Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80083 Del-i Ask Episode 68 The Truth Beneath the Scars
Del-i Ask Episode 68 The Truth Beneath the Scars
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
ظہران ممدانی سمجھتا تھا کہ وہ مہرالہ مہرباش کے جسم کے ایک ایک حصے سے واقف ہے،
مگر اس کے نچلے پیٹ پر موجود وہ زخم…
یہ پہلی بار تھا کہ اس کی نظر اس پر پڑی۔
اُسے یاد تھا کہ وہ بغیر بے ہوشی کے آپریشن ٹیبل پر گئی تھی،
کیونکہ اُسے اینستھیزیا سے الرجی تھی۔
آپریشن تھیٹر کے باہر کھڑا ظہران اس دن اس کی درد بھری چیخیں سنتا رہا تھا۔
اُسے معلوم تھا کہ اس کی جلد کی کتنی تہیں سیئی گئیں،
اور اُس دن اسے کتنے ٹانکے لگے تھے۔
پیٹ کے زخم کے علاوہ،
اس کے بائیں بازو کے اندرونی حصے پر ایک نیا لمبا نشان بھی تھا۔
اچانک اُسے یاد آیا…
وہ دن جب توران کاسی نے اسپتال میں ہنگامہ کھڑا کیا تھا،
اور مہرالہ بھی وہاں آئی تھی۔
اُس نے سمجھا تھا کہ اُس دن اُسے معمولی سی خراشیں آئی ہوں گی،
مگر یہ لمبا، گہرا زخم دیکھ کر وہ ساکت رہ گیا۔
جو لڑکی درد سے ڈرتی تھی،
وہ اتنا سب خاموشی سے کیسے سہہ گئی…
اور بعد میں یوں نظرانداز بھی کر دیا؟
وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔
بے ہوش ہونے سے پہلے مہرالہ کے الفاظ اس کے دل میں خنجر کی طرح اتر گئے۔
اس نے اسے نائٹ سوٹ پہنایا،
کمرے کی ہیٹنگ تیز کی
اور اسے مضبوطی سے خود سے لپٹا لیا۔
کچھ ہی دیر میں بلال انعام،
اور کرس اٹکنز کمرے میں داخل ہوئے۔
ظہران کو مہرالہ کو گود میں لیے دیکھ کر
دونوں لاشعوری طور پر پیچھے ہٹ گئے۔
ظہران غرّایا،
“بکواس بند کرو، فوراً اس کا معائنہ کرو!”
“جی سر۔”
کرس اٹکنز، ظہران کا فیملی ڈاکٹر تھا۔
اُسے عموماً صرف معمولی چوٹ، نیل یا موچ پر بلایا جاتا تھا،
کیونکہ مہرالہ ہمیشہ صحت مند رہتی تھی۔
وہ مذاق میں کہا کرتا تھا کہ
وہ بالکل تندرست گھوڑے کی طرح ہے،
مگر دو سال بعد آج
وہ اسے بستر پر بے جان سی پڑی دیکھ رہا تھا،
چہرہ کسی بھوت کی طرح سفید۔
کرس نے ابتدائی تشخیص بتائی،
“مسٹر ممدانی، میرے اندازے کے مطابق
مسز ممدانی کا جسم بہت کمزور تھا،
اسی وجہ سے وہ بے ہوش ہوئیں۔
ابھی ٹھنڈ لگنے کی وجہ سے
اُنہیں گرم رکھنا ضروری ہے
ورنہ بخار ہو سکتا ہے۔
کلائیوں کے زخم سطحی ہیں،
لیکن پھر بھی احتیاط سے علاج ضروری ہے۔”
“کمزور؟”
ظہران کے ذہن میں الجھن ابھری۔
وہ کچھ دن پہلے بیمار ضرور تھی،
مگر فلو تو اب تک ٹھیک ہو جانا چاہیے تھا۔
“جی ہاں،
ان کی دل کی دھڑکن اور نبض معمول سے کم ہے،
اور سینے کی جلن کی علامات بھی ہیں۔
میں اپنے استاد جیسا ماہر نہیں ہوں،
مگر اگر وقت ملے
تو بہتر ہے آپ انہیں اسپتال لے جا کر
مکمل چیک اپ کروائیں۔”
یہ کہتے ہوئے کرس نے خون کا نمونہ لینے کے بعد سوئی نکالی۔
“میں نے خون کے ٹیسٹ کے لیے سیمپل لے لیا ہے۔
یہ جاننا ضروری ہے کہ
یہ وائرل انفیکشن ہے یا بیکٹیریل،
تاکہ درست علاج شروع کیا جا سکے۔”
“ٹھیک ہے۔”
وہ رات مہرالہ کے لیے اذیت ناک ثابت ہوئی۔
وہ ایک طویل خواب دیکھ رہی تھی۔
خواب میں…
اس نے پہلی بار اسکول کے گراؤنڈ میں
ایک سفید قمیض پہنے نوجوان کو دیکھا تھا۔
پہلی نظر میں ہی اُسے محبت ہو گئی تھی۔
دوسری ملاقات اُس وقت ہوئی
جب اُس نے اسے ڈوبنے سے بچایا تھا۔
اُس لمحے کی گھبراہٹ اور خوشی
آج بھی اس کے وجود میں زندہ تھی۔
وہ گھبرا کر اس کی گردن سے لپٹ گئی تھی،
اور اس کے مضبوط جسم کا احساس
اُسے شرمندگی سے لال کر گیا تھا۔
پھر وہ ایک دوسرے کے قریب آئے،
محبت میں پڑے،
اور رشتہ بن گیا۔
وہ اُس سے بے حد پیار کرتا تھا۔
کاش خواب وہیں ختم ہو جاتا،
تو بعد کا سارا درد اُسے نہ سہنا پڑتا۔
نیند میں مہرالہ کروٹیں بدل رہی تھی،
اور بڑبڑا رہی تھی،
“میرا بچہ…!
ظہران ممدانی، مجھے میرا بچہ واپس کرو!”
پھر بولی،
“ظہران، میں تمہارے لیے اپنی جان دے دوں گی،
بس مجھے چھوڑ دو…
ظہران…”
ہر لفظ اُس سے جڑا ہوا تھا،
اور نفرت سے بھرا۔
ظہران نے اس کا ہاتھ تھاما اور دھیرے سے کہا،
“لِو…
میں تمہیں کیسے آزاد کر دوں،
جب مجھے خود کسی نے آزاد نہیں کیا؟”
وہ ڈر رہا تھا کہ
اگر اس نے ہاتھ چھوڑ دیا
تو اس کا اس سے آخری رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا۔
اچانک اس کے ہاتھ نے شدید گرمائش محسوس کی۔
جیسا کہ کرس نے کہا تھا…
اسے بخار ہو گیا تھا۔
ظہران نے اس کے ماتھے پر فیور پٹی لگائی
اور دوائیں تیار کرنے لگا،
مگر اسی لمحے بلال انعام بغیر دروازہ کھٹکھٹائے اندر آ گیا۔
“مسٹر ممدانی!
بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹس آ گئی ہیں!
مسز ممدانی کے تمام انڈیکس نارمل سے کم ہیں۔
خاص طور پر ریڈ اور وائٹ بلڈ سیلز بہت کم ہیں!
ڈاکٹر اٹکنز نے کہا ہے
کہ انہیں بخار نہیں ہونا چاہیے،
کیونکہ ان کے وائٹ بلڈ سیلز صرف 2.3 ہیں۔
بخار ان کے لیے جان لیوا ہو سکتا ہے!
انہیں فوراً نیولاسٹا انجیکشن کی ضرورت ہے!”
“ک… کیا؟”
ظہران کے ہاتھ سے دوائیں پھسل کر
فرش پر بکھر گئیں۔