📱 Download the mobile app free
Home > Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80083 > Del-I Ask Episode 91 The Price of Dignity

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-I Ask Episode 91 The Price of Dignity

تقریب ابھی شروع نہیں ہوئی تھی، اس لیے لوگ ہال میں گھوم پھر رہے تھے اور نمائش میں رکھی اشیا دیکھ رہے تھے۔
کالسٹا کی طرف سے مہرالہ کو سب کے سامنے نشانہ بنائے جانے نے کئی نظریں اپنی طرف کھینچ لی تھیں۔
ظہران ممدانی کے چہرے پر ابھرتی ناگواری کو دیکھتے ہوئے، توران کاسی نے فوراً اس کا بازو تھام لیا اور وضاحت کرنے لگی،
“مہرالہ اور کالسٹا ہم جماعت رہ چکی ہیں۔ ماضی میں ان کے درمیان کچھ رنجشیں رہی ہیں۔ اس معاملے میں آپ کا مداخلت کرنا مناسب نہیں ہوگا۔”
ظہران نے خاموشی سے اپنا بازو اس کے ہاتھ سے چھڑایا اور ٹائی سیدھی کی۔
توران نے نہ بات کو آگے بڑھایا، نہ اس کے قریب آئی۔
بس اتنا کہا،
“ویسے بھی آپ اور مہرالہ کا طلاق ہو چکا ہے۔ اگر آپ اب اس کی مدد کریں گے تو لوگ کیا سوچیں گے؟ ہماری منگنی ہونے والی ہے، اور ہسپتال بھی تیاریوں میں مصروف ہے۔ آپ کے بارے میں کسی بھی قسم کی افواہ ممدانی گروپ کے شیئرز پر برا اثر ڈال سکتی ہے۔ منطقی طور پر، آپ کو اس سے فاصلہ رکھنا چاہیے۔”
“کس نے کہا میں اس کی مدد کرنے والا ہوں؟”
ظہران نے پلٹ کر دیکھے بغیر جواب دیا اور وہاں سے ہٹ گیا۔
ادھر کالسٹا نے موقع غنیمت جان کر مہرالہ کی طرف اشارہ کیا اور بلند آواز میں بولی،
“یہ بالکل واضح ہے کہ یہ چور بغیر دعوت نامے کے اندر گھس آئی ہے۔ سب لوگ اپنے سامان پر نظر رکھیں، کہیں کچھ چوری نہ ہو جائے!”
“ذمہ دار کون ہے یہاں؟ کیا تم لوگ اپنا کام بھی کرتے ہو؟ یہاں چور کیسے آ گئی؟”
یہ آواز شان کراسبی کی تھی، جو اچانک وہاں نمودار ہوا۔ وہ مائیکل کراسبی کا بیٹا تھا۔
شان نے اس سے پہلے کبھی مہرالہ کو نہیں دیکھا تھا۔ اس نے اسے اوپر سے نیچے تک پرکھا اور کہا،
“مس، براہِ کرم یہاں سے چلی جائیں۔”
مہرالہ کو یہ صورتحال عجیب حد تک مضحکہ خیز لگی۔ پُرسکون لہجے میں اس نے پوچھا،
“کیوں؟ میں کیوں جاؤں؟”
“مس، یہاں بیٹھنے کی جگہ عطیہ کی رقم کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے۔ آپ کے لیے یہاں کوئی نشست نہیں ہے،” شان نے وضاحت کی۔
“بالکل! ایسی ڈھیٹ عورت کو سمجھانے میں وقت کیوں ضائع کیا جائے؟”
کالسٹا نے تیز لہجے میں کہا،
“کون جانے یہ صاف بھی ہے یا نہیں۔ اس کے لباس کو دیکھو! اس کے ساتھ کھڑا ہونا بھی شرمندگی کی بات ہے!”
کالسٹا نے ایسا ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا کہ اگرچہ کسی نے مہرالہ کو چھوا نہیں، مگر الفاظ خنجروں کی طرح اس پر برس رہے تھے۔
اس کے باوجود، مہرالہ وہیں کھڑی رہی۔ چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔
آہستگی سے اس نے کہا،
“میں عطیہ دے چکی ہوں۔”
“تم؟” کالسٹا نے طنزیہ قہقہہ لگایا۔
“تم کتنے کی رقم دے سکتی ہو؟ پانچ ڈالر؟ یا تین؟ کیوں نہ ہمیں بتاؤ؟”
مہرالہ کبھی دکھاوا کرنے والی نہیں تھی، مگر اب اسے دیوار سے لگا دیا گیا تھا۔
اس نے صاف لفظوں میں کہا،
“پچاس لاکھ ڈالر۔”
یہ سن کر ظہران ممدانی کی نگاہیں دوبارہ اس کی طرف اٹھ گئیں۔ اس کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
وہ جانتا تھا کہ مہرالہ دولت کی لالچی نہیں تھی، اور جھوٹ بولنے کی اسے عادت بھی نہیں۔
اس نے اسے ایک کروڑ دیا تھا، اور اس نے اس میں سے آدھی رقم عطیہ کر دی؟
وہ آخر سوچ کیا رہی تھی؟
“پچاس لاکھ ڈالر؟” کالسٹا نے ہنستے ہوئے کہا،
“کیا تمہیں ڈر نہیں کہ جھوٹ بولنے سے تمہاری ناک پنوکیو کی طرح لمبی ہو جائے گی؟”
توران کاسی نے بات بڑھاتے ہوئے کہا،
“مس مہرباش، براہِ کرم سچ بولیں۔ حقیقت آخرکار سامنے آ ہی جاتی ہے، اور آپ کا جھوٹ پکڑا جائے گا۔ آپ کے پاس دعوت نامہ تک نہیں ہے۔ ڈرامہ بند کریں۔”
“کس نے کہا اس کے پاس دعوت نامہ نہیں ہے؟”
“کس نے کہا اس نے عطیہ نہیں دیا؟”
یہ دونوں آوازیں بیک وقت گونجیں۔
ایک طرف سے ایورلی ہلٹن دوڑتی ہوئی آئی، اور دوسری جانب سے مائیکل کراسبی۔
مائیکل کی نظر ظہران پر پڑی۔
وہ بولا،
“کافی عرصے بعد ملاقات ہو رہی ہے، مسٹر ممدانی۔ مجھے معلوم تھا آپ آئیں گے، اس لیے میں نے آپ کے لیے نشست کا انتظام کروا دیا تھا۔ آئیے، میرے ساتھ۔”
“شکریہ،” ظہران نے بے نیازی سے کہا۔
پھر مائیکل فوراً مہرالہ کی طرف آیا اور نہایت خوش اخلاقی سے بولا،
“مس مہرالہ، آپ کو انتظار کروانے پر معذرت چاہتا ہوں۔”
شان کے چہرے کا رنگ وہی تھا جو آس پاس کھڑے لوگوں کا تھا۔
اس نے گھبرا کر اپنے باپ سے پوچھا،
“ڈیڈ… کیا اس نے واقعی پچاس لاکھ ڈالر عطیہ کیے ہیں؟”
مائیکل نے گھور کر اسے دیکھا۔
“مس مہرالہ تم جیسے احمقوں کے برعکس، دل کی بے حد صاف ہیں!”
یہ کہہ کر اس نے مہرالہ کی طرف محبت بھری نظر سے دیکھا،
“مس مہرالہ، میں نے خاص طور پر آپ کے لیے نشست تیار کروائی ہے۔ اِدھر تشریف لائیے۔”
اس کے لہجے میں ایسا احترام تھا کہ سب کے منہ سے بے اختیار سانس نکل گئی۔
یہ نوجوان عورت، جو ڈاؤن جیکٹ پہنے ہوئے تھی، واقعی پچاس لاکھ ڈالر دے چکی تھی؟
کیا وہ ہوش میں تھی؟
کالسٹا اور توران کے لیے یہ الفاظ کسی طمانچے سے کم نہ تھے، جبکہ ایورلی کو یہ سب کچھ بے حد تسلی بخش لگا۔
مہرالہ بے تاثر چہرے کے ساتھ توران کے پاس سے گزری، حتیٰ کہ اس کی طرف دیکھنے کی زحمت بھی نہ کی۔
البتہ ایورلی جان بوجھ کر ایک لمحہ رکی اور بولی،
“مس کاسی، آپ تو بہت جلد مسز ممدانی بننے والی ہیں۔ پھر بھی آپ مہر کے پیچھے کیوں بیٹھی ہیں؟ اور آپ کو اس کے سامنے ہنگامہ کھڑا کرنے کی جرأت کس نے دی؟”
“ایورلی… فضول مت بولو،” توران نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
ایورلی نے ابرو اٹھایا۔
“یقین کرو، جب تم مرو گی نا، میں تمہاری قبر کے سامنے اس سے بھی زیادہ فضول حرکت کروں گی۔”
توران کے ساکت چہرے کو دیکھ کر ایورلی کا سارا غصہ ہوا ہو گیا۔
مہرالہ کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے، ایورلی نے جان بوجھ کر توران کے پاس کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔
بغیر کسی جھجک کے اس نے ہاتھ اٹھایا اور کہا،
“جناب، میں مہر کی قریبی دوست ہوں۔ براہِ کرم میرے لیے بھی ایک نشست لگوا دیں۔”