📱 Download the mobile app free

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-I Ask Episode 41

مہرالہ نے پھلوں کی ٹوکری نیچے رکھی اور وضاحت کی،
“وہ میری دوست ہے۔ میں بس اس کا حال پوچھنے آئی ہوں، پھر چلی جاؤں گی۔”
“اس کی ضرورت نہیں ہے۔ لوگوں کے قریب ہونا اس کی حالت مزید خراب کر دے گا۔ مس مہرباش، براہِ کرم۔”
بیل نے تکیہ مہرالہ کی بانہوں میں ٹھونس دیا اور بے قراری سے کہا،
“میرے بچے کو لے کر یہاں سے چلی جاؤ اور اس کی حفاظت کرنا۔ میں ان لوگوں کو روک لوں گی۔ جلدی، بھاگو!”
یہ کہتے ہوئے اس نے وہ پھلوں کی ٹوکری اٹھائی جو مہرالہ لائی تھی اور ڈاکٹر کی طرف اچھال دی۔
“میں تمہیں مار ڈالوں گی، اے شیطان! اگر تم نے میرے بچے کو لے جانے کا سوچا بھی تو میں تمہیں قتل کر دوں گی!”
ہیلمٹ اور حفاظتی جیکٹس پہنے سیکیورٹی گارڈز دروازہ توڑتے ہوئے اندر گھس آئے اور اسٹن گن سے اسے قابو میں کر لیا۔ چار آدمیوں نے اسے اٹھا کر بستر پر ڈال دیا اور مضبوطی سے باندھ دیا۔
بیل اب بھی چیخ رہی تھی،
“میرا بچہ واپس دو! میرا بچہ واپس دو!”
سکون آور دوا دیے جانے کے بعد اس کی طاقت آہستہ آہستہ ختم ہونے لگی۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ بے ہوش ہو گئی۔
مہرالہ اپنے سامنے ہونے والے سب مناظر سے بری طرح گھبرا گئی۔ یہ جگہ ہسپتال سے زیادہ کسی جیل جیسی محسوس ہو رہی تھی۔ ڈاکٹر محض قیدیوں کے نگہبان لگ رہے تھے۔
بے ہوش بیل اس حالت میں بھی بہت معصوم دکھائی دے رہی تھی۔ مہرالہ کچھ پوچھ پاتی، اس سے پہلے ہی اسے کمرے سے باہر لے جایا گیا۔
جاتے ہوئے جب مہرالہ نے پلٹ کر دیکھا تو اس نے ڈاکٹر گیلووے کو نرسوں کو ڈانٹتے ہوئے دیکھا کہ انہوں نے اسے اندر کیوں آنے دیا۔
ڈاکٹر گیلووے نے سر اٹھا کر مہرالہ کی آنکھوں میں دیکھا۔ نظریں ملتے ہی اس نے فوراً نگاہ پھیر لی اور ڈانٹنا بند کر دیا۔
مہرالہ کو کچھ عجیب سا محسوس ہوا، خاص طور پر اس بات پر کہ ڈاکٹر گیلووے اسے پہچانتی لگ رہی تھیں، حالانکہ وہ دونوں کبھی پہلے نہیں ملیں تھیں۔
ظہران کے مطابق، یہ سب کچھ بیل کے ساتھ اس کے ہائی اسکول کے امتحانات کے بعد ہوا تھا۔ کائف نے اسے ترک کر دیا تھا، اور بچہ کھو دینے اور ذہنی توازن بگڑنے کے بعد اسے علاج کے لیے اس ہسپتال بھیج دیا گیا تھا۔
مگر پھر بھی کچھ باتیں میل نہیں کھا رہی تھیں۔ بیل بار بار ایک بچے کا ذکر کر رہی تھی، مگر مہرالہ کے والد کا کہیں نام نہیں لے رہی تھی۔
کیا یہ ممکن تھا کہ اس نے اپنے والد سے متعلق یادیں دبا دی ہوں؟
مہرالہ یہ سب جاننے کے لیے بیل کے گھر کی طرف روانہ ہوئی تاکہ اس کے والدین سے پوچھ سکے کہ اصل میں کیا ہوا تھا۔
جب وہ سینڈرز کے گھر پہنچی تو وہ جگہ اب کسی اور کی ملکیت تھی۔ بیل کے والدین تقریباً ایک سال پہلے بیرونِ ملک منتقل ہو چکے تھے۔
مہرالہ کو یہ بات بہت عجیب لگی کہ وہ اپنی بیٹی کو یوں اکیلا چھوڑ سکتے تھے۔
سینڈرز خاندان ایک عام سا گھرانہ تھا۔ ان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہو سکتے تھے کہ بیرونِ ملک منتقل ہو سکیں، چاہے ان کا چھوٹا بیٹا ایوارڈ یافتہ سائنس دان ہی کیوں نہ ہو۔
اس نے دوبارہ ریان سے ملنے کی درخواست کی، اور ہمیشہ کی طرح ریان نے احترام سے جواب دیا،
“جی مس مہرباش۔”
“ریان، مجھے تم سے ایک بات پوچھنی ہے۔ کیا تم بیل سینڈرز کو جانتے ہو؟”
“ہاں! وہ بیچاری لڑکی۔ تقریباً دو سال پہلے اچانک اس کا ذہنی توازن بگڑ گیا تھا۔”
وہ آہ بھرتے ہوئے بولا،
“اس کے گھر والوں نے شاید پڑھائی کے معاملے میں اس پر بہت دباؤ ڈالا ہوگا۔ اس کی حالت بہت خراب تھی۔ ذہنی کمزوری بہت سے مسائل پیدا کر دیتی ہے۔”
“ریان، کیا بیل کا کوئی بوائے فرینڈ تھا؟”
ریان نے ہاتھ ہلا کر نفی میں جواب دیا۔
“نہیں۔ وہ اپنی پڑھائی کو سب سے زیادہ ترجیح دیتی تھی اور لڑکوں سے ہمیشہ فاصلہ رکھتی تھی۔ جس واحد شخص کے وہ قریب تھی وہ مسٹر مہرباش تھے۔ مسٹر مہرباش ایک نیک انسان ہیں۔ انہوں نے بغیر کسی شرط کے سب کی مدد کی—جویریہ، بیل، اور مرحومہ اینجل کی بھی۔ ان سب کی زندگیاں بہت مختصر تھیں۔ مسٹر مہرباش کی ساری شفقت جیسے ضائع ہی چلی گئی۔”
“میں جانتی ہوں کہ یہ خاندان امیر نہیں تھا، پھر وہ اچانک بیرونِ ملک کیسے جا سکتے تھے؟”
“اس کی ماں نے ایک امیر آدمی سے دوسری شادی کر لی تھی۔ بیل کو پڑھائی کے لیے بیرونِ ملک جانا تھا، مگر بدقسمتی سے وہ اس مصیبت میں پھنس گئی۔ اگر مسٹر مہرباش کو یہ سب معلوم ہوتا تو انہیں بے حد افسوس ہوتا۔ وہ بیل کے ساتھ بہت اچھے تھے اور اس سے بہت امیدیں رکھتے تھے۔ افسوس، تقدیر کی سفاکی یہی ہے۔”