Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80083 Del-I Ask Episode 161 A Trap Set in the Dark
Del-I Ask Episode 161 A Trap Set in the Dark
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
مہرالہ نے سر ہلاتے ہوئے پھر منت کی،
“ظہران، میں—”
ایک ہاتھ میں بچے کو اٹھائے ہوئے، ظہران نے دوسرے ہاتھ سے اس کے آنسو پونچھے۔
“مہر، تم جتنی بار اس کے لیے منت کرو گی، میں اس کے جسم میں ایک اور گولی ماروں گا۔ کیا تم مجھے آزمانا چاہتی ہو؟”
مہرالہ فوراً خاموش ہو گئی۔ یہ بگڑا ہوا آدمی واقعی کچھ بھی کر سکتا تھا۔
وہ بس خاموشی سے روتی رہی۔
ظہران اس کے کان کے قریب سرگوشی کرنے لگا،
“تم اس کے لیے جتنے آنسو بہاؤ گی، بعد میں وہ اتنا ہی زیادہ خون بہائے گا۔”
مہرالہ کو یوں لگا جیسے اس کے دل پر کوئی بھاری پتھر رکھ دیا گیا ہو۔
ہزاروں لفظ اس کے دل میں تھے، مگر اس لمحے وہ ایک آواز بھی نہ نکال سکی۔
وہ بس مسلسل نفی میں سر ہلاتی رہی۔
ظہران نے ہاتھ بڑھا کر اس کی آنکھیں رگڑیں۔
“اچھی بچی بنو اور نظریں پھیر لو۔ اس کے بعد ہم اپنی معمول کی زندگی میں واپس لوٹ جائیں گے۔”
زمین پر دبائے گئے ٹام نے چیخنا شروع کر دیا۔
اسی لمحے جیری بھی اچانک بول پڑا،
“اگر کسی کو مارنا ہے تو مجھے مار دو، سہام کو کچھ مت کہنا۔
—وہ صرف جزیرے والوں کی زندگی بہتر بنانا چاہتا ہے۔ وہ اچھا انسان ہے۔
—جب ہم آپ کے بیٹے کو یہاں لائے تھے، ہم نے اسے ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچایا۔
—ہم نے اسے دودھ تک دیا، جو ہمارے لیے عیاشی سمجھا جاتا ہے۔”
یہی لڑکا مہرالہ کی تصویروں میں بھی نظر آیا تھا۔
ظہران نے صرف دو لفظ کہے،
“دفع ہو جاؤ۔”
جو لڑکا عام طور پر ڈرپوک تھا، وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹا۔
“اگر آپ واقعی مس مہرالہ سے محبت کرتے ہیں تو آپ اس کے دوستوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
—جو آپ اس وقت کر رہے ہیں وہ محبت نہیں، اذیت ہے۔”
تب جا کر ظہران نے جیری کی طرف دیکھا۔
اس کے ہونٹوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ ابھری۔
“کس نے کہا کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں؟
—وہ جتنا زیادہ تڑپے گی، مجھے اتنی ہی خوشی ملے گی۔
—اگر تمہیں مار کر اس کا دل ٹوٹ جائے، تو یہ میری سب سے بڑی خواہش ہوگی۔”
جیری یہ سمجھ ہی نہ سکا کہ کوئی انسان اتنی سرد باتیں کیسے کہہ سکتا ہے۔
وہ آدمی سرد مہری کا پیکر تھا، مگر جیری نے پھر بھی ہمت نہ ہاری۔
“اگر آپ اس سے نفرت کرتے تو فطری طور پر اس کی حفاظت نہ کرتے۔
—وہ گولی بہت تیزی سے آ رہی تھی۔
—اگر آپ واقعی اس سے نفرت کرتے، تو آپ اسے مرنے دیتے۔
—مگر آپ نے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا۔”
جیری نے لمحوں میں ظہران کا نقاب اتار دیا۔
یہاں تک کہ سہیل نعمانی بھی حیرت سے دیکھنے لگا۔
یہ دُبلا پتلا لڑکا واقعی بہادر تھا۔
اتنی جرأت تو سہیل بھی ظہران کے سامنے نہ دکھا پاتا۔
“اگر آپ واقعی کسی سے محبت کرتے ہیں تو وہ آپ کی آنکھوں میں نظر آتی ہے۔
—اگر آپ اس سے محبت نہ کرتے، تو خود چل کر مس مہرالہ کو ڈھونڈنے نہ آتے۔
—اگر آپ اس سے محبت نہ کرتے، تو سہام کو دشمن نہ سمجھتے۔
—میرے جیسے بچے کو بھی پتا ہے کہ محبت خلوص مانگتی ہے۔
—اگر محبت نہ بھی ہو، تو کسی کو اذیت نہیں دینی چاہیے۔
—جب آپ اسے تکلیف دیتے ہیں، تو کیا آپ کو خود بھی برا نہیں لگتا؟”
ظہران نے کنان ممدانی کو چھوڑا اور جیری کی طرف بڑھا۔
ایک لمحے کے لیے سب کی سانسیں رک گئیں، سب لڑکے کے لیے خوف زدہ ہو گئے۔
جیسے جیسے ظہران قریب آیا، جیری کا دل کانپنے لگا، مگر وہ پیچھے نہ ہٹا۔
ظہران کا قد اونچا تھا، اور وہ دبلے لڑکے سے کہیں زیادہ طاقتور دکھائی دیتا تھا۔
اس کی دباؤ بھری موجودگی جیری کو گھیرے میں لے چکی تھی۔
“کیا تم مجھے بتا رہے ہو کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟”
ظہران نے طنزیہ انداز میں کہا۔
اگلے ہی لمحے اس نے بندوق جیری کے سر پر تان دی۔
“میں اسے چھوڑ سکتا ہوں، مگر اس کی جگہ تمہیں مرنا ہوگا۔”
ظہران کو اس لڑکے میں خاص دلچسپی نہ تھی، بلکہ کہیں نہ کہیں وہ جیری کو پسند بھی کرنے لگا تھا۔
اتنی بےباک باتیں تو بڑے لوگ بھی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے—
اور یہ تو پھر بھی ایک کم عمر لڑکا تھا۔