📱 Download the mobile app free

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-I Ask Episode 25

مہرالہ چونک گئی۔ فائلیں اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر بکھر گئیں۔
وہ اتنی جلدی واپس کیوں آ گیا تھا؟ وہ تو ہمیشہ رات گئے آتا تھا۔

وہ گھبرا گئی۔ “آ… آپ آ گئے؟”

ظہران سوٹ میں ملبوس تھا۔ اس کی سرد نگاہ اس پر پڑی تو اسے یوں لگا جیسے وہ کسی برفیلے تہہ خانے میں قید ہو گئی ہو۔
وہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھا، کوٹ اتارتے ہوئے۔ اس کے وجود سے رعب ٹپک رہا تھا۔

مہرالہ پیچھے ہٹتی گئی، یہاں تک کہ سیف سے لگ گئی۔ اس کے لیے اور پیچھے جانا ممکن نہ تھا۔
ظہران اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔

“دیکھ لیا؟”
اس کی آواز پرسکون تھی، مگر آنکھوں میں سناٹا تھا۔

مہرالہ نے پہلے ہلکا سا سر ہلایا، پھر فوراً نفی میں۔ وہ پوری رپورٹ نہیں پڑھ پائی تھی، بس کچھ حصے۔

ظہران نے اس کی ٹھوڑی پکڑ کر اوپر اٹھائی۔
“جانتی ہو میں اس بچے کو کیوں نہیں چاہتا تھا؟”

وہ آہستہ بولی، “جویریہ فردوس کی وجہ سے۔”

رپورٹ میں درج تھا کہ جویریہ کی موت ڈوبنے سے نہیں ہوئی تھی۔ اسے پہلے گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا، پھر سمندر میں پھینکا گیا۔
اور وہ تین ماہ کی حاملہ تھی۔

ظہران اس کے کان کے قریب بولا،
“میں نے زَریہان کے علاج والے دن کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی۔ اس دن تمہارا باپ بھی وہاں تھا۔”

مہرالہ فوراً بولی،
“میرے والدین کو طلاق ہو چکی تھی۔ اگر کوئی تعلق تھا بھی تو میرے والد نے اسے کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔ وہ قاتل نہیں ہو سکتے!”

ظہران کی ہنسی سرد تھی۔
“تم اپنے باپ کو صرف وہی سمجھتی ہو جو وہ دکھانا چاہتا ہے۔”