کیا واقعی اس کے بال اتنے جھڑ رہے تھے؟

“میں نے جھوٹ نہیں بولا تھا… میں واقعی بیمار ہوں…”
اس کے الفاظ اور اس کا زرد چہرہ ذہن میں آتے ہی ظہران نے باتھ روم کا دروازہ جھٹکے سے کھولا اور بستر کی طرف لپکا۔