Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80083 Del-I Ask Episode 94 Letting Go
Del-I Ask Episode 94 Letting Go
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
ساحلی سڑک اپنے دلکش نائٹ ویو کے لیے مشہور تھی۔ چوڑی اسفالٹ سڑک کے دونوں جانب جگمگاتی روشنیاں اسے جنت کی سیڑھیوں جیسا منظر دے رہی تھیں۔
مہرالہ نے گاڑی کی کھڑکی نیچے کر دی، سمندری ہوا اندر آنے لگی۔ ٹھنڈی ہوا جیسے اس کے بکھرے جذبات کو تھام رہی ہو۔
ڈرائیونگ کرتے ہوئے ایو نے یاد دلایا،
“خیال رکھنا، کہیں ٹھنڈ نہ لگ جائے۔”
“بس تھوڑی دیر کے لیے،” مہرالہ نے کہا۔ وہ کھڑکی کے کنارے بازو ٹکا کر سر اس پر رکھے آنکھیں بند کر کے ہوا کے لمس سے ملنے والی آزادی محسوس کرنے لگی۔
اچانک وہ بولی،
“ایو، میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔ میری موت کے بعد میری باڈی سمندر میں بہا دینا۔”
ایو نے فوراً بریک لگائی اور گاڑی سڑک کے کنارے روک دی۔
“مہرالہ! آدھی رات کو ایسے مذاق مت کرو، یہ بالکل بھی اچھا نہیں ہے۔”
مہرالہ گاڑی سے اتر آئی، سمندری ہوا اس کے وجود سے ٹکرانے لگی۔
“میں نے پہلے سوچا تھا کہ مہرباش رہائش گاہ واپس خرید لوں اور تم صحن کے اس درخت کے نیچے میری تدفین کر دینا۔ میں وہیں پیدا ہوئی تھی، تو وہیں لوٹ جانا اچھا لگتا۔ اور یہ بھی سوچا تھا کہ اگر میں ابو کو دوبارہ نہ دیکھ سکی تو—”
وہ لمحہ بھر رکی، پھر آہستہ بولی،
“جب وہ مجھے یہ موقع ہی نہیں دے سکے تو کوئی بات نہیں۔ مرنے کے بعد ہم سب مٹی بن جاتے ہیں، کہاں دفن ہوں، اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔”
ایو کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے مہرالہ کو گلے لگا لیا اور روتے ہوئے کہا،
“فرق کیوں نہیں پڑتا؟ اگر تم مہرباش رہائش گاہ میں ہوتیں تو میں آ کر تمہیں دیکھ سکتی تھی۔
لیکن اگر تمہاری راکھ سمندر میں ہو گی تو مجھے تم سے ملنے کے لیے پوسیڈن کا ترشول چرانا پڑے گا!”
مہرالہ مسکرا دی۔
“تم واقعی بہت بڑی جوکر ہو۔”
“مہرالہ، دیکھو، تم مسکراتی ہوئی بہت خوبصورت لگتی ہو۔ پلیز، زیادہ مسکرایا کرو،” ایو نے التجا کی۔
“ٹھیک ہے،” مہرالہ نے ایک گہری مسکراہٹ سجائی۔
“اتنا سب کچھ سہنے کے بعد میں نے بہت سی باتیں قبول کرنا سیکھ لی ہیں۔ یہ بھی زندگی کا حصہ ہے۔ جتنا ہم کچھ لوگوں اور چیزوں کو پانا چاہتے ہیں، وہ اتنی ہی دور ہوتی جاتی ہیں۔
ایک وقت تھا جب میں نے کسی سے پوری شدت سے محبت کی۔ اس نے مجھے وہ احساسات دیے جن کا مجھے علم بھی نہ تھا، مگر اب سب ختم ہو چکا ہے۔
اب آگے بڑھنے کا وقت آ گیا ہے۔”
ایو نے دیر تک اسے مضبوطی سے تھامے رکھا، چھوڑنے کو دل ہی نہیں چاہ رہا تھا۔
اسی لمحے اسے اپنی بے بسی سے نفرت ہونے لگی۔ نہ اس کے پاس طاقت تھی، نہ دولت کہ وہ مہرالہ کی مدد کر پاتی۔ اسے ان سرمایہ داروں سے نفرت ہونے لگی جو پلک جھپکتے میں دوسروں کی قیمتی چیزیں چھین لیتے ہیں۔
اس نے دل ہی دل میں عہد کیا کہ وہ بہت پیسہ کمائے گی، اسی مقام تک پہنچے گی جس سے وہ نفرت کرتی ہے، تاکہ ایک دن وہ دنیا کو نیچے سے دیکھ سکے۔
مگر تب تک وہ جسے سب سے زیادہ بچانا چاہتی تھی… کیا وہ زندہ ہو گی؟
وہ دونوں سمندر کے کنارے ایک باربی کیو ریسٹورنٹ میں بیٹھ گئیں۔
مہرالہ نے سوپ منگوایا اور ایو کو دل کھول کر کھاتے دیکھا۔ کھانے کے دوران ایو بولی کہ وہ ظہران ممدانی اور توران کاسی کو سیخوں میں پرو کر باربی کیو پر بار بار بھوننا چاہتی ہے۔
مہرالہ نے سوپ پیتے ہوئے مسکرا کر فون نکالا۔ چیٹس کی فہرست میں سب سے اوپر مسٹر ممدانی کی چیٹ پن تھی
اس نے پروفائل تصویر دیکھی، وہ اب بھی وہی تھی—ایک جوڑی والی تصویر جس پر اس نے زبردستی اسے راضی کیا تھا۔ وہ سیاہ لباس میں تھا اور وہ سفید میں۔
تصویر کو زوم کرنے پر سائے سے صاف ظاہر تھا کہ اس کے ساتھ ایک اور عورت کھڑی ہے۔
اسی طرح اس کی اپنی پروفائل تصویر میں بھی اس کا سایہ تھا۔ کبھی وہ کہا کرتی تھی کہ ان کے سائے تک جدا نہیں ہو سکتے۔
مہرالہ نے اس کا کانٹیکٹ ڈیلیٹ کر دیا۔
چیٹ غائب ہوتے ہی یوں لگا جیسے وہ شخص بھی اس کی زندگی سے ہمیشہ کے لیے مٹ گیا ہو۔