📱 Download the mobile app free
Home > Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80083 > Del-I Ask Episode 166 The Calm After the Storm

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-I Ask Episode 166 The Calm After the Storm

باب 166

کئی دن گزر چکے تھے، اس حساب سے مہرالہ مہرباش کے جزیرے سے جانے کے بعد کیلون کو کچھ نہ کچھ سراغ مل ہی جانا چاہیے تھا۔

“مہرالہ، کیا تم ٹھیک ہو؟” اس نے فکر مندی سے پوچھا۔
جہاز والے واقعے کے بعد سے وہ مسلسل اس کے بارے میں پریشان تھا۔ اس نے کئی بار فون کیا تھا مگر کوئی جواب نہ ملا۔

“تمہیں پریشان کرنے کے لیے معذرت۔ چند دن ایک مسئلہ نمٹانے کی وجہ سے رابطہ منقطع رہا۔ اب میں ٹھیک ہوں۔”

یہ سن کر وہ مطمئن ہوا۔ “یہ اچھی بات ہے۔ اور ہاں، مجھے کچھ ملا ہے۔ کیا ہم بالمشافہ بات کر سکتے ہیں؟”

مہرالہ نے آہ بھری۔ سہام قَسوار کے باعث ظہران ممدانی کی سزا ابھی جاری تھی۔ اگر وہ کیلون سے ملنے گئی تو وہ نہیں جانتی تھی کہ ظہران اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔

اس نے کہا، “کیلون، سچ کہوں تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں دوسرا فریق چوکنا نہ ہو جائے۔ مجھے شک ہے کہ کوئی مجھ پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ کیا تم نے تفتیش خاموشی سے کی؟”

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ “فکر نہ کرو، مجھے معلوم ہے میں کیا کر رہا ہوں۔ مسٹر گیلووے نے بیل کی موت کے دو دن بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔”

“استعفیٰ؟ تو پھر وہ آدمی؟” مہرالہ کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
اسی لیے اس دن ڈاکٹر کی نظروں میں اسے دشمنی سی محسوس ہوئی تھی۔

کیلون بولا، “وہ ڈاکٹر گیلووے سے ایک دن پہلے مستعفی ہو گیا تھا۔ میں نے مزید کھوج لگائی۔ وہ عارضی عملہ تھا جسے ڈاکٹر گیلووے کے ذریعے رکھا گیا تھا۔ اس کا نام جعلی تھا۔”

“اور ڈاکٹر گیلووے؟ اس کے پاس میڈیکل لائسنس ہے، اس کا نام تو جعلی نہیں ہو سکتا۔”

کیلون نے جواب دیا، “اس کا پورا نام جینیفر گیلووے ہے۔ ہم نے ایک ہی میڈیکل کالج سے پڑھا تھا، مگر وہ مجھ سے چند سال سینئر ہے۔
گریجویشن کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک چلی گئی تھی اور اسی سال واپس آئی ہے۔”

وہ لمحہ بھر رکا، پھر بولا، “ایک دلچسپ بات ملی ہے۔ اسے پہلے تمہارے والد کائف مہرباش کی طرف سے مالی معاونت ملتی رہی ہے۔”

مہرالہ چونک اٹھی۔ یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا تھا۔

“کیلون، کیا مزید معلومات ہیں؟ اس کے خاندان یا دوستوں کے بارے میں؟ اور بیل کے بارے میں بھی؟”

“پرسکون رہو، سب بتاتا ہوں۔” اس نے اسے سنبھالا۔
“جینیفر کی پرورش اس کی اکیلی ماں نے کی۔ بچپن میں اس کے والدین میں طلاق ہو گئی تھی۔
چند سال پہلے اس کی ماں بیماری کے باعث انتقال کر گئی، جس کے بعد وہ مزید تعلیم کے لیے بیرونِ ملک چلی گئی۔ اس عرصے میں اس کا اپنے والد سے رابطہ نہیں رہا۔”

صرف جینیفر کے پس منظر سے مہرالہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہی تھی۔ اس کے ذہن میں سوال ابھرا کہ کہیں کائف نے جینیفر کے ساتھ کوئی زیادتی تو نہیں کی؟
اس نے ناموں کی فہرست یاد کی، مگر جینیفر کا نام اس میں شامل نہیں تھا۔

کیلون نے کہا، “جینیفر کے بارے میں بس یہی ملا ہے۔ استعفے کے بعد اس کا سراغ نہیں مل رہا۔ جہاں تک بیل کا تعلق ہے، اس کے والدین کسی اور ملک ہجرت کر چکے ہیں۔
بیٹی ہونے کے باعث وہ بچپن سے اسے پسند نہیں کرتے تھے، اس پر تشدد بھی کرتے رہے۔ اسی لیے وہ دبکی دبکی سی رہتی تھی۔ اور حمل کی وجہ سے اس نے تعلیم بھی چھوڑ دی تھی۔”

مہرالہ کو بیل کا زرد چہرہ یاد آ گیا۔ “کیا اس کا بچہ زندہ ہے؟”

اگر کائف مہرباش ہی قصوروار تھا تو بچے تک پہنچ کر ڈی این اے ٹیسٹ سے حقیقت ثابت ہو سکتی تھی۔
کیلون نے جواب دیا، “معذرت، اسکول چھوڑنے کے بعد میں اس کا سراغ نہیں لگا سکا۔ سنا تھا کہ اس نے اسقاطِ حمل کروایا تھا۔
میں نے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں بھی چیک کروایا، مگر کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔”

مہرالہ کی آنکھوں میں روشنی سی جاگی۔ “ممکن ہے اس کا بچہ ابھی زندہ ہو!”

بیل بار بار یہ دہراتی رہی تھی کہ کسی نے اس کا بچہ چرا لیا ہے۔ اس اہم سراغ سے مہرالہ کو بالآخر امید مل گئی۔