📱 Download the mobile app free

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-I Ask Episode 11

ریدان سُہرابدی نے مہرالہ کی پہلی کیموتھراپی دو دن بعد رکھوائی، تاکہ اس کی حالت مزید بگڑنے سے بچائی جا سکے۔
کیموتھراپی کے ساتھ کئی سائیڈ ایفیکٹس جڑے ہوتے ہیں۔ پہلے دو ہفتوں میں مریض شدید کمزوری محسوس کرتا ہے اور بال جھڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔
اسی لیے مہرالہ کو اس سے پہلے سب کچھ سمیٹنا تھا۔

اگرچہ کائف مہرباش ابھی تک کوما میں تھے، مگر کم از کم اب مہرالہ کو ان کے علاج کے اخراجات کی فکر نہیں تھی۔ اس نے ہسپتال میں ادائیگی کی اور پھر اس گھر کی طرف لوٹ آئی جہاں وہ کبھی ظہران ممدانی کے ساتھ رہا کرتی تھی۔

وہ جانتی تھی کہ کیموتھراپی کے بعد وہ بہت کمزور ہو جائے گی، اس لیے اس نے پہلے ہی ایک موونگ کمپنی بُک کر لی تھی۔ وہ بہرحال اس گھر کو چھوڑنے والی تھی۔

اسی دوران اس کی بہترین دوست ایورلی ہلٹن دفتر کے کپڑوں میں وہاں آ پہنچی۔ اونچی ایڑیوں میں چلتی ہوئی، ایک کندھے پر بیگ لٹکائے، اور ہاتھ میں چپس کے دو پیکٹ اٹھائے ہوئے۔
دور سے ہی اس کی اونچی آواز سنائی دی۔
“لِو! آخرکار تم اس عذاب سے آزاد ہو گئیں! پچھلے مہینے جو پراپرٹی بیچی تھی اس کا کمیشن آج ملا ہے، آج تمہیں ڈارک ہارس کلب لے جا رہی ہوں۔ دنیا میں مردوں کی کمی نہیں ہے!”

ایورلی کو مہرالہ کی بیماری کا علم نہیں تھا، کیونکہ وہ انہی دنوں اپنے بوائے فرینڈ سے ملنے بیرونِ ملک گئی ہوئی تھی۔ وہ یہی سمجھ رہی تھی کہ مہرالہ نے سوچ سمجھ کر طلاق کا فیصلہ کیا ہے۔

مہرالہ ہلکی سی مسکرا دی۔
“نہیں، یہ ممکن نہیں۔ کیا پتا تمہارا محبوب یہ سن کر فوراً میرے دروازے پر آ جائے۔”

ایورلی نے تلخی سے ہنستے ہوئے کہا،
“چھوڑو اسے۔ اب میں لانگ ڈسٹنس ریلیشن شپ پر یقین نہیں رکھتی۔ میں اسے سرپرائز دینے گئی تھی، اور وہ کمبخت میری کمائی کسی اور پر اڑا رہا تھا!”

اس کے چہرے پر غصہ تھا مگر آنکھوں میں درد چھلک رہا تھا۔ سات سال کا رشتہ صرف فاصلے کی وجہ سے ختم ہو گیا تھا۔

مہرالہ اسے تسلی دینا چاہتی تھی، مگر اپنی برباد شادی یاد آ گئی، اسے لگا وہ کسی کو دلاسہ دینے کے قابل ہی نہیں۔
اس نے بس اتنا کہا،
“تمہیں جانتے ہوئے لگتا ہے تم نے اچھا خاصا ہنگامہ کیا ہو گا۔”

ایورلی اسے پھولوں کے باغ کے پاس بنچ پر لے گئی۔ ایک پیکٹ اس کے ہاتھ میں دیا اور خود دوسرے سے کھانے لگی۔
“سالوں کی لانگ ڈسٹنس نے میرا غصہ ختم کر دیا تھا۔ مجھے پہلے ہی کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔ محبت کی ہزار وجوہات ہو سکتی ہیں، مگر چھوڑنے کے لیے ایک ہی کافی ہوتی ہے۔”

وہ دھندلے آسمان کو دیکھتی رہی۔
“شروع میں وہ صرف ویلنٹائن ڈے پر مجھے دیکھنے دنیا پار کر آتا تھا۔ اب تین سال ہو گئے، ایک بار بھی گھر نہیں آیا۔
پہلے سونے سے پہلے مجھے گڈ مارننگ میسج کرتا تھا، پھر آہستہ آہستہ میسجز بھی کم ہو گئے۔ میں سمجھتی رہی وہ پی ایچ ڈی میں مصروف ہے۔ میں نے پڑھائی کے ساتھ پراپرٹی ایجنٹ کا کام شروع کیا تاکہ اس کی مدد کر سکوں۔”

ایورلی کی آواز بھر آئی۔
“میں نے کیا کچھ نہیں کیا پیسوں کے لیے؟ یہاں تک کہ اپنی کمائی سے اس کے لیے باہر ایک گھر بھی خریدا۔”

وہ تلخ مسکراہٹ کے ساتھ بولی،
“سوچو، ایک میڈیکل کی طالبہ، اپارٹمنٹ دکھاتی پھرتی رہی، صرف ایک دھوکے باز کو سہارا دینے کے لیے۔ ممکن ہے اس نے کنڈوم بھی میرے کارڈ سے خریدے ہوں۔”

مہرالہ نے اسے گلے لگا لیا۔
“براہِ کرم مت رو، وہ اس قابل نہیں۔”

ایورلی نے آنسو پونچھے۔
“مجھے بھی یہی لگا۔ جانتی ہو میں نے کیا کیا؟ میں نے کوئی سین نہیں بنایا۔ بس سگریٹ جلایا اور حساب لگایا کہ اس نے مجھے کتنے پیسے واپس کرنے ہیں۔ شکر ہے گھر میرے نام تھا۔ اسی رات اسے اور اس عورت کو نکال دیا۔”

مہرالہ حیران رہ گئی۔
“اس نے مان لیا؟”

“بالکل نہیں۔ گھٹنوں پر بیٹھ کر رونے لگا۔ تب میں نے سوچا، آخر میں اس سے محبت کیوں کرتی رہی؟
چند دن وہیں رہی، گھر بیچا، ہر تعلق ختم کیا، پھر واپس آئی۔”

ایورلی نے سنجیدگی سے کہا،
“لِو، اب ہم اس عمر میں نہیں کہ رومانوی محبت پر یقین رکھیں۔ محبت اور روٹی میں سے ایک چننی ہوتی ہے۔ تمہیں ایک سال پہلے طلاق کا کہا تھا، تم ناراض ہو گئی تھیں، مگر خوش ہوں اب تم نے سمجھ لیا۔ صرف ظہران ممدانی کی طلاق کی رقم ہی تمہیں کئی زندگیاں گزارنے کے لیے کافی ہے۔”

مہرالہ کھانس پڑی۔
“مجھے صرف ایک کروڑ ملا ہے۔”

ایورلی کے منہ سے چیخ نکل گئی۔
“کیا؟ اتنا بڑا آدمی اور اتنی کم رقم؟”

مہرالہ نے بات بدل دی۔
“جب مرد محبت میں ہو تو چاند بھی لا دیتا ہے، جب دل بھر جائے تو تم کچرے سے بدتر ہو۔ اسے چھوڑو، مجھے سامان شفٹ کرنے میں مدد چاہیے۔”

“بالکل، پھر اچھا سا ڈنر میری طرف سے۔”

تقریباً سارا گھر ظہران کا تھا، مہرالہ کے پاس پیک کرنے کو بہت کم تھا۔
دیوار پر شادی کی تصویر لگی تھی۔ تصویر میں مہرالہ خوش تھی، اور ظہران بھی مسکرا رہا تھا۔

ایورلی غصے سے بولی،
“ان تصویروں کا کیا کرو گی؟ جلا دو یا بیچ دو۔”

مہرالہ نے سر ہلایا۔
“طلاق میں سب آدھا آدھا ہوتا ہے۔”

اس نے ملازمہ کو کہا کہ تصویریں فریم سے نکالے، اس کی تصویر کاٹ دے، اور باقی واپس لگا دے۔

صرف ایک کمرہ ایسا تھا جسے چھوڑنا اس کے لیے مشکل تھا، وہ نرسری جو اس نے خود ڈیزائن کی تھی، اور جسے ظہران نے اس کے ساتھ سجایا تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ توران کاسی کے بچے وہاں رہیں۔

چند گھنٹوں میں وہ سب کچھ ہٹا دیا گیا، جو مہینوں میں بنا تھا۔ یادیں بھی انہی چیزوں کے ساتھ کوڑے میں چلی گئیں۔

دروازے پر کھڑے ہو کر اس نے آخری بار مڑ کر دیکھا۔
پھر ایورلی سے بولی،
“چلو، سیلون چلتے ہیں۔”

ایورلی ہنس پڑی۔
“نئے آغاز کے لیے نئے بال! میں گلابی رنگ کرواؤں گی، اور تم؟”

مہرالہ نے فوراً کہا،
“مجھے چھوٹے بال چاہیے۔”

ایورلی نے فکر مندی سے کہا،
“زیادہ چھوٹے مت کرو، پچھتا نہ جانا۔”

ایورلی کو معلوم نہیں تھا کہ مہرالہ بالوں کے جھڑنے سے پہلے خود ہی انہیں کاٹ لینا چاہتی تھی۔
مہرالہ مسکرا دی۔
“نہیں، میں نہیں پچھتاؤں گی۔”