📱 Download the mobile app free
Home > Deli Ask Novel By Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80083 > Del-i Ask Episode 89 The Charity Auction

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Del-i Ask Episode 89 The Charity Auction

یہ چیریٹی ڈنر کی رات تھی، جس کا مکمل انتظام کراس بی خاندان نے کیا تھا۔ کراس بی خاندان نے اعلان کیا تھا کہ نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کا دس فیصد خیرات کے لیے دیا جائے گا۔

مگر اصل حقیقت سب جانتے تھے—
کراس بی خاندان ان دنوں مالی مشکلات کا شکار تھا اور اپنے قیمتی سامان فروخت کر کے رقم اکٹھی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

مسٹر کراس بی سینئر کے قریبی حلقے میں یہ بات مشہور تھی کہ انہیں نایاب اور بیش قیمت نوادرات جمع کرنے کا بے حد شوق تھا، مگر سب خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے۔
وہ بچپن ہی سے قیمتی اشیا جمع کرتے آئے تھے، اس لیے ان کے گھر میں خزانے چھپے ہونے کا امکان فطری تھا۔

یہ روز روز کا موقع نہیں تھا کہ وہ اپنی پسندیدہ قیمتی چیزیں فروخت کریں، اسی لیے جو لوگ انہیں جانتے تھے، دعوت نامہ ملتے ہی فوراً اس تقریب میں آنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔

حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جن کے پاس زیادہ پیسہ نہیں تھا، تماشہ دیکھنے آ گئے تھے۔
شہر میں یہ بات پھیل چکی تھی کہ مہرباش خاندان کا گھر بھی آج نیلامی میں رکھا جائے گا۔

مہرالہ مہرباش اور ایورلی ہلٹن وقت پر وہاں پہنچ گئیں۔

ایورلی نے گاڑی کی کھڑکی سے جھانک کر عمارت کو دیکھا اور بولی،
“تم اوپر چلی جاؤ، میں گاڑی پارک کر کے آتی ہوں۔ اگلی قطار میں میرے لیے جگہ بچا لینا!”

“ٹھیک ہے۔”

ایورلی اس طرح کی تقریبات میں کبھی نہیں آئی تھی، اسے لگا کہ شاید وہ دونوں مل کر نشست سنبھال لیں گی۔
مگر حقیقت یہ تھی کہ ایسی تقریبات میں نشستیں پہلے ہی مختص کی جاتی ہیں۔

نشستوں کا تعین دو بنیادوں پر ہوتا ہے:
یا تو سماجی حیثیت کے مطابق، یا پھر دی جانے والی رقم کے حساب سے۔

خوش قسمتی سے، مہرالہ نے آنے سے پہلے ہی ایورلی کے ذریعے عطیہ جمع کروا دیا تھا، اس لیے اس کے لیے نشست مخصوص تھی۔
وہ جہاں چاہے بیٹھ نہیں سکتی تھی۔

بدقسمتی سے، جیسے ہی مہرالہ داخلی دروازے کے قریب پہنچی، سیکیورٹی گارڈ نے اسے روک لیا۔

“میڈم، کیا آپ کے پاس دعوت نامہ ہے؟”

گارڈ بدتمیزی نہیں کر رہا تھا۔
اصل میں، اس نے اس طرح کے ایونٹ میں کسی کو ڈاؤن جیکٹ پہنے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یہاں عام طور پر گاؤن اور سوٹ پہنے جاتے ہیں۔
اوپر سے، مہرالہ کی جیکٹ پر کچھ جگہ پیوند بھی لگے ہوئے تھے۔

مہرالہ نے سچائی سے جواب دیا،
“میرے دوست کے پاس ہے۔”

“معذرت، آپ کو اپنے دوست کا انتظار کرنا ہوگا۔ آپ دونوں ساتھ ہی اندر جا سکتی ہیں۔”

یہ ایک نجی تقریب تھی، اس لیے مہرالہ سمجھ گئی کہ گارڈ صرف اپنا فرض ادا کر رہا ہے۔

اگرچہ اندر داخل ہوتے مہمان اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے،
مگر اس نے اپنی کمر سیدھی رکھی اور خود کو پرسکون ظاہر کرنے کی کوشش کی۔

اسی لمحے توران کاسی وہاں پہنچیں، ان کے ساتھ کالسٹا تھیں، جنہوں نے ان کا بازو تھاما ہوا تھا۔

کالسٹا کی آواز دور سے ہی سنائی دی،
“توران، میں نے انٹرویو میں وہ لباس دیکھا تھا۔ کہتے ہیں اس میں 3650 ہیرے جڑے ہیں، اور ہر ہیرا مسٹر ممدانی کی محبت کی علامت ہے۔ میں واقعی تم دونوں کے رشتے سے حسد کرتی ہوں۔”

مہرالہ نے اپنی انگلیاں ہتھیلی میں زور سے گاڑ لیں، مگر درد محسوس نہ ہوا۔
وہ ہمیشہ سمجھتی رہی تھی کہ ‘Milia Stellae’ اس کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، اور ہیرے محض ایک فنکارانہ انتخاب تھے۔

اب اسے معلوم ہوا تھا کہ وہ لباس دراصل ظہران ممدانی اور توران کاسی کی محبت کی یادگار تھا۔

توران کاسی کے اردگرد شوخ لباس پہنی عورتوں کا ایک گروہ تھا۔
جب ان کی نظر مہرالہ سے ملی، تو انہوں نے سرد مہری سے نظریں چرا لیں۔
وہ نہیں چاہتی تھیں کہ کسی کو ظہران اور مہرالہ کے ماضی کا علم ہو۔

کالسٹا مگر مختلف تھیں۔
اس دن کے کھانے پر مہرالہ سب کو ناراض کر چکی تھی،
اور اب جبکہ مہرباش خاندان دیوالیہ ہو چکا تھا، توران کے ساتھ کھڑی کالسٹا مہرالہ کو اور بھی حقیر سمجھنے لگی۔

“ارے، یہ تو ہماری کلاس کی جینئس ہے نا؟” کالسٹا نے طنز کیا۔
“اتنے پھٹے حال میں کیوں ہو؟ دور سے تو میں نے سمجھا کوئی بھکاری ہے۔”

اسی لمحے گارڈ نے مداخلت کی،
“مسز ممدانی، کیا آپ اس خاتون کو جانتی ہیں؟ ان کے پاس دعوت نامہ نہیں ہے، لیکن اگر آپ جانتی ہوں تو آپ ساتھ جا سکتی ہیں۔”

“میں نہیں جانتی،” توران نے سرد لہجے میں کہا۔

کالسٹا نے مزید آگ لگاتے ہوئے کہا،
“تمہیں اپنی آنکھیں چیک کروانی چاہئیں۔ ایسے کنگال لوگوں کو یوں ہی اندر نہ آنے دیا کرو۔”

پھر وہ بولی،
“نیا سال آنے والا ہے، شاید یہ اندر جا کر چوری کرنے آئی ہو۔ اگر کچھ غائب ہو گیا تو تم ذمہ داری نہیں اٹھا سکو گے۔”

گارڈ نے فوراً سر ہلایا۔
“میں سمجھ گیا، میڈم۔ یاد دہانی کا شکریہ۔”

کالسٹا اور توران آنکھیں گھماتے ہوئے اندر داخل ہو گئیں۔

جیسے ہی گارڈ مہرالہ سے جانے کو کہنے ہی والا تھا،
اسی وقت باہر سگریٹ پینے آئے بلال انعام کی نظر ان پر پڑ گئی۔

اس نے فوراً مداخلت کی اور گارڈ کو روکا۔
تب جا کر مہرالہ کو اندر جانے کی اجازت ملی۔