📱 Download the mobile app free

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-I Ask Episode 44

“مہرالہ، کیا تمہیں اندازہ ہے کہ جب تم شہزادیوں جیسی زندگی گزار رہی تھیں، اُس وقت زَریہان ممدانی کس قدر اذیت میں تھی؟”
ظہران کی آواز کانپ رہی تھی۔
“میں خود اُس گاؤں میں گیا ہوں جہاں وہ رہتی تھی۔ وہ ایک غریب، ویران اور جہنم جیسی جگہ تھی۔ وہاں کے لوگوں نے تین تین دن پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا تھا۔ میں نے سنا وہ بیچی جا چکی تھی، ایک کُتے کی طرح لکڑی کے شیڈ میں بند رکھی گئی۔ وہ ممدانی خاندان کی بیٹی تھی، اسے شہزادیوں جیسا سلوک ملنا چاہیے تھا، مگر اسے مٹی سے بھی بدتر سمجھا گیا! اس نے برسوں تک تکلیف سہی، اور جب وہ آخرکار آلڈن وائن پہنچی… اگر وہ تھوڑا اور برداشت کر لیتی تو شاید میں اسے ڈھونڈ لیتا۔”

مہرالہ بول نہ سکی۔ ظہران کے ہاتھ اس کی گردن کے گرد اتنے سخت تھے کہ اس کے لیے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بہتے جا رہے تھے۔ اس نے پوری طاقت سے ظہران کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی، تاکہ وہ اس کے غصے سے ہوش میں آ جائے۔

مگر ظہران اپنے غم میں ڈوبا ہوا تھا۔
“اُس حرامزادے نے—تمہارے باپ نے—اسے ناپاک کر دیا۔ اسے گلا گھونٹ کر مارا گیا، اور ایک صندوق میں بھر دیا گیا۔ اُس وقت وہ کتنی بےبس رہی ہو گی۔ آج تم بھی بالکل ویسی ہی بےامید لگ رہی ہو۔ کیا تم اُس اذیت کا ذرا سا بھی اندازہ لگا سکتی ہو جو اُس نے سہی؟”

“چھوڑ… دو…!”
مہرالہ نے پوری طاقت سے مزاحمت کی، مگر بے سود۔

ظہران کی آنکھیں پاگل جانور کی طرح سرخ ہو چکی تھیں۔

مہرالہ کا دم گھٹنے لگا۔ اسے احساس ہو گیا کہ اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو وہ مر جائے گی۔ اسے ہر حال میں لڑتے رہنا تھا۔

“مہرالہ، میں تمہیں چھوڑ دینے والا تھا… مگر تم خود درمیان میں کود پڑیں۔”

ظہران کے چہرے پر وحشت بڑھتی چلی گئی۔ اس کی نظریں خالی ہو گئیں۔ وہ آہستہ، بےربط انداز میں بولا،
“لیو… آؤ زَریہان سے ملنے چلتے ہیں۔ وہ بہت تنہا ہو گی۔ جب ہم دونوں مٹی میں مل جائیں گے، تب ہی میرا درد ختم ہو گا۔”

یہ سن کر مہرالہ کو یقین ہو گیا کہ ظہران اپنا ذہنی توازن کھو چکا ہے۔

جدوجہد کے دوران ظہران کا ہاتھ غلطی سے اس کے اُس زخم سے ٹکرا گیا جو کل ہی سیا گیا تھا۔ ٹانکا کھل گیا، اور تازہ سرخ خون اس کے سفید ریشمی نائٹ گاؤن کو بھگونے لگا۔

خون دیکھتے ہی ظہران کے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے۔ اس نے فوراً اسے چھوڑ دیا۔

مہرالہ زمین پر گر پڑی۔

ظہران آگے بڑھا کہ اس کے زخم کو دیکھے، مگر مہرالہ فوراً پیچھے ہٹ گئی۔ اس کی آنکھیں پوری طرح چوکنی تھیں، جیسے کسی خطرناک درندے کے سامنے ہوں۔

ظہران نے بےحسی سے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔ اب اسے ہوش آیا۔
وہ کیا کر بیٹھا تھا؟
وہ تو مہرالہ کو تقریباً مار ہی چکا تھا۔

“تمہارا بازو…”
وہ بھاری آواز میں بولا۔

مہرالہ زمین سے اٹھی، صوفے پر پڑا کوٹ اٹھایا، سردی کی پروا کیے بغیر، اور ممدانی رہائش گاہ چھوڑ کر باہر نکل گئی۔

جب اس نے اس کا گلا گھونٹنا شروع کیا تھا، اسے لگا تھا کہ اب اس کی زندگی ختم ہو گئی ہے۔ وہ مر جائے گی۔
اور سب سے خوفناک بات یہ تھی کہ موت کے اتنے قریب آ کر بھی اسے وہ سکون محسوس نہیں ہوا جس کا وہ تصور کرتی تھی۔

اس کے ذہن میں صرف ایک خیال تھا—
بھاگو!

ظہران وہیں کھڑا اپنے ہاتھوں کو گھورتا رہا۔
وہ یہ سب مہرالہ کے ساتھ کیسے کر سکتا تھا؟

باہر کی یخ بستہ ہوا نے اسے ہوش میں لایا۔
اسے یاد آیا کہ مہرالہ کس بےسروسامانی میں برفانی طوفان میں بھاگی تھی۔

وہ فوراً گاڑی میں بیٹھا اور اس کے پیچھے نکل پڑا۔

مہرالہ کسی ہوش میں نہیں تھی۔ جیسے ہی اس نے گاڑی کی آواز سنی، فوراً ایک درخت کے پیچھے چھپ گئی۔
جب اس نے دیکھا کہ ظہران کی گاڑی آگے نکل گئی ہے، تب جا کر اس کا جسم لرزنا کچھ کم ہوا۔
وہ خطرے کی گرفت سے نکل چکی تھی۔

اس نے اپنا فون ڈھونڈا۔ کچھ لمحے ہچکچائی، پھر ایورلی کو کال کی۔

فون کے دوسری طرف ایورلی کی شوخ آواز گونجی،
“مجھے یاد کیا، بیب؟”

مہرالہ نے اپنے سسکتے ہوئے آنسو دبائے اور کہا،
“ایو… کیا تم آ کر مجھے لے جا سکتی ہو؟”